سعودی فوجی اتحاد نے جمعے کی صبح مشرقی سعودی عرب کی جانب بھیجے گئے ایک ڈرون کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ یمن کی انصار اللہ (حوثی) تحریک کا کہنا ہے کہ اس نے جمعے کی علی الصبح وسطی یمن کے صوبہ مأرب کی فضاؤں میں ایک سعودی جاسوس ڈرون، ونگ لونگ ٹو مار گرایا ہے۔
انصار اللہ کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ ’یمنی مسلح افواج نے اللہ کی مدد سے سعودی دشمن کا ونگ لونگ ٹو مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا، جو صوبہ مأرب کی فضائی حدود میں دشمنانہ سرگرمیوں میں مصروف تھا۔‘
یحییٰ سریع نے یہ نہیں بتایا کہ ڈرون کو کس طریقے سے گرایا گیا، تاہم انھوں نے کہا کہ اس کارروائی میں ’موزوں ہتھیار‘ استعمال کیا گیا۔
ادھر حوثیوں سے وابستہ خبر رساں ادارے صبا کے مطابق سعودی سرحد کے قریب واقع شمالی یمن کے صوبہ صعدہ کو سعودی توپ خانے کی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے جنوبی یمن کے شہر عدن میں صدارتی محل پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
یحییٰ سریع نے کہا کہ اس حملے کا ہدف عدن میں موجود ’سعودی جنگی آپریشنز کا مرکز‘ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی سعودی فوجی موجودگی کو نشانہ بنانے کی انصار اللہ کی پالیسی کا حصہ ہے۔
دریں اثنا، سعودی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد قرملی نے کہا ہے کہ موجودہ مرحلے میں حوثیوں کے حملے، ان کے اندازے کے مطابق، ’ایران کی حوصلہ افزائی‘ سے کیے جا رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک ویڈیو بریفنگ میں انھوں نے کہا کہ تہران حوثیوں کو ہتھیار، تربیت اور معاونت فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے اور ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم ان کے بقول تہران ’حل تک پہنچنے میں دلچسپی نہیں رکھتا‘ جبکہ حوثیوں نے بھی مفاہمتی کوششوں میں شامل ہونے سے گریز کیا۔
رائد قرملی نے کہا: ’اس کشیدگی کے آغاز پر ہم نے انھیں مسقط میں ملاقات کی دعوت دی تھی لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ چند ہفتے قبل یہی ہمارا آخری رابطہ تھا۔‘
دوسری جانب سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے ریاض میں یورپی اور افریقی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی شہری، اقتصادی اور ہوابازی تنصیبات پر بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے حملے ’جنگی جرائم‘ کے مترادف ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور زائرین کے تحفظ کے معاملے میں کوئی نرمی نہیں برتے گا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔
اسی تناظر میں فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان پاسکال کونفافرو نے اعلان کیا کہ فرانس نے سعودی تیل تنصیبات کے تحفظ میں مدد دینے کے ایک معاہدے پر عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یاد رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ فرانس بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع سعودی شہر ينبع کے دفاع میں مدد کے لیے مملکت میں فوجی دستے اور دفاعی نظام تعینات کرے گا۔ ينبع توانائی کی ترسیل کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
بی بی سی ان حالیہ واقعات اور حملوں کے حوالے سے فریقین کے تمام دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔