انڈیا کے مسلم رہنماؤں نے گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ کیوں کیا؟

ANI

،تصویر کا ذریعہANI

    • مصنف, مہتاب عالم
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

یوں تو انڈیا میں تقریباً ہر سال ہی عیدالاضحیٰ کے موقعے پر قربانی سے متعلق کسی نہ کسی بحث کا آغاز ہو جاتا ہے اور چند دن بعد پھر اگلی عید تک ملتوی ہو جاتا ہے لیکن اس بار جس بحث نے جنم لیا وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا اور وہ گائے کو انڈیا کا قومی جانور قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عام طور پر اس طرح کے مطالبے کا آغاز ان لوگوں کی طرف سے ہوتا ہے جو قربانی کے مخالف یا مسلم مخالف ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن اس بار یہ مطالبہ مسلمانوں کی ایک تنظیم کی جانب سے بھی ہو رہا ہے، جس کی حمایت متعدد اہم شخصیات کر چکی ہیں۔

یہ مطالبہ کب، کیوں اور کیسے شروع ہوا یہ سمجھنے سے قبل یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو مقدس جانور سمجھا جاتا ہے اور انڈیا کی بیشتر ریاستوں میں اس کو ذبح کرنے پر پابندی ہے۔

سینٹر فار سٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکیولرزم (سی ایس ایس ایس) کی ایک تحقیق کے مطابق سال 2024 میں اس معاملے پر ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے 13 واقعات پیش آئے، جن کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے نو مسلمان، ایک ہندو اور ایک عیسائی تھے۔

رپورٹس کے مطابق سال 2025 اور 2026 میں بھی ایسے واقعات دیکھنے کو ملے ہیں۔

گائے کو قومی جانور قرار دینے مطالبہ کیسے شروع ہوا؟

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

،تصویر کا کیپشنجمعیت علمائے ہند کے صدر ارشد مدنی نے ایکس پر گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا

گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے میں اس وقت تیزی آئی جب رواں برس عیدالاضحیٰ سے قبل انڈین ریاست مغربی بنگال میں پہلی بار نریندر مودی کی سیاسی جماعت بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی اور اس کے بعد وہاں کے نو منتخب وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے 13 مئی کو ایک حکم نامہ جاری کیا۔

اس حکم نامے کے تحت گائے، بیل، بھینس یا بچھڑے کو تب ہی ذبح کیا جا سکتا ہے جب مقامی حکام اور سرکاری ویٹنری سرجن سے ’فٹ فار سلاٹر‘ سرٹیفیکیٹ حاصل کر لیا گیا ہو۔

خیال رہے کہ اب تک ریاست میں ایسی کوئی پاندی نہیں تھی اور عید سے پہلے اس طرح کا حکم نامہ جاری کرنے سے ریاست میں کسانوں اور تاجروں کو مالی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، جس میں زیادہ تر غیر مسلم تھے اور جانوروں کی خرید فروخت کا کام کرتے ہیں۔

اس کے بعد سے مغربی بنگال اور ملک کے دیگر حصوں میں مسلمانوں کی جانب سے گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبہ نے تیزی اختیار کر لی۔

اس ضمن میں سب سے اہم بیان انڈیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیموں میں سے ایک ’جمعیت علمائے ہند‘ کے صدر ارشد مدنی کی طرف سے آیا۔

انھوں نے ایکس پر پوسٹ میں گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے لکھا کہ ’گائے کے نام پر ہونے والا تشدد، بے گناہ انسانوں کا قتل، نفرت کی سیاست اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا یہ کھیل اب بند ہونا چاہیے۔ ہمیں خوشی ہوگی اگر گائے کو ’قومی جانور‘ قرار دے کر اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے تاکہ نہ کسی انسان کی جان جائے اور نہ مذہب کے نام پر سیاست ہو۔‘

بعد ازاں اس بیان کی حمایت متعدد حلقوں کی طرف سے کی جانے لگی۔ انڈیا کے سابق نائب صدر محمد حامد انصاری نے بھی اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے سے بار بار ہونے والے جھگڑوں کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تو اس پر غور کیا جانا چاہیے۔

حامد انصاری نے مسلمانوں سے عید الاضحٰی پر گائے کی قربانی نہ دینے کی بھی اپیل کی تھی۔

بی جے پی کا موقف

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تاحال اس مطالبے کے جواب میں حکمران جماعت بی جے پی کی طرف سے کسی مرکزی رہنما نے اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا تاہم سنیچر کے روز وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو دیے انٹرویو میں کہا کہ مرکزی حکومت اس طرح کی کسی تجویز پر غور نہیں کر رہی۔

انھوں نے کہا کہ ’مختلف تنظیمیں ان مسائل پر کام کرتی رہتی ہیں اور رہنماوں سے بھی رابطہ کرتی ہیں۔ لوگ درخواستیں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا قدم اٹھایا جانا چاہیے۔‘

لیکن وزیر نے واضح کیا کہ اس معاملے پر ابھی کوئی تجویز مرکزی کابینہ کے سامنے نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اب تک کابینہ کے پاس ایسا کوئی معاملہ زیر غور نہیں۔ اگر کوئی تجویز ایسے مرحلے تک پہنچتی ہے جہاں حکومت یا کابینہ کی مداخلت کی ضرورت ہو، تو ہم آپ کو بتا دیں گے۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ برس اگست کے مہینے میں مرکزی وزیر مملکت ایس پی سنگھ بگھیل نے بھی پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ حکومت کے سامنے ایسے کسی قانون کو منطور کرنے کا منصوبہ نہیں جس کے ذریعے گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے۔

گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیاناتھ نے کہا کہ ’میں اس وقت ایک رجحان دیکھ رہا ہوں۔ تمام مولوی اور مولانا یہ بیان دے رہے ہیں کہ گائے کو قومی جانور قرار دو۔ ہم نے کہا کہ گائے ہماری ماں ہے اور ہماری نسلوں سے اس کا رشتہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’کیا ماں اور بیٹے کے درمیان کچھ قرار دینے کی ضرورت ہوتی ہے؟ یہ ہماری روایات ہیں۔ اپنی ماں کے بارے میں جو عزت کا جذبہ رکھتے ہیں، وہی جذبہ ہمارا بھی ہے، ہم نے گائے کو ماں مانا ہے۔‘

یوگی آدتیاناتھ نے مزید کہا کہ ’گائے ہمارے لیے ماں ہے، جانور تو تمہاری سمجھ ہے۔ جیسے ہماری ماں کے بارے میں کسی کو تعارف دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، ویسے ہی گاؤ ماں کے بارے میں بھی کسی اعلان کی ضرورت نہیں۔‘

ANI

،تصویر کا ذریعہANI

گائے کو قومی جانور قرار دینا کتنا آسان ؟

یہ سمجھنے سے پہلے کہ گائے کو قومی جانور قرار دینا کتنا آسان یا مشکل ہے، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ سنہ 1972 میں انڈین حکومت رائل بنگال ٹائیگر کو قومی جانور قرار دے چکی ہے۔

خیال رہے کہ اس سال اندرا گاندھی کی حکومت نے ’پروجیکٹ ٹائیگر‘ کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد نایاب شیر کو معدوم ہونے سے بچانا تھا۔ جنگلی جانوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین کے تحت انڈیا کے قومی جانور (شیر) اور دیگر معدوم ہوتی نسلوں کے شکار اور غیر قانونی تجارت پر مکمل پابندی ہے۔ اس کے تحت شیر کو شیڈول ون میں رکھ کر اعلیٰ قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر گائے کو بھی قومی جانور قرار دیا جاتا ہے تو اس سے یہ لازمی ہو جائے گا کہ اسے نہ تو ذبح کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کے گوشت کا کاروبار ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب سابق مرکزی سیکریٹری برائے قانون پی کے ملہوترا کا کہنا ہے کہ اگر گائے کو ملک کے ’قومی جانور‘ کا درجہ دیا جاتا ہے تو اس کے تحفظ کے لیے بھی وائلڈ لائف (تحفظ) ایکٹ 1972 جیسے اقدامات کرنے ہوں گے‘ تاہم ان کا خیال ہے کہ ایسا قانون بنانے سے قبل اس کے اثرات پر غور کرنا ضروری ہو گا۔ ان کے مطابق ایسے قانون کی کوئی ’عملی افادیت‘ نہیں اور یہ صرف ’علامتی‘ نوعیت کا ہو گا۔

خیال رہے کہ وزارت تجارت و صنعت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انڈیا سے مسلسل گوشت کی برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ وزارت کے مطابق مالی سال 2025 میں انڈیا سے بھینس کے گوشت کی 406 کروڑ ڈالر کی ایکسپورٹ ہوئی جو کہ ڈیری اور پولٹری مصنوعات سے کئی گنا زیادہ تھی۔

ان اعداد و شمار کے مطابق گوشت کی پیداوار پانچ ریاستوں میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ان میں مغربی بنگال (12.62 فیصد )، اتر پردیش (12.29 فیصد)، مہاراشٹر (11.28 فیصد)، تیلنگانہ (10.85 فیصد) اور آندھرا پردیش (10.41 فیصد) شامل ہیں۔

گائے کو ذبح کرنے یا اس کے گوشت سے متعلق کاروبار کے قوانین ریاست کے دائرہ کار میں آتے ہیں کیونکہ شمال مشرقی انڈیا میں کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں گائے کو ذبح کرنے کوئی پر پابندی نہیں اور وہاں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔