آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی چین کی توانائی اور تجارت کے لیے بڑا خطرہ کیوں ہے؟, بی بی سی چائینیز کی نامہ نگار لورا بیکر کا تجزیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کی دھمکی کے بعد چینی حکومت نے تمام فریقوں سے تحمل اور ضبط کی اپیل کی ہے۔
چین نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس نے تہران کو پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کرنے میں کوئی کردار ادا کیا، تاہم یہ واضح ہے کہ بیجنگ اس جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے اور یہ خواہش ایرانی تیل کی ضرورت کی وجہ سے نہیں ہے، کیونکہ ایران چین کو صرف تقریباً 13 فیصد خام تیل فراہم کرتا ہے۔ چین ضرورت پڑنے پر دیگر ذرائع سے یہ سپلائی حاصل کر سکتا ہے اور اپنی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔
چین کی نظر میں اس وقت اصل اہمیت آبنائے ہرمز کی ہے جو سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ممالک سے توانائی کی فراہمی کا کلیدی اور اہم آبی راستہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ حالیہ برسوں میں چین کے لیے زیادہ اہم ہو گیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب بیجنگ کو واشنگٹن کے ساتھ تجارتی جنگ کا سامنا تھا۔ سنہ 2025 میں چین کی مشرقِ وسطیٰ کو برآمدات دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے بڑھیں۔
یہی اصل میں چینی مفادات ہیں۔ اس کی معیشت دنیا بھر کے ممالک کو اشیاء کی فروخت پر انحصار کرتی ہے اور عالمی عدم استحکام بیجنگ کے لیے سنگین تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
صدر شی جن پنگ بھی نہیں چاہیں گے کہ امریکہ اس سٹریٹجک آبی گزرگاہ کی نگرانی میں کوئی کردار ادا کرے۔
یہ صورتحال بیجنگ پر مزید اقدامات پر غور کرنے کا دباؤ ڈال سکتی ہے، لیکن چین کی دیرینہ پالیسی عدم مداخلت رہی ہے اور اب تک وہ ایران کی طویل مدتی سلامتی کے لیے کسی قسم کی ضمانت دینے میں دلچسپی لیتا ہوا نظر نہیں آتا۔