کوہستان میں ’غیرت کے نام‘ پر خاتون اور پولیس کانسٹیبل کا قتل: ’ہمارا بھائی حکومت کا آدمی تھا، اب سرکار ہی اس معاملے کو دیکھے‘

نور زمان
،تصویر کا کیپشنپولیس کے مطابق مقتول کانسٹیبل نور زمان کو مبینہ طور قتل کرنے سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انتباہ: اس تحریر میں ایسی تفصیلات ہیں جو کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ثابت ہو سکتی ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان کی تحصیل داسو میں ’غیرت کے نام‘ پر ایک پولیس اہلکار اور 22 برس کی خاتون کو قتل کرنے کے الزام میں مقتولہ کے شوہر، والد اور بھائی سمیت سات ملزمان کے خلاف دوہرے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے تاہم پولیس اب تک ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی ہے۔

پولیس کے مطابق مقتول کانسٹیبل نور زمان کو مبینہ طور قتل کرنے سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور لاش کو ایک زیرِ تعمیر مکان میں چھپانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نور زمان کے جسم پر تشدد کے نشانات اور نیل پڑے ہوئے تھے جبکہ اس کا ایک بازو بھی ٹوٹا ہوا تھا۔

نور زمان کی چند ہفتے قبل شادی ہوئی تھی اور وہ نو بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔

تاہم مقتول کے اہلخانہ اس مقدمے کی پیروی نہیں کرنا چاہتے۔ پولیس کے مطابق نور زمان کے گھر والوں نے نہ تو مقدمہ درج کرانے کی درخواست دی ہے اور نہ ہی عدالت میں پیروی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نور زمان کے بھائی محمد زمان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا بھائی حکومت کا آدمی تھا، اب حکومت ہی اس معاملے کو دیکھے، ہم اس میں نہیں پڑیں گے۔‘

پولیس نے دونوں مقتولین کی لاشیں برآمد کرنے کے بعد اپنی مدعیت میں دوہرے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں قتل کے علاوہ غیرت کے نام پر قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج ہونے کے باعث اس میں اب باہمی رضامندی یا راضی نامے کی گنجائش نہیں۔

واضح رہے کہ کوہستان میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

سسٹینیبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) کے سید کوثر عباس کا کہنا ہے کہ کوہستان ایک دور دراز علاقہ ہے جہاں ’غیرت کے نام پر‘ قتل کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ تاہم ان کے مطابق کوہستان اور خیبر پختونخوا میں غیرت کے نام پر ہونے والے واقعات کے صحیح اعداد و شمار دستیاب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ڈیٹا موجود نہ ہو اور واقعات رپورٹ نہ ہوں تو ان پر بات بھی کم ہوتی ہے۔

کوثر عباس کا ماننا ہے کہ حالیہ واقعے میں پولیس کا خود مدعی بننا ایک احسن قدم ہے۔ ’تاہم دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے مقدمات میں انصاف کے تقاضے پورے ہونے اور ملزمان کو سزا ملنے کی شرح پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب یہ ضروری ہے کہ پولیس مؤثر انداز میں تفتیش کرے اور عدالت میں مضبوط اور قابل اعتماد ثبوت پیش کرے تاکہ ملزمان کو سزا دلوائی جا سکے۔

کوہستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

زیر تعمیر مکان سے لاش برآمد: ایف آئی آر میں کیا درج ہے؟

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

آٹھ جولائی کو تھانہ داسو میں درج مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق علاقے کی گشت پر مامور کانسٹیبل فرید خان نے محرر تھانہ داسو کو اطلاع دی کہ دورانِ گشت انھیں ’غیرت کے نام پر‘ قتل کی اطلاع ملی۔

تھانہ داسو کے سب انسپکٹر شہزاد میر کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق اس اطلاع پر جب کانسٹیبل فرید خان دیہہ شالہ میں ملزم کے مکان پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ ایک خاتون برکت جان کو ان کے خاوند اور دیوروں نے دیگر ملزمان کے ساتھ فائرنگ کرنے کے بعد قتل کر دیا ہے۔

برکت جان کی عمر تقریباً 22 سے 23 سال تھی اور وہ دو بچوں کی ماں تھی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس قتل کی سازش میں خاتون کے مقتولہ کے والد بھی شامل تھے اور ملزمان کو شک تھا کہ مقتولہ کے کانسٹیبل نور زمان کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات تھے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مقتولہ کے ورثا نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے حوالے کرنے پر تیار نہیں تھے۔ اسی دوران اطلاع ملی کہ سات ملزمان، جن میں مقتولہ کے والد اور بھائی بھی شامل تھے، نور زمان کو بھی دھوکے سے بلا کر قتل کر چکے ہیں اور اس کی لاش چھپا دی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق تلاش کرنے پر لاش قریب ہی ایک زیر تعمیر مکان سے برآمد ہوئی۔ لاش پر تشدد کے نشانات تھے جبکہ اس کا گلا بھی کٹا ہوا تھا۔

بعد ازاں دونوں لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دی گئیں۔

غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کے متعلق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کوہستان کے دینی مدرسے دارالعلوم القرآن کے مہتمم مولانا سخی داد کا کہنا تھا کہ کوہستان کے مقامی علما اس مسئلے پر بات کرتے رہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ایسا نہ کریں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل کی روایت اس دور سے چلی آ رہی ہے جب یہاں قبائلی نظام رائج تھا، جس کی وجہ سے آج بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آتے ہیں۔

مولانا سخی داد کا کہنا تھا کہ اگر ایک خاتون خریداری کے لیے بازار جاتی ہے تو اسے دکاندار سے بات کرنا پڑتی ہے۔ صرف کسی خاتون کو کسی مرد سے بات کرتے دیکھ کر اسے قتل کر دینا اور پھر اسے غیرت کا معاملہ قرار دینا درست نہیں۔

پولیس کانسٹیبل کو تشدد کے بعد گلا کاٹ کر قتل کیا گیا

تھانہ داسو کے ایس ایچ او خلیل الرحمان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لواحقین میں سے کوئی بھی مقدمہ درج کرانے کے لیے سامنے نہیں آیا، جس کے بعد قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے پولیس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملزمان دونوں کو قتل کرنے کے بعد اس واقعے کو پوشیدہ رکھنا چاہتے تھے۔

خلیل الرحمان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد قانونی تقاضے خصوصاً پوسٹ مارٹم کروانا ایک چیلنج تھا، تاہم پولیس نے تمام قانونی تقاضے پورے کر لیے ہیں۔

ان کے مطابق پولیس اس مقدمے کی تفتیش کر رہی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے متحرک ہے، جنھیں جلد گرفتار کیے جانے کی توقع ہے۔

تھانہ داسو کے تفتیشی افسر سیف الرحمن کے مطابق اب تک ملنے والی معلومات کے مطابق خاتون کو آبادی کے قریب ایک سنسان مقام پر ایک خشک نالے میں لے جا کر قتل کیا گیا۔ ان کے مطابق خاتون کو دو گولیاں ماری گئیں تاہم ان کے جسم پر تشدد کی کوئی علامت نہیں۔

تاہم پولیس کے مطابق نوز زمان کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں جبکہ اس کا ایک بازو بھی فریکچر تھا۔ سیف الرحمان کے مطابق مقتول پولیس اہلکار کا تیز دھار آلے سے گلا کاٹا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک دستیاب معلومات کے مطابق مقتول رات کے وقت اپنی ڈیوٹی پر تھا اور صبح کے وقت مقتولہ کے والد نے کسی بہانے سے اسے بلایا اور پھر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ زیر تعمیر مکان میں قتل کر دیا۔

ایک مقامی پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ قتل کرنے سے پہلے نور زمان پر تشدد کیا گیا اور بعد میں تیز دھار آلے سے اسے قتل کر دیا گیا۔

کوہستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’حکومت کا بندہ تھا، حکومت جانے‘

مقتول نور زمان کے بھائی محمد زمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ لوگ روزگار کے سلسلے میں مانسہرہ میں رہائش پذیر ہیں، جبکہ ان کے بھائی ملازمت کے سلسلے میں داسو میں تعینات تھے اور کبھی کبھار چھٹی پر گھر آتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ واقعے کے بارے میں داسو پولیس نے انھیں اطلاع دی اور شام کو پولیس بھائی کی لاش ان کے گھر لے کر آئی جس کے بعد انھوں نے اس کی تدفین کر دی۔

محمد زمان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں واقعے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور نہ ہی ہم جانتے ہیں کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا۔‘

’ہمارا بھائی حکومت کا بندہ تھا، حکومت ہی جانے کہ اس معاملے میں کیا ہوا۔ ہم عدالت میں بھی پیش نہیں ہوں گے اور نہ ہی پولیس کو کوئی درخواست دیں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ وہ نو بہن بھائی ہیں اور نور زمان سب سے بڑے تھے۔

ان کے مطابق نور زمان کی تین ماہ قبل شادی ہوئی تھی اور وہ سنہ 2022 میں پولیس میں بھرتی ہوئے تھے۔

’اس نے پولیس میں بھرتی ہونے کے لیے بہت محنت کی تھی۔ جب بھرتیاں ہو رہی تھیں تو وہ دن رات تیاری کرتا، امتحان کی تیاری کے ساتھ ساتھ جسمانی طور پر بھی خود کو فٹ رکھتا تھا۔‘

محمد زمان کا کہنا تھا کہ ’جب وہ پولیس میں بھرتی ہوا تو بہت خوش تھا اور کہتا تھا کہ اب کافی حد تک ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے۔‘