آپ کی پلیٹ میں کتنا کھانا ہونا چاہیے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سارہ بیل
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس گلوبل ہیلتھ
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
کولڈ ڈرنک کے سب سے بڑے گلاس اور بڑے برگر اور کھانے سے بھری پلیٹیں۔۔۔ گذشتہ 50 برسوں میں دنیا کے بعض حصوں میں کھانے کے پورشن سائز یعنی پلیٹ میں کھانے کی مقدار بڑھ گئی مگر اس کے ساتھ موٹاپے کی شرح میں بھی اضافہ ہوا۔
فاسٹ فوڈ کے ریستوارن کی اس قدر پُرکشش ڈیلز کے پیش نظر ہم یہ کیسے یقینی بنائیں کہ ہم صحت مند رہیں اور زیادہ نہ کھائیں؟
یہ تبدیلی خاص طور پر امریکہ میں واضح رہی جہاں کھانے کے پورشن سائز 1980 کی دہائی میں بڑھنا شروع ہوئے۔ اس کی ایک وجہ گھر سے باہر کھانا کھانے کا رجحان اور اس کے نتیجے میں مختلف جگہوں کے درمیان مقابلہ تھا۔
نیو یارک یونیورسٹی سے ڈاکٹر لیزا ینگ پروگرام ’دی فوڈ چین‘ کو بتاتی ہیں کہ اگر ایک جگہ پر پاستا کی چھوٹی پلیٹ مل رہی ہو اور دوسری جگہ بڑی تو اکثر لوگ بڑی پلیٹ والی جگہ پر جانے کا انتخاب کریں گے۔
وہ کہتی ہیں کہ ماضی میں کھانا بہت سستا بھی تھا۔ ’جب کھانا سستا ہو تو ریستوران کے لیے یہ فائدے کا سودا ہوتا ہے کہ وہ آپ کو دگنی مقدار دیں اور قیمت تھوڑی سی زیادہ وصول کرے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو اچھی ڈیل مل رہی ہے لیکن اصل میں وہ زیادہ کماتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے ڈاکٹر مارلے الوارینگا کا کہنا ہے کہ اسی طرح کے رجحانات برازیل جیسے ترقی پذیر ممالک میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ زیادہ تر پیک شدہ اور پراسیسڈ کھانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ’آپ چاول اور دال، مچھلی یا آٹے جیسے روایتی کھانوں کے بڑے پورشن سائز نہیں دیکھتے۔‘
ڈاکٹر ینگ کے مطابق اس کی بڑی وجہ خوراک کے نظام کا امریکی انداز میں ڈھلنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں کہ جیسے جیسے امریکی طرز کے کھانے، جیسے میکڈونلڈز یا کچھ خاص چاکلیٹ بارز، دیگر ممالک میں پہنچتے ہیں تو ان کے سائز بھی بڑے ہونے لگتے ہیں۔ ’جب آپ الٹرا پراسیسڈ خوراک کھاتے ہیں تو آپ اضافی 500 کیلوریز لے لیتے ہیں۔‘
کیا بڑی مقدار کا مطلب یہ ہے کہ آپ زیادہ کھائیں گے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک ماہر نفسیات کے مطابق تحقیق کے سب سے ٹھوس نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ جب لوگوں کو بڑی مقدار دی جائے تو وہ زیادہ کھاتے ہیں۔
ایک تجزیے کے مطابق جب آپ پورشن سائز دگنا کرتے ہیں تو لوگ 35 فیصد زیادہ کھاتے ہیں۔
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز سے پروفیسر لینی ورٹینین کہتے ہیں کہ یہ صرف پلیٹ میں موجود ہر چیز کھا لینے کا معاملہ نہیں کیونکہ لوگ اکثر سب کچھ ختم نہیں کرتے ’لیکن ہم جانتے ہیں کہ جیسے جیسے پورشن سائز بڑھتا ہے، مجموعی طور پر کھائی جانے والی مقدار بھی بڑھ جاتی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ آخر ایک شخص کے لیے کھانے کی کتنی مقدار درست ہے کیونکہ ’ہمارا جسم اس حوالے سے ہمیشہ قابل اعتماد نہیں ہوتا۔‘
جب ہمیں یقین نہ ہو تو ہم رہنمائی کے لیے پورشن سائز کا استعمال کرتے ہیں۔
پروفیسر ورٹینین کہتے ہیں کہ ’ہم اکثر ایسی حالت میں نہیں ہوتے کہ ہمیں بے حد بھوک ہو یا ہم مکمل طور پر بھرے ہوئے ہوں۔ ہم عموماً درمیان کی کیفیت میں ہوتے ہیں اور یہی وہ جگہ ہے جہاں مختلف اشارے ہمیں متاثر کرتے ہیں۔‘
کیا چھوٹی پلیٹ استعمال کرنا بہتر ہے؟
ایک وقت میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ چھوٹی پلیٹ استعمال کرنا بہتر ہے۔
اس سے پلیٹ میں کم کھانا آتا ہے اور پلیٹ بھری بھری لگنا نظر کا دھوکہ ہے۔ یعنی اگر آپ اتنی ہی مقدار کو چھوٹی پلیٹ میں رکھیں تو زیادہ کھانا دکھائی دیتا ہے۔ آپ خود کو زیادہ بھرا ہوا محسوس کر سکتے ہیں اور کم کھانے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔
لیکن تحقیق اس نظریے کی حمایت نہیں کرتی۔
پروفیسر ورٹینین کہتے ہیں کہ محض پلیٹ کا سائز لوگوں کے کھانے کی مقدار پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اضافی کھانا دستیاب ہے یا نہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر سرونگ ڈش ٹیبل پر آپ کی پہنچ میں ہو تو لوگ اپنی مرضی سے مزید کھانا لے لیں گے، چاہے پلیٹ کا سائز کچھ بھی ہو۔
ان کے مطابق لوگوں کو چاہیے کہ وہ ایک حصّہ نکالیں اور باقی کو نظر سے دور رکھ دیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اس اضافی کھانے کو اپنی پہنچ سے اتنا دور رکھیں کہ آپ پلیٹ میں دوبارہ کھانا ڈالنے کے قابل نہ ہوں۔
آپ اپنے پورشن سائز کو کیسے کنٹرول کر سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہرین کے مطابق سب سے اہم کام یہ ہے کہ لوگ اپنی بھوک کو سمجھیں اور اس بات سے باخبر ہوں کہ وہ کیا کھا رہے ہیں۔
ڈاکٹر لیزا ینگ کہتی ہیں کہ لوگ اپنی پلیٹ میں موجود چیزوں پر توجہ نہیں دیتے، نہ ہی اپنی بھوک کو سمجھتے ہیں اور نہ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ان کا پیٹ بھر چکا یا نہیں۔
پورشن سائز میں بگاڑ کا تصور ایک اور معاملہ ہے۔ اس میں لوگ کھانے کی بڑی مقدار کو معمول سمجھ لیتے ہیں۔
ڈاکٹر مارلے الوارینگا کا کہنا ہے کہ ’میری تجویز ہے کہ توجہ دیں، لیبل دیکھیں، سائز پر نظر ڈالیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ کھانا بنانے والی کمپنیاں اپنی مارکیٹنگ کیسے کر رہی ہیں۔‘
مگر سنیکس کے بارے میں کیا خیال ہے؟
ڈاکٹر ینگ کہتی ہیں کہ اگر آپ سیب یا کسی اور پھل کی شکل میں کچھ کھا رہے ہیں جو پیک نہیں ہوتا تو اس سے اتنا فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے کھانے کی مقدار کیا ہے کیونکہ یہ ’ہول فوڈز‘ صحت بخش ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس اگر آپ کوئی پیک چیز کھا رہے ہیں تو اس پر معیاری مقدار درج ہوتی ہے، مثلاً ایک ڈبے میں سرونگ کے چار حصے۔
آپ کو چاہیے کہ آپ لیبل پڑھیں اور دیکھیں کہ یہ مقدار کیسی دکھائی دیتی ہے اور اس کا موازنہ اس سے کریں جو آپ حقیقت میں کھاتے ہیں۔
ان کے مطابق ’لوگ کہتے ہیں کہ وہ ناشتے میں صرف ایک چھوٹا پیالہ سیریئل کھاتے ہیں لیکن جب آپ ان سے کہتے ہیں کہ وہ اپنی عام مقدار ڈالیں اور اس کا لیبل پر درج مقدار سے موازنہ کریں تو وہ تین گنا زیادہ کھا رہے ہوتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اس معیاری مقدار کو نکال کر دیکھیں اور اندازہ لگائیں، پھر دیکھیں کہ آپ اپنی پلیٹ یا پیالے میں کتنے کپ کے برابر کھا رہے ہیں۔
یوں آپ کا پورشن سائز کنٹرول میں رہتا ہے۔

























