لائیو, یمنی حوثیوں کا تعز میں سعودی افواج کے فضائی حملے میں 30 جنگجوؤں سمیت آٹھ شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ

بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے اعلان کیا کہ مسلح افواج نے 72 گھنٹوں کے دوران 756 درست اور مؤثر کارروائیاں کیں اور حوثیوں کے 2,316 جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا جن میں چار ایرانی شہری بھی شامل ہیں۔

خلاصہ

  • یمن میں حوثی گروپ کے متعدد ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کو تعز کے علاقے میں ہونے والے متعدد فضائی حملوں میں گروپ کے تقریباً 30 جنگجو اور آٹھ شہری ہلاک ہوئے ہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی سات روز میں آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز مسترد کر دی
  • روس آبنائے ہرمز میں استحکام کے لیے مدد کے لیے تیار ہے، سرگئی لاروف کا اقوام متحدہ میں بیان
  • عالمی برادری کو جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، سعودی وزیر خارجہ
  • ایران نے بعض اہم دفاعی تنصیبات اور صلاحیتوں کو زیرِ زمین منتقل کر دیا: وزارتِ دفاع
  • مجتبیٰ خامنہ ای مکمل صحت مند ہیں، دو بار ملاقات کر چکا ہوں: مسعود پزشکیان

لائیو کوریج

  1. یمنی حوثیوں کا تعز میں سعودی افواج کے فضائی حملے میں 30 جنگجوؤں سمیت آٹھ شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    Getty Images

    یمن میں حوثی گروپ کے متعدد ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کو تعز کے علاقے میں ہونے والے متعدد فضائی حملوں میں گروپ کے تقریباً 30 جنگجو اور آٹھ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے علاقے میں حوثیوں کے ایک فوجی کیمپ اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ایک فضائی حملے میں سات افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے، جس کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ یہ حملہ سعودی عرب نے کیا اور ایک بازار کو نشانہ بنایا۔

    تاہم بعدازاں چینل نے حوثیوں کی وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا کہ زخمیوں میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

    حوثیوں کی وزارتِ صحت نے کہا کہ حملے میں تعز صوبے کے مویہ چوراہے پر واقع ایک بازار اور متعدد دکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے کہا کہ اس کی فورسز نے اسی چوراہے پر حوثیوں کے ایک کیمپ اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔

    حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر تعز کے مضافات میں ایک بازار کو نشانہ بنانے والے دو فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں سمیت تقریباً 50 افراد متاثر ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ اس حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

    بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی مسلح افواج کے سرکاری ترجمان کرنل ماجد عبداللہ النزیلی نے اعلان کیا کہ مسلح افواج نے 72 گھنٹوں کے دوران 756 درست اور مؤثر کارروائیاں کیں اور حوثیوں کے 2,316 جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا جن میں چار ایرانی شہری بھی شامل ہیں۔

  2. ہم نیویارک امن کی راہ ہموار کرنے آئے ہیں، لیکن ضرورت پڑی تو تباہ کن جنگ کے لیے بھی تیار ہیں: عباس عراقچی

    Reuters
    ،تصویر کا کیپشنایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقی نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’ایرانی اعلیٰ سطحی وفد نیویارک ’امن کی راہ ہموار کرنے‘ کے لیے آیا ہے، لیکن ’ایران کسی بھی جارحیت کے خلاف ثابت قدم رہے گا، چاہے اس کے نتیجے میں تباہ کن جنگ ہی کیوں نہ چھڑ جائے۔‘

    انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ’اس کے ساتھ ساتھ ایران حقیقی سفارت کاری اور حالات میں مثبت پیش رفت کے لیے بھی تیار ہے۔‘

    واضح رہے کہ عباق عراقچی ، جو صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچے تھے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان اب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی ایرانی تجویز کو نا صرف ’مسترد‘ کر دیا تھا بلکہ انھیں ناقابلِ قبول بھی قرار دیا تھا۔

    تاہم کُچھ ہی وقت کے بعد امریکی صدر کی جانب سے ایک اور بیان بھی سامنے آیا تھا کہ جس میں انھوں نے کہا کہ تھا کہ ’آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ مزید مذاکرات ہوں گے۔‘

    عباس عراقچی نے گذشتہ جمعرات کو کہا تھا کہ اگر امریکہ ایران کی تجویز کردہ منصوبے سے اتفاق کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر کھول دیا جائے گا۔

  3. ریاض میں سکول عارضی طور پر بند، ایک ہفتے تک آن لائن کلاسز ہوں گی: اے ایف پی

    Reuters
    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کئی سکولوں نے والدین کو اطلاع دی ہے کہ کلاسیں ایک ہفتے کے لیے آن لائن منعقد کی جائیں گی۔ والدین کو اتوار کے روز موصول ہونے والے پیغامات میں بتایا گیا کہ سعودی حکام کی ہدایت پر سکول عارضی طور پر بند رہیں گے اور طلبہ گھر سے تعلیم حاصل کریں گے۔

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سکول انتظامیہ نے بندش کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی۔ تاہم یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

    اے ایف پی کے مطابق ریاض میں رہنے والے بعض والدین نے اچانک فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی فیصلہ پورے ہفتے کے لیے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کرتا ہے تو اس کی وجوہات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ ایک والد نے کہا کہ خاندان شفافیت اور واضح معلومات کے حق دار ہیں، جبکہ ایک لبنانی شہری نے اسے آخری وقت میں کیا جانے والا غیر متوقع فیصلہ قرار دیا۔

    ابھی تک سعودی حکام نے سکولوں کی بندش یا دوبارہ معمول کے مطابق کلاسوں کے آغاز کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب سعودی قیادت والے اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب کی جانب آنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا ہے۔

    دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ یمن کے جنوب مغربی علاقے تعز کے نواح میں سعودی فضائی حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ علاقے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول ہیں۔

  4. آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے امریکی دعوے کھوکھلے ہیں: ایرانی سپیکر

    Getty Images
    ،تصویر کا کیپشنایران کے پارلیمنٹ کے سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف

    ایران کے پارلیمنٹ کے سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی عالمی قیمتیں خود اس بیانیے کی تردید کر رہی ہیں۔

    باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’امریکی پراپیگنڈا مشین کہتی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا، لیکن تیل کی قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں اور فی بیرل تقریباً 35 ڈالر زیادہ پر ٹریڈ ہو رہی ہیں۔‘

    انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’یا تو مارکیٹ اندھیر نگری کا شکار ہے یا پھر امریکی بیانیہ بنانے والی مشین حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔‘

    باقر قالیباف نے مزید کہا کہ اگر امریکی مؤقف درست ہے تو ’آبنائے ہرمز میں یقین رکھنے والوں کے لیے مفت ڈالر بانٹنے والی مشین موجود ہے، جا کر اسے حاصل کر لیں۔‘

  5. گذشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آئیے آج کے دن میں آگے بڑھنے سے قبل گذشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں

    • امریکہ کے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں ایران کے پاس تجارت یا بارٹر کے لیے تقریباً کچھ نہیں بچے گا۔ امریکی ٹی وی چینل فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی معیشت پر امریکی دباؤ کے اثرات پر بات کرتے ہوئے سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اس وقت سمندر میں صرف ڈیڑھ کروڑ بیرل ایرانی تیل موجود ہے۔
    • سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے اہلِ خانہ نے ان کی ہمشیرہ نورین نیازی اور عمران خان کے درمیان ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں اور منسوب بیانات کی تردید کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
    • مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کی سلامتی مراکش کی اپنی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ مراکش کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ بیان سعودی عرب کے 26 ستمبر کو ریاض اور خمیس مشیط کی جانب داغے گئے حوثی ڈرونز اور میزائلوں کو تباہ کرنے کے دعوے کے بعد سامنے آیا ہے۔
    • ایران کی فوج نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن نے خطے میں کسی قسم کی فوجی کارروائی کی تو ایرانی افواج اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمنیہ نے کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کی پوزیشن ’اچھی نہیں‘ اور اسی وجہ سے وہ فوجی جارحیت کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
  6. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔