صدیوں سے سمندر میں ڈوبا ہوا چولا سلطنت کا دارالحکومت جہاں دن رات بازار کھلے رہتے تھے

- مصنف, سراج، یالنین
- عہدہ, بی بی سی تامل
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 10 منٹ
جب بھی تامل ناڈو کی تاریخ پر بات ہوتی ہے تو قدیم ساحلی شہر پومپوہار کا ذکر ضرور آتا ہے۔
تامل ناڈو کے آثارِ قدیمہ سروے کے مطابق پومپوہار چوتھی صدی قبل مسیح میں ایک خوشحال ساحلی شہر تھا۔ یہ شہر ایک زمانے میں چولا حکمرانوں کا دارالحکومت بھی رہا۔
پومپوہار، جسے قدیم زمانے میں کاویری پومپٹنم کہا جاتا تھا، کا تفصیلی ذکر سنگم ادب کی معروف تصانیف میں ملتا ہے۔
سنگم ادب میں پومپوہار کا ذکر ایک ایسے شہر کے طور پر ملتا ہے جہاں بلند و بالا عمارتیں موجود تھیں اور وشنو، شیو، بدھ مت اور جین مت کے بڑے بڑے مندر موجود تھے۔
شلاپّادیکارم میں ’بھوتاساتھکم‘ نامی ایک مقام کا ذکر بھی ملتا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہاں بھوت لوگوں کو پکڑ کر کھا جاتے تھے۔
پومپوہار تقریباً چار کڈم کے رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ ایک کڈم تقریباً 7.5 کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے اور اس حساب سے یہ قدیم شہر 30 کلومیٹر کے رقبے پر آباد تھا۔
سنگم ادب کی مشہور نظم پٹّینپالئی میں بیان کیا گیا ہے کہ کاویری پومپٹنم (پومپوہار کا دوسرا نام) کاویری دریا کے شمالی کنارے پر واقع تھا۔
اس نظم میں پومپوہار میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔ مختلف علاقوں سے قیمتی اشیا یہاں لائی جاتی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمال کے پہاڑوں سے سونا اور جواہرات، مغرب سے صندل اور عود، جنوب کے سمندر سے موتی، گنگا کے علاقے سے سامان، کاویری خطے میں پیدا ہونے والی اشیا، سری لنکا سے مختلف مصنوعات پومپوہار پہنچتی تھیں۔ ان اشیا کی بدولت شہر کی منڈی نہایت وسیع اور گہما گہمی سے بھرپور تھی۔
پٹّینپالئی میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں سے آنے والی اشیا پومپوہار میں فروخت کے لیے رکھی جاتی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہTNSAD
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس بارے میں معلومات تامل ناڈو محکمہ آثارِ قدیمہ کی شائع کردہ ’پومپوہار زیرِ سمندر کھدائی میوزیم گائیڈ‘ میں دی گئی ہیں۔
تھائی لینڈ کے علاقے ٹاکوا پا میں نویں صدی عیسوی کا ایک تامل کتبہ دریافت ہوا ہے۔ یہ کتبہ پلوّا حکمران نندی ورمن سوم کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں نانگور کے تاجروں کے ایک گروہ منی کرامتھار کی جانب سے ’اوانی نارائنم‘ نامی ایک جھیل کی کھدائی کا ذکر کیا گیا ہے۔
گائیڈ بک کے مطابق نانگور اور منی کرامتھار دونوں کا پومپوہار سے گہرا تعلق تھا۔
پومپوہار میں دن، رات بازار کھلے رہتے اور وہاں کاروبار جاری رہتا تھا۔ ان بازاروں کو ’نالانگاڈی‘ (دن کا بازار) اور ’الانگاڈی‘ (رات کا بازار) کہا جاتا تھا۔ شہر کے تجارتی علاقے کو ’پٹّینپکّم‘ جبکہ دولت مند افراد کے رہائشی علاقے کو ’مارووَرپکّم‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔
پومپوہار کے گرد و نواح کے دیہات میں بھی تجارتی انجمنوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر کاروبار کیا جاتا تھا۔ منی کرامم، تھلاچنگاڈو، واناگیری، کِلائی یور، تھیرووینکاڈو اور نانگور ان مراکز میں شامل تھے۔
پومپوہار وہ مقام ہے جہاں دریائے کاویری سمندر میں جا کر گرتا ہے۔
اس شہر کو مختلف ادوار میں کاویری پومپٹنم، کاکانتی، سامباپتی، پالپوگج متھور، منّاگاٹو وناپتی، چولاپٹنم، کاویریز ایمپوریم اور کولاپٹنم جیسے ناموں سے بھی پکارا جاتا رہا۔
شمالی انڈیا کے بھارہوت میں دوسری صدی قبل مسیح کا ایک بودھ مذہب کا سٹوپا موجود ہے۔ ’پومپوہار زیرِ سمندر کھدائی میوزیم گائیڈ‘ کے مطابق اس سٹوپا کے حوالے سے پومپوہار کو ’کاگانتی‘ بھی کہا گیا ہے، جبکہ سوما نامی ایک شخص کی جانب سے اس سٹوپا کے لیے عطیے کا ذکر بھی ملتا ہے۔
تامل ناڈو کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے مشیر پروفیسر کے راجن کہتے ہیں ’سنگم ادب اور مختلف کتبوں میں پومپوہار کے متعدد حوالے موجود ہیں۔ تاہم ٹھوس اور سائنسی نتائج تک پہنچنے کے لیے مزید تفصیلی کھدائیاں کی جا رہی ہیں۔‘

پومپوہار میں سمندر کی تہہ میں کھدائی
انڈین ریاست تامل ناڈو کے مئیلادوتھرائی ضلع کے پومپوہار میں گذشتہ دو ہفتوں سے سمندر کی تہہ میں کھدائی جاری تھی۔ تامل ناڈو محکمہ آثارِ قدیمہ کی جانب سے کی جانے والی یہ کھدائی 22 ستمبر کو مکمل ہوئی۔
اس کھدائی کا آغاز چھ ستمبر کو ہوا تھا۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق اس کھدائی کے دوران پومپوہار کے سمندری علاقے سے 250 سے زیادہ نوادرات دریافت ہو چکے ہیں۔
پومپوہار میں زمین اور سمندر دونوں مقامات پر کھدائیاں کی جا چکی ہیں۔
تامل ناڈو کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق پومپوہار میں تحقیقی کام کا آغاز 1910 میں ہوا تھا۔ بعد ازاں 1963-64 میں پومپوہار کے علاقے پلاوانیسورم میں ایک بودھ خانقاہ دریافت ہوئی تھی۔
اس کے بعد 96-1995 میں منی کرامم کلاراویلی میں کی جانے والی کھدائی کے دوران ایک قدیم کشتی گاہ (بوٹ جیٹی) کے آثار ملے۔ وہاں مٹی سے بنے بدھ کے قدموں کے نشانات بھی دریافت ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ رومی طرز کے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے بھی ملے، جن پر پتوں، پرندوں، گھوڑوں اور کشتیوں کی تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ محققین کے مطابق یہ قدیم کشتی گاہ ممکنہ طور پر چوتھی صدی قبل مسیح سے تعلق رکھتی ہے۔
سمندر کی تہہ میں کی جانے والی گذشتہ کھدائیوں کے دوران بھی قدیم عمارتوں کے آثار اور سیاہ و سرخ رنگ کے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے دریافت ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہTNSAD
تامل ناڈو محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق پومپوہار میں رومی دور کے مختلف اقسام کے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے دریافت ہوئے ہیں، جن میں رولڈ، اریٹائن اور ایمفورا طرز کے برتن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شہد یا شراب رکھنے والے مرتبانوں کے نچلے حصے اور قرونِ وسطیٰ کے برتنوں کے آثار بھی ملے ہیں۔
واناگیری توساکّولم میں ہونے والی کھدائی کے دوران براہمی رسم الخط سے مزین مٹی کے ایک برتن کا ٹکڑا بھی دریافت ہوا۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیسری صدی قبل مسیح میں پومپوہار کے شمالی انڈیا اور سمندر پار کے علاقوں کے ساتھ تجارتی روابط تھے۔
پومپوہار سے تقریباً چار کلومیٹر جنوب میں، جہاں دریائے کاویری سمندر میں جا کر ملتا ہے، سمندر کے اندر ایک جہاز کا ملبہ بھی دریافت ہوا تھا۔ تامل ناڈو محکمہ آثارِ قدیمہ کے ریکارڈ کے مطابق یہ 18ویں صدی عیسوی کا جہاز ہے۔
تامل ناڈو محکمہ آثارِ قدیمہ کے جوائنٹ ڈائریکٹر یاتھیش کمار کہتے ہیں ’یہ ایک ڈینش جہاز تھا۔ تیسرے مرحلے کی کھدائی کے دوران ہم نے اس جہاز کی باقیات کا بھی مطالعہ کیا ہے۔‘
تیسرے مرحلے کی کھدائی میں کیا ملا؟
محققین کا کہنا ہے کہ اب تک ہونے والی آثارِ قدیمہ کی تحقیقات سے یہ شواہد ضرور ملتے ہیں کہ پومپوہار ایک حقیقی شہر تھا۔ تاہم ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا کہ شہر کا کتنا حصہ تباہ ہوا، یہ تباہی کب واقع ہوئی، اور آیا یہ عمل بتدریج ہوا یا کسی بڑے قدرتی حادثے کے باعث ایک ہی وقت میں پیش آیا۔
پروفیسر کے راجن کہتے ہیں ’شاید پومپوہار کا تقریباً دو کڈم حصہ سمندر برد ہو گیا تھا۔ یہ جاننا بہت اہم ہے کہ شہر کا اتنا بڑا حصہ سمندر کے نیچے کیسے چلا گیا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ آیا سمندر کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے ایسا ہوا تھا۔ ابھی تو تحقیق کی محض ابتدا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTNSAD
آثارِ قدیمہ کے محقق یاتھیش کمار کے مطابق سمندر کی تہہ میں کھدائی کے اس تیسرے مرحلے کے دوران، جو دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہی، 250 سے زائد اشیا یا ان کی باقیات دریافت ہوئی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’اس نوعیت کے مٹی کے برتن اس سے پہلے سمندر کی تہہ میں ہونے والی کسی کھدائی میں نہیں ملے تھے۔ تاہم اس مرتبہ مٹی کے برتنوں کے 250 سے زیادہ ٹکڑے دریافت ہوئے ہیں۔ یہ ہمارے لیے اہم شواہد ہیں۔ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے بڑے برتنوں کے ٹکڑے بھی ملے ہیں۔ اس طرح کے برتن تجارتی جہازوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے تھے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ برتن کتنے قدیم ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ان اشیا کے تفصیلی مطالعے سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ پومپوہار میں کس نوعیت کی تجارت ہوتی تھی۔‘
وادیِ گنگا میں دوسری شہری تہذیب اور پومپوہار
کیلادی سے دریافت ہونے والی آثارِ قدیمہ کی اشیا کی کاربن ڈیٹنگ سے معلوم ہوا ہے کہ کیلادی کی تہذیب چھٹی صدی قبل مسیح سے تعلق رکھتی ہے۔
تقریباً چھٹی صدی قبل مسیح میں وادیِ گنگا میں دوسری شہری تہذیب نے جنم لیا تھا۔ وادیِ سندھ کی تہذیب کو پہلی شہری تہذیب تصور کیا جاتا ہے۔ کیلادی میں ہونے والی کھدائیوں نے اس بحث کو ایک نئی سمت دی کہ تامل ناڈو میں شہری آبادیوں کا آغاز کب ہوا۔
کیلادی کی کھدائیوں سے ایسے شواہد ملے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ تامل ناڈو میں چھٹی صدی قبل مسیح کے آس پاس شہری ثقافت موجود تھی۔ اسی وجہ سے کیلادی پورے انڈیا میں بحث و گفتگو کا موضوع بن گیا۔
پومپوہار میں سمندر کی تہہ میں کی جانے والی کھدائیوں کے دوران ایسے کنوؤں، آبی گڑھوں اور سیاہ و سرخ رنگ کے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے دریافت ہوئے ہیں جو کیلادی سے ملنے والی دریافتوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔

تامل ناڈو کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق تقابلی اندازوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشیا ممکنہ طور پر چھٹی یا پانچویں صدی قبل مسیح، یعنی سنگم دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ تاہم کاربن ڈیٹنگ جیسے سائنسی طریقوں کے ذریعے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
یاتھیش کمار کا کہنا ہے کہ ’کھدائیوں سے معلوم ہوا ہے کہ پومپوہار میں بودھ مذہب کی خانقاہیں اور پانی کے انتظام سے متعلق ڈھانچے موجود تھے۔ یہ تمام تعمیرات سنگم دور کی اینٹوں سے بنائی گئی تھیں۔ کیلادی اور اریکمیڈو سے ملنے والی اینٹوں جیسی اینٹیں پومپوہار میں بھی دریافت ہوئی ہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’اس مرتبہ پومپوہار میں کنوؤں کے آثار بھی دریافت ہوئے ہیں، جن کا مطالعہ کیا گیا۔ ان کنوؤں کا قطر 65 سینٹی میٹر سے زیادہ ہے۔ جب ان کا موازنہ کیلادی میں دریافت ہونے والے کنوؤں سے کیا گیا تو یہ بالکل ایک جیسے دکھائی دیے۔ اس نوعیت کے کنوؤں کی موجودگی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقے سے کبھی کوئی دریا گزرتا تھا۔ اسی لیے ہم دریا کے بہاؤ کے شواہد بھی تلاش کر رہے ہیں۔‘
سمندر کی تہہ میں کھدائی میں مشکلات
تامل ناڈو میں محکمہ آثارِ قدیمہ اس سے قبل کیلادی، آدیچنلّور، سیواکلائی، کوڈومنال، الاگانکُلم اور اریکمیڈو جیسے متعدد مقامات پر کھدائیاں کر چکا ہے۔
تاہم اس کے مقابلے میں سمندر کی تہہ میں کھدائی کرنا اور وہاں سے آثارِ قدیمہ کی اشیا دریافت کرنا کہیں زیادہ مشکل اور چیلنجنگ کام ہے۔ اس عمل میں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں سمندری حیات سے لاحق خطرات، سمندر کی تہہ میں محدود روشنی، اور ناموافق موسمی حالات شامل ہیں۔
پومپوہار میں زیرِ آب کھدائی کرنے والی ٹیم میں خصوصی تربیت یافتہ چار ماہرینِ آثارِ قدیمہ شامل ہیں۔ ان کی رہنمائی کے لیے سکوبا ڈائیونگ کے ماہرین بھی ٹیم کا حصہ ہوتے ہیں۔

یاتھیش کمار کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس پانی کے نیچے کھدائی کے لیے ضروری سازوسامان اور خصوصی تربیت موجود ہے۔ ہم سمندر میں 30 میٹر تک کی گہرائی میں جا سکتے ہیں۔ پانی کے اندر ہماری تمام نقل و حرکت کی نگرانی سطح پر موجود ایک کشتی سے کی جاتی ہے۔‘
’جب ہم سمندر میں اترتے ہیں تو اپنے ساتھ خصوصی کیمرے بھی لے جاتے ہیں۔ پانی کے اندر روشنی بہت کم ہوتی ہے۔ وہاں پرانی عمارتوں کی باقیات میں ماہی گیروں کے جال پھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہمیں کھدائی کے دوران یہ احتیاط بھی کرنا پڑتی ہے کہ یہ جال ہمارے پیروں میں نہ الجھ جائیں۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ اس کام کے دوران سمندری حیات سے بھی محتاط رہنا پڑتا ہے۔ ’مثال کے طور پر اگر کام کے دوران کسی نے جیلی فش کو چھو لیا تو اس سے شدید تکلیف اور جلن محسوس ہوتی ہے۔ سمندر میں شارک مچھلیاں بھی موجود ہوتی ہیں۔ یہ دھیان رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ ان جانداروں کو پریشان نہ کیا جائے۔ اگر یہ قریب بھی آ جائیں تو گھبرانا یا بوکھلاہٹ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح کی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
اس مرحلے کے لیے سمندر کی تہہ میں کھدائی کا کام 22 ستمبر کو مکمل ہو گیا۔ تاہم مون سون کے موسم میں سمندر کی صورتحال تبدیل ہو جاتی ہے اور خطرناک ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اگلا مرحلہ جنوری میں دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
محققین کو امید ہے کہ آئندہ مراحل میں اس قدیم بندرگاہی شہر کے بارے میں مزید اہم اور حیران کن معلومات سامنے آئیں گی، جو صدیوں پہلے سمندر میں گم ہو گیا تھا۔




















