ٹوماہاک، پیٹریاٹ اور تھاڈ: ایران جنگ کے نتیجے میں کیا امریکہ کے اسلحے کے ذخائر واقعی کم ہو رہے ہیں؟

امریکی میزائلوں کے ذخائر

،تصویر کا ذریعہChristopher Furlong/Getty Images

    • مصنف, برنڈ ڈیبسمین جونیئر
    • عہدہ, وائٹ ہاؤس رپورٹر
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 11 منٹ

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ کے آغاز میں امریکہ کی چند بڑی دفاعی کمپنیوں کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کی موجودگی میں ’پنسلوانیا ڈیفنس اینڈ انوویشن سمٹ‘ میں خطاب کیا تو اُن کے ذہن میں ایک ہی پیغام تھا: مزید ہتھیار بناؤ، اور جلدی بناؤ۔

اس موقع پر ٹرمپ نے امریکی دفاعی کمپنیوں پر زور دیا کہ ’تھوڑی زیادہ رفتار درکار ہے۔‘

جب ٹرمپ یہ بات کہہ رہے تھے تو اُن کے ساتھ امریکی سیکریٹری دفاع (یعنی وزیرِ جنگ) پیٹ ہیگسیتھ بھی موجود تھے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اِس تقریب کو امریکی صنعت کو دوبارہ فعال بنانے اور امریکی جنگی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا۔

تاہم اس تقریب کے دوران یہ نہیں بتایا گیا کہ رواں سال کے آغاز میں آپریشن ’ایپک فیوری‘ کے دوران ایران میں تقریباً 40 دن تک جاری فوجی کارروائیوں اور اس کے بعد ہونے والے حملوں میں مشکل سے تیار کیے جانے والے امریکی ہتھیاروں کا کتنا بڑا ذخیرہ استعمال ہو چکا ہے اور کتنا باقی ہے۔

اب تک امریکی حکومت کے مطابق اس جنگ پر 37.5 ارب ڈالر لاگت آ چکی ہے، اور اِن اخراجات کا بڑا حصہ گولہ بارود پر صرف ہوا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق، اٹھ اپریل کو جنگ بندی کے نافذ ہونے تک امریکی افواج ایران بھر میں 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکی تھیں۔ اسی عرصے کے دوران امریکی فضائی دفاع کے نظاموں نے 1700 سے زیادہ ایرانی ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا۔

اب امریکہ نے مذاکرات کو آگے بڑھنے کا موقع دینے کے لیے ایران پر حملے روک دیے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو مشورہ دیا گیا تھا کہ تنازع کو مزید بڑھانے کے منصوبے ترک کر دیے جائیں کیونکہ اس سے امریکی گولہ باردو کے ذخائر مزید کم ہو جاتے۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پیر کے روز ٹرمپ نے اس بات کی تردید کی کہ امریکی اسلحے کے ذخائر میں کوئی کمی آئی ہے۔ انھوں نے امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ کو بتایا کہ ’ہمارے پاس دنیا میں کسی بھی ملک سے کہیں زیادہ گولہ بارود موجود ہے، ہماری ضرورت سے بھی کہیں زیادہ۔‘

یہ معاملہ کچھ عرصے سے امریکی انتظامیہ کے لیے ایک حساس موضوع رہا ہے۔ گذشتہ ماہ جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ہتھیاروں اور گولہ باردو کی رسد میں کمی کی تردید کی تھی۔

تاہم اب اُن کا مؤقف بدلا ہوا نظر آتا ہے۔

گذشتہ ہفتے انھوں نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا تھا کہ پینٹاگون کو ساز و سامان سمیت دیگر متعلقہ معاملات کے لیے مزید 87 ارب ڈالر درکار ہیں۔

استعمال ہونے والے گولہ بارود اور اس کے باقی ماندہ ذخائر کی درست تفصیلات اب بھی خفیہ رکھی گئی ہیں۔ لیکن واشنگٹن ڈی سی میں قائم سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کے مرتب کردہ عوامی اعداد و شمار ایسی تصویر پیش کرتے ہیں کہ گولہ باردو کے ذخائر نمایاں حد تک کم ہو چکے ہیں۔

اس مسئلے پر تحقیق کرنے والے میرین کور کے ریٹائرڈ کرنل اور سی ایس آئی ایس کے سینیئر مشیر مارک کینسیان کہتے ہیں کہ ’یہ گولہ بارود کی نوعیت پر منحصر ہے، لیکن ایک میزائل بنانے میں ایک سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔ اور اس عمل کو تیز کرنے کے لیے آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔‘

لیکن کیا واقعی امریکہ اتنی تیزی سے گولہ بارود استعمال کر رہا ہے کہ اسے اپنے فوجی فرائض اور اہداف پورے کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے؟

امریکی اسلحہ خانے میں کمی

امریکی اسلحہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جنگ میں استعمال ہونے والے اہم ہتھیار دو اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں: طویل فاصلے پر موجود زمینی اہداف پر حملہ کرنے والے نظام اور فضائی و میزائل دفاعی نظام جو ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے استعمال ہوئے۔

زمینی حملے کے نظاموں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ٹوماہاک لینڈ اٹیک میزائل (ٹی ایل اے ایم) تھا، جو عموماً جہازوں یا آبدوزوں سے ان اہداف پر فائر کیا جاتا ہے جو 1600 کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر ہو سکتے ہیں۔

یہ ہتھیار امریکہ کو مضبوط فوجی اہداف، جیسا کہ کمانڈ بنکرز یا قلعہ بند فوجی تنصیبات پر درست حملے کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔

سی ایس آئی ایس کے اندازے کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے دوران 1000 سے زیادہ ٹوماہاک میزائل فائر کیے گئے اور امکان ہے کہ سنہ 2031 تک اُن کا ذخیرہ ایران جنگ سے پہلی والی سطح پر واپس نہیں آ سکے گا۔

سی ایس آئی ایس کے مطابق ٹی ایل اے ایم کے جدید ترین ماڈلز کی قیمت تقریبا 26 لاکھ ڈالر فی میزائل ہے۔

جنگ میں استعمال ہونے والے فضائی دفاع کے نظاموں میں سب سے زیادہ استعمال پیٹریاٹ کا ہوا ہے، جو زمین سے فائر کیا جانے والا میزائل ہے اور طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور کروز میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

سی ایس آئی ایس کے اندازے کے مطابق جاری تنازع کے دوران تقریباً 1430 پیٹریاٹ میزائل استعمال کیے گئے، جبکہ جنگ سے پہلے اُن کا ذخیرہ تقریباً 2330 میزائلوں پر مشتمل تھا۔

ہر پیٹریاٹ انٹرسیپٹر کی قیمت تقریباً 40 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ یہ ایک مہنگا لیکن مؤثر ذریعہ ہے جسے بارہا اُن ایرانی ڈرونز کو مار گرانے کے لیے استعمال کیا گیا، جن کی قیمت محض 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان تھی۔

کینسیان کہتے ہیں کہ ’ایک میزائل تیار کرنے میں کئی سال لگتے ہیں۔ اگر آپ آج سرمایہ لگائیں تو بھی آپ کو تین یا چار سال تک میزائل نہیں ملے گا، کبھی کبھی پانچ سال بھی لگ سکتے ہیں۔ جو میزائل ہمیں اب مل رہے ہیں، ان کے لیے سرمایہ سنہ 2023 میں فراہم کیا گیا تھا۔‘

ایک اور جدید اور زیادہ پیچیدہ نظام، ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) بھی استعمال کیا گیا، جو زیادہ فاصلے تک مار کر سکتا ہے اور پیٹریاٹ کے مقابلے میں زیادہ بلندی پر اہداف کو روک سکتا ہے۔

اس کی رسد پہلے ہی محدود تھی اور سی ایس آئی ایس کے مطابق جنگ سے پہلے ذخیرے میں 360 تھاڈ میزائل موجود تھے جن میں سے 190 سے 290 تک استعمال کیے گئے۔

دنیا میں تھاڈ کا نظام صرف نو مقامات پر فعال ہے، جن میں سے سات امریکہ میں ہیں۔ ان کا مسلسل استعمال روس یا شمالی کوریا جیسے ممالک کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملوں کے دفاع کی امریکی افواج کی صلاحیت کو کم کر سکتا ہے۔

ایران کے خلاف امریکہ کے آپریشن ایپک فیوری کے دوران ٹوماہاک میزائل داغا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

،تصویر کا کیپشنٹوماہاک سمیت دیگر میزائلوں کی رسد کم ہو چکی ہے

تمام نظریں تائیوان اور بحرالکاہل پر

ایران کے ساتھ جنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وہ مرحلہ قریب آ رہا ہے جسے اکثر ’ڈیوڈسن ونڈو‘ کہا جاتا ہے، جس میں بعض امریکی فوجی منصوبہ سازوں کے نزدیک چین کی جانب سے تائیوان پر حملے کا امکان زیادہ ہو گیا ہے۔

یہ متنازع تصور بحرالکاہل کے حوالے سے امریکی فوجی سوچ کا مرکزی حصہ ہے جس نے سنہ 2021 میں کانگریس میں ہونے والی ایک سماعت سے جنم لیا۔ اُس وقت خطے میں امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل فلپ ڈیوڈسن نے خبردار کیا تھا کہ حملہ ’اگلے چھ برسوں میں‘ ہو سکتا ہے۔

سنہ 2023 میں اُس وقت کے سی آئی اے ڈائریکٹر ولیم برنز نے پیش گوئی کی تھی کہ چین 2027 تک حملے کے لیے تیار ہو جائے گا۔

چین تائیوان کو اپنا ایک علیحدہ ہو جانے والا صوبہ سمجھتا ہے اور طویل عرصے سے اسے دوبارہ اپنے زیر انتظام لانے کی بات کرتا آیا ہے۔ اس مقصد کے لیے چین طاقت کے استعمال کا امکان بھی خارج نہیں کرتا۔

یہ بحث شدت سے جاری ہے کہ آیا امریکہ تائیوان کا دفاع کرے گا اور چین کے خلاف جنگ کرے گا یا نہیں۔ اس ابہام کے باوجود امریکہ تائیوان کو دفاعی ہتھیار فراہم کرتا ہے۔

کینسیان ہتھیاروں کے ذخائر میں اس کمی کو کمزوری قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر بحرالکاہل میں تنازع پیدا ہو جائے تو امریکہ کے پاس مطلوبہ گولہ بارود کی مناسب مقدار نہیں ہو گی۔

ان کے مطابق اس سے یہ خطرہ بڑھتا ہے کہ امریکی افواج بحرالکاہل میں ایسے ممکنہ تنازع کے لیے پوری طرح تیار نہ ہوں، جہاں چین اپنے میزائلوں کے ذخائر اور جنگی طیاروں کو استعمال کر سکتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق چین ایران جنگ کے دوران امریکی فضائی دفاعی نظاموں کا بغور مطالعہ کر رہا ہے اور اس نے حالیہ برسوں کے دوران میزائل ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جن میں ہائپرسونک گلائیڈ میزائل شامل ہیں، جو ایران کے استعمال کردہ میزائلوں اور کم قیمت ڈرونز کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید ہیں۔

بیجنگ نے وسیع پیمانے پر ’ڈرون سوارم‘ حکمت عملی کی تیاری پر بھی سرمایہ کاری کی ہے۔

تاہم ہر کوئی امریکی ذخائر میں کمی کو صرف ایک کمزوری نہیں سمجھتا۔

سی آئی اے کے سابق اہلکار اور امریکی وزارتِ دفاع میں مشرقِ وسطیٰ پالیسی کے سابق مشیر جیکب اولیڈورٹ نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ میں ان ہتھیاروں کا استعمال ایک طاقتور پیغام بھی بھیجتا ہے۔

امریکہ فرسٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ میں امریکی سلامتی پالیسی کے ڈائریکٹر اولیڈورٹ کہتے ہیں کہ ’کسی ملک کے پاس موجود ہتھیار دشمن کو حملہ کرنے سے باز رکھتے ہیں۔ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو درستی اور ریکارڈ وقت میں کمزور کرنے میں امریکی کامیابیاں دیگر مخالفین، بشمول چین اور اس کے عزائم کے لیے بھی ایک اشارہ ہیں۔‘

یورپ کا کیا ہو گا؟

امریکہ کے پیٹریاٹ دفاعی نظام کی تصویر، پس منظر میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

،تصویر کا کیپشنیوکرین روسی حملوں کو پسپا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل سسٹمز کا مطالبہ کرتا رہا ہے

اتحادیوں کو مسلح کرنے اور امریکی ذخائر محفوظ رکھنے کے درمیان بظاہر موجود کشیدگی پہلے ہی یوکرین کے معاملے میں سامنے آ چکی ہے۔

اکتوبر 2025 میں، آپریشن ایپک فیوری شروع ہونے سے کئی ماہ پہلے، ٹرمپ نے امریکی ذخائر کم ہونے کے خدشے کے باعث یوکرین کو ٹوماہاک میزائل دینے سے انکار کر دیا تھا۔

یہ واقعہ اس بحث کی پیشگی جھلک تھا جو اب ایران سے جنگ کے بعد امریکی اسلحہ خانے کے بارے میں جاری ہے، جہاں اتحادیوں کو ہتھیار فراہم کرنے اور اپنے ذخائر محفوظ رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنے کا سوال درپیش ہے۔ یوکرین کے معاملے میں امریکہ پہلے ہی اس کشمکش سے گزر رہا ہے۔

یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں روس کے مسلسل ڈرون اور میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری طور پر پیٹریاٹ اور دیگر فضائی دفاعی نظام درکار ہیں۔

زیلنسکی نے مارچ میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’توانائی کی قیمتوں کے علاوہ، اس (ایران جنگ) کا مطلب امریکی ذخائر میں کمی اور فضائی دفاعی سازوسامان بنانے والوں کی کمی بھی ہے۔ لہٰذا ہم (یوکرین) وسائل کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

زیلنسکی نے اس خدشے کی وضاحت اعداد و شمار کے ذریعے بھی کی۔ ان کے مطابق امریکہ تقریباً 60 سے 65 میزائل ماہانہ، یا 700 سے 800 سالانہ تیار کرتا ہے، جبکہ صرف آپریشن ایپک فیوری کے پہلے روز ہی 803 میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

تاہم حالیہ عرصے میں ٹرمپ نے کئی یورپی حکام کو حیران کرتے ہوئے یوکرین کو اپنے ملک میں پیٹریاٹ نظام تیار کرنے کا حق دینے کی پیشکش کی ہے۔ اسی نوعیت کے انتظامات جرمنی اور جاپان میں پہلے سے موجود ہیں۔

وزارتِ دفاع میں 13 سال تک خدمات انجام دینے والی اور اب امریکن انٹرپرائز انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ماہر ایلین مک کَسکر کا کہنا ہے کہ روس کے خلاف یوکرین اور ایران کے خلاف امریکہ کا جنگی تجربہ ایسے نسبتاً سستے اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جا سکنے والے نظاموں کی تیاری میں مدد دے سکتا ہے جو موجودہ مہنگے دفاعی نظاموں کی تکمیل کر سکیں۔

وہ کہتی ہیں: ’ہم ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ ہم ایک ہزار ڈالر مالیت کے ڈرونز کو مار گرانے کے لیے 60 لاکھ ڈالر کے انٹرسیپٹر استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ میرا خیال ہے کہ اب اس حل پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے، اور زیادہ لوگ ایسے ہتھیار بنانے پر کام کر رہے ہیں جنہیں نسبتاً کم لاگت پر تیار کیا جا سکے۔‘

نتائج

12 نومبر 2025 کی تصویر: ایرانی شہری تہران میں منعقدہ ایک نمائش کا دورہ کر رہے ہیں جس میں میزائلوں اور ڈرون ٹیکنالوجی میں حاصل کی گئی کامیابیوں کی نمائش کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشنایران کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی آئی ہے

اس سب کے باوجود یہ خدشات کم ہیں کہ مستقبل قریب میں امریکہ کے پاس گولہ بارود ختم ہو جائے گا۔ اس لیے نہیں کہ امریکی ذخائر لامحدود ہیں بلکہ اس لیے کہ ایران کے ذخائر کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے بی بی سی کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا: ’امریکی فوج کے پاس صدر ٹرمپ کے تمام سٹریٹیجک اہداف اور ان کے علاوہ بھی مقاصد پورے کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ گولہ بارود، اسلحہ اور ذخائر موجود ہیں، اور آپریشن ایپک فیوری نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کو چیلنج کرنے کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اس کے باوجود صدر نے ہمارے دفاعی کانٹریکٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ میں تیار ہونے والے مزید ہتھیار مسلسل بناتے رہیں۔‘

امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹکام ایران پر جو حالیہ حملے کیے، ان کا زیادہ تر مقصد آبنائے ہرمز میں جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی تہران کی صلاحیت کو کمزور کرنا رہا ہے۔

یہ ایک اہم بحری گزرگاہ ہے جسے ایران اور امریکہ نے بند کر رکھا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے پے در پے حملوں کے بعد ایران کے فوجی نقصانات امریکہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہے ہیں، اور ملک کے پاس مستقبل قریب میں ان کمیوں کو پورا کرنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔

یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران کے پالیسی ڈائریکٹر جیسن بروڈسکی کہتے ہیں: ’بہت سے تبصرے ایران کو ایسا ملک ظاہر کرتے ہیں جس کے پاس ہتھیاروں کی مقدار تقریباً لامحدود ہے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’میرے خیال میں ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ وہاں بھی حدود موجود ہیں، اور امریکہ نے ایران کی دفاعی صنعتی صلاحیت کو بہت بڑی حد تک کمزور کر دیا ہے۔‘

ان کے بقول، ایران کو جن میزائلوں، ڈرونز اور دیگر ہتھیار بنانے والے نظاموں کی ضرورت ہے، انھیں بڑے پیمانے پر تیار کرنے کی اس کی صلاحیت بڑی حد تک تباہ ہو چکی ہے۔

بروڈسکی کے مطابق ایران اپنے باقی ماندہ ذخائر کو اس چیز کے لیے محفوظ رکھ رہا ہے جسے وہ تہران کا اہم ترین حربہ قرار دیتے ہیں، یعنی آبنائے ہرمز کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت۔ ان کے خیال میں یہ صلاحیت بھی بتدریج کمزور پڑ رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ایرانی حکومت کے پاس اب وقت کم رہ گیا ہے۔‘

بروڈسکی کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع اس وقت واشنگٹن کی فوری ترجیح ہے، اگرچہ حکام یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مجموعی ذخائر کی صورتحال کو نظر انداز کرنا ’غیر ذمہ دارانہ‘ ہو گا۔

فی الحال ایسا ہر میزائل جو ایران کے کسی ہدف پر داغا جا رہا ہے، یوکرین کے محاذ پر بھیجا جا رہا ہے، یا تائیوان کے لیے محفوظ رکھا جا رہا ہے، ایک ایسے ذخیرے سے آ رہا ہے جو مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔

اس کے باوجود واشنگٹن کو یقین ہے کہ وہ اس تنازع سے نمٹ سکتا ہے اور وہ مزید ہتھیاروں کی پیداوار، استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی کمی کو پورا کرتی رہے گی۔