آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
موبائل سے ادائیگی آسان، پھر بھی پاکستانی کیش کیوں رکھتے ہیں؟
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ موبائل فون سے بلوں کی ادائیگی ہو، آن لائن خریداری یا دکان پر کیو آر کوڈ سکین کرکے پیسے دینا، اب یہ سب بہت سے پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ایک سال کے دوران موبائل بینکنگ ایپلی کیشنز استعمال کرنے والوں کی تعداد نو کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ ہو گئی ہے، جبکہ کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیاں قبول کرنے والے فعال تاجروں کی تعداد میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس تبدیلی میں موبائل ایپس کے ساتھ ساتھ حکومت کے متعارف کردہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام ’راست‘ کا بھی اہم کردار ہے۔ واضح رہے کہ راست ایک ایسا نظام ہے جس کے ذریعے بینکوں اور ڈیجیٹل والٹس کے صارفین بغیر اضافی فیس کے آسانی سے رقم منتقل اور ادائیگیاں کر سکتے ہیں۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ادائیگیوں میں اضافے کے باوجود پاکستان میں نقد رقم کے ذریعے لین دین بھی بڑھا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2025-2026 کے مطابق، گذشتہ سال زیرِ گردش نقد رقم 11 کھرب آٹھ ارب (1108 ارب) روپے تھی، جو اس سال بڑھ کر 12 کھرب 94 ارب (1294 ارب) روپے تک پہنچ چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان میں ڈیجیٹل لین دین بڑھ رہا ہے، لیکن عوام کی ایک بڑی تعداد اب بھی روزمرہ خرید و فروخت کے لیے نقد رقم کو زیادہ قابلِ اعتماد اور آسان سمجھتی ہے۔ اسی وجہ سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ نقد رقم کی طلب بھی برقرار ہے۔
کیو آر کوڈ موجود ہے، لیکن ادائیگی کیسے ہو؟
ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے گذشتہ چند سالوں میں کئی اقدامات کیے۔ ان میں سے ایک بازاروں کو کیش لیس بنانا تھا۔
اسلام آباد کے ایچ نائن سیکٹر میں واقع ایک مارکیٹ کو بھی ایک سال قبل کیش لیس بازار میں تبدیل کیا گیا۔ یہاں تقریباً ہر دکان پر مجھے کیو آر کوڈ لگا نظر آیا، جسے سکین کرکے گاہک ادائیگی کر سکتے ہیں۔ لیکن جب میں نے خود کوڈ سکین کرنا چاہا تو نہ وائی فائی چلا، نہ فور جی۔
محمد رمضان اسی بازار میں روزانہ اجرت پر سبزیاں فروخت کرتے ہیں۔ موبائل فون کے ذریعے ادائیگی کے ایک ناخوشگوار تجربے کے بعد وہ اس نظام پر بھروسہ نہیں کر پاتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’کیو آر کوڈ کے ذریعے گاہک نے دو ہزار روپے کا سودا لیا۔ اس نے بولا پیسہ تمہارے اکاؤنٹ میں آ گیا ہے۔ سودا لے کے چلے گئے۔ بعد میں دیکھا تو پیسے نہیں آئے۔ فراڈ کرکے چلا گیا گاہک۔‘
ہاتھوں میں سبزی کے تھیلے تھامے ایک بزرگ خریدار صالح محمد نے کہا کہ ’ایزی پیسہ ہے یا جاز کیش ہے، ہمیں سمجھ نہیں آتی ہے ان چیزوں کی۔ کیش ہی دیتے ہیں اور کیش لیتے ہیں لوگوں سے۔‘
میں نے پوچھا کہ وہ اپنے موبائل فون پر ایپس ڈاؤن لوڈ کیوں نہیں کرتے تو انھوں نے اپنا فون دکھاتے ہوئے کہا کہ ’سادہ بٹنوں والا موبائل ہے، وہ ٹچ موبائل جو ہے ہمیں سمجھ نہیں آتی۔‘
اسی بازار میں کئی دکاندار انٹرنیٹ کی سست رفتار کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے نظر آئے۔ عتیق الرحمان بھی انہی میں سے ایک ہیں۔
’خریداری کرنے آتے ہیں، ان کو بولو نا کیو آر کوڈ پہ کرو، اگر 100 بندہ آ رہا ہے نا، اس میں سے 10 بندے کر دیں گے، باقی بولتے ہیں یار ہمیں سمجھ نہیں آتی اس کیو آر کوڈ کی۔ انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہ ہے کہ اگر کسی کو کیو آر کوڈ دیتے بھی ہیں نا، وہ پانچ منٹ دیکھتا ہے اس کے بعد کہتا ہے یہ لو جی پیسے لے لو آپ۔ ہو ہی نہیں رہا ہے میرے سے۔‘
ریٹیلرز کے لیے ڈیجیٹل آپشن رکھنا لازمی
کہیں انٹرنیٹ سست ہے، کہیں گاہک کو کیو آر کوڈ استعمال کرنا نہیں آتا اور کہیں دکانداروں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں میں فراڈ کا خدشہ ہے۔ البتہ اب کروڑوں پاکستانی نقد رقم کے بجائے آن لائن ادائیگیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ حکومت نے بھی ریٹیلرز کو پابند کیا ہے کہ وہ گاہکوں کو ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل آپشن لازمی فراہم کریں۔
ایک طالبہ ہانیہ کہتی ہیں کہ ’میں کارڈ کے ذریعے بل ادا کر سکتی ہوں کیونکہ اس پر ٹیکس کم لگتا ہے۔ ایزی پیسہ کے ذریعے ادائیگی کر سکتی ہوں، حتیٰ کہ اگر اِن ڈرائیو بک کرنی ہو تو اس کی ادائیگی بھی اسی کے ذریعے کر سکتی ہوں۔‘
کاروباری شخصیت عاطف کے مطابق ’بڑی سہولت ہے کہ اگر باہر بارش ہو رہی ہو تو آپ گھر بیٹھے کھانا منگوا سکتے ہیں۔ رقم آپ کے کارڈ کے ذریعے آن لائن کٹ جاتی ہے یا ٹرانزیکشن ہو جاتی ہے۔ اب بہت زیادہ ترقی ہو چکی ہے۔ ایپل پے بھی آ جانا چاہیے۔‘
ڈیجیٹل ادائیگیاں کاروباری افراد کے لیے بھی سہولت پیدا کر رہی ہیں۔ اسلام آباد میں ایک مارٹ کے کیشیئر امیر حمزہ کے مطابق، اب ان کے لیے حساب کتاب کرنا آسان ہو گیا ہے۔
’کیو آر کوڈ اسکین کرنے سے رقم براہِ راست اکاؤنٹ میں آ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ رقم کے بل کارڈ کے ذریعے ادا کیے جاتے ہیں۔ اس سے رات کو حساب کتاب مکمل کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے کیونکہ نقد رقم کم ہوتی ہے۔‘
فوڈ ڈیلیوری ورکر اسامہ خان بتاتے ہیں کہ ’مجھے کارڈ بہتر لگتا ہے، رقم براہِ راست مالک کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔‘
کیا پاکستانی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام پر مکمل اعتماد کرتے ہیں؟
ڈیجیٹل مالیاتی نظام (فن ٹیک) کی ماہر فرزین زہرہ کا کہنا ہے کہ ’ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا رجحان ایک حقیقت ہے، تاہم انھیں اپنانے کی راہ میں اب بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہماری معیشت کا ایک بڑا حصہ غیر رسمی طور پر کام کرتا ہے، اس لیے دکاندار اس طریقے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ اسے زیادہ محفوظ سمجھتے ہوں، لیکن وہ پھر بھی اسے ترجیح دیتے ہیں۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’لوگوں کو خدشہ ہے کہ اکاؤنٹ کھولنے میں مسائل ہوں گے، فراڈ ہو سکتا ہے، پن کوڈز کے حوالے سے مسائل پیش آ سکتے ہیں یا جعلی کالز کے ذریعے انھیں دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر لوگ اب تک ڈیجیٹل ادائیگیوں پر مکمل اعتماد نہیں کر پائے ہیں۔‘
ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تعداد بڑھنے میں ان چھوٹے کاروباروں کا بھی اہم کردار ہے جنھیں لاکھوں خواتین گھر بیٹھے چلا رہی ہیں۔ تاہم، ڈیجیٹل ذرائع سے رقم کی منتقلی نے جہاں ان کے لیے نئے راستے کھولے ہیں، وہیں انھیں کئی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
فرزین زہرہ بتاتی ہیں کہ ’خواتین اس معاملے میں کچھ زیادہ حساس ہوتی ہیں۔ اگر وہ کوئی ادائیگی کر رہی ہیں تو انھیں خدشہ ہوتا ہے کہ کیا یہاں میرے ڈیٹا کی رازداری برقرار رہے گی؟ اگر کوئی فراڈ ہو گیا تو میں اپنی رقم واپس لینے کے لیے کہاں رجوع کروں گی؟ میں کس نمبر پر رابطہ کروں گی؟ پھر ہراسانی، سائبر سکیورٹی، او ٹی پیز اور اکاؤنٹس ہیک ہونے جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ خود کو اس پورے نظام میں غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔‘
انھوں نے انڈیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’صارف کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کا تجربہ بہت آسان اور سہل ہونا چاہیے۔ انڈیا سے سب سے بڑا سبق یہ لیا جا سکتا ہے کہ وہاں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو محض بینکنگ کی سہولت کے طور پر نہیں دیکھا گیا، بلکہ انھیں مالیاتی بنیادی ڈھانچے اور ایک مکمل مالیاتی نظام کے طور پر فروغ دیا گیا ہے۔ وہاں لوگوں کو نقد رقم اور ڈیجیٹل ادائیگی کے درمیان کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا۔ پاکستان میں بھی صارفین کے لیے یہی آسانی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔‘
فرزین زہرہ کے مطابق پاکستان میں نقد رقم سے لین دین کا مضبوط رجحان، ڈیجیٹل مالیاتی خواندگی کی کمی، تاجروں کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مکمل طور پر نہ اپنانا اور انٹرنیٹ کے ناکافی بنیادی ڈھانچے سمیت کئی عوامل اس تبدیلی کی رفتار کو متاثر کر رہے ہیں۔
’پاکستان میں فائیو جی سروسز کے آغاز کی تیاری‘
وزیراعظم شہباز شریف نے جولائی میں ایک اجلاس کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور پاکستان کو کیش لیس معیشت کی جانب لے جانے کی کوششوں میں نمایاں پیش رفت پر اپنی معاشی ٹیم کی تعریف کی تھی۔
لیکن بازاروں میں موجود دکانداروں اور گاہکوں کے تجربات بتاتے ہیں کہ پالیسی اور عملی زندگی کے درمیان اب بھی ایک فاصلہ موجود ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اس نظام کو زیادہ مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت کا کام بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا، سازگار ماحول بنانا اور لوگوں اور کاروباروں کو نئی سہولتیں اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔ ان شعبوں میں پیش رفت کی وجہ سے ہی آپ کو یہ تبدیلی نظر آ رہی ہے۔‘
’ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں فائیو جی سروسز کے آغاز کی تیاری ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل بینکنگ اور حکومت کی کیش لیس معیشت کی پالیسی بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ریٹیل شعبے میں بھی اس کی رسائی بڑھ رہی ہے۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’حکومت نے سوشل پروٹیکشن والٹ متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت مستحق افراد، خصوصاً خواتین، کو مالی امداد براہِ راست ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ادائیگیوں میں شفافیت بڑھانا، غیر قانونی کٹوتیوں کو روکنا اور خواتین کو اپنی رقم پر زیادہ اختیار دینا ہے۔‘
خرم شہزاد نے امید ظاہر کی کہ پاکستان ابھی اپنی منزل تک نہیں پہنچا، لیکن اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جہاں ادائیگیاں بتدریج ڈیجیٹل ہوتی جائیں گی اور نقد رقم پر انحصار کم ہوتا چلا جائے گا۔