کیا ہم جانوروں کی گفتگو سمجھنے کے قریب پہنچ چکے ہیں؟

مطالعے کا وقت: 8 منٹ

جانوروں کی بولی سمجھنا اور ان کے ساتھ گفتگو صدیوں سے نہ صرف انسان کی دلچسپی کا محور رہا ہے بلکہ برسہا برس سے سائنس کا موضوع تحقیق بھی رہا ہے۔

جانوروں سے بات چیت کے طریقوں پر سائنسی تحقیق کے لیے 2025 میں پہلے ’کولر ڈولِٹل‘ چیلنج کا انعقاد کیا گیا، جس میں حصہ لینے والوں کے لیے انعامات رکھے گئے تھے۔

اس دلچسپ مقابلے کو ایک امریکی ٹیم نے جیتا، جس نے اس راز سے پردہ اٹھایا کہ ڈولفن کی کچھ سیٹیاں انسانوں کے الفاظ کی طرح کام کر سکتی ہیں۔

جانوروں سے بات کرنا کبھی صرف کتابوں اور فلموں کا موضوع ہوا کرتا تھا، لیکن کیا اب بھی یہ محض ایک خواب ہے یا جلد حقیقت بن سکتا ہے اور اس میں مصنوعی ذہانت کس طرح مددگار ثابت ہو سکتی ہے؟

نئی آوازیں

ٹیکنالوجی کی مدد سے جانوروں کی بات چیت اور آوازوں کو سمجھنے کی صلاحیتوں کو سمجھنے میں مدد لی جا رہی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے حامل خاص مائیکروفون ایسے شور کو بھی پکڑ سکتے ہیں، جو انسانی کان نہیں سن سکتا مثلاً چمگادڑوں کی مخصوص آوازیں۔

یونیورسٹی کالج لندن میں ماحولیاتی اور حیاتیاتی تنوع کی ماہر پروفیسر کیٹ جونز کہتی ہیں کہ انسانی کان تقریباً 20 کلوہَرٹز تک سن سکتا ہے، لیکن کچھ چمگادڑیں اس سے کہیں زیادہ 212 کلوہَرٹز تک کی آوازیں پیدا کر سکتی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کے پروگرام ’دی ڈاکیومنٹری پوڈکاسٹ‘ میں بتایا کہ ’وہ آواز کا استعمال بالکل اسی طرح کرتے ہیں جیسے کوئی بھی ممالیہ کرے گا یعنی ایک دوسرے کو پریشانی یا خوفزدہ ہونے سے متعلق آگاہ کرنا، یا پھر یہ جنسی ملاپ کی فطری طلب سے متعلق آوازیں ہوتی ہیں۔‘

انسان اپنی حسیات سے متعلق صلاحیتوں کے دائرے میں رہنے کے عادی ہیں لیکن نئی ٹیکنالوجی اس دائرے کو وسیع کر سکتی ہے۔

کیٹ جونز نے کہا کہ ’یہ آپ کی فطرت اور ادراک کے بارے میں سوچنے کے انداز کو بدل دیتا ہے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ اس میں اور بھی بہت کچھ ہے۔‘

ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسی آوازیں بھی ریکارڈ کی گئیں جو انسانی کان کے لیے بہت مدھم ہوتی ہیں، ان ہی میں ہاتھیوں کی آوازیں بھی شامل ہیں۔

ماہر حیاتیات کیٹی پین 1980 کی دہائی کے وسط میں امریکہ کے شہر پورٹ لینڈ کے ایک چڑیا گھر گئیں اور ہاتھیوں کے قریب ایک عجیب کیفیت محسوس کی۔

انھوں نے اس تجربے سے متعلق 2013 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’میں نے ہر طرح کا شاندار سماجی رویہ دیکھا اور آہستہ آہستہ یہ جانا کہ میں کچھ عجیب سا محسوس کر رہی ہوں جیسے ہوا میں ایک دھمک کی آواز ہو۔‘

جب انھوں نے ریکارڈنگ آلات کی مدد لی تو معلوم ہوا کہ ہاتھی بہت کم فریکوئنسی کی آوازیں پیدا کر رہے تھے۔ یہ دریافت ہاتھیوں کی ابلاغی صلاحیت کو سمجھنے کے لیے انقلابی ثابت ہوئی۔

اس کے بعد کیٹی پین نے ’ایلیفنٹ لسننگ پروجیکٹ‘ (ہاتھیوں کو سننے سے متعلق منصوبہ) کی بنیاد رکھی جو افریقہ کے جنگلی ہاتھیوں کی زندگی کو ان کی آوازوں کے ذریعے دستاویزی شکل دیتا ہے۔

سائنسدان آج بھی اس سے متعلق امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی میں موجود ڈیٹا بیس استعمال کر رہے ہیں اور اب اسے سمجھنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

آوازوں کا تجزیہ اور استعمال کے قابل بنانے کا عمل

محقق الاسٹر پِکرنگ نے یونیورسٹی کالج لندن کے ساتھ کام کے دوران ہاتھیوں کی آوازوں کے ڈیٹا بیس کو استعمال کیا۔ مصنوعی ذہانت کا الگورتھم تیار کرنے کے لیے اس میں عمر، جنس، رویے اور حتیٰ کہ جذباتی کیفیت کے مطابق الگ الگ لیبل لگائے گئے تھے۔

الاسٹر پِکرنگ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم آڈیو کوجائزہ لے کر بتاتے ہیں کہ ’اس حصے میں ایک نر ہاتھی پریشانی کی حالت میں ہے اور پھر اے آئی ان تصاویر میں موجود ترتیب کو ان ہی لیبلز کے ساتھ جوڑنا سیکھتا ہے۔‘

الاسٹر پِکرنگ کے مطابق جہاں ایک روایتی ریکارڈنگ ڈیوائس کو میدان میں مہینوں تک چھوڑ دیا جاتا ہے اور بعد میں آڈیو پروسیس کی جاتی ہے، وہیں اے آئی کے آلات ہاتھیوں کی آوازوں کا تجزیہ ریئل ٹائم میں کر سکتے ہیں۔

’مثال کے طور پر یہ طریقہ ہمیں اس بات کی پیش گوئی کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ ہاتھی کب دیہات یا قصبوں میں داخل ہو کر فصلیں تباہ کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ ابھی ایسا نہیں کرتا لیکن (ایک دن) یہ ان آوازوں کی ترتیب کو شناخت کر سکے گا جو دباؤ یا شدید جذباتی کیفیت کی نشاندہی کرتے ہیں، جنھیں ہم ہاتھیوں کے حملے کی پیشگی علامت سمجھ سکتے ہیں۔‘

مصنوعی ذہانت کے آلات مکمل طور پر قابل بھروسہ نہیں اور درست ڈیٹا تیار کرنے کے لیے انسانی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

پِکرنگ نے کہا کہ ’اگر آپ نے ان میں سے کوئی صوتی ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کی ہے تو یہ ہر چیز ریکارڈ کر رہی ہے یہاں تک کے پس منظر میں مرغابی اور بارش کے قطروں کی آواز بھی اس میں ریکارڈ ہو جاتی ہے۔‘

یہ آلات اس چیز میں فرق نہیں کر سکتے کہ کون سی آوازیں اہم ہیں۔ اگر وہی مرغابی یا پرندے عین اُس وقت آواز نکالیں جب ہاتھی بھی آوازیں نکال رہے ہوں تو یہ نظام غلطی سے اس پرندے کی آواز کو ہاتھی کی آواز کے ساتھ جوڑ سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی لیے آپ کو نیٹ ورک کو درست نتیجے تک پہنچنے میں رہنمائی دینا پڑتی ہے۔‘

جانوروں کی زبان کو سمجھنا

کیٹ کونز کے مطابق ہاتھیوں کے رویے کو سمجھنے اور پیش گوئی کرنے میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کو چمگادڑوں کی آوازوں سے ان کی اقسام شناخت کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’آپ اے آئی کو یہی فرق بتانے کے لیے تربیت دیتے ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے فون میں موجود ایپ سری کو آپ اپنی آواز پہچاننے کے لیے گائیڈ کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم الگورتھمز کو تربیت دیتے ہیں تاکہ وہ چمگادڑوں کی اقسام کو پہچان سکیں۔‘

مصنوعی ذہانت سپرم وہیلز کی گفتگو کو سمجھنے میں بھی مثبت نتائج دکھا رہی ہے جو کلکس کے ذریعے بات چیت کرتے ہیں۔

نیویارک کی سٹی یونیورسٹی میں حیاتیات کے پروفیسر ڈیوڈ گروبر اے آئی ٹولز کے ذریعے ان کلکس میں تعلق ڈھونڈ رہے ہیں۔ یہ آلات انسانی زبان کے ترجمے کے سافٹ ویئر سے ملتے جلتے ہیں۔ ڈیوڈ گروبر سپرم وہیلز کے اگلے کلک کی پیش گوئی سے متعلق کافی پرامید ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے بہت سی نئی ٹیکنالوجیز استعمال کرنا شروع کر دی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم ایک نہایت دلچسپ دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ہم ان کے ابلاغی نظام کے مزید اور مزید پہلوؤں کو جان سکیں گے۔‘

ان کا حتمی مقصد ایک ایسا مترجم تیار کرنا ہے جو کسی بھی ابلاغی نظام کو سمجھ سکے۔

گروبر نے کہا کہ ’اس کے لیے نئے آلات اور نئے زاویے درکار ہوں گے اور یہ طریقے مختلف انواع پر بھی لاگو کیے جا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ کسی دوسری کہکشاں میں زندگی کی موجودگی ہو تو بھی یہ کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔‘

ڈولفن کی آوازیں

تو کیا مصنوعی ذہانت کے ٹولز ہمیں جانوروں کے ساتھ دو طرفہ رابطہ قائم کرنے میں مدد دیں گے؟ یہ اپنی نوعیت کا ایک ایک الگ سوال ہے۔

سیٹی پروجیکٹ کے حوالے سے گروبر نے کہا کہ مقصد سپرم وہیلز سے بات کرنا نہیں بلکہ انھیں سننا ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ ’ایک لحاظ سے ہم اپنی کشتیوں کی آوازوں کے ذریعے پہلے ہی وہیلز سے بات کر رہے ہیں، ہم بہت شور کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ جتنا ممکن ہو سکے گمنام رہتے ہوئے ان کی آوازوں کو سمجھنے کے بارے میں ہے۔‘

ڈولفن پر تحقیق کرنے والے یونیورسٹی آف سینٹ اینڈروز کے پروفیسر ونسنٹ جینک اُس ٹیم کا حصہ تھے جس نے پہلا ’کولر ڈولِٹل چیلنج‘ جیتا۔

پروفیسر ونسنٹ جینک کہتے ہیں کہ ہمیں ٹیکنالوجی سے جانوروں کے ساتھ بات کرنے کی امیدیں نہیں باندھنی چاہییں۔ وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر واقعی ہم جانوروں سے بات کر سکیں تو ہم ان سے کیا کہیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کیا آپ ان سے پوچھیں گے کہ ان کا پسندیدہ رنگ کون سا ہے؟ اس طرح بات جلد ہی اس طرف چلی جاتی ہے کہ جانور اپنے ماحول کو کس طرح سمجھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ڈولفن کی زبان سیکھنے کو کسی غیر ملکی زبان سیکھنے کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ جانوروں کے حواس اور جسمانی ساخت انسانوں سے مختلف ہیں اس لیے ان کی پیغام رسانی کا طریقہ بھی مختلف ہے۔