امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کیسے کرے گی اور ایران پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟

    • مصنف, جارج رائٹ، ریچل کلن
    • عہدہ, بزنس رپورٹر
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ سوموار سے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا آغاز ہونے کے بعد ایرانی بندرگاہوں سے کسی بھی قسم کی ٹریفک کو روک دیا جائے گا تاہم کسی اور مقام سے آنے والے بحری جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت ہو گی۔

لیکن یہ ناکہ بندی ہو گی کیسے؟

امریکی بحریہ کی 2022 کی ہینڈ بک کے مطابق اس قسم کی ناکہ بندی کے دوران ہر قسم کی بحری ٹریفک کو ایسی مخصوص بندرگاہوں، ساحلی علاقوں یا فضائی اڈوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے سے روکا جاتا ہے جو دشمن کے کنٹرول میں ہوں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے پہلے اعلان کیا تھا کہ ایران سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد فوری طور پر ناکہ بندی ہو گی لیکن اتوار کو انھوں نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔

بعد میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے وقت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی 13 اپریل کو صبح 10 بجے (ایسٹرن ٹائم) سے تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر نافذ کی جائے گی جو ایرانی بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں میں داخل ہوں گے یا وہاں سے نکلیں گے۔ اس میں خلیج اور بحیرہ عمان میں واقع تمام ایرانی بندرگاہیں شامل ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’سینٹ کام آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا جو غیر ایرانی بندرگاہوں کی جانب یا وہاں سے آ رہے ہوں۔‘

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے آغاز سے قبل تجارتی جہاز رانی کے اداروں کو باضابطہ نوٹس کے ذریعے مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دیگر ممالک اس ناکہ بندی میں شامل ہوں گے تاہم انھوں نے وضاحت نہیں کی کہ یہ ممالک کون سے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایسے بحری جہاز بھی لائے گا جو بارودی سرنگوں کو ہٹائیں گے جن میں برطانوی جہاز بھی شامل ہوں گے۔

امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کیوں کرنا چاہتا ہے؟

ایران نے آبنائے ہرمز کو اس جنگ میں استعمال کرتے ہوئے مخصوص جہازوں کو گزرنے سے روکا جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ تہران یہاں سے گزرنے والے جہازوں سے پیسہ بھی وصول کر رہا ہے۔

اسی لیے آبنائے ہرمز کو بند کرنے سے صدر ٹرمپ ایرانی حکومت کو معاشی طور پر نقصان پہنچا سکتے ہیں اگرچہ کہ ایک خطرہ یہ موجود ہے کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اور اضافہ ہو گا۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایران کو پیسے نہیں کمانے دیں گے کہ وہ جس کو پسند کرتے ہیں تیل بچیں اور جن کو ناپسند کرتے ہیں ان کو نہیں۔‘

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کا بیان ایران پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے کہ وہ امریکی شرائط پر معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے اثرات کیا ہوں گے؟

شپنگ ماہر لارس جنسن نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الحال اس ناکہ بندی سے کم تعداد میں وہ جہاز متاثر ہوں گے جو آبنائے ہرمز سے گزر پا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر یہ واقعی امریکیوں کے کنٹرول میں رہا تو بہت کم جہازوں کو روکا جائے گا اور اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ کی جانب سے ایران کو فیس دینے والے جہاز کو راستہ نہ دینے کے اعلان کا بھی زیادہ اثر نہیں ہو گا کیوں کہ ایسا کرنا پہلے ہی پابندیوں کا باعث بن سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی بہت کم جہاز وہاں سے گزر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’زیادہ تر جہاز اس بات کا انتظار کریں گے کہ کیا کوئی امن معاہدہ ہو سکتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس گزرگاہ کو استعمال کرنے والے جہازوں میں اضافہ ہو گا۔‘

انتھونی زرچر کا تجزیہ

کیا بارودی سرنگوں کو ختم کرنے کے دوران امریکی بحری جہاز ایرانی حملوں کا سامنا کر سکتے ہیں؟ کیا امریکہ طے کرے گا کہ کون ایران کو فیس ادا کرتا ہے؟ اگر غیر ملکی جہازوں نے ناکہ بندی سے گزرنے کی کوشش کی تو امریکہ طاقت کا استعمال کرے گا؟

اور جو ممالک ایرانی تیل پر انحصار کرتے ہیں، جیسا کہ چین، کیا وہ بھی جواب دے سکتے ہیں؟ اور اہم سوال یہ ہے کہ ایران کو معاشی نقصان پہنچانے کے ارادے سے اٹھایا جانے والا قدم کیا تیل کی قیمت کو مذید بڑھا دے گا؟

ان سوالوں کے واضح جواب موجود نہیں ہیں۔

امریکی سینٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے ڈیموکریٹ رکن سینیٹر مارک وارنر نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایران کو اس بات کیسے مجبور کرے گی کہ وہ اسے کھول دیں؟‘

سی بی ایس کے ایک پروگروم میں رپبلکن کانگریس رکن مائیک ٹرنر نے کہا کہ ’ناکہ بندی آبنائے ہرمز کی بندش کا طاقت سے حل نکالنے کی حکمت عملی ہے۔‘

ایران سے مذاکرات کے بعد ٹرمپ کو ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ وہ ایران پر حملے شروع کر سکتے ہیں یا پھر ایک ایسی جنگ سے پیچھے ہٹ سکتے ہیں جو امریکہ میں پہلے ہی غیر مقبول ہے۔

سی بی ایس کے ایک عوامی سروے کے مطابق 59 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ اس جنگ کے نتائج امریکہ کے لیے برے ہیں۔ اکثریت کا خیال ہے کہ امریکی مقاصد، جیسا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا، ایرانی عوام کے لیے زیادہ حقوق کا حصول اور ایران کے جوہری پروگرام کی مستقل بندش، حاصل نہیں ہوئے۔

اتوار کو فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکی شراظ تسلیم کر لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے ماہ کے دوران تیل کی قیمت زیادہ بھی ہوئی تو امریکی معیشت یہ بوجھ سہہ سکتی ہے۔

یہ ایک جوا ہے۔ نومبر میں مڈ ٹرم انتخابات میں ٹرمپ کی جماعت کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایران کی امریکی اور اسرائیلی حملوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے یا پھر اس جنگ کی سیاسی اور معاشی قیمت برداشت کرنے کا ٹرمپ میں زیادہ حوصلہ ہے۔