آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف درخواست: پشاور ہائیکورٹ سے وزیراعلیٰ اور متعدد ارکانِ اسمبلی کی تفصیلات طلب کرنے کی استدعا

جمعے کو پشاور ہائیکورٹ میں اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو غیر آئینی قرار دیا اور اس اقدام کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور متعدد منتخب نمائندوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. پاکستان کی ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملے کی مذمت

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب کے خلاف جاری حملوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حوثی حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں کہا گیا کہ شہری آبادیوں اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے ناقابلِ قبول ہیں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

    ترجمان کے مطابق پاکستان نے 11 اکتوبر کو سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے ساتھ آر فور گروپ کے تحت ایک مشترکہ بیان میں سعودی عرب پر جاری حوثی حملوں کی مذمت کی اور ان حملوں کے فوری اور غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ کیا۔

  2. امریکہ کے سکول میں فائرنگ، حملہ آور سمیت پانچ افراد ہلاک, ربیکا پیڈر، پارول گپتا، بین ہیٹن

    پولیس کے مطابق امریکی ریاست اوریگون کے ایک پرائمری سکول میں 16 سالہ نوجوان نے فائرنگ کر کے تین بچوں اور ایک استاد کو ہلاک کر دیا، جس کے بعد ایک راہگیر نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

    بینڈ شہر میں واقع سلور ریل ایلیمنٹری سکول میں مشتبہ حملہ آور نے جمعرات کی دوپہر بند دروازوں پر فائرنگ کر کے زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، بینڈ پولیس کے سربراہ مائیک کرانٹز نے اس کی تصدیق کی۔

    کرانٹز نے کہا کہ ایک مقامی شخص نے ’اس کا سکول کے اندر تعاقب کیا اور اس کا مقابلہ کیا‘، جس دوران نوجوان مارا گیا۔ پولیس تین منٹ بعد موقع پر پہنچ گئی۔

    ہلاک ہونے والے تین بچوں کی عمریں پانچ، آٹھ اور 11 سال تھیں۔ سات سالہ ایک بچہ اور 54 سالہ ایک استاد کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ واضح نہیں کہ حملہ آور کا سکول سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

    جمعرات کی شام بینڈ میں سینکڑوں افراد نے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی، جہاں مقامی برادری نے اکٹھے ہو کر دعائیں کیں اور گیت گائے۔

    مقامی سکول ضلع کے اعلیٰ انتظامی عہدیدار سٹیون کک نے صحافیوں سے جذباتی گفتگو میں کہا: ’ہم اس بے معنی المیے پر صدمے اور گہرے رنج میں مبتلا ہیں۔‘

    انھوں نے کہا: ’کوئی الفاظ اس غم کو بیان نہیں کر سکتے جس کا ہماری برادری سامنا کر رہی ہے۔‘

  3. چین کا اسرائیل سے مغربی کنارے میں بستیوں کے ’زبردستی قیام‘ کو روکنے کا مطالبہ

    چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں بستیوں کے ’زبردستی قیام‘ کو روکے اور اپنے اقدامات واپس لے۔

    وانگ نے جمعرات کو آذربائیجان میں ایک کانفرنس کے موقع پر اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ سے بالمشافہ ملاقات میں کہا کہ ’فلسطینی مسئلہ‘ ’اس صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی‘ ہے۔

    بیجنگ طویل عرصے سے فلسطینی مؤقف کا حامی رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ’دو ریاستی حل ہی درست سمت ہے۔

    چین نے خود کو مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں ایک ثالث کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔

    سنہ 2023 میں بیجنگ نے برسوں کی کشیدگی کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے ایک معاہدے میں ثالثی کی تھی۔ رواں سال کے آغاز میں وہ پاکستان کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف امریکہ۔اسرائیل جنگ میں جنگ بندی کی تجویز پیش کرنے کی کوششوں کا بھی حصہ تھا۔

    غزہ کی جنگ سے نمٹنے کے لیے بیجنگ کی کوششوں کا مرکز فلسطینی اتحاد رہا ہے۔

    سنہ 2024 میں بیجنگ نے حریف فلسطینی دھڑوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے لیے ایک عبوری ’قومی مفاہمتی حکومت‘ تشکیل دینے پر اتفاق کریں، تاہم اس پر کبھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔

    اب وانگ کا کہنا ہے کہ فوری ترجیح غزہ تک رسائی کو مکمل طور پر کھولنا اور جاری انسانی تباہی کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

    وانگ نے کہا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی طرف لایا جا سکے اور تنازع کے سیاسی حل کی کوشش کی جا سکے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں ہرزوگ نے کہا کہ وہ وانگ سے ملاقات پر خوش ہیں اور ان کی گفتگو میں ہمارے ممالک کے تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر توجہ مرکوز رہی۔

    چین ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے اور ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے باعث اس تیل پر ماضی میں امریکی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

    جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی غزہ کے لوگ اسرائیلی حملوں، بے دخلی اور خوراک کے تحفظ سے متعلق مسائل کے مستقل خطرے کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

    اگرچہ بڑے پیمانے کی بمباری رک چکی ہے، تاہم اسرائیل نے غزہ میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اکتوبر 2025 میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے ایک سال کے دوران اسرائیلی حملوں میں 1,400 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

  4. پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے 34 ہلاکتیں: پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پشاور ہائیکورٹ میں دیر کالونی کے نجی سکول کی عمارت کی چھت گرنے کے واقعے کے خلاف درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

    عثمان عالم ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، چیف سیکریٹری، محکمہ تعلیم اور پی ایس آر اے کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست گزار کا موقف ہے کہ متعلقہ اداروں کی سنگین غفلت کے باعث سکول کی چھت گری، جس کے نتیجے میں 33 بچے اور ایک استانی ہلاک ہو گئے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نجی سکولوں کی نگرانی اور رجسٹریشن کے مؤثر نظام کا فقدان ہے، جبکہ غیر رجسٹرڈ اور کرائے کی عمارتوں میں قائم تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی۔

    درخواست گزار نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  5. خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف اپوزیشن اتحاد نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    جمعے کو پشاور ہائیکورٹ میں اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو غیر آئینی قرار دیا اور اس اقدام کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی نے وفاقی حکومت پر غیر آئینی اقدامات کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پشاور ہائیکورٹ اس لیے آئے ہیں کیونکہ ’چار کروڑ عوام کی حکومت ختم کی گئی ہے۔‘

    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ یہ خاموش رہنے کا وقت نہیں بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی کے تحفظ کا وقت ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی قوتیں مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں اور ایسی قومی پالیسی تشکیل دی جائے جس کے تحت تمام ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کریں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور کہا کہ ماضی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

    اچکزئی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور متعدد منتخب نمائندوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں کیونکہ یہ عوام اور منتخب اراکین کا آئینی حق ہے۔ انھوں نے کہا کہ صوبے کے معدنی وسائل پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو وطن کے مفاد میں متحد ہونا چاہیے۔

    بعد ازاں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے رابطے جاری ہیں اور جلد آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی۔ ان کے مطابق اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن بھی زیر غور ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے اپوزیشن نے اپنے مطالبات سامنے رکھ دیے ہیں جن میں آئین کی بالادستی، متنازع آئینی ترامیم کی واپسی، پارلیمنٹ کو اختیار کا سرچشمہ تسلیم کرنا اور شفاف انتخابات کے لیے آزاد کمیشن کا قیام شامل ہے۔

    اس موقع پر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے الزام عائد کیا کہ ملک میں لاقانونیت عروج پر ہے اور موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ حکمران عوام کے مینڈیٹ اور احتجاج کے حق کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غربت میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتیں سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

    اختر مینگل نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو عناصر خود کو آئین کا محافظ قرار دیتے ہیں، انھوں نے ہی آئین کو نقصان پہنچایا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ گورنر راج نافذ کر کے ایک صوبے پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں طویل عرصے سے جاری سکیورٹی آپریشنز کے باوجود حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہوئے ہیں۔

    اختر مینگل نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ، سپیکر اور بعض وزرا کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ان کے بقول اس طرز کا نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔

  6. حوثیوں کا سعودی ’ونگ لانگ ٹو‘ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، یمنی شہر صعدہ پر سعودی گولہ باری کی اطلاعات

    سعودی فوجی اتحاد نے جمعے کی صبح مشرقی سعودی عرب کی جانب بھیجے گئے ایک ڈرون کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ یمن کی انصار اللہ (حوثی) تحریک کا کہنا ہے کہ اس نے جمعے کی علی الصبح وسطی یمن کے صوبہ مأرب کی فضاؤں میں ایک سعودی جاسوس ڈرون، ونگ لونگ ٹو مار گرایا ہے۔

    انصار اللہ کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ ’یمنی مسلح افواج نے اللہ کی مدد سے سعودی دشمن کا ونگ لونگ ٹو مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا، جو صوبہ مأرب کی فضائی حدود میں دشمنانہ سرگرمیوں میں مصروف تھا۔‘

    یحییٰ سریع نے یہ نہیں بتایا کہ ڈرون کو کس طریقے سے گرایا گیا، تاہم انھوں نے کہا کہ اس کارروائی میں ’موزوں ہتھیار‘ استعمال کیا گیا۔

    ادھر حوثیوں سے وابستہ خبر رساں ادارے صبا کے مطابق سعودی سرحد کے قریب واقع شمالی یمن کے صوبہ صعدہ کو سعودی توپ خانے کی گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یہ اعلان ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب حوثیوں نے جنوبی یمن کے شہر عدن میں صدارتی محل پر میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

    یحییٰ سریع نے کہا کہ اس حملے کا ہدف عدن میں موجود ’سعودی جنگی آپریشنز کا مرکز‘ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی سعودی فوجی موجودگی کو نشانہ بنانے کی انصار اللہ کی پالیسی کا حصہ ہے۔

    دریں اثنا، سعودی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد قرملی نے کہا ہے کہ موجودہ مرحلے میں حوثیوں کے حملے، ان کے اندازے کے مطابق، ’ایران کی حوصلہ افزائی‘ سے کیے جا رہے ہیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک ویڈیو بریفنگ میں انھوں نے کہا کہ تہران حوثیوں کو ہتھیار، تربیت اور معاونت فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرنے اور ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم ان کے بقول تہران ’حل تک پہنچنے میں دلچسپی نہیں رکھتا‘ جبکہ حوثیوں نے بھی مفاہمتی کوششوں میں شامل ہونے سے گریز کیا۔

    رائد قرملی نے کہا: ’اس کشیدگی کے آغاز پر ہم نے انھیں مسقط میں ملاقات کی دعوت دی تھی لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ چند ہفتے قبل یہی ہمارا آخری رابطہ تھا۔‘

    دوسری جانب سعودی نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے ریاض میں یورپی اور افریقی ممالک کے سفیروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی شہری، اقتصادی اور ہوابازی تنصیبات پر بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے حملے ’جنگی جرائم‘ کے مترادف ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اپنے شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور زائرین کے تحفظ کے معاملے میں کوئی نرمی نہیں برتے گا اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔

    اسی تناظر میں فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان پاسکال کونفافرو نے اعلان کیا کہ فرانس نے سعودی تیل تنصیبات کے تحفظ میں مدد دینے کے ایک معاہدے پر عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    یاد رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ فرانس بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع سعودی شہر ينبع کے دفاع میں مدد کے لیے مملکت میں فوجی دستے اور دفاعی نظام تعینات کرے گا۔ ينبع توانائی کی ترسیل کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

    بی بی سی ان حالیہ واقعات اور حملوں کے حوالے سے فریقین کے تمام دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  7. ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے بعد سعودی انٹرنیشنل گالف ٹورنامنٹ اگلے نوٹس تک ملتوی

    ایشین گالف ٹور نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملے کے بعد سعودی انٹرنیشنل گالف ٹورنامنٹ کو اگلے نوٹس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    اس ٹورنامنٹ کو 18 سے 21 نومبر تک ریاض گالف کلب میں منعقد ہونا تھا اور فاالحال ٹورنامنٹ کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ایشین گالف ٹور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹورنامنٹ ملتوی کرنے کا فیصلہ ایونٹ کے انعقاد سے متعلق آپریشنل اور لاجسٹک مسائل کا جائزہ لینے اور اس کے بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا۔

    یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    گزشتہ ہفتے ریاض میں ہونے والے حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

    اس ٹورنامنٹ کوسعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ سپانسر کر رہا ہے جس کی مجموعی انعامی رقم 50 لاکھ ڈالر ہے۔

    ایشین گالف ٹور کے چیئرمین چو من تھانٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ کھلاڑی مستقبل میں ریاض میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں شرکت کر سکیں گے۔

  8. سعودی اتحاد کا مشرقی صوبے کی جانب آنے والا ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے جمعے کی صبح سعودی عرب کے مشرقی صوبے کی جانب بڑھنے والے ایک ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔

    سعودی اتحاد نے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اس ڈرون کو راستے میں روک کر تباہ کر دیا گیا، تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ میزائل کس نے داغا تھا یا اس کا ہدف کیا تھا۔

    بیان میں کسی جانی نقصان یا مالی نقصان کی تفصیلات بھی نہیں دی گئیں۔

    دوسری جانب حوثیوں سے منسلک ذرائع ابلاغ نےخبر دی ہے کہ یمن کے شمالی سرحدی صوبے صعدہ میں گولہ باری کی اطلاعات دی ہیں۔

  9. ’جنرل رینڈی نے ایران جنگ کے آغاز سے دو ماہ قبل ہتھیاروں کی شدید کمی کے حوالے سے خبردار کیا تھا‘

    امریکہ کے سابق آرمی چیف آف سٹاف جنرل رینڈی جارج نے ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے سے دو ماہ قبل (دسمبر 2025 کے آواخر میں) خبردار کیا تھا کہ امریکی فوج کو فضائی دفاعی نظاموں کے لیے درکار ہتھیاروں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور یہ صورتحال مزید پانچ برس تک برقرار رہ سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ اس معاملے سے واقف متعدد امریکی حکام کے مطابق جنرل جارج کو امریکہ اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے تقریبا اپریل 2026 میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

    سی بی ایس نیوز کو حکام نے بتایا ہے کہ جنرل جارج کا یہ جائزہ پینٹاگون کے گلوبل فورس مینجمنٹ ایلوکیشن پلان میں شامل تھا۔

    امریکی حکام کے مطابق یہ وزیرِ دفاع کی منظوری سے تیار کیا جانے والا سالانہ منصوبہ ہے جس میں دنیا بھر میں فوجی دستوں اور ہتھیاروں کی تعیناتی کا تعین کیا جاتا ہے۔

    جنرل جارج نے خبردار کیا تھا کہ ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) بیٹریوں اور پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر 2030 تک سٹریٹیجک اعتبار سے کم سطح پر پہنچ سکتے ہیں۔

    حکام کا دعویٰ ہے کہ جنرل رینڈی جارج کا یہ جائزہ محکمۂ دفاع کے مالی سال 2027 کے منصوبے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ سے پہلے لکھا گیا تھا، جو اب ساتویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے۔

    سی بی ایس نیوز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے امریکی حکام(جنھیں عوامی طور پر بات کرنے کی اجازت نہیں) نے کہا کہ یہ صورتحال 2022 میں روس کے حملے کے بعد یوکرین کو پیٹریاٹ نظاموں کی فراہمی، اسرائیل کے دفاع میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے استعمال اور دفاعی صنعت کی محدود پیداواری صلاحیت کے باعث پیدا ہوئی۔

    سکیورٹی خدشات کے باعث سی بی ایس نیوز نے امریکی حکام کی جانب سے فراہم کیے گئے درست فیصدی اعداد و شمار شائع نہیں کیے، جبکہ جنرل جارج نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کے پاس بعض حملہ آور ہتھیاروں، جیسے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن اور سمال ڈائیمیٹر بم، کے بڑے ذخائر موجود ہیں، تاہم تھاڈ بیٹریوں اور پیٹریاٹ میزائل نظاموں میں استعمال ہونے والے میزائل دفاعی ہتھیار سٹریٹیجک اعتبار سے کم سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

  10. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم آگے بڑھنے سے قبل آپ کے لیے صبح سے اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے‘۔ انھوں نے نیوزمیکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران میں امریکی زمینی فوجیں بھیجنے کے امکان پر بھی غور نہیں کر رہے۔
    • دہلی میں پارلیمنٹ سٹریٹ پولیس سٹیشن کے باہر احتجاج کرنے والے نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے قومی صدر ونود جاکھڑ، کانگریس سیوا دل سے وابستہ بی وی سری نواس اور انڈین یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
    • اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے ایک بیان میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حملوں کی مذمت کی ہے، جن میں ان کے بقول شہری ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
    • امریکہ کے اوریگن ریاست میں واقع سلور ریل ایلیمنٹری سکول میں فائرنگ کے واقعے میں تین بچوں اور ایک استاد سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے پانچ افراد مردہ پائے گئے جن میں مبینہ حملہ آور بھی شامل ہے۔
    • بلوچستان کے رخشاں ڈویژن کے کمشنر کو جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے ضلع خاران سے اغوا کرلیا ہے۔ حالیہ کے دوران بلوچستان میں اغوا کا یہ تیسرا ہائی پروفائل واقعہ ہے۔
    • سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو فضائی سفر کے بجائے ذاتی گاڑیوں، ٹرینوں یا بسوں کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔
    • سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے اکتوبر میں اب تک ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 20 حملے کیے ہیں۔
    • برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنزایجنسی (یو کے ایم ٹی او) کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق پانچ اکتوبر سے 11 اکتوبر کے درمیان 12 جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ ایک ہفتے کے دوران رپورٹ ہونے والے حملوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
    • یمنی وزیر صحت کے ایک بیان کے مطابق، جمعرات کے روز جنوبی یمن کے شہر عدن میں واقع ’معاشیق‘ صدارتی محل کمپلیکس پر حوثی ’انصار اللہ‘ گروپ کے میزائل حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 دیگر زخمی ہو گئے۔
  11. آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں ریکارڈ اضافہ

    مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے بیچ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں تجارتی جہازوں پر حالیہ دنوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنزایجنسی (یو کے ایم ٹی او) کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق پانچ اکتوبر سے 11 اکتوبر کے درمیان 12 جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ ایک ہفتے کے دوران رپورٹ ہونے والے حملوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    اس سے قبل والے ہفتے میں 10 جہازوں نے حملوں کی اطلاع دی تھی۔

    یو کے ایم ٹی او کے مطابق گذشتہ اتوار کو ایک ہی روز میں چھ جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ جبکہ 12 اکتوبر کے بعد سے اب تک چار مزید حملوں کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔

    حملوں میں اضافے کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں گذشتہ ماہ دیکھی جانے والی بحالی کی رفتار بھی سست پڑ گئی ہے ۔

    بی بی سی ویریفائی نے یو کے ایم ٹی او کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی واقعاتی رپورٹس کو یکجا کیا اور ہر رپورٹ میں درج پہلی تاریخ کی بنیاد پر ایک ٹائم لائن تیار کی۔ تاہم یہ ایک تخمینہ ہے، کیونکہ بعض رپورٹس میں حملے کی تاریخ درج ہے جبکہ بعض میں واقعے کی اطلاع دیے جانے کی تاریخ استعمال کی گئی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمزپر زیادہ کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کے تحت جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے گزرنے والے اُن ٹینکروں کی تعداد بڑھا دی ہے جنھیں وہ ایرانی حملوں سے بچاتے ہوئے اپنی نگرانی میں یہ آبی گزرگاہ عبور کروا رہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے نسبتاً دور سمندری علاقوں میں بھی جہازوں پر حملوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کام، نے کہا ہے کہ حملوں کے باوجود ’آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری آمد و رفت جاری ہے اور امریکی افواج اور علاقائی شراکت داروں کی مربوط حفاظت کے تحت جہازوں کی نقل و حرکت برقرار ہے۔‘

    دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق رواں ہفتے کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے اور جمعہ کو برینٹ کروڈ کی قیمت 105.42 ڈالر فی بیرل ہے۔

  12. چینی وزیرِ خارجہ کی آذربائیجان میں اسرائیلی صدر سے ملاقات، مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیرات روکنے کا مطالبہ

    چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر روک دینی چاہیے۔

    چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار چینی وزیرِ خارجہ نے آذربائیجان میں اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔

    ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، چینی وزیرِ خارجہ نے صدر ہرزوگ سے کہا کہ چین ہمیشہ سے مسئلہ فلسطین کو’اس صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی‘ سمجھتا رہا ہے۔

    وانگ یی نے یہ بھی کہا کہ غزہ تک مکمل رسائی فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہاں رہنے والے 20 لاکھ شہری مشکل حالات میں رہنے پر مجبور نہ ہوں۔

  13. حوثیوں کا سعودی عرب کا جاسوس ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

    یمن کے حوثیوں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے صوبہ مآرب کے اوپر سعودی عرب کا ایک جاسوسی اور جنگی ڈرون مار گرایا ہے۔

    گروپ کے عسکری ترجمان، یحییٰ سریع نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ ڈرون صوبے کی فضائی حدود میں، ان کے بقول، ’مخالفانہ سرگرمیاں‘ انجام دے رہا تھا۔

    یحییٰ سریع نے بتایا کہ حوثی فورسز نے ’مناسب ہتھیاروں‘ کا استعمال کرتے ہوئے ڈرون کو مار گرایا، تاہم اُنھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

  14. یمنی حکومت کی صدارتی محل پر حوثیوں کے حملے میں پانچ ہلاکتوں کی تصدیق

    یمنی وزیر صحت کے ایک بیان کے مطابق، جمعرات کے روز جنوبی یمن کے شہر عدن میں واقع ’معاشیق‘ صدارتی محل کمپلیکس پر حوثی ’انصار اللہ‘ گروپ کے میزائل حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 دیگر زخمی ہو گئے۔

    یمن میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے صدارتی محل کو نشانہ بنانے والا یہ پہلا حملہ ہے۔

    یمنی وزارتِ اطلاعات نے بتایا کہ صدارتی محل کے احاطے، جہاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا ہیڈ کوارٹر قائم ہے پر ہونے والے اس حملے کے بعد، وزیر اعظم شایع الزندانی اور حکومتی ارکان محفوظ رہے۔

    فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے یمنی حکومت کے ایک وزیر (جنھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی) کے حوالے سے بتایا کہ حملے کے وقت الزندانی وہاں موجود تھے، لیکن ’انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔‘

  15. سلامتی کونسل کی جانب سے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے ایک بیان میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے حملوں کی مذمت کی ہے، جن میں ان کے بقول شہری ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

    اراکین نے بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں تجارتی جہازوں کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں اور دھمکیوں کی بھی مذمت کی۔

    سلامتی کونسل کے بیان میں تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

    بیان میں بین الاقوامی قوانین، بالخصوص اقوامِ متحدہ کے سمندری قوانین کے کنونشن کی پابندی اور جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر بھی تاکید کی گئی۔

    سلامتی کونسل کے اراکین نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن میں پائیدار امن تشدد، جبر یا طاقت کے استعمال کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

    انہوں نے یمن کے مسئلے کے سیاسی حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کا مستقل حل مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

  16. ’ہم کبھی مقابلے سے نہیں ڈرتے‘: ایلون مسک کو ریلائنس کا جواب

    امریکی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے حال ہی میں الزام لگایا تھا کہ سٹارلنک کی انڈیا میں آمد کو روکا جا رہا ہے۔

    انھوں نے مکیش امبانی پر طنز کرتے ہوئے انھیں ’وزیرِ اعظم امبانی‘ تک کہا اور سوال اٹھایا کہ آیا وہ سٹارلنک کو انڈیا میں منصفانہ مقابلے کی اجازت دیں گے یا نہیں۔

    اس کے جواب میں ریلائنس انڈسٹریز نے جمعے کو ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کیا اور کہا کہ وہ کبھی بھی مقابلے سے خوفزدہ نہیں ہوتی۔

    کمپنی نے کہا، ’ہر انڈین کمپنی کی طرح ریلائنس بھی ایسے ملک میں ترقی کرتی رہی ہے جہاں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ نئے خیالات کا خیرمقدم کیا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے منصوبوں کا جو لوگوں کی زندگی بہتر بنائیں۔‘

    بیان میں کہا گیا، ’یہ آزادی قانون کی حکمرانی پر قائم ہے۔ انڈین حکومت واضح کر چکی ہے کہ ہر درخواست گزار کے لیے ایک ہی طریقۂ کار اپنایا جاتا ہے، چاہے وہ مقامی ہو یا غیر ملکی۔ جیو کی اپنی سیٹلائٹ سروسز بھی تاحال منظوری کی منتظر ہیں۔‘

    ریلائنس نے مزید کہا، ’ہم نے کبھی مقابلے سے خوف محسوس نہیں کیا۔ ہم اسے اس بات کا بہترین پیمانہ سمجھتے ہیں کہ صارفین کو سب سے بہتر خدمات کون فراہم کرتا ہے۔ جیو نے بھی 2016 میں اس وقت بھارتی ٹیلی کام مارکیٹ میں قدم رکھا تھا جب کئی کمپنیاں پہلے سے موجود تھیں۔ اس وقت جیو کے پاس ایک بھی صارف نہیں تھا۔ صرف دس سال میں جیو نے 53 کروڑ سے زائد صارفین کا اعتماد حاصل کیا اور بھارتی عوام کو دنیا کے بہترین ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سے ایک اور کم ترین قیمت کا ڈیٹا فراہم کیا۔‘

    کمپنی نے کہا کہ وہ اسٹارلنک سمیت سیٹلائٹ مواصلات کے شعبے میں مقابلے کا خیرمقدم کرتی ہے۔

    بیان کے مطابق جیو سمیت تمام کمپنیوں کو بھارتی عوام کو خدمات فراہم کرنی چاہئیں اور ملک کے قوانین اور پالیسیوں کی پابندی کرنی چاہیے۔

  17. دہلی میں این ایس یو آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا

    دہلی میں پارلیمنٹ سٹریٹ پولیس سٹیشن کے باہر احتجاج کرنے والے نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے قومی صدر ونود جاکھڑ، کانگریس سیوا دل سے وابستہ بی وی سری نواس اور انڈین یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    کچھ کارکنوں کو جمعرات کی رات دیر گئے جبکہ دیگر کو جمعے کی صبح سویرے حراست میں لیا گیا۔

    پی ٹی آئی کے مطابق، کانگریس سے وابستہ طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کا کہنا ہے کہ وہ تنظیم کی خواتین کارکنوں کے ساتھ مبینہ تشدد کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے لیے دھرنا دے رہے تھے۔

    این ایس یو آئی کا الزام ہے کہ دہلی پولیس کی ایک خاتون افسر نے خواتین کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سینئر پولیس حکام کو شکایت دینے کے باوجود اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

    ونود جاکھڑ نے کہا، ’ہم نے بدھ کے روز ایڈیشنل ڈی سی پی سے بھی ملاقات کی تھی، لیکن اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔‘

    این ایس یو آئی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقدمہ درج نہ کیا گیا تو وہ اپنی احتجاجی تحریک مزید تیز کرے گی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے رہنماؤں کو حراست میں لینے سے انصاف کے حصول کے لیے جاری احتجاج نہیں رکے گا۔

    این ایس یو آئی کے الزامات پر دہلی پولیس نے تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

  18. ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے‘۔

    انھوں نے نیوزمیکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران میں امریکی زمینی فوجیں بھیجنے کے امکان پر بھی غور نہیں کر رہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کروں گا۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’مدر آف آل بمبز‘ کے نام سے معروف بم، جس کے بارے میں سی این این نے رپورٹ کیا تھا کہ ممکنہ حملوں میں اس پر غور کیا جا سکتا ہے، ایک انتہائی طاقتور لیکن غیر جوہری ہتھیار ہے۔

    ٹرمپ کے بقول ’یہ صرف ایک بہت بڑا بم ہے، لیکن یہ جوہری نہیں ہے۔‘

    انھوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ امریکہ جوہری تخفیفِ اسلحہ کے حوالے سے روس اور چین کے ساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے۔

  19. سعودی عرب میں امریکی شہریوں کو فضائی سفر سے گریز کی ہدایت

    سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو فضائی سفر کے بجائے ذاتی گاڑیوں، ٹرینوں یا بسوں کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔

    سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے ایک سکیورٹی الرٹ میں امریکی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ سعودی ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں کے پیشِ نظر، ’سعودی عرب آنے یا وہاں سے جانے کے لیے فضائی سفر کے متبادل کے طور پر ذاتی گاڑی، ٹرین یا بس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

    امریکی سفارت خانے کی جانب سے ایکس پر جاری کیے گئے انتباہ میں امریکی شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ’سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے موبائل میسجنگ سسٹم کے ذریعے بھیجے جانے والے قومی انتباہی پیغامات اور ہدایات پر عمل کریں۔‘

    اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’امریکی شہریوں کو ہوائی اڈوں پر حملوں، فضائی حدود کی بندش، پروازوں کی منسوخی اور سفری رکاوٹوں کے امکانات کے بارے میں آگاہ رہنا چاہیے۔‘

    امریکی سفارت خانے نے ڈرون اور میزائل حملوں کے واقعات اور ان کے اثرات والی جگہوں کی تصاویر لینے، ویڈیو بنانے اور ایسی فوٹیج شیئر کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

    سفارت خانے کا کہنا ہے کہ: ’کچھ امریکی شہریوں کو ان ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے جن میں سرکاری عمارتوں، ہوائی اڈوں اور حملوں کے مقامات کی تصاویر لینا شامل ہے۔‘

  20. امریکہ کے سکول میں فائرنگ، تین بچوں اور ایک استاد سمیت پانچ افراد ہلاک

    امریکہ کے اوریگن ریاست میں واقع سلور ریل ایلیمنٹری سکول میں فائرنگ کے واقعے میں تین بچوں اور ایک استاد سمیت پانچ افراد ہلاک جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے پانچ افراد مردہ پائے گئے جن میں مبینہ حملہ آور بھی شامل ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 5، 8 اور 11 سال عمر کے تین بچے اور ایک استاد شامل ہیں۔

    واقعے میں ایک سات سالہ بچہ اور 54 سالہ استاد شدید زخمی ہوئے جنہیں سینٹ چارلس بینڈ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرین کے تمام اہل خانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق حملہ آور کی شناخت بینڈ شہر کے 16 سالہ رہائشی کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ایک مقامی شہری نے مبینہ حملہ آور کو گولی ماری تھی۔

    پولیس کو دوپہر ایک بجے سے کچھ پہلے ایک گاڑی میں موجود شخص کی کال موصول ہوئی جس نے اطلاع دی کہ ایک لمبی بندوق لیے شخص نے اس پر متعدد گولیاں چلائیں۔ اس کے بعد سکول کے اندر سے 911 پر درجنوں کالیں موصول ہوئیں۔

    پولیس افسران تین منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئے، تاہم اس وقت تک سکول لاک ڈاؤن میں جا چکا تھا۔

    مقامی پولیس چیف مائیک کرانٹز نے بتایا کہ فائرنگ میں ’لانگ گن‘ استعمال کی گئی، لیکن فی الحال اس کی درست نوعیت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ انھوں نے کہا کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ حملہ آور سکول میں کسی کو جانتا تھا یا نہیں۔

    حکام نے کہا ہے کہ واقعے سے متعلق مزید معلومات جمعے کو جاری کی جائیں گی۔