آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
روسی وزیرِ داخلہ کے دورہ پاکستان کے دوران، روسی انٹیلیجنس سربراہ کی کابل میں موجودگی کو اہم کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟
- مصنف, عمیر محمود
- عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بیچ روس کے انٹیلیجنس ادارے، فارن انٹیلیجنس سروس، کے سربراہ سرگئی نیرشکن نے گذشتہ دنوں کابل کا دورہ کیا ہے، جہاں انھوں نے طالبان حکومت کے انٹیلیجنس چیف عبدالحق وثیق اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔
طالبان کے زیر انتظام نیشنل افغانستان ٹی وی کے مطابق روسی اور طالبان انٹیلیجنس کے سربراہان نے ’متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی آرا کا تبادلہ ہوا۔‘
طالبان حکام کی جانب سے اس دورے کے حوالے سے مزید کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں ہیں۔
سرگئی نیرشکن کا دورہ افغانستان سے متعلق روس میں ہونے والے ’ماسکو فارمیٹ‘ کے آٹھویں اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔
ماسکو فارمیٹ کا سالانہ مشاورتی اجلاس پانچ اکتوبر کو روسی دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہوا تھا، تاہم پاکستان اور افغان طالبان حکام کے بیچ اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث اس اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو پایا تھا، جس پر روس نے ’اظہار افسوس‘ بھی کیا تھا۔
سرگئی نیرشکن کا دورہ کابل ایسے وقت میں ہوا ہے جب طالبان انتظامیہ سے متعلق اعلیٰ سطح کے سفارتی اور سکیورٹی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ ماہ، ستمبر کے وسط میں ترکی کی نیشنل انٹیلیجنس آرگنائزیشن کے سربراہ ابراہیم قالن اور قطر کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری جنرل حمد بن خمیس الکبیسی نے بھی افغانستان کا دورہ کیا تھا۔
یہ دورہ طالبان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا کیا گیا۔
ابراہیم قالن نے کابل اور قندھار میں طالبان کے سیینئر عہدیداروں سے ملاقاتیں کی تھیں جن میں طالبان انٹیلیجنس کے سربراہ عبد الحق وثیق اور وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد بھی شامل تھے جبکہ ابراہیم قالن اور طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے درمیان طے شدہ ملاقات آخری وقت میں منسوخ کر دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرگئی نیرشکن کا دورہ کابل ایسے وقت میں بھی ہوا ہے، جب روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف بھی پاکستان کے چار روزہ سرکاری دورے پر تھے۔
اس دورے کے دوران ولادیمر کولوکولتیسف نے وزیر اعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل عاصم منیر سمیت دیگر اہم پاکستانی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔
پاکستانی وزارت داخلہ کے مطابق یہ کسی بھی روسی وزیر داخلہ کا پہلا دورہ پاکستان تھا۔
روس کے اِن حالیہ رابطوں نے سوالات کو جنم دیا ہے کہ آیا ماسکو خطے میں اپنے سفارتی اور سکیورٹی کردار کو مزید فعال بنانے کی کوشش کر رہا ہے؟
بی بی سی پشتو کے مطابق کابل میں طالبان حکومت کے ایک معتبر ذریعے نے بتایا کہ روسی انٹیلیجنس چیف نے افغان ہم منصب سے ملاقات میں باہمی تعلقات کے فروغ اور انٹیلیجنس تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
تاہم تاحال یہ سامنے نہیں آ سکا کہ ان ملاقاتوں کا کوئی مخصوص ایجنڈا تھا یا نہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں بھی سامنے آئی ہے جب روس اور افغانستان کی طالبان حکومت کے درمیان سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی سطح پر روابط میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ماسکو افغانستان سے متعلق علاقائی سفارتکاری میں بھی زیادہ سرگرم دکھائی دیتا ہے۔
دو ہفتے قبل روس نے طالبان حکومت کی وزارتِ دفاع سے وابستہ ایک فوجی وفد کو 2026 کی فوجی مشقوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے مدعو کیا تھا، جن میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی شرکت کی تھی۔
روس دنیا کا واحد ملک ہے جس نے افغانستان میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کر رکھا ہے۔ طالبان حکومت نے رواں سال جولائی میں اعلان کیا تھا کہ اس نے روس کے ساتھ سکیورٹی تعاون کا ایک معاہدہ بھی طے کیا ہے۔
مبصرین کابل میں کسی روسی انٹیلیجنس عہدیدار کے دورہ کو غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔
ادھر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف پہلے ہی ماسکو فارمیٹ کے اجلاس میں کہہ چکے ہیں کہ روس پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس دورے کی اہمیت سے قبل یہ جان لیتے ہیں کہ روسی انٹیلیجنس کے سربراہ کون ہیں اور صدر پوتن کے کتنا قریب سمجھے جاتے ہیں۔
سرگئی نیرشکن کون ہیں؟
سرگئی نیرشکن اپنے کیریئر کے بیشتر حصے میں صدر پوتن کے ساتھ رہے ہیں اور انھیں روسی صدر کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم یوکرین جنگ سے قبل ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک اجلاس میں صدر پوتن نے صورتحال کے بارے میں اُن کی رائے لیتے ہوئے اُن کی جانب سے دکھائی گئی ہچکچاہٹ پر اُن کی سرزنش بھی کی تھی۔
نیرشکن نے 1990 کی دہائی میں سینٹ پیٹرزبرگ میں پوتن کے ساتھ کام کیا، بعد ازاں سنہ 2004 میں کریملن میں اُن کے دفتر سے وابستہ رہے اور پھر روسی پارلیمان کے سپیکر بھی بنے۔
وہ روسی ہسٹاریکل سوسائٹی کے سربراہ بھی ہیں اور روسی صدر کے سیاسی و نظریاتی مؤقف کو تاریخی بنیادیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
یہ دورہ اہمیت کا حامل کیوں ہے؟
نیرشکن کے دورۂ افغانستان اور روسی وزیر داخلہ کے دورۂ پاکستان نے خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی بحث کو جنم دیا ہے۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت روس کی جنوبی ایشیا میں سفارتی اور سکیورٹی موجودگی کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہو سکتی ہے، جبکہ دیگر ماہرین اسے علاقائی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق مشترکہ مفادات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
قائدِاعظم یونیورسٹی کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انٹیلیجنس اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر خرم اقبال کے مطابق سرگئی نیرشکن کے دورہ کابل کو وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ان کے بقول یہ محض افغانستان اور روس کے دو طرفہ تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب روسی وزیرِ داخلہ بھی پاکستان کے دورے پر تھے، اور اس سے بظاہر لگتا ہے کہ ماسکو بیک وقت اسلام آباد اور کابل کے ساتھ اپنے روابط کو متحرک کر رہا ہے۔
بی بی سی اردو سے گفتگو میں ڈاکٹر خرم اقبال نے کہا کہ اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ روس ’پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے یا ثالثی کرانے کی کوشش کر رہا ہو۔‘
ان کے بقول ماسکو فارمیٹ کے حالیہ اجلاس میں بھی یہ واضح ہوا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کئی اہم معاملات پر متفق نہیں ہو سکے تھے، چنانچہ ماسکو پاکستان اور افغانستان کے ساتھ بیک وقت رابطوں کے ذریعے کسی مفاہمتی کردار کی تلاش میں ہو سکتا ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر خرم اقبال کا کہنا تھا کہ روس کی افغانستان میں دلچسپی کا ایک اہم پہلو داعش خراسان (آئی ایس آئی ایس۔کے) سے متعلق سکیورٹی خدشات بھی ہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ طالبان داعش خراسان کے خلاف برسرپیکار ہیں اور اسی تناظر میں روس اور طالبان حکومت کے درمیان سکیورٹی تعاون میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ڈاکٹر خرم اقبال کے مطابق روس اور افغان طالبان حکومت کے درمیان سکیورٹی تعاون کے حالیہ معاہدے کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ رواں سال مئی میں طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد نے ماسکو کے دورے کے بعد روس کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کی وضاحت کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ یہ صرف اُُس روسی فوجی ساز و سامان اور ہتھیاروں کی دیکھ بھال کا معاہدہ ہے جو اِس وقت افغانستان کے پاس ہیں۔
لیکن کیا افغانستان اور خطے کی سکیورٹی صورتحال کے بارے میں پاکستان اور روس کی ترجیحات واقعی ایک جیسی ہیں؟
پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر خرم اقبال کہتے ہیں کہ اسلام آباد علاقائی تنازعات کے حل میں روس کے ممکنہ کردار کو تسلیم کرتا ہے اور یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ افغانستان سے متعلق معاملات، خصوصاً سکیورٹی کے مسائل پر، ماسکو پاکستان کے جائز ’تحفظات کو پیش نظر رکھے گا۔‘
ان کے مطابق اب تک جو رجحان سامنے آیا ہے اس سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ روس کی بنیادی توجہ افغانستان میں داعش خراسان کی موجودگی پر مرکوز ہے، جبکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر ماسکو نسبتاً کم حساس دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ گروہ براہِ راست روس کے بجائے صرف پاکستان کو نشانہ بناتا ہے۔
ڈاکٹر خرم اقبال کے بقول یہی نقطہ ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر خطے میں بعض شدت پسند گروہوں کو خطرہ سمجھا جائے اور بعض دیگر گروہوں کو نظرانداز کیا جائے تو ’اچھے‘ اور ’بُرے‘ شدت پسندوں کی یہ تفریق علاقائی تعاون اور مشترکہ سکیورٹی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ڈاکٹر خرم کے نزدیک جو ملک علاقائی استحکام اور قیادت کا دعویدار ہو اسے خطے کے دیگر ممالک کے ’جائز سکیورٹی خدشات‘ کو بھی یکساں اہمیت دینی چاہیے۔
جہاں ماہرین روسی حکام کی پاکستان اور افغانستان کے حکام سے ملاقاتوں کو سکیورٹی اور سفارتی تناظر میں دیکھ رہے ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر بھی اس کے علاقائی اثرات اور روس کے مقاصد کے بارے میں مختلف آرا سامنے آئیں۔
صحافی اور تجزیہ کار ہارون رشید نے ایکس پر لکھا کہ افغان طالبان کے ساتھ روس کے بڑھتے ہوئے روابط اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماسکو کو بنیادی تشویش داعش خراسان (آئی ایس آئی ایس-کے) سے لاحق خطرہ ہے، جسے روس اپنے ساتھ ساتھ وسط ایشیائی ریاستوں کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ سمجھتا ہے۔
افغان امور پر نظر رکھنے والی مبصر ھیلہ نجیب اللہ نے اس پیش رفت کو خطے میں بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں دیکھا۔
انھوں نے اپنی پوسٹ میں روسی وزیرِ داخلہ کے پاکستان اور روسی انٹیلیجنس چیف کے افغانستان میں موجود ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ بڑی طاقتوں کے متضاد مفادات افغانستان میں عدم استحکام کو برقرار رکھ سکتے ہیں اور علاقائی امن کے لیے افغانستان کی غیر جانبداری ضروری ہے۔
ان کے اس مؤقف پر تبصرہ کرتے ہوئے احسان اللہ شورش نے کہا کہ 'افغانستان ایک خود مختار ملک ہے' جو تمام فریقوں کی بات سننے کے بعد اپنے قومی 'مفاد' میں فیصلے کرتا ہے۔ ان کے مطابق افغان حکومت کسی بیرونی طاقت کی ہدایات پر نہیں چلتی بلکہ مختلف ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرتی ہے۔
بعد ازاں اس بحث میں تمیم عاصی نے بھی حصہ لیا۔
کنگز کالج لندن کے ڈیفنس سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں سینئر فیلو تمیم عاصی نے اس صورتحال کو سوویت دور کی یاد تازہ کرنے والی پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق روس بیک وقت پاکستان اور افغانستان میں اپنے روابط بڑھا رہا ہے، جس سے یہ خدشات جنم لے رہے ہیں کہ افغانستان ایک مرتبہ پھر علاقائی اور عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگ کا میدان بن سکتا ہے۔