پاکستانی پرچم کا بیج، راولپنڈی جانے کی ادھوری خواہش اور کراچی کے کھانے: انڈین اداکار اوم پوری جنھیں پاکستان اپنا لگتا تھا

    • مصنف, عمیر علوی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

’ہالی وڈ میں مجھ سے زیادہ پاکستانی کردار کسی نے نہیں ادا کیے۔‘

مارچ 2016 میں کراچی کے ایک ہوٹل میں اوم پوری سے ملاقات ہوئی تو ان کے اس دعوے میں ایک اداکار کا اعتماد بھی تھا اور ایک طرح کی اپنائیت بھی۔ وہ انڈین تھے، مگر ان کے فلمی کرداروں کی فہرست میں پاکستانی شناخت بار بار سامنے آتی تھی۔

چارلی ولسنز وارمیں جنرل ضیا الحق، دی ریلیکٹنٹ فنڈامینٹلسٹ میں پاکستانی پس منظر کا کردار، برطانوی فلم ایسٹ اِز ایسٹ میں جارج خان اور پھر بجرنگی بھائی جان میں ایک پاکستانی مولوی۔ اوم پوری نے مختلف فلموں میں صرف پاکستانی کردار ادا نہیں کیے تھے؛ وہ اس ملک کے لوگوں اور اس کی ثقافت کے بارے میں ایک خاص دلچسپی بھی رکھتے تھے۔

آج اگر اوم پوری زندہ ہوتے، تو اپنی 74ویں سالگرہ منارہے ہوتے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کے میچ کے اگلے دن میں ان سے ملنے پہنچا تو اوم پوری نے اپنے سینے پر پاکستانی پرچم کا ایک چھوٹا سا بیج لگا رکھا تھا۔ میں نے پوچھا کہ میچ تو انڈیا جیتا، آپ نے پاکستانی پرچم کیوں لگا رکھا ہے؟ وہ مسکرائے اور کہا کہ وہ صرف پاکستانی فلم ایکٹر اِن لا میں پاکستانی نہیں بن رہے بلکہ دنیا بھر میں پاکستانی کردار ادا کرتے کرتے وہ خود کو ’آدھا پاکستانی‘ محسوس کرنے لگے ہیں۔

یہ محض ایک خوش گوار جملہ نہیں تھا۔ ان سے گفتگو کے دوران بار بار محسوس ہوا کہ پاکستان کے ساتھ ان کا تعلق کسی فلم کے کردار یا شوٹنگ کے شیڈول تک محدود نہیں۔ اس تعلق میں خاندانی تاریخ، لوگوں کی مہمان نوازی، کھانوں کی تعریف، اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کی خواہش سب شامل تھے۔

جنوری 2017 میں اوم پوری کی وفات سے دنیا ایک ایسے اداکار سے محروم ہوئی جس نے متوازی سنیما سے لے کر بالی وڈ کے بڑے کمرشل منصوبوں اور ہالی وڈ تک اپنی جگہ بنائی۔ لیکن میرے لیے ان کی یاد کا ایک اہم حصہ وہ شخص ہے جو پاکستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کسی اجنبی ملک کا ذکر نہیں کرتا تھا۔

اوم پوری کی راولپنڈی دیکھنے کی کوشش

اوم پوری کے پاکستان سے تعلق کی ایک وجہ ان کے خاندان کی تاریخ بھی تھی۔ ان کے والد ہندوستان کی تقسیم سے پہلے برطانوی فوج میں ملازم تھے اور راولپنڈی میں تعینات رہے تھے۔

اوم پوری کی پیدائش تقسیم کے بعد ممبئی میں ہوئی، لیکن ان کے بقول اس سرزمین سے ان کا تعلق اس سے پہلے ہی قائم ہو چکا تھا۔

انھیں افسوس تھا کہ پاکستان کے متعدد دورے کرنے کے باوجود وہ کبھی راولپنڈی نہیں جا سکے۔ مصروفیات اور ویزے کی پابندیوں نے انھیں وہ جگہ دیکھنے کا موقع نہیں دیا جہاں ان کے والد نے وقت گزارا تھا۔

یہ ایک عجیب صورت حال تھی: ایک انڈین اداکار جس کے والد کا ماضی راولپنڈی سے جڑا تھا، وہ پاکستان آ سکتا تھا، کراچی میں فلم بنا سکتا تھا، پاکستانی مداحوں سے مل سکتا تھا، مگر اپنے خاندان کی تاریخ سے وابستہ شہر نہ پہنچ سکے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ اوم پوری دونوں ملکوں کے درمیان ویزا پابندیوں کو غیر ضروری سمجھتے تھے۔

ان کے نزدیک سرحد کے دونوں جانب ایسے بے شمار خاندان تھے جن کے رشتے، یادیں اور تاریخ مشترک تھی۔ اوم پوری کے مطابق لوگوں کو ایک دوسرے کے شہروں کا دورہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے تھی، نہ کہ ان کے سفر کو سیاسی حالات کے تابع رکھا جائے۔

وہ کہتے تھے کہ اس سے نہ صرف خاندان ایک دوسرے سے مل سکیں گے بلکہ سیاحت اور تاریخی مقامات کی شناخت کو بھی فروغ ملے گا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات پر بات کرتے ہوئے ان کی گفتگو کسی سیاسی نعرے کے بجائے ایک ذاتی خواہش محسوس ہوتی تھی: وہ اپنے والد کے شہر کو دیکھنا چاہتے تھے۔

کراچی نے انھیں حیران کر دیا

مارچ 2016 میں جب اوم پوری پاکستان آئے تو یہ ان کا پہلا دورہ پاکستان نہیں تھا۔ وہ 2004 میں کراچی کے کارا فلم فیسٹیول کے ابتدائی دنوں میں بھی آ چکے تھے اور بعد میں لاہور کا سفر بھی کر چکے تھے۔ تاہم ایکٹر اِن لا کی شوٹنگ کے دوران انھیں کراچی کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

اس مرتبہ انھیں لوگوں سے ملنے، شہر میں گھومنے اور یہاں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بننے کا موقع ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ابتدا میں قدرے محتاط تھے۔ انھیں خدشہ تھا کہ معروف انڈین اداکار ہونے کے باعث شاید پولیس یا سکیورٹی اہلکار انھیں روکیں گے۔ لیکن ان کے مطابق، پولیس والے انھیں روکتے تو ضرور تھے، مگر عموماً تصویر بنوانے کے لیے۔

ٹیکسی والے کرایہ لینے سے انکار کر دیتے، لوگ انھیں اپنے ساتھ کھانے پر لے جانا چاہتے اور بعض مقامات پر ان کی تواضع اس قدر کی جاتی کہ وہ حیران رہ جاتے۔

دو دریا کے ایک ریستوران میں بھی انھیں ایسی مہمان نوازی ملی کہ کھانے کے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔

وہ کہتے تھے کہ ’اگر یہ محبت نہیں تو پھر کیا ہے؟۔‘

کراچی کے کھانوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی خوشی چھپائے نہیں چھپتی تھی: '’آپ کے شہر میں کیا مزیدار کھانا ملتا ہے، واہ!!‘

ان کے مطابق، کئی لوگ انھیں اپنے اہل خانہ سے ملوانے کے لیے گھر لے جانا چاہتے تھے اور یہ بات اوم پوری کے لیے خاصی اہم تھی۔ وہ پاکستان کو صرف سکرین پر دکھائے جانے والے کرداروں کے ذریعے نہیں جاننا چاہتے تھے؛ انہیں ان کرداروں کے پیچھے موجود لوگوں سے ملنے میں بھی دلچسپی تھی۔

اوم پوری کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے ان کی دو دہائیوں سے زیادہ پرانی شناسائی تھی اور جہاں بھی وہ پاکستانیوں سے ملے، انھیں محبت اور مہمان نوازی ہی ملی۔

پاکستانی کردار ادا کرنے کا معاملہ

اوم پوری کا یہ دعویٰ کہ انھوں نے ہالی وڈ میں دوسروں سے زیادہ پاکستانی کردار ادا کیے، ان کے فلمی سفر کا ایک دلچسپ پہلو تھا۔ اور یہ محض اتفاق نہیں تھا۔ وہ ان میں باریکیاں تلاش کرتے، کردار کے پس منظر کو سمجھتے اور اپنی اداکاری کے ذریعے اسے قابلِ یقین بنانے کی کوشش کرتے تھے۔

برطانوی فلم ’ایسٹ اِز ایسٹ‘ کے متعلق بات کرتے ہوئے میں نے ان سے پوچھا کہ فلم میں خاندان کے لوگ ان کے کردار کو جارج کہتے ہیں، لیکن مسجد کا امام انہیں ظہیر کیوں کہتا ہے؟

اوم پوری مسکرائے اور کہا کہ جب جارج پاکستان سے انگلینڈ گیا ہوگا تو اس کا نام جارج تو نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق، انھوں نے یہی منطق ہدایت کار کے سامنے رکھی تھی۔ مسجد کا امام اسے اس کے اصل نام سے پکارے گا، نہ کہ اس نام سے جو اس نے انگلینڈ میں اپنا لیا ہے۔

اس چھوٹی سی تفصیل سے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اوم پوری کردار کی شناخت اور اس کے ماضی کو اہمیت دیتے تھے۔ ان کے لیے کسی کردار کا نام بھی اس کی کہانی کا حصہ تھا۔

چارلی ولسنز وار میں جنرل ضیا الحق کا کردار ادا کرتے ہوئے بھی انھوں نے اسی طرح تیاری کی تھی۔

اوم پوری نے مجھے بتایا کہ اس کردار کے لیے شتروگھن سنہا نے ان کی مدد کی، جو ضیا الحق سے واقف تھے اور ان سے ملاقاتیں کر چکے تھے۔ اوم پوری نے ان سے صدر ضیا کے بات کرنے، چلنے، ہنسنے اور سوچ کر بولنے کے انداز کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ان چیزوں کو اپنی اداکاری میں شامل کیا۔

پاکستانی فلم میں کام کرنے کا فیصلہ

پاکستانی فلم ’ایکٹر اِن لا‘ میں اوم پوری نے فہد مصطفیٰ کے والد کا کردار ادا کیا۔ یہ پاکستانی فلمی صنعت میں ان کی پہلی باقاعدہ شرکت تھی، لیکن اس فیصلے کے پیچھے ایک واضح سوچ تھی۔

وہ بتاتے تھے کہ خدا کے لیے اور بول دیکھنے کے بعد پاکستانی فلموں کے بارے میں ان کی رائے بدلی۔ پاکستان کے ٹیلی وژن ڈراموں سے وہ پہلے ہی واقف تھے، خصوصاً الف نون جیسے پروگراموں سے، لیکن پاکستانی فلموں نے انھیں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کیا۔

فلم کی پروڈیوسر فضا علی میرزا نے جب اوم پوری کو سکرپٹ بھیجا تو انھیں کہانی اور کردار دونوں پسند آئے۔ وہ ایک ایسے کردار کی تلاش میں تھے جو انھیں بطور اداکار چیلنج کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک اداکار اس ملک کا پابند نہیں ہوتا جہاں وہ رہتا ہے۔‘

’جب میں انڈین ہوتے ہوئے ہالی وڈ اور برطانوی فلموں میں کام کر سکتا ہوں، اور پاکستانی اداکار بالی وڈ کی فلموں میں کام کر سکتے ہیں، تو میں پاکستانی فلم میں کیوں کام نہیں کر سکتا؟‘

ان کا ماننا تھا کہ دونوں ملکوں کے فنکاروں کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا چاہیے، کیونکہ سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ فنکاروں کے درمیان رابطے دونوں ملکوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اوم پوری نے بتایا کہ وہ محمد علی جناح کی سوانح عمری پر بننے والی فلم جناح میں بھی کام کرنا چاہتے تھے۔ ششی کپور نے انھیں اس فلم میں کردار کی پیشکش کی تھی، لیکن دوسری مصروفیات کی وجہ سے یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔

2018 میں ریلیز ہونے والی ہدایتکار نبیل قریشی کی فلم ’لوڈ ویڈنگ‘ میں بھی ان کی جھلک، ایک تصویر کی صورت میں نظر آتی ہے۔ یہ وہی نبیل قریشی ہیں جنہوں نے اوم پوری کو ’ایکٹر ان لا‘ میں کاسٹ کیا تھا۔ یہ فلم اوم پوری کی وفات کے بعد ریلیز ہوئی، اور جس میں ان کو اس انداز میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔

’میں یہاں محبت پھیلانے آیا ہوں‘

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے اوم پوری نے اکتوبر 2015 میں غلام علی کے ممبئی میں منسوخ ہونے والے کنسرٹ کا ذکر کیا تھا۔ انھیں اس واقعے پر افسوس تھا، لیکن وہ اسے پورے انڈیا کی سوچ نہیں سمجھتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ شیو سینا جیسے گروہوں کی مخالفت کے باوجود دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے لیے محبت رکھتے ہیں۔

اوم پوری کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں محبت پھیلانے آیا ہوں‘۔

ان کی باتوں میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا شعور بھی تھا اور اس سے نکلنے کی خواہش بھی۔ وہ دہشت گردی کے واقعات پر دکھ کا اظہار کرتے اور کہتے تھے کہ دونوں ملکوں کے عوام کا ایک مشترکہ دشمن ہے، اس لیے انھیں ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

ان کے نزدیک عبادت میں مصروف لوگوں کو مسجد میں نشانہ بنانا یا سکول میں بچوں کا قتل انسانیت کے خلاف سنگین جرم تھا۔

وہ چاہتے تھے کہ دونوں ملکوں کی حکومتیں سمجھیں کہ جنگ اور کشیدگی کے بجائے امن اور ہم آہنگی میں رہنا زیادہ بہتر ہے۔

اوم پوری کی باتوں میں یہ احساس نمایاں تھا کہ سیاست اور سرحدیں لوگوں کے درمیان موجود رشتوں کو ختم نہیں کر سکتیں۔ وہ امریکہ اور کینیڈا کی مثال دیتے تھے کہ اگر یہ دونوں ملک پڑوسی ہونے کے باوجود امن سے رہ سکتے ہیں تو پاکستان اور انڈیا ایسا کیوں نہیں کر سکتے؟

’کمرشل بل ادا کرتا ہے، متوازی سنیما میری انا کو تسکین‘

اوم پوری ایک ایسے اداکار بھی تھے جنھوں نے انڈین سنیما کے مختلف دھاروں اور بین الاقوامی فلموں میں اپنی الگ شناخت بنائی۔

انھوں نے نیشنل سکول آف ڈراما اور فلم اینڈ ٹیلی وژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا سے تربیت حاصل کی، لیکن انھیں پہلا بڑا موقع ملنے میں کئی برس لگے۔

فلم اردھ ستیہ نے انھیں ایک سنجیدہ اداکار کے طور پر پہچان دلوائی۔ وہ متوازی سنیما میں اہم کردار کرتے رہے، لیکن کمرشل فلموں سے بھی وابستہ رہے۔ ان کے نزدیک ایک اداکار کو اپنی تخلیقی خواہشات اور معاشی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔

وہ اس سوچ کو ایک جملے میں بیان کرتے تھے: ’کمرشل سنیما میرے بل ادا کرتا ہے، جب کہ پیرالیل سنیما میری انا کو مطمئن کرتا ہے۔‘

انھوں نے ستیہ جیت رے، شیام بینیگل، گلزار، گووند نہلانی اور راج کمار سنتوشی جیسے ہدایت کاروں کے ساتھ کام کیا، جبکہ ہالی وڈ میں جیک نکلسن، مائیکل ڈگلس، ویل کلمر اور ٹام ہینکس جیسے اداکاروں کے ساتھ بھی سکرین شیئر کی۔

اتنے وسیع فلمی سفر کے باوجود انھیں اس بات پر افسوس تھا کہ انڈین سنیما میں بامعنی کہانیاں سنانے والے فلم ساز کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے خیال میں فلم صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرتی مسائل کی طرف توجہ دلانے کا وسیلہ بھی ہے۔

پاکستان کی یاد

سلمان خان کی فلم بجرنگی بھائی جان میں مولوی کا کردار بھی ان کے یادگار کرداروں میں شامل ہے۔ فلم کے اختتام پر مولوی کا بجرنگی کو رخصت کرنا اور اس موقع پر ان کے مکالمے ناظرین کے ذہنوں میں رہ گئے۔

اوم پوری نے بتایا تھا کہ ہدایت کار کبیر خان نے اس سے پہلے انھیں کابل ایکسپریس میں کاسٹ کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن بات آگے نہیں بڑھ سکی۔

بجرنگی بھائی جان کے لیے رابطہ ہوا تو انھیں کردار پسند آیا۔ چونکہ وہ فلم میں ایک پاکستانی مولوی کا کردار نبھا رہے تھے، انھہوں نے ہدایتکار کو تجویز دی کہ ان کا کردار بجائے ’رام رام‘ کہنے کے، بجرنگی سے پوچھے گا کہ آپ کے ہاں لوگ کیا کہتے ہیں۔ اس تجویز کو نہ صرف فلم میں شامل کیا گیا بلکہ انآیں خوشی تھی کہ ناظرین نے اس باریکی کو محسوس کیا۔

مارچ 2016 میں کراچی میں ان سے ملاقات کے دوران جب میں نے پاکستان میں ان کے مداحوں کے لیے پیغام دینے کو کہا تو انآوں نے بتایا کہ ان کے نئے پاسپورٹ پر پاکستان کے چار ویزے لگے ہوئے تھے۔

وہ مسکرا کر بولے، ’جب سے یہاں آیا ہوں، ہر کوئی محبت کر رہا ہے۔‘

انٹرویو کے اختتام پر جب میں نے ان سے سیلفی کی درخواست کی تو ان کا کہنا تھا کہ تصویر تو ٹھیک ہے، کیپشن کیا دیں گے، جس پر میرے جواب ’دونوں اوم ہیں، تو ٹو اومز لکھ دوں گا‘ پر انھوں نے خوب قہقہہ لگایا۔

اوم پوری جنوری 2017 میں دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن اس ملاقات کی یاد میں ان کا پاکستانی پرچم کا بیج، راولپنڈی جانے کی ادھوری خواہش اور کراچی کے کھانوں کی تعریف آج بھی تازہ ہے۔

یوں تو انھوں نے دنیا بھر میں بہت سے کردار ادا کیے، لیکن پاکستان کے ساتھ ان کا تعلق کسی ایک فلم تک محدود نہیں تھا۔ ان کے لیے یہ ایک ایسی سرزمین تھی جس سے ان کے خاندان کی تاریخ جڑی ہوئی تھی، جہاں کے لوگ انھیں اپنا سمجھتے تھے، اور جہاں وہ امن اور محبت کا پیغام لے کر آنا چاہتے تھے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ وہ پاکستانی کردار ادا کرنے کے اپنے تجربے کو صرف اداکاری کا معاملہ نہیں سمجھتے تھے۔ وہ پاکستان کو جاننے، اس کے لوگوں سے ملنے اور اس کے ساتھ ایک انسانی رشتہ قائم کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔

اور جب وہ کہتے تھے کہ ہالی وڈ میں ان سے زیادہ پاکستانی کسی نے نہیں بنے، تو اس جملے کے پیچھے ایک اداکار کا فخر ہی نہیں، پاکستان کے لیے ان کی اپنائیت بھی سنائی دیتی تھی۔