وہ مسافر جس نے فلائی دبئی پرواز کو ’گرانے کی کوشش کرنے والے پائلٹ‘ پر قابو پایا: ’میں نے اسے گردن سے دبوچا اور باہر کھینچ لیا‘

Yaniv Hayun
    • مصنف, یاروسلاو لوکیو
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

گذشتہ روز دبئی سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے مسافروں نے بتایا کہ کس طرح انھوں نے ایک پائلٹ پر قابو پایا جن کے بارے میں اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بظاہر اس طیارے کو گرانا چاہتے تھے۔ دوسری جانب کچھ مسافروں نے اس ’خوفناک‘ لمحے کو بیان کیا جب انھیں لگا کہ وہ مارے جائیں گے۔

اس سارے واقعے کے بعد خون آلود قمیض میں ملبوس یانیو ہیون نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کو بتایا کہ انھیں تب ہی احساس ہو گیا تھا کہ کچھ غلط ہے جب طیارہ اچانک تیزی سے نیچے گیا۔

دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی اس پرواز نے دو منٹ سے بھی کم وقت میں 17,000 فٹ (5,200m) کی بلندی کھوئی تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں ہیون کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’کسی نے چیخ ماری... پھر اندھیرا چھا گیا۔‘

ہیون نے دوسرے مسافروں کے ساتھ مل کر کاک پٹ کے دروازے کو دھکیل کر کھولنے کی کوشش کی لیکن جس پائلٹ پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا وہ اس کے بہت قریب تھا جس کی وجہ سے دروازہ کھولنے میں مشکل ہو رہی تھی۔ تاہم بیہوش ہونے سے قبل زخمی پائلٹ دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گیا۔

جب ہیون ایک اور مسافر کے ہمراہ کاک پٹ میں داخل ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ ایک پائلٹ نیچے گرا ہوا ہے جبکہ دوسرا پائلٹ دو سیٹوں کے درمیان کاک پٹ کے آلات پر جھکا ہوا تھا۔ ہیون کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور ’طیارے کو ناکارہ کرنے کے لیے آلات کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

ہیون بتاتے ہیں کہ ’میں نے حملہ آور کو پکڑا، اسے گردن سے دبوچا اور اسے سب سے پہلے باہر کی طرف کھینچ لیا۔‘

’ہم نے اسے باہر نکالا، یہ چند سیکنڈوں میں ہوا۔ میں نے ہوائی جہاز میں سوار دیگر اسرائیلی لڑکوں کو آواز دی۔ میں نے انھیں بلایا، اور دو اور لوگ میرے پاس آئے۔۔۔ ہم نے اس پر قابو پانے کے لیے اسے نیچے گرا دیا۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں ہیون کو دیکھا جا سکتا ہے
،تصویر کا کیپشناسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں ہیون کو دیکھا جا سکتا ہے

ہیون نے بتایا کہ اس کے بعد وہ واپس کاک پٹ میں داخل ہوئے اور ’کنٹرول لیور کو کھینچنا شروع کیا۔‘

جب نیتن یاہو نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟ تو مسافر نے جواب دیا: ’جناب وزیر اعظم، میں ایئر کریش انویسٹیگیشن دیکھتا ہوں۔‘

ہیون نے کہا کہ ہوائی جہاز پھر اُوپر آنا شروع ہو گیا تھا۔ اس وقت تک، دو آن ڈیوٹی پائلٹ جو مسافروں کے کیبن میں موجود تھے، جہاز کے اگلے حصے تک پہنچ گئے تھے اور اُن میں سے ایک نے ہیون سے کہا کہ اب وہ جہاز کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔

bbc

نیتن یاہو نے ہیون کی تعریف کرتے ہوئے انھیں ’عظیم ہیرو‘ اور ’شیر‘ قرار دیا۔

ایک اور مسافر زویکا مینیس نے اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے ’کان‘ کو بتایا کہ انھوں نے حملہ آور پر قابو پانے میں مدد کی، اور مسافر اور دو دیگر افراد نے ’انھیں ان ہی کے زپ ٹائیز اور ملٹی میڈیا ہیڈ فون کی مدد سے باندھ دیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ مسافر کیبن میں بیٹھے ایک اور پائلٹ اندر گئے اور انھوں نے جہاز کو لینڈ کیا۔

اس طرح فلائی دبئی کی پرواز بالآخر شمال مغربی سعودی عرب کے تبوک ہوائی اڈے پر اتری، اور بعد ازاں ایک دوسرے طیارے میں مسافروں کو تل ابیب کے بن گوریون ہوائی اڈے لے جایا گیا۔

تل ابیب پہنچنے پر ناچتے، گانے اور اسرائیلی پرچم لہراتے ہجوم نے ان کا استقبال کیا۔

فلائی دبئی کی اس پرواز کے ایک مسافر ہیم لازارووچ نے صحافیوں کو بتایا ’خدا کا شکر ہے کہ میں زندہ ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس پرواز کا سب سے خوفناک لمحہ وہ تھا جب پائلٹ کنٹرول کھو بیٹھا تھا۔‘

ایک 18 سالہ مسافر اوران چوئن نے اس واقعے کو ’بہت مشکل لمحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’شاید یہ صرف پانچ منٹ تھے، لیکن یہ کسی عذاب کی طرح محسوس ہو رہا تھا - میں نے اپنے پیچھے اپنے بھائی کو چیختے ہوئے سنا کہ ہم مرنے والے ہیں۔‘

واپس آنے والی فلائی دبئی کی پرواز کے مسافروں کے تل ابیب کے ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔ تصویر: 30 ستمبر 2026

اسرائیل کی ایمبولینس سروس کے ایک پیرامیڈیک نے بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ بہت سے لوگ جہاز سے اترتے وقت بہت جذباتی تھے اور رو رہے تھے۔

حملہ آور پائلٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور سعودی حکام اس سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسے ’جہادی دہشت گرد حملے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔ سرکاری سطح پر تاحال اس واقعے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے اور نہ ہی اس بارے میں مزید معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد انھوں نے نیتن یاہو سے بات کی تھی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ حملہ آور ’شاید دہشت گرد‘ تھا یا اس حملے کے پیچھے کچھ اور وجوہات تھیں۔