ایران جنگ کی ’مخالف‘ اور پاکستان کی ناقد امریکی انٹیلیجنس سربراہ تلسی گبارڈ کا اچانک استعفیٰ: ’ہمیں ان کی کمی محسوس ہو گی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, انا فاگوئی اور سارین حبیشیان
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان کے حوالے سے جارحانہ موقف رکھنے والی امریکہ کی نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر تلسي گبارڈ نے استعفیٰ دے دیا ہے اور اس کی وجہ انھوں نے اپنے شوہر کی بیماری بتائی ہے۔
گبارڈ کے شوہر کو حال ہی میں ہڈیوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہے۔
جمعے کو گبارڈ نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ ’میری طاقت اور محبت میرے شوہر نے ہر چیلنج میں میرا ساتھ دیا ہے۔ میرا ضمیر یہ نہیں کہتا کہ وہ اس لڑائی کا اکیلے سامنا کریں اور میں اس مشکل اور وقت لینے والے عہدے پر برقرار رہوں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گبارڈ کے اس فیصلے کے بارے میں سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’گبارڈ نے اپنے عہدے پر رہتے ہوئے بہترین کام کیا ہے۔ ہمیں اُن کی کمی محسوس ہوتی رہے گی۔‘ گبارڈ کا استعفیٰ 30 جون سے مؤثر ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ پرنسپل ڈپٹی ڈائریکٹر ایرون لوکاس قائم مقام ڈائریکٹر کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
2024 کے صدارتی انتخابی مہم کے دوران گبارڈ نے ٹرمپ کی حمایت کی تھی۔ 2025 میں ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس واپس آنے کے چند ہی ہفتوں بعد انھیں امریکی انٹیلیجنس نظام کی سب سے بااثر شخصیات میں شامل کیا گیا تھا۔
لیکن اس سال وہ عوامی طور پر کافی کم نظر آئیں۔ اس دوران امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی، کیوبا پر دباؤ بڑھایا اور وینزویلا کے صدر کو ہٹانے جیسی کارروائیاں کیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے حوالے سے جارحانہ موقف
مارچ میں امریکی سینیٹ کو دی گئی ایک بریفنگ کے دوران تلسی گبارڈ نے پاکستان کو اُن ممالک میں شامل کیا تھا جو امریکہ کے لیے نمایاں سکیورٹی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے 'سالانہ تھریٹ اسیسمنٹ' رپورٹ پیش کرتے ہوئے تلسی گبارڈ نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی میزائل صلاحیتیں مستقبل میں امریکی سرزمین کو اپنی رینج میں لے سکتی ہیں۔
تلسی گبارڈ کا کہنا تھا کہ 'روس، چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان ایٹمی اور روایتی پے لوڈز کے ساتھ جدید، روایتی یا نئے قسم کے میزائل نظاموں میں خاصی تحقیق اور ترقی کر رہے ہیں، جو ہمارے ملک (امریکہ) کو (ان میزائلوں کی) رینج میں لے آتا ہے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے بین البراعظمی میزائل سسٹم تک ترقی پا سکتی ہے، جس کی رینج امریکہ تک بھی ہو سکتی ہے۔
ماضی میں تُلسی گبارڈ بھی پاکستان پر تنقید کرتی ہوئی نظر آئی ہیں۔ سنہ 2017 میں انھوں نے پاکستان پر اُسامہ بن لادن کو پناہ دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
اس وقت کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی ایک مقدمے پر رہائی پر بھی تُلسی نے پاکستان پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ حافظ سعید ممبئی حملوں کے 'ماسٹر مائنڈ' تھے جن میں چھ امریکیوں سمیت سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مارچ 2019 میں انھوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ 'جب تک پاکستان دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا رہے گا دونوں ممالک کے درمیان تناؤ رہے گا۔'
'وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی رہنما انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں۔'
ٹرمپ کابینہ چھوڑنے والی چوتھی رُکن

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تلسی گبارڈ امریکہ کی ایران سمیت بیرون ملک جنگوں کی مخالف سمجھی جاتی ہیں اور وہ ماضی میں بھی کئی مواقع پر امریکہ کی ایران پالیسی پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ ٹرمپ نے جب ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تب بھی انتظامیہ کے ساتھ اُن کے اختلافات ظاہر ہوئے تھے۔
گبارڈ ٹرمپ انتظامیہ میں کابینہ چھوڑنے والی چوتھی رکن ہیں۔ اس سے پہلے اپریل میں لیبر سیکریٹری لوری شاویس ڈی ریمر نے عہدہ چھوڑا تھا۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی وزیر کرسٹی نوم اور اٹارنی جنرل پام بانڈی بھی اس سال ٹرمپ انتظامیہ سے الگ ہو چکے ہیں۔
اپنے استعفیٰ میں گبارڈ نے لکھا کہ اُن کے شوہر ابراہم آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ’بڑے چیلنجز‘ کا سامنا کریں گے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ گبارڈ ’اس وقت اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ وہ انھیں دوبارہ صحت مند بنانے میں مدد کرنا چاہتی ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ جلد ہی پہلے سے بھی بہتر ہو جائیں گے۔‘
ایران پر اسرائیل کی کارروائی کے بعد اُنھوں نے کھل کر اس کی حمایت نہیں کی تھی۔ مارچ میں کانگریس کی سماعت کے دوران ممکنہ نتائج سے متعلق پوچھے گئے سوالات سے وہ احتیاط سے گریز کرتی رہیں۔
ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اُن سے سوال کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے دعووں میں ایران کی جوہری صلاحیت کے بارے میں فرق کیوں نظر آتا ہے؟
گذشتہ سال ٹرمپ نے کانگریس کے سامنے گبارڈ کے اس بیان کو بھی مسترد کر دیا تھا جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔
اس وقت ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ’مجھے فرق نہیں پڑتا کہ انھوں نے کیا کہا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے بہت قریب تھے۔‘
ٹرمپ مسلسل ایران کی جوہری صلاحیت کو جنگ کی وجہ قرار دیتے رہے ہیں۔
گبارڈ کا استعفیٰ ان کے قریبی ساتھی اور سابق نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ کے استعفیٰ کے دو ماہ بعد آیا ہے۔
کینٹ نے ایران جنگ کے مسئلے پر ٹرمپ انتظامیہ چھوڑتے ہوئے صدر سے ’اپنا مؤقف بدلنے‘ کی اپیل کی تھی۔
تاہم، کینٹ کے استعفیٰ کے بعد گبارڈ نے عوامی طور پر ٹرمپ کے ایران سے متعلق فیصلے کی حمایت کی تھی۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ کمانڈر ان چیف کے طور پر صدر ہی طے کرتے ہیں کہ کون سا خطرہ فوری ہے اور کون سا نہیں۔
سپاہی، سیاست دان اور سب سے بڑے انٹیلیجنس نظام کے سربراہ تک کا سفر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تلسي گبارڈ نے اپنی سیاسی زندگی میں کئی ریکارڈ قائم کیے ہیں۔
عراق میں میڈیکل یونٹ میں خدمات انجام دینے والی سابق فوجی گبارڈ 2002 میں 21 سال کی عمر میں امریکی ریاست ہوائی کی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئیں اور ایسا کرنے والی سب سے کم عمر شخصیت تھیں۔
بعد میں اُن کی نیشنل گارڈ یونٹ کو عراق بھیجا گیا جس کے باعث اُنھوں نے ایک مدت کے بعد عہدہ چھوڑ دیا۔
اس کے بعد وہ 2013 سے 2021 تک ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے ہوائی سے کانگریس کی رکن رہیں۔ وہ امریکی کانگریس میں پہنچنے والی پہلی ہندو نمائندہ بنیں۔
سنہ 2020 میں وہ صدارتی دوڑ میں بھی شامل تھیں، لیکن کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ اس دوران اُنھوں نے غیر ملکی جنگوں میں مداخلت کی مخالفت کو مرکزی مسئلہ بنایا۔
فاکس نیوز کی مبصر کے طور پر اُنھوں نے جنس اور اظہارِ رائے کی آزادی جیسے مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کیا اور بعد میں ٹرمپ کی مضبوط حامی بن گئیں۔ اس کے بعد وہ ریپبلکن پارٹی میں شامل ہو گئیں۔
اُنھوں نے 2024 میں ٹرمپ کی حمایت کی اور اُن کے ساتھ انتخابی مہم چلائی۔ ٹرمپ کی جیت کے بعد وہ عبوری ٹیم کا بھی حصہ رہیں۔
انتخاب جیتنے کے فوراً بعد ٹرمپ نے اُنھیں نیشنل انٹیلیجنس ڈائریکٹر نامزد کیا۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے وہ کئی امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے درمیان رابطہ کاری کا کام کرتی تھیں اور صدر ٹرمپ کو مشورہ دیتی تھیں۔
ان کی قیادت میں امریکی انٹیلیجنس نظام کو کم کیا گیا۔ گزشتہ سال ایجنسی کے تقریباً 50 فیصد ملازمین کی کمی کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا تھا کہ گذشتہ دو دہائیوں میں یہ ادارہ ’ضرورت سے زیادہ بڑا اور غیر مؤثر ہو گیا تھا۔‘























