30 برس قبل کابل پر طالبان کے قبضے اور ڈاکٹر نجیب اللہ کی سرعام پھانسی کی آنکھوں دیکھی کہانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شعیب شریفی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
یہ مضمون پہلے بھی شائع ہو چکا ہے مگر اب کابل میں طالبان کے اولین داخلے کی تیسویں برسی کے موقع پر دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
26 ستمبر 1996 کی صبح کابل کے باسی مسلسل گونجنے والے پُرجوش نعروں کی آواز سے بیدار ہوئے، ایسی آوازیں جو انھوں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں۔
ہم کابل کے جنوب مغرب میں واقع فضل بیگ کے علاقے میں رہتے تھے، جو کابل-قندھار شاہراہ کے قریب واقع ہے۔ یہ شور سن کر لوگ گھروں کی چھتوں اور دیواروں پر چڑھ گئے تاکہ معلوم کر سکیں کہ کیا ہو رہا ہے۔
علاقے کی تنگ گلیوں کا منظر یکسر بدل چکا تھا۔ آٹھویں کابل ڈویژن کے وہ سپاہی، جو کیموفلاج وردیوں اور رائفلوں کے ساتھ نظر آتے تھے، غائب تھے۔ کمانڈر طوفان کے مسلح جنگجو بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے، جو مختصر واسکٹیں پہنے اور پاجامے ٹخنوں تک چڑھائے ہمارے علاقے میں رہتے تھے۔
ان کی جگہ نوجوان اور ادھیڑ عمر دیہاتیوں کے قافلے نظر آ رہے تھے۔ سفید اور سیاہ پگڑیاں باندھے، کئی سینڈل پہنے اور بعض کمبل یا چادروں میں لپٹے ہوئے، ڈاٹسن گاڑیوں میں سوار یہ لوگ سفید جھنڈے لہراتے ہوئے ہمارے علاقے کی جانب بڑھ رہے تھے۔
ہر گاڑی پر لاؤڈ سپیکر نصب تھا، جن سے طالبان کے ترانے، فتح کے نغمے اور نئے دور کے پیغامات مسلسل نشر ہو رہے تھے۔ علاقے کے بزرگ، جو ان آنے والوں کے استقبال کے لیے باہر نکلے تھے، ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے، ’بادشاہت ختم ہو گئی، مجاہدین فرار ہو گئے اور طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا ہے۔‘
پانچ برس کی خانہ جنگی، خونریزی اور تباہی سے تنگ آ چکے کابل کے بہت سے باشندوں کے لیے اس لمحے میں امید کی ایک کرن تھی۔ مجاہدین کے مختلف دھڑوں کے درمیان جاری لڑائیوں نے شہر کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ اسی لیے اس دن بہت سے لوگ طالبان کو کابل کا ’نجات دہندہ‘ سمجھ رہے تھے۔ جو شہر ایک دن پہلے تک ’اسلامی ریاست افغانستان‘ کا دارالحکومت تھا، اب ’اسلامی امارت‘ کے قیام کا اعلان سن رہا تھا۔
کچھ ہمسایوں نے طالبان کے استقبال میں اپنے گھروں کی چھتوں اور دیواروں پر سفید کپڑے بھی آویزاں کر دیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
طالبان کے جنگجو گلی گلی گشت کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص، جس کے کندھے پر کلاشنکوف تھی، ایک ہاتھ میں لاؤڈ سپیکر اور دوسرے میں چابک لیے پشتو میں بلند آواز سے اعلان کر رہا تھا: ’برائی اور بدعنوانی کے عناصر کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔‘
یہ اشارہ سابق مجاہدین حکومت کی طرف تھا۔ اپنی کامیابی پر پُراعتماد نظر آنے والے طالبان کے ایک اور رکن نے لوگوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا، ’فکر نہ کریں، ہمارا کسی سے ذاتی جھگڑا نہیں۔ ہم صرف مسلح افراد کی تلاش میں ہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئی ہتھیار ہے یا آپ کسی مسلح شخص کے بارے میں جانتے ہیں تو پولیس کو اطلاع دیں۔‘
امن اور اسلحے سے پاک زندگی کابل کے شہریوں کی دیرینہ خواہش تھی، اور طالبان خود کو ان خواہشات کی تکمیل کرنے والی قوت کے طور پر پیش کر رہے تھے۔
میں کئی گھنٹوں تک اپنی چھت پر کھڑا یہ سب دیکھتا رہا۔ حیرت انگیز طور پر مجھے ایک بھی گولی چلنے کی آواز سنائی نہیں دی۔ وقت گزرتا گیا اور میرے اندر بھی مستقبل کے بارے میں ایک عجیب سا اطمینان اور امید کا احساس جنم لینے لگا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ احساس صرف میرا نہیں، بلکہ اُس دن کابل کے بہت سے باشندوں کا مشترکہ احساس تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مگر یہ خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ چند گھنٹوں بعد ایک ایسی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس نے پورے شہر کو اضطراب میں مبتلا کر دیا۔
ہر طرف ایک ہی افواہ گردش کر رہی تھی، ’طالبان نے نجیب اللہ کو پھانسی دے دی ہے۔‘
لوگ اس خبر کی تصدیق کے لیے چھتوں اور گلیوں سے نکل کر اپنے گھروں میں رکھے ریڈیو سیٹوں کی طرف دوڑ پڑے۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ کابل کے ’نجات دہندہ‘ سمجھے جانے والے طالبان اقتدار سنبھالتے ہی افغانستان کے سابق صدر کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے، ایک ایسی شخصیت کو جو بہت سے افغانوں کے دلوں میں اب بھی خاص مقام رکھتی تھی۔
سابق سوویت حمایت یافتہ حکومت کے آخری صدر ڈاکٹر نجیب اللہ نے 1992 میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد کابل میں اقوام متحدہ کے دفتر میں پناہ لے لی تھی اور طالبان کے شہر میں داخل ہونے تک وہیں مقیم رہے تھے۔ ابتدا میں کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ مقتول ڈاکٹر نجیب اللہ نہیں بلکہ مجاہدین حکومت کے وزیرِ خارجہ ہیں، مگر جلد ہی یہ اطلاعات بھی گردش کرنے لگیں کہ آریانہ چوک میں لٹکائی گئی لاش درحقیقت سابق صدر ہی کی ہے۔
یہ خبر سنتے ہی میں محلے کے چند لڑکوں کے ساتھ آریانہ سکوائر کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس دور میں بہت کم لوگوں کے پاس ذاتی گاڑیاں تھیں۔ باغِ بالا کے علاقے تک پہنچتے پہنچتے ہم سائیکل سواروں کے ایک بڑے ہجوم میں شامل ہوگئے، جو اسی سمت جا رہا تھا۔
تھکے ہوئے سائیکل سوار ایک دوسرے سے بار بار کہہ رہے تھے کہ وہ سنی ہوئی بات پر یقین نہیں کر پا رہے۔ کچھ کا اصرار تھا کہ لاش ڈاکٹر نجیب اللہ کی نہیں، جبکہ دوسرے پورے یقین کے ساتھ جواب دیتے:، ’بھائی، خبر درست ہے، وہی ہیں۔‘
شہر کی سڑکیں غیر معمولی طور پر سنسان تھیں۔ بعض مقامات پر مجاہدین حکومت کے سیاہ، سفید اور سبز جھنڈے اب بھی لہرا رہے تھے۔ وہی مجاہدین جنھوں نے ڈاکٹر نجیب اللہ سے اقتدار چھینا تھا، مگر بعد میں خانہ جنگی کے نتیجے میں کابل کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا اور بالآخر بغیر کسی مؤثر مزاحمت کے دارالحکومت طالبان کے حوالے کر گئے۔
جب ہم آریانہ سکوائر پہنچے تو وہاں کا منظر دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ کابل کے باشندوں نے اس سے پہلے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ گذشتہ کئی دہائیوں میں افغانستان کے متعدد صدور قتل ہوئے تھے، لیکن ان کی موت کی داستانیں عموماً صدارتی محل یا اقتدار کے ایوانوں کی دیواروں کے اندر ہی دفن ہو جاتی تھیں۔ اس مرتبہ معاملہ مختلف تھا۔
ڈاکٹر نجیب اللہ، جو اپنی نفیس شخصیت، شائستہ گفتار اور خوش لباس ہونے کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے، اور اکثر فوجی وردی یا لمبا کوٹ پہنے دکھائی دیتے تھے، اس روز ایک پھٹے ہوئے سوٹ اور خون آلود قمیض میں نظر آ رہے تھے۔
ان کا چہرہ اور سر زخمی تھا، جسم رسیوں سے بندھا ہوا تھا، اور ان کی لاش کابل کے آریانہ سکوائر میں ایک ٹریفک سگنل سے لٹک رہی تھی۔ یہ منظر بہت سے لوگوں کے لیے ناقابلِ یقین اور دل دہلا دینے والا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈاکٹر نجیب اللہ کی لاش کے ساتھ ان کے بھائی احمد زئی کی لاش بھی لٹکا دی گئی تھی، جو ان کے دورِ حکومت میں صدارتی محل کی سکیورٹی کے ذمہ دار تھے۔
اس وقت یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ طالبان نے کابل پر قبضے کی رات دونوں بھائیوں کو اقوامِ متحدہ کے دفتر سے نکالا، انھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر قتل کر دیا۔ نجیب اللہ کی لاشوں کے گرد جمع ہجوم میں زیادہ تر طالبان جنگجو شامل تھے۔ کابل کے عام شہری نسبتاً پیچھے کھڑے تھے، جبکہ کچھ لوگ صدارتی محل کی دیواروں پر چڑھ کر دور سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
بعض طالبان جنگجو ایک دوسرے کو فتح کی مبارک باد دے رہے تھے اور گلے مل رہے تھے، جبکہ کچھ محدود تعداد میں موجود صحافیوں اور فوٹوگرافروں کے کیمروں کے سامنے لٹکتی لاشوں کے قریب جا کر کھڑے ہو جاتے۔ تاہم وہاں موجود تمام طالبان یکساں ردِعمل نہیں رکھتے تھے۔ بعض جنگجو، کابل کے عام باشندوں کی طرح، ڈاکٹر نجیب اللہ کی لٹکتی ہوئی لاش کو دیکھ کر حیرت زدہ اور گم سم دکھائی دیتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ بہت سے طالبان کو بھی اس قتل کے منصوبے کا پہلے سے علم نہیں تھا۔
ڈاکٹر نجیب اللہ کو کس نے، کیسے اور کن حالات میں قتل کیا، اس حوالے سے اُس وقت بھی بہت سوالات تھے اور آج بھی کئی پہلو پوری طرح واضح نہیں ہو سکے۔ البتہ ایک بات اُس روز نمایاں ہو گئی تھی: طالبان نے اپنی ’اسلامی امارت‘ کے پہلے ہی دن یہ تاثر دیا کہ وہ نہ عوامی ردِعمل سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور نہ ہی بین الاقوامی تنقید سے خوف زدہ نظر آتے ہیں۔
وقت گزرتا گیا اور آریانہ سکوائر میں لوگوں کا ہجوم بڑھنے لگا۔ ایک طالبان جنگجو چابک لہراتے ہوئے لوگوں کو لاشوں سے دور ہٹاتا اور انھیں قریب جمع ہونے سے روکتا رہا۔
کابل کے باشندے سمجھ چکے تھے کہ اقتدار اب کن لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ صبح کی امید اور خوش فہمی چند ہی گھنٹوں میں ماند پڑ چکی تھی۔ فضا میں احتیاط، خاموشی اور غیر یقینی چھائی ہوئی تھی، اور لوگ اپنے خیالات کھل کر بیان کرنے کے بجائے اشاروں کنایوں میں بات کر رہے تھے۔
کوئی کہتا، ’بہار سے تو سال اچھا لگتا ہے۔‘ دوسرا آہستہ سے جواب دیتا، ’خدا اس مرحوم پر رحم کرے۔‘
مجھے یاد ہے، ایک بزرگ نے نسبتاً بلند آواز میں کہا، ’تمھیں کس نے مارا؟‘
شاید ان کا اشارہ اُس دور کی طرف تھا جب ڈاکٹر نجیب اللہ ریاستی انٹیلی جنس ادارے ’خاد‘ کے سربراہ تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سوویت حمایت یافتہ حکومت کے متعدد سیاسی مخالفین گرفتار ہوئے، تشدد کا نشانہ بنے اور بعض جان سے بھی گئے۔
شام تک جب میں گھر واپس لوٹ رہا تھا تو ذہن میں الجھن اور بے یقینی کے سوا کچھ نہ تھا۔ صبح جو امیدیں دل میں جاگی تھیں، وہ دم توڑ چکی تھیں۔




















