بجلی کی قلت کے دلچسپ پہلو

وقت اشاعت

افریقی ملک گھانا میں گزشتہ تین سالوں سے بجلی کی قلت ہے۔ مندرجہ ذیل اس قلت کے کچھ نتائج ہیں جن کی توقع نہ تھی۔

بھنبھنانے کی آواز

وسط اکرا سے گزرتے ہوئے آپ کو عجیب بھنبھنانے کی آواز آئے گی۔ یہ آواز کان کے قریب مچھر کے بھنبھنانے کی آواز سے ملتی جلتی ہے۔

اصل میں یہ آواز بازار میں جنریٹرز چلنے کی آواز ہے۔ مہنگے جنریٹرز کی آواز نہیں ہوتی لیکن زیادہ تر دکانوں پر سستے جنریٹرز ہیں جن کی آواز مل کر بھنبھنانے کی آواز بن جاتی ہے۔

سیاستدانوں کے نام

گھانا میں جب بھی کوئی بحران پیدا ہوتا ہے اور سیاستدان اس کو حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو ان کا نام رکھ دیا جاتا ہے۔

بجلی کی قلت کے باعث صدر جان مہاما کا نام ’مسٹر ڈمسر‘ رکھ دیا گیا ہے جو اصل میں لوڈ شیڈنگ کے لیے مشہور نام ہے۔

مقامی زبان میں ’ڈم‘ کا مطلب آن ہے اور ’سر‘ کا مطلب آف ہے۔

صدر مہاما کو معلوم ہے کہ ان کا کیا نام رکھا گیا ہے اور وہ کھلے عام اپنا ہی مذاق اڑاتے ہیں۔

خاندان کے لیے زیادہ وقت

ایک خاتون نے کہا کہ جب سے بجلی کی قلت ہوئی ہے تو مردوں کا فٹ بال دیکھنا ختم ہو گیا اور اس کے باعث اس خاتون کو اپنا شوہر اچھا لگنے لگ گیا ہے۔

’اب ہم اپنی گیم کھیلتے ہیں۔‘

دوسری جانب سوشل میلایا سے ہٹ کر خاندانوں نے اکٹھے زیادہ وقت گزارنا شروع کر دیا ہے کیونکہ موبائل فونز اور لیپ ٹاپس چارج نہیں ہو سکتے۔

موبائل کی روشنی میں جنم

کچھ ہسپتالوں کے پاس اتنی رقم نہیں کہ جنریٹرز چلا سکیں۔ اس لیے جب روشنی جاتی ہے تو دائیاں ٹارچ اور موبائل فون کی لائٹ تلے کام کرتی ہیں۔

تازہ کھانا

جن لوگوں کے پاس جنریٹرز بھی ہیں وہ بھی آدھی رات کو جنریٹر بند کردیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ فرج میں کھانا نہیں رکھا جاسکتا۔

میرے لیے یہ ایک اچھی بات ہے کیونکہ میری بیوی اکٹھا کھانا بنا کر فرج میں رکھ دیتی تھی۔ اب چونکہ کھانا فرج میں نہیں رکھا جاسکتا تو ہر روز کھانا بنتا ہے اور مجھے تازہ کھانا ملتا ہے۔

بجلی کے بل میں کمی

بجلی کی قلت کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ بجلی کے بلوں میں کمی ہوئی ہے۔

گھانا میں لوگ پری پیڈ بجلی کے میٹر استعمال کرتے ہیں اس لیے بچت فوری ہوتی ہے۔

گاڑیوں میں زیادہ وقت

بجلی کی قلت کے باعث زیادہ سے زیادہ لوگ گاڑیوں میں ایئر کنلایشنر لگا کر ریڈیو سنتے ہیں۔ سونے سے چند گھنٹے قبل دو گھنٹوں کے لیے گاڑی میں اے سی لگا کر لوگ بیٹھتے ہیں۔ اور جب گرمی زیادہ ہوتی ہے تو لوگ گاڑی ہی میں سو جاتے ہیں۔