آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کی دور افتادہ وادی جہاں لوگ آج بھی پریوں سے مشورہ کرتے ہیں
- مصنف, جینا ٹرومین
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
میں موٹرسائیکل پر 650 کلومیٹر طویل سفر کر کے مسافروں کے اُس ہاسٹل تک پہنچی۔
یہاں میں نے پاکستانی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونا ہے، بھیڑوں کے ساتھ بے فکری سے وقت بِتانا ہے اور ایسے عاملوں سے ملنا ہے جو آپ کی قسمت کے بارے میں جان سکتے ہیں۔
پتھریلی ڈھلوان پر چڑھتے ہوئے میں سفید بھیڑوں کے ایک ریوڑ کے ساتھ قدم ملانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میرا ہر لڑکھڑاتا قدم نیچے ایک چھوٹے سے تودے کو سرکا دیتا ہے۔ بے پروا بھیڑیں آگے بڑھتی رہتی ہیں، خطرناک پہاڑی کنارے پر اس طرح راستہ بناتی ہوئی جیسے انھیں سب کچھ یاد ہو، اور تجربہ کار گائیڈ کی طرح مجھے ایک نظارے والی جگہ تک لے جاتی ہیں۔
وہ اچانک رک جاتی ہیں اور چرنے لگتی ہیں۔ میں سانس بحال کرتی ہوں اور شمالی پاکستان کی وادی اشکومن پر نظر دوڑاتی ہوں، جو برف پوش چوٹیوں میں گھری ہوئی ہے اور جس کے درمیان سے ایک ہلکے رنگ کا برفانی نالہ گزرتا ہے۔
ہلکے گلابی رنگ کے چیری کے پھولوں والے درخت بل کھاتی تنگ سڑک کے کنارے قطار در قطار کھڑے ہیں، جو نیچے کویوٹ ڈین اشکومن ہاسٹل تک اترتی ہے، جو اس ہفتے کے لیے میرا پُر سکون پہاڑی مسکن ہے، جہاں میں بلند چوٹیوں پر ٹریکنگ کر رہی ہوں اور ایک خاتون عامل سے ملاقات کر رہی ہوں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پریوں سے گفتگو کرتی ہیں۔
طویل مگر دلکش راستہ
پاکستان کے گلگت بلتستان خطے میں واقع بلند و بالا وادی اشکومن تک پہنچنے کے لیے میں نے اسلام آباد سے 650 کلومیٹر (403 میل) کے سفر کا منصوبہ بنایا تھا، تاکہ دار الحکومت کی ٹریفک اور دھوئیں سے نکل کر کھلے آسمانوں کا رخ کروں۔
افغانستان کی واخان راہداری سے متصل اشکومن کا شمار پاکستان کے ایسے پہاڑی علاقوں میں ہوتا ہے جہاں بہت کم سیاح جاتے ہیں۔ فوری رسائی کے خواہش مند مسافر عموماً گلگت تک مختصر (اگرچہ بدنامِ زمانہ حد تک نا قابلِ اعتماد) پرواز لیتے ہیں، جس کے بعد چار سے پانچ گھنٹے کا سفر ٹیکسی میں طے کرتے ہیں۔ زمینی راستے سے بس کا سفر 20 گھنٹوں سے زیادہ بھی لے سکتا ہے۔ لیکن پاکستان کے انتہائی متنوع مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے کھلی سڑک کا سفر بے مثال ہے۔
پاکستان کے حیرت انگیز طور پر متنوع مناظر کا تجربہ کرنا ہو تو سڑک کے راستے سفر کرنا اس کا بہترین ذریعہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں نے تین روزہ پہاڑی سفر کے لیے ایک 150 سی سی موٹرسائیکل کرائے پر لی، جو رنگ برنگے ٹرک آرٹ ڈیزائنوں سے مزین تھی۔ اسلام آباد کی سڑکوں سے نکلنے کے بعد میں شمال کی جانب شاہراہ قراقرم پر روانہ ہوئی۔ قراقرم ہائی وے، جو دنیا کی بلند ترین پختہ بین الاقوامی شاہراہ ہے، قدیم شاہراہِ ریشم کے راستے پر قائم ہے اور اس کے بہت نیچے فیروزی رنگ کا دریائے سندھ بہتا ہے۔
بشام شہر سے چلاس اور پھر گلگت تک، جو شمالی علاقے کا دروازہ سمجھا جاتا ہے، پہاڑی راستے کے ہر موڑ پر برف سے ڈھکی نوکیلی چوٹیوں کے مناظر ملے، جن میں 8126 میٹر (26660 فٹ) بلند نانگا پربت بھی شامل تھا۔
گاہکوچ کے مصروف بازاروں کے بعد بل کھاتی سڑک کی چوڑائی کم ہو جاتی ہے اور وہ مسافر کو وادی اشکومن کے دور افتادہ علاقوں تک لے جاتی ہے۔
تین دن تک میں صرف تصاویر لینے، سڑک کنارے گیسٹ ہاؤسز میں سونے اور پولیس چوکیوں پر تعینات وردی پوش اہلکاروں کے ساتھ گرم چائے پینے کے لیے رکتی رہی۔
چٹورکھنڈ میں اپنی قیام گاہ (کویوٹ ڈین) کے لکڑی کے دروازوں سے اندر داخل ہونے تک میں تھک چکی تھی۔
ایک دل کش پناہ گاہ
یہاں پہنچنے کے بعد سے میں نے بے شمار گھنٹے ثنا مروت اور ایلیکس رینولڈز کے ساتھ پھل توڑتے ہوئے اور احاطے میں گھومتے ہوئے گزارے ہیں۔
ثنا اور ایلیکس دونوں اس وسیع جائیداد کے شریک مالکان ہیں، جو گھومنے پھرنے والوں اور بائیک سواروں کے لیے کم خرچ ’ٹریولرز ہاسٹل‘ ہے۔
ایلیکس کہتی ہیں: ’اشکومن اپنے پتھر کے کام کے لیے مشہور ہے۔ ہماری عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والی لکڑی مقامی درختوں سے حاصل کی گئی اور پتھر قریبی آبی گزر گاہوں سے لائے گئے تھے۔‘
اس کا نتیجہ پتھر کے کاٹیجز کی صورت میں نکلا ہے جو گلابوں سے بھرے باغ میں بکھرے ہوئے ہیں۔ رنگین شیشوں والی کھڑکیاں اور دیواروں پر سجے مقامی قالین اس جگہ کی پہچان ہیں۔ کھانا جس کمرے میں پیش کیا جاتا ہے، اس کی دیواریں مٹی کی ہیں۔
یہاں ’آرام‘ کرنے کے لیے آنے والے سیاح قریبی نلتر سے پیدل سفر کرتے ہوئے واپس وادی اشکومن بھی پہنچ سکتے ہیں۔
ایلیکس رینولڈز کہتی ہیں: ’یہ تین سے چار دن کا، 45 کلومیٹر (28 میل) طویل راستہ ہے، جس میں 4700 میٹر (15420 فٹ) بلند پکوڑا پاس اور ایک گلیشیئر عبور کرنا بھی شامل ہے۔‘
اپنے سفر کی منصوبہ بندی کریں
وہاں کیسے پہنچیں: تیز ترین راستہ گلگت تک اندرونِ ملک پرواز اور اس کے بعد ٹیکسی پر چٹورکھنڈ تک چار گھنٹے کا سفر ہے۔ بہترین نظارے لینے ہیں تو شاہراہ قراقرم کے ذریعے جائیں۔ یہ سفر تقریباً 20 گھنٹے لیتا ہے اور اسے کئی دنوں میں تقسیم کرنا چاہیے، جس میں بشام اور چلاس قیام کے لیے اچھے مقامات ہیں۔
کب جائیں: اپریل سے اکتوبر کے درمیان
کیا کریں: بروگل ویلی کے دی ماؤنٹین ریزورٹ میں ٹراؤٹ مچھلی کا شکار کریں، دیین آبشار تک پیدل سفر کریں، پکوڑا پاس عبور کریں یا جیپ یا موٹرسائیکل کے ذریعے حیول میڈوز جائیں۔
محفوظ رہیں: غیر ملکی سیاح سڑک کنارے چیک پوسٹوں پر رجسٹریشن کے لیے اپنا پاسپورٹ ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں۔
اشکومن کی یہی تنہائی اس کی بڑی کششوں میں سے ایک ہے۔
ایلیکس وضاحت کرتی ہیں: ’ہم نے کویوٹ ڈین اشکومن میں اس لیے تعمیر کیا کیونکہ یہ شمالی پہاڑوں کا ایسا علاقہ ہے جو انسانی مداخلت سے بڑی حد تک محفوظ ہے۔ یہاں کی برادری مجموعی طور پر کافی زیادہ تعلیم یافتہ ہے، اس لیے زیادہ کشادہ ذہن اور برداشت رکھنے والی ہے۔‘
پہاڑی زندگی زیادہ عملی بھی ہے، جہاں خواتین اور مرد کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ وادی کی اکثریتی آبادی اسماعیلی مسلمان ہے، جو شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے۔
گھر میں تیار شربت پیتے ہوئے، میں اپنے فرشی گدے پر آرام سے بیٹھ جاتی ہوں۔ یہ ایک روایتی پاکستانی بیٹھک ہے۔ کمرہ دادنگ ڈھول کی تھاپ اور رباب کے سُروں سے گونجنے لگتا ہے، جبکہ چند مقامی مرد دائرے میں گھومتے ہوئے اس خطے کا رقص پیش کرتے ہیں، جو میرے لیے نہیں بلکہ اپنی روایت کے لیے ہے۔
قابلِ اعتماد وائی فائی یا ٹیلی وژن کی عدم موجودگی میں، میں شام گزارنے کے مقامی انداز کو اپناتی ہوں، جو قہقہوں اور جوشیلے روایتی رقص سے بھرپور ہوتا ہے۔
اسی مذہبی اور ثقافتی ماحول میں رشیدہ نامی ایک خاتون، جو قسمت بتانے والی پہاڑی پریوں سے گفتگو کرتی ہیں، برادری کی مقبول ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔ کل میں کویوٹ ڈین کی ٹیم کی مدد سے ان سے ملاقات کروں گی۔
وہ خاتون جو پہاڑی پریوں سے بات کرتی ہیں
اگلی صبح میں ثنا مروت کے گرد آلود ٹرک کے پچھلے حصے میں سوار ہو کر دریا پار اور پہاڑ کی جانب رشیدہ کے گھر کے لیے 20 منٹ کے سفر پر نکلتی ہوں۔ مقامی لوگ نسلوں سے ان کے خاندان کے پاس آتے رہے ہیں، لیکن مروت کا کہنا ہے کہ ہاسٹل کے مہمان بھی یہاں آنا پسند کرتے ہیں۔
مقامی چترالی لوک داستانوں میں، جو اس خطے میں اسلام کے پھیلاؤ سے پہلے کی ہیں، پریاں روشنی بکھیرنے والی پروں والی مخلوقات ہیں جو انسانوں اور روحانی دنیا کے درمیان موجود ہوتی ہیں۔
روایتی طور پر عاملوں کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ ان سے رابطہ کرتے اور ان کی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اگرچہ گذشتہ ایک صدی کے دوران یہ روایت تیزی سے کم ہوئی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اب بہت کم عامل باقی رہ گئے ہیں۔
رشیدہ اپنے مٹی کی دیواروں والے گھر میں ایک چھوٹی میز کے پاس بیٹھی ہیں اور دیوار پر اونچی جگہ لٹکے آئینے پر نظریں جمائے پریوں کے جوابات سنانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق وہ انسانی اور ماورائی دنیا کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتی ہیں۔
ثنا مروت اور کویوٹ ڈین کے گائیڈ حکیم اللہ کی ترجمانی کے ذریعے میں رشیدہ سے اپنے اہم سوالات پوچھتی ہوں۔
جب میں مسلسل ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرنا چھوڑ دوں گی تو کہاں جا بسوں گی؟ (بظاہر نیوزی لینڈ۔)
کیا مجھے اپنا پیشہ تبدیل کر لینا چاہیے؟ (نہیں۔)
کیا میں ایک دن اپنے پیارے شوہر سے طلاق لے لوں گی؟ (خوش قسمتی سے، اس کا جواب بھی نہیں ہے۔)
پاکستانی خواتین کی مدد
جھولے میں آرام، بھیڑوں کے ساتھ دریا کنارے چہل قدمی اور شہتوت کے درخت کے نیچے دودھ والی پہاڑی چائے پیتے ہوئے چار سست رفتار دن گزارنے کے بعد، میں اور ایلیکس رینولڈز وادی کو پیدل دریافت کرنے نکلتے ہیں۔
جب ہم دیین آبشار کی طرف جانے والی ڈھیلی پتھریلی ڈھلوان پر چڑھ رہے ہوتے ہیں تو وہ پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ کس طرح انھوں نے روایت اور مذہب کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ایسا کاروبار قائم کیا جو خواتین کو بااختیار بناتا ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’کویوٹ ڈین کے عملے کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے، جو ایسے خطے میں خاصی غیر معمولی بات ہے جہاں خواتین کے پاس گھر سے باہر [اجرتی] ملازمتیں نہیں ہوتیں۔‘
’ہم انھیں کام کا لچکدار شیڈول دیتے ہیں تاکہ وہ دن کے درمیان میں گھر جا کر اپنے بچوں کے دوپہر کے کھانے کا خیال رکھ سکیں، اور ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ انھیں غروبِ آفتاب کے بعد بالکل کام نہ کرنا پڑے، سوائے اس کے کہ واقعی ضرورت ہو۔‘
میں برفانی پانی سے بھرے دریائے اشکومن کو ایک تنگ لکڑی کے تختے کے پل کے ذریعے عبور کرتی ہوں، جبکہ پوری وادی میرے سامنے پھیلی ہوتی ہے۔ میں پاکستان مہم جوئی کی تلاش میں آئی تھی، لیکن یہاں آ کر مجھے تنہائی کی خواہش محسوس ہونے لگی۔