آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کیا دنیا میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ایک نئی دوڑ شروع کر سکتی ہے؟
- مصنف, الیساندرا کوریا
- عہدہ, واشنگٹن (امریکہ) سے، بی بی سی نیوز برازیل کے لیے
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
امریکہ اور اسرائیل کی فروری کے آخر میں ایران کے خلاف حملوں کی ایک بنیادی دلیل یہ تھی کہ وہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکنا چاہتے تھے۔
تاہم جنگ کے آغاز کو ایک ماہ سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ اس تنازع کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔
بی بی سی نیوز برازیل سے بات کرنے والے جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین کے مطابق، موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے صرف ایرانی حکومت ہی نہیں بلکہ دیگر ریاستیں بھی اس نتیجے پر پہنچ سکتی ہیں کہ ممکنہ جارحیت کے خلاف سب سے مؤثر ضمانت سفارت کاری یا روایتی ہتھیار نہیں بلکہ ایٹم بم ہے۔
اس کے علاوہ، یہ جنگ امریکہ کی اپنے اتحادیوں کی سلامتی یقینی بنانے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب متحدہ عرب امارات سے لے کر سعودی عرب تک مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک ایران کی جانب سے جوابی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔
ایسی صورتحال میں یہ سوچ تقویت پا سکتی ہے کہ امریکی تحفظ پر انحصار کرنا خطرناک ہے اور مخالف کو حملہ کرنے سے روکنے کے لیے مقامی سطح پر جوہری صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔
امریکہ کی براؤن یونیورسٹی میں نیوکلیئر سکیورٹی اور پالیسی کے پروفیسر، ریڈ پاؤلی نے بی بی سی نیوز برازیل سے کہا: ’یہ المناک ستم ظریقی ہے کہ جنگ کی ایک اہم وجہ یہ بتائی گئی کہ ایران کو ایٹم بم حاصل کرنے سے روکنا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں: ’اس جنگ کے بعد ایرانی قیادت اس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لے گی کہ آئندہ حملوں سے خود کو بہتر طور پر کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور جوہری ہتھیار ان نتائج میں شامل ہو سکتے ہیں جن تک وہ پہنچے۔‘
پاؤلی کے مطابق: ’اس جنگ کے بعد جو حکومت رہے گی، اس کے پاس ایٹم بم حاصل کرنے کے لیے وسائل بھی ہوں گے اور ترغیب بھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی ادارے مرکز برائے اسلحہ کنٹرول اور عدم پھیلاؤ کے سینیئر ڈائریکٹر جان ایراتھ اس صورتحال کو مختلف ممالک کے رہنماؤں کے ’غلط فیصلوں کے تسلسل‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
ایراتھ یاد دلاتے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات اُس وقت بھی جاری تھے جب گذشتہ سال اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے کیے اور اس سال بھی حملے مذاکرات کے دوران ہی شروع ہوئے۔
انھوں نے بی بی سی نیوز برازیل کو بتایا: ’تمام سفارتی امکانات کو آزمانے کے بجائے امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ سال ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر غلط فیصلوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ممکن ہے کہ ایران اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ جوہری ہتھیاروں کا حصول اسے زیادہ محفوظ بنا سکتا ہے، اور وہ انھیں تیار کرنے کا فیصلہ کر لے۔‘
واشنگٹن میں قائم جان ایراتھ کی تنظیم اسلحہ کنٹرول اور جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق تحقیق اور تجزیات فراہم کرتی ہے۔
انھوں نے کہا: ’اور سعودی عرب پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو وہ بھی اسی راستے پر چلے گا اور ممکن ہے کہ خطے کے کچھ دوسرے ممالک بھی ایسا ہی کریں۔‘
سعودی عرب کے ولی عہد اور عملی طور پر ملک کے حکمران محمد بن سلمان ماضی میں ایک سے زیادہ بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران ایٹم بم تیار کرتا ہے تو ان کا ملک بھی وہی راستہ اختیار کرے گا۔
جوہری تنصیبات اور سائنسی علم
ایران کا جوہری پروگرام ایک طویل عرصے سے امریکہ، اسرائیل اور دیگر اتحادی ممالک کے لیے باعث تشویش رہا ہے۔
ایران نے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کر رکھے ہیں۔ یہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو سنہ 1970 سے نافذ ہے اور جس پر 190 ممالک نے دستخط کر رکھے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ممالک جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ روکنے اور جوہری توانائی کے پر امن استعمال کو فروغ دینے کے پابند ہوتے ہیں۔
تہران ہمیشہ اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے، اس کا مؤقف رہا ہے کہ یورینیم افزودگی کا اس کا پروگرام توانائی کی پیداوار، طب اور زراعت جیسے پر امن مقاصد کے لیے ہے۔
تاہم افزودگی کی سطح، نگرانی کے طریقۂ کار اور دیگر معاملات کی وجہ سے اس پروگرام پر ہونے والے مذاکرات بد اعتمادی اور اختلافات کا شکار رہے ہیں۔
سنہ 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران امریکہ اُس جوہری معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا جو ٹرمپ کے پیش رو باراک اوباما کی قیادت میں ایران سے طے پایا تھا۔
یہ سمجھا جاتا ہے کہ حالیہ حملوں میں ہلاک کیے گئے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دور میں ایران کے پاس ایٹم بم بنانے کے لیے درکار آلات موجود تھے، تاہم اس نے یہ حد پار نہیں کی۔
مختلف جائزوں کے مطابق اس بات کے شواہد موجود نہیں تھے کہ ایران ایٹم بم بنانے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ ان جائزوں میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے نمائندوں کی آراء بھی شامل ہیں۔
تاہم گذشتہ سال اور اب کے حملوں کے بعد ایرانی نظام سے وابستہ کچھ شخصیات مطالبہ کرنے لگی ہیں کہ ملک کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکل جانا چاہیے۔
جان ایراتھ کہتے ہیں: ’جوہری پروگرام سے متعلق تنصیبات کو یقیناً نقصان پہنچا ہے لیکن جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار سائنسی علم اب بھی موجود ہے۔ یہ علم استعمال کرتے ہوئے ایران اپنی تنصیبات دوبارہ تعمیر کر سکتا ہے۔‘
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی انتہائی زیادہ افزودہ یورینیم موجود ہے، جو بمباری کے نتیجے میں تباہ ہونے والی تنصیبات کے ملبے تلے دبا ہے۔ اس حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں کہ ایران میں عدم استحکام کی صورت اس جوہری مواد کا کیا ہو گا۔
جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے عالمی مہم (آئی کین) کی پالیسی ڈائیریکٹر الیشیا سینڈرز ذاکرے، بی بی سی نیوز برازیل سے گفتگو میں کہتی ہیں: ’امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فوجی حملے تشویش میں مبتلا کرتے ہیں، کیوں کہ یہ عدم پھیلاؤ کے کسی بھی مقصد کے خلاف ہیں۔‘
انھوں نے کہا: ’ان حملوں کے نتیجے میں بین الاقوامی معائنہ کار اب ایران کے جوہری مواد یا جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ صورتحال یقیناً ایک خطرہ ہے۔‘
الیشیا سینڈرز اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہیں کہ ’حملوں کے بعد ایران شاید بین الاقوامی شراکت داروں کا اعتماد کھو دے اور مذاکرات کی میز پر آنا ہی نہ چاہے۔‘
جوہری پھیلاؤ کی بڑھتی حمایت
براؤن یونیورسٹی کے پروفیسر پاؤلی کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو خطے کے دیگر ملک بھی اسی دوڑ میں شامل ہو جائیں گے۔
اس وقت عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ نو ممالک کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں: امریکہ، روس، چین، فرانس، برطانیہ، پاکستان، انڈیا، اسرائیل اور شمالی کوریا۔
تاہم اسرائیلی حکومت نے کبھی باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔
لیکن جنوبی کوریا سے لے کر ترکی اور پولینڈ تک، خطے کے کئی ممالک میں عوامی رائے کے سروے کے مطابق لوگوں میں یہ خواہش بڑھتی جا رہی ہے کہ ان کے ملک کے پاس جوہری صلاحیت ہو۔
بہت سے لوگ اس بات کو جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ وہ دیگر نکات کے ساتھ ساتھ چین کی مثال بھی دیتے ہیں جو اپنے جوہری ذخیرے کو وسعت دینے اور جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور فرانس کی بھی، جس نے اپنی جوہری صلاحیت بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
سینڈرز ذاکرے کے مطابق ’جوہری ہتھیار رکھنے والی نو ریاستوں کی جانب سے اپنے ذخائر کو جدید بنانے، ان کا حجم بڑھانے یا نئی اقسام کے جوہری ہتھیار تیار کرنے جیسے اقدامات نے عدم پھیلاؤ کے نظام کو کمزور کیا ہے۔‘
فروری میں امریکہ اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق معاہدہ ختم ہو گیا، جسے نیو سٹارٹ (سٹریٹیجک آرمز ریڈکشن ٹریٹی) کہا جاتا ہے۔ دو طرفہ کنٹرول کا یہ معاہدہ پانچ دہائیوں تک جاری رہا اور ختم ہونے کے بعد اس کا کوئی متبادل بھی سامنے نہیں لایا گیا ہے۔
اسلحے کے کنٹرول اور عدم پھیلاؤ کے مرکز سے وابستہ جان ایراتھ کا کہنا ہے کہ ’جوہری پھیلاؤ کی حمایت کرنے والی آوازیں مضبوط ہو رہی ہیں۔‘
وہ تین ایسے عناصر کی نشاندہی کرتے ہیں جو ان کے بقول دنیا کو اس سمت میں دھکیل رہے ہیں۔
پہلا عنصر چین کی کوششیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’گذشتہ ایک دہائی میں چین نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کا حجم تقریباً دگنا کر لیا ہے اور یہ سلسلہ رکنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔‘
دوسرا عنصر روس کی یوکرین کے خلاف جنگ ہے۔ ایراتھ کے مطابق ’اگر روس جنگ میں اپنی کامیابی کا دعویٰ کرنے کے قابل ہوتا ہے تو یہ کامیابی جوہری دھمکیوں کے سہارے ممکن ہو گی۔ اس سے سیاسی حکمت عملی کا وہ نیا ہتھیار متعارف ہو گا، جس کی خواہش دیگر ممالک بھی کریں گے۔‘
ایراتھ کے مطابق تیسرا عنصر یہ تاثر ہے کہ ’امریکہ غیر متوقع طور پر کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف حریفوں، بلکہ اتحادیوں کے لیے بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔‘
جان ایراتھ کا کہنا ہے کہ ’غیر یقینی اور عدم تحفظ کا یہ ماحول اس سوچ کو بڑھاوا دے گا کہ جوہری ہتھیار ممکنہ طور پر تحفظ فراہم کر سکتے ہیں۔‘
یوکرین، لیبیا، شمالی کوریا
جوہری ہتھیار تیار کرنے کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم موجود ہوتا تو شاید اس پر حملہ کیا ہی نہ جاتا۔
ایران میں تنازع سے پہلے ہی بہت سے لوگ یوکرین کی مثال دیا کرتے تھے، جو سنہ 1990 کی دہائی میں دنیا کے تیسرے سب سے بڑے جوہری ذخیرے سے دستبردار ہو گیا تھا۔ اس کے بدلے میں روس، امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت یوکرین کو سلامتی کی ضمانتیں دی گئی تھیں۔
اور پھر تین دہائیوں بعد، جب یوکرین کے پاس اپنی حفاظت کے لیے ایٹم بم موجود نہ تھا، روس نے اس پر حملہ کر دیا۔
ایک اور مثال کے طور پر لیبیا کا نام بھی لیا جاتا ہے، اس نے بھی اپنے جوہری ہتھیار ترک کیے، پھر سنہ 2011 میں وہاں بغاوت ہوئی جس کے بعد امریکی اور یورپی اتحادیوں کی مداخلت کے نتیجے میں معمر قذافی کی دہائیوں پر مشتمل حکومت کا خاتمہ ہو گیا، جبکہ خود قذافی کو ہلاک کر دیا گیا۔
اس کے مقابلے پر لوگ شمالی کوریا کی مثال پیش کرتے ہیں، جس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کر رکھے تھے لیکن سنہ 2003 میں باضابطہ طور پر اس سے الگ ہو گیا۔ آج یہ ان نو ممالک میں شامل ہے جن کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں اور یہ اب تک فوجی جارحیت سے محفوظ ہے۔
تاہم، ان خدشات اور مشاہدات کے باوجود تجزیہ کار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جوہری پھیلاؤ کی ایک نئی لہر ناگزیر نہیں ہے۔
پاؤلی کے مطابق: ’جوہری ہتھیار مخالف کو حملہ کرنے سے باز رکھنے کی حد تک تو مؤثر ہوتے ہیں لیکن انھیں حاصل کرنے کا راستہ خطرات سے بھرا ہوتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں: ’لہٰذا کسی ملک کے لیے یہ ایک معقول فیصلہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے صرف روایتی ہتھیاروں پر انحصار کرے۔ جوہری ہتھیار شاید اس قابل نہیں کہ ان کے لیے اتنا درد سر مول لیا جائے۔‘
تکنیکی مشکلات کے علاوہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے بہت سے اخراجات بھی وابستہ ہوتے ہیں، ان میں بین الاقوامی پابندیاں اور ہتھیار حاصل کرنے والے ملک کی عالمی تنہائی جیسے گھمبیر مسائل بھی شامل ہیں۔
جان ایراتھ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ’جوہری ہتھیار بے حد مہنگے ہوتے ہیں، خطرناک ہوتے ہیں اور انھیں بنانا اور بنانے کے بعد دیکھ بھال کرتے رہنا نہایت مشکل ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’کوئی بھی ملک اچانک دل میں کوئی خیال پیدا ہونے پر جوہری ہتھیار نہیں بناتا، بلکہ صرف تبھی بناتا ہے جب اس کے وجود کو خطرہ لاحق ہو اور وہ محسوس کرے کہ اسے جوہری ہتھیار کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کسی کے مفاد میں نہیں۔‘
الیشیا سینڈرز ذاکرے کے مطابق بین الاقوامی برادری کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خلاف اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔
انھوں نے کہا: ’جب تک کچھ ممالک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت دی جاتی رہے گی، دوسرے ممالک بھی ایسا کرنے پر غور کریں گے۔ اسی لیے ہمیں جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘