آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پیرس کیوں جل رہا ہے اور فرانس میں احتجاج پرتشدد کیوں ہوا؟
- مصنف, جیک برجز
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے ملک بھر میں ہونے والے بڑے احتجاجی مظاہروں کے بعد لوگوں سے پرسکون رہنے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے، جبکہ ہفتے کے روز پرتشدد جھڑپوں اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد اتوار کو بھی پیرس میں بعض مقامات پر بے چینی جاری رہی۔
ایلیزیے پیلس سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے میکخواں نے مظاہروں میں تشدد میں ملوث افراد کو خبردار کیا کہ وہ حالات کو مزید خراب نہ کریں۔
انھوں نے کہا، ’ہم سب غصہ اور شرمندگی محسوس کر رہے ہیں۔‘
فرانسیسی حکومت کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ پچاس ہزار افراد نے بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی اور سکولوں سمیت عوامی خدمات کی خراب صورتحال کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا۔ بیشتر مظاہرے پُرامن رہے۔
میکخواں نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے ’جائز مطالبات‘ اور ان افراد میں فرق کرنا ضروری ہے جنھوں نے توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کی۔
فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق پولیس نے تقریباً 2,400 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ بے قابو تشدد کا کوئی جواز نہیں بنتا اور اس میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
پیرس، مارسیئے اور دیگر شہروں میں سیاہ لباس اور نقاب پہنے بعض افراد نے ہنگامہ آرائی کی، جبکہ کچھ مقامات پر گاڑیوں اور عمارتوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مہنگائی اور سکولوں میں پیدا ہونے والے مسائل کے خلاف سنیچر کے روز فرانس بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔
فرانسیسی حکومت کے مطابق، جسے ’تشدد میں اضافہ‘ قرار دیا جا رہا ہے، اس دوران کم از کم ساڑھے پانچ لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
پیرس میں شام تک انسدادِ فسادات پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
دارالحکومت پیرس اور دیگر علاقوں میں متعدد عمارتوں کو آگ لگا دی گئی۔ لیموج میں واقع ٹاؤن ہال میں لگنے والی شدید آگ کے باعث عمارت کی چھت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔
کئی شہروں میں لوٹ مار کے واقعات بھی پیش آئے، جن کے دوران ٹاؤن ہالز اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔
وزیرِ اعظم سیباستیاں لیکورنو نے کہا کہ ان ہنگاموں میں 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
فرانسیسی دارالحکومت میں دوپہر کے وقت نکالی گئی مرکزی ریلی زیادہ تر پُرامن رہی۔ نوجوانوں کے ایک گروپ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ’پرامن‘ ہیں اور ’صرف حالات بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن کچھ بھی تبدیل نہیں ہو رہا۔‘
تاہم دن گزرنے کے ساتھ بعض گروہوں نے سڑکوں پر آگ لگا دی اور متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔ یہ واقعات پیرس کے مشہور پلاس دے لا ریپبلک سمیت دیگر مقامات پر بھی پیش آئے۔
دکانوں میں توڑ پھوڑ کے بعد لوٹ مار کی گئی، کم از کم ایک ریسٹورنٹ آگ لگنے سے مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گیا، جبکہ بی بی سی نے بعض گروہوں کے درمیان آپس میں جھگڑے اور تصادم بھی دیکھے۔
وسطی پیرس میں انسدادِ فسادات پولیس کو ہجوم کی جانب بڑھتے اور بعض افراد پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
لیون میں میئر گریگوری ڈوسے نے شہر کے سیاحتی دفتر کو آگ لگائے جانے کے واقعے کو ’سانحہ‘ قرار دیا۔
انھوں نے بی ایف ایم ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’اس واقعے نے ہمیں دل شکستہ کر دیا ہے کیونکہ یہ ایک بہت مشہور تاریخی عمارت ہے۔‘
مقامی پولیس کے مطابق ’سماج دشمن عناصر‘ نے فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کو محفوظ طریقے سے آگ بجھانے سے بھی روکے رکھا۔
فائر فائٹرز نے لیموج کے ٹاؤن ہال میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی بھی کوشش کی، جہاں مقامی انتظامیہ کے مطابق عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا تھا۔
فرانس کے شہر سینٹ ایٹین کے میئر ریجس جوانیکو نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ سینٹ ایٹین میں ایک نوجوان کا ہاتھ ایک چھوٹے دھماکا خیز مواد کے پھٹنے سے اڑ گیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ایسا سانحہ کبھی پیش نہیں آنا چاہیے تھا۔‘
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران فرانس کے لائسیز، یعنی 15 سے 18 سال کے طلبہ کے لیے قائم ثانوی سکولوں میں اساتذہ کی کمی اور خستہ حال سہولتوں کے خلاف سینکڑوں طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
بعد ازاں ٹریڈ یونینوں کے ارکان اور دیگر احتجاجی گروہوں کی شمولیت سے مظاہرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ان گروہوں میں نام نہاد ’ییلو ویسٹس‘ (گلیٹس جونز) تحریک بھی شامل ہے، جس نے 2018 سے مہنگائی کے خلاف ایک سال سے زائد عرصے تک احتجاج جاری رکھا تھا اور جو فرانس کی طویل ترین احتجاجی تحریکوں میں سے ایک بن گئی تھی۔
فرانس کی وزارتِ داخلہ کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران پیرس، مارسیئے، رین، تولوز اور اینجرز سمیت مختلف شہروں میں ’چہرے ڈھانپے ہوئے افراد‘ کی جانب سے ’منظم تشدد‘ کے واقعات پیش آئے۔
گرینوبل، آوینیوں، پو، مونٹپلیے اور ویلانس سمیت فرانس بھر کے مختلف شہروں میں عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
پیرس میں کپڑوں اور کریانے کی دکانوں میں لوٹ مار کی گئی، جبکہ شہر لیل میں واقع ایک ایپل اسٹور میں توڑ پھوڑ کے بعد اسے خالی کر دیا گیا۔
بی بی سی ویریفائی سے تصدیق شدہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گرینوبل میں چند نقاب پوش افراد ایک سیاحتی ٹرین چلا کر تنگ گلی سے گزرتے ہوئے کم از کم تین انسدادِ فسادات پولیس اہلکاروں کی جانب لے جا رہے ہیں۔
اگرچہ فرانس میں احتجاجی مظاہرے اور بدامنی کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس بار کی صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک گہری سیاسی غیر یقینی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں اگلے سال اپنا عہدہ چھوڑنے والے ہیں، جبکہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں نیشنل ریلی کی رہنما میرین لو پین اور سخت بائیں بازو کی جماعت لا فرانس انسومیس کے رہنما ژاں لوک میلانشون کے درمیان سخت مقابلہ ہو سکتا ہے۔
میلانشون نے بعد میں احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی اور پولیس پر مظاہرین کے خلاف ’تشدد‘ استعمال کرنے کا الزام لگایا، تاہم انہوں نے لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات کی مذمت بھی کی۔
فرانسیسی وزیرِ اعظم سیباستیاں لیکورنو نے میلانشون کے بیانات کو ’خطرناک اور قابلِ مذمت‘ قرار دیا۔
لیکورنو نے اس سے قبل کہا تھا کہ پولیس کو ’انتہائی شدید تشدد‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بعض گروہ ان مظاہروں کو آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے ’وارم اپ‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’کوئی بھی شخص تشدد کے ذریعے اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط نہیں کر سکتا۔‘
دوسری جانب، میرین لو پین نے کہا کہ مظاہرین کے ’جائز مطالبات‘ کو ’بائیں بازو کے گروہوں نے یرغمال بنا لیا ہے‘ اور انھوں نے میلانشون پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام بھی عائد کیا۔
میکخواں نے کہا، ’جن لوگوں نے توڑ پھوڑ کی، سرکاری دفاتر اور کاروباری مراکز پر حملے کیے اور ہمارے ٹاؤن ہالز کو بھی نشانہ بنایا، ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے اور انہیں سزا دی جائے گی۔‘
حکومت نے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے بعض اقدامات بھی کیے ہیں۔ وزیرِ تعلیم ایڈوارڈ گیفرے نے 8 اکتوبر کو ایک ٹی وی انٹرویو میں 3,000 اضافی اساتذہ بھرتی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
تاہم ان اعلانات کے باوجود احتجاجی مظاہرے جاری رہے اور وقت گزرنے کے ساتھ مزید شدت اختیار کر گئے۔
یہ مظاہرین کون ہیں؟
بی بی سی نیوز نے پیرس کی سڑکوں پر بعض مظاہرین سے گفتگو کی۔
ایک طالب علم نے کہا کہ ان مظاہروں میں شریک ہونا ’بہت اہم‘ ہے۔ ان کے مطابق آج سڑکوں پر صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ محنت کش اور دیگر کارکن بھی موجود ہیں۔
طلبہ کے کئی ہفتوں پر محیط احتجاج کے بعد نام نہاد ’ییلو ویسٹ‘ تحریک اور ٹریڈ یونینز نے بھی مہنگائی اور عوامی خدمات کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے خلاف وسیع تر احتجاج میں نوجوانوں کا ساتھ دیا ہے۔
ایک اور طالب علم نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مسائل کے خلاف آج ’تمام نسلیں‘ سڑکوں پر موجود ہیں۔
انھوں نے مزید کہا: ’اس سے ہمیں آگے بڑھنے اور حکومت تک اپنی آواز پہنچانے کی حقیقی طاقت ملتی ہے۔‘
ایک اور مظاہرین نے کہا کہ وہ ’انتہا پسند سیاست کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’ان حالات میں زندگی گزارنا ناممکن ہو گیا ہے۔‘