کشمیر کی بندش کے خلاف مظاہرے، تصاویر میں

کشمیر
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں ہونے والے مظاہروں میں خواتین کے علاوہ طلبا اور طالبات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی
وقت اشاعت

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی آئینی حیثحت تبدیل کرنے کے بعد دہلی نے وادی میں موجود مواصلاتی نظام مکمل طور پر بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں موجود کشمیری اپنے خاندانوں سے رابطہ نہیں کر پا رہے۔

اسی سلسلے میں دنیا کے مئتلف علاقوں میں بسنے والے کشمیریوں نے مظاہرے کیے۔

کشمیر

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر جموں میں ڈوگرا برادری نے پاکستان کے خلاف ایک ریلی نکالی جس میں کشمیر، جموں اور لداخ کی نئی حیثیت کے حوالے بینر بھی آویزاں تھے۔

کشمیر
کشمیر
کشمیر

انڈیا کے کئی شہروں میں بھی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی بندش کے حوالے سے مظاہرے ہوئے۔ دہلی، ممبئی اور کولکتہ میں بائیں بازو کی تنظیموں کی جانب سے ریلیز نکالی گئیں۔

کشمیر
کشمیر

ڈھاکہ میں کشمیری طلبا اور طالبات نے انڈیا کے اقدام کے خلاف ایک ریلی نکالی اور دہلی سے مطالبہ کیا کہ وہ وادی میں موجود مواصلاتی نظام پر بندشیں ہٹائے۔

کشمیر

پاکستان کے شہر کراچی میں جماعتِ اسلامی کے زیر انتظام مظاہرے میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نظر آئی۔

کشمیر

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے بیشتر علاقوں میں تاحال کرفیو برقرار ہے اور سڑک پر نکلنے والے تقریبا ہر شخص سے فوجی پوچھ گچھ کرتے ہیں۔

کشمیر
کشمیر

جموں اور سرینگر ہائی وے، جو کہ علاقے کو باقی انڈیا سے جوڑنے والی مرکزی شاہراہ ہے، بھی سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بند ہے اور سیکڑوں ٹرکوں، ٹیکسی اور ویگن والوں سمیت عام شہری بھی اس سڑک پر پھنسے ہوئے ہیں۔