آسٹریلیا میں ہزاروں ڈالر مالیت کے کاکروچ ضبط، یہ ’دیو ہیکل‘ لال بیگ اتنے خاص کیوں ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, لانا لام
- عہدہ, سڈنی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 4 منٹ
آسٹریلوی حکام نے نیو ساؤتھ ویلز میں ایک کمرشل بریڈر سے ایک لاکھ سے زائد کاکروچ ضبط کیے ہیں جن میں سے کچھ کا سائز انسانی ہتھیلی جتنا ہے۔
ان دیو ہیکل کاکروچز کی مجموعی مالیت ایک لاکھ 43 ہزار ڈالرز بتائی گئی جن میں آواز نکالنے والے مڈغاسکر کاکروچ اور ڈوبیا کاکروچ شامل ہیں۔
دونوں اقسام کو آسٹریلیا میں قانونی طور پر درآمد کرنا یا رکھنا، پالنا یا فروخت کرنا ممنوع ہے۔ حکام کے مطابق یہ اس نوعیت کے حشرات ضبط کرنے کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کیڑے بیماریاں پھیلا سکتے ہیں اور مقامی جنگلی حیات اور زراعت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
یہ کاکروچ، جنھیں عموماً پالتو رینگنے والے جانوروں کے لیے خوراک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، حکام کے ذریعے تلف کر دیے جائیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ کاکروچ پالتو رینگنے والے جانوروں بشمول چھپکلیوں کی خوراک کے طور پر فروخت کیے جاتے رہے ہوں۔

،تصویر کا ذریعہSupplied: DCCEEW
آسٹریلیا کے محکمہ برائے ماحولیاتی تبدیلی کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم غیر ملکی کاکروچوں کی غیر قانونی افزائش اور تجارت دیکھ رہے ہیں اور ہم پالتو جانوروں کے کاروبار اور مالکان کو خبردار کر رہے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ اگر آپ کے پاس ڈوبیا کاکروچ اور مڈغاسکر کے آواز نکالنے والے لال بیگ ہیں یا آپ انھیں پالنے یا تجارت کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو انھیں ضبط کر لیا جائے گا اور آپ کو قانون کے تحت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترجمان نے رینگنے والے جانوروں کے مالکان سے کہا کہ وہ ڈوبیا یا مدغاسکر نسل کے ان بڑے کاکروچز کو خوراک کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ٹڈی یا وڈ روچ جیسے متبادل اختیار کریں۔
مدغاسکر کے آواز نکالنے والے کاکروچ، دُنیا کی سب سے بڑی اقسام میں سے ایک ہیں اور یہ اتنی بلند سیٹی جیسی آواز پیدا کرتے ہیں جو دُور دُور تک سنی جا سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سانپ پکڑنے والی سٹیفنی لیسر نے کہا کہ اُنھوں نے دیکھا کہ یہ کیڑے آن لائن فروخت کے لیے بھی پیش کیے جاتے رہے ہیں۔
آسٹریلوی براڈ کاسٹر ’اے بی سی نیوز‘ سے گفتگو میں اُنھوں نے بتایا کہ لوگ انھیں پالتے بھی ہیں کیونک یہ بڑے ہوتے ہیں اور ایک وقت میں ان کا سائز انسانی ہتھیلی جتنا ہو جاتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ شاید یہ بہت زیادہ سستا پڑتا ہے کیونکہ جن لوگوں نے گھروں میں چھپکلیاں پال رکھی ہیں، وہ روزانہ انھیں تین یا چار مرتبہ چھوٹے کیڑے خوراک کے لیے دینے کے بجائے یہ ایک ہی کاکروچ دے سکتے ہیں۔

























