انڈیا کا نیوکلیئر فضلے سے دوبارہ جوہری ایندھن بنانے کا ’کامیاب‘ تجربہ: فاسٹ بریڈر ری ایکٹر کیا ہے اور کتنی اہمیت کا حامل ہے؟

،تصویر کا ذریعہDepartment Of Atomic Energy
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، دلی
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انڈین حکام کے مطابق انڈیا کے جوہری سائنسدانوں نے ریاست تمل ناڈو میں واقع ’کلپکم‘ جوہری پلانٹ کے فاسٹ بریڈر ری ایکٹر سے نکلنے والے نیوکلیئر فضلے کو کامیابی سے جوہری ایندھن میں بدل دیا ہے۔ اس پیشرفت کو ملک کی جوہری تواںائی کی ٹیکنالوجی کے ضمن میں ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پروٹو ٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر (پی ایف بی آر) پیر کے روز کریٹیکل مرحلے تک پہنچ گیا، یعنی وہ سطح جہاں نیوکلیئر چین ری ایکشن کسی بیرونی مدد کے بغیر خود جاری رہ سکتا ہے۔
اس ری ایکٹر کے مکمل طور پر فعال ہو جانے کے بعد، انڈیا روس کے بعد دنیا کا دوسرا ایسا ملک بن جائے گا جس کے پاس تجارتی نوعیت کا فاسٹ بریڈر ری ایکٹر موجود ہو گا۔
سادہ الفاظ میں، فاسٹ بریڈر ری ایکٹر بجلی پیدا کرنے والا ایک ایسا جوہری ری ایکٹر ہے جس کو چلانے کے لیے جتنی مقدار میں یورینیم استعمال کی جاتی ہے، یہ اس کے فضلے کو اُتنی ہی مقدار میں دوبارہ استعمال کے قابل ایندھن میں بدل دیتا ہے۔ اور اسی خصوصیت کے باعث اسے ’فاسٹ بریڈر‘ کہا جاتا ہے۔
انڈیا کے جوہری توانائی کے ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ری ایکٹر انرجی سکیورٹی کے لیے بھی بہت اہم ہے۔
ادارے کے سیکریٹری اجیت کمار موہنتی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انڈیا نے جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے شعبے میں ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ انڈیا نے فاسٹ بریڈر کے اس تجرباتی مرحلے کو حاصل کر لیا ہے جس میں ری ایکٹر استعمال شدہ یورینیم کے فضلے سے اپنا ایندھن خود بنا سکے گا اور اس عمل کے دوران 500 میگاواٹ بجلی بھی پیدا کرے گا۔‘
یاد رہے کہ ابھی یہ عمل تجرباتی مرحلے میں ہے اور اس فاسٹ بریڈر ری ایکٹر کو سنہ 2029 میں باضابطہ طور پر کمیشن کیا جائے گا۔
انڈیا روس کے بعد اس ٹیکنالوجی سے بجلی حاصل کرنے والا دوسرا ملک ہو گا جبکہ چین نے بھی فاسٹ بریڈر ری ایکٹر کا ایک چھوٹا پروگرام شروع کر رکھا ہے، تاہم یہ معلوم نہیں کہ ابھی کس سٹیج پر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہCorbis via Getty Images
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کامیابی پر ملک کے جوہری سائنسدانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے ملک کے سول جوہری پروگرام کی پیش رفت میں ایک ’تاریخی مرحلہ‘ قرار دیا ہے۔
نریندر مودی نے کہا ہے کہ ’ملک میں ڈیزائن اور تعمیر کیا گیا کلپکم فاسٹ بریڈر ری ایکٹر ہماری سائنس کے میدان میں ہماری صلاحیت اور ہماری انجینئرنگ کے تصورات کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔‘
یاد رہے کہ انڈیا نے اس منصوبے پر کام بہت پہلے شروع کیا تھا، تاہم ملک کو اس مرحلے تک پہنچنے میں کئی برس کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک پارلیمانی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے پر اب تک 10 ہزار کروڑ انڈین روپے کی لاگت آ چکی ہے جو اس منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر مختص کردہ رقم سے لگ بھگ دوگنا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انڈیا اپنے ایٹمی بجلی گھروں سے اس وقت مجموعی طور پر 8180 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے جو ملک کی بجلی کی مجموعی پیداوار کا محض تین فیصد ہے۔
انڈیا کے جوہری توانائی کے ادارے نے سنہ 2032 تک اپنے ایٹمی پاور پلانٹس سے 22 ہزار 400 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سرکاری حکام کے مطابق انڈیا کا نیوکلیئر پاور پروگرام تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔
پہلا مرحلہ پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹر کا ہے۔ یہ ری ایکٹر قدرتی یورینیم سے چلتا ہے اور اس میں ہیوی واٹر کولنٹ استعال کیے جاتے ہیں۔
دوسرا مرحلہ فاسٹ بریڈر ایٹمی ری ایکٹر کا ہے۔ اس طرح کے ری ایکٹرز میں استعمال ہونے والی یورینیم سے جو فضلہ نکلتا ہے اسے اتنی ہی یا اس سے زیادہ مقدار میں دوبارہ قابل استعمال ایندھن میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
تیسرے مرحلے میں ایسے ایٹمی ری ایکٹرز بنانے کا ارادہ ہے جس میں یورینیم کے بجائے تھوریم کا استعمال کیا جائے گا۔
انڈیا میں اب تک یورنیم کے بہت چھوٹے پیمانے پر ذخائر ملے ہیں۔ بیشتر یورینیم دوسرے ممالک سے درآمد کی جاتی ہے۔
تاہم سرکاری دعوؤں کے مطابق کیرالہ، تمل ناڈو، اڑیسہ، آندھرا پردیش، مہاراشٹرا اور گجرات کے ساحلی علاقوں میں تھوریم کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔
انڈیا کے جوہری سائنسدان اس جوہری مادے (تھوریم) کو مستقبل کے ری ایکٹر میں ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
انڈیا کی حکومت نے ملک کے جوہری بجلی گھروں سے آئندہ 20 برس میں ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں 24 سے 25 ایٹمی ری ایکٹر کام کر رہے ہیں جبکہ 11 ری ایکٹر تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں۔ انڈیا نے اپنے ایٹمی ری ایکٹرز کو سول اور عسکری نوعیت کے دو زمروں میں بانٹ رکھا ہے۔
ایٹمی توانائی کے بین الاقومی ادارے (آئی اے ای اے) کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا کے پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹرز، جن میں یورینیم استعمال ہوتا ہے اور جنھیں عسکری مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے، وہ اس ادارے کی نگرانی اور جانچ کے دائرے سے باہر ہیں۔
اِن میں تارا پور پاور سٹیشن، مدراس پاور سٹیشنز اور کائیگا جنریٹنگ یونٹس شامل ہیں۔ کلپکم کے فاسٹ بریڈر کو بھی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ادارے کے سیف گارڈز سے باہر رکھا گیا ہے۔
کلپکم فاسٹ بریڈر کے کامیاب تجربے پر آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی انڈین سائنسدانوں کی ستائش کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پیغام میں انھوں ںے لکھا ہے 'انڈیا نے کلپکم میں واقع فاسٹ بریڈر کے کامیاب تجربے سے ایک متاثر کن پیش رفت کی ہے۔ یہ ایندھن کی سسٹینیبلیٹی اور جوہری توانائی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ آئی اے ای اے انڈیا کے جوہری پرگرام کی محفوظ اور پائیدار ترقی کی حمایت کرتا رہے گا۔‘
دوسری جانب پاکستان میں بھی اس حوالے سے بات کی جا رہی ہے۔
سٹریٹجک پلانز ڈویژن میں آرمز کنٹرول ایڈوائزر ظاہر کاظمی کا کہنا ہے کہ انڈیا کا فاسٹ بریڈر ری ایکٹر آئی اے ای اے کی معمول کی جانچ اور نگرانی کے دائرے میں نہیں ہے، اس لیے یہاں جو جوہری مادہ پیدا کیا جائے گا اس کی غیر جانبدارانہ جانچ نہیں ہو سکے گی۔
انھوں نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں تشویش ظاہر کی ہے کہ اس سوڈیم کولڈ ری ایکٹر میں مکسڈ آکسائید ایندھن استعمال ہوتا ہے۔ یہ ری ایکٹر جتنا ایندھن استعال کرتا ہے اس سے زیادہ ایٹمی بم بنانے کی صلاحیت والے ہائی گریڈ کا پلوٹونیم پیدا کر سکتا ہے۔
تاہم انڈیا کا مؤقف ہے کہ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر کا مقصد سسٹین ایبل جوہری ٹیکنالوجی کے ذریعے توانائی حاصل کرنا ہے۔ ایٹمی توانائی کے محکمہ کے مطابق کلپکم فاسٹ بریڈر ری ایکٹر سول جوہری پرگرام کا حصہ ہے اور یہ خالصتاً پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔




























