لائیو, امریکہ کے ایران پر نئے حملے، تہران کا جوابی کارروائیوں کا اعلان: ’فوجی جارحیت میں مدد کرنے والے ممالک جائز اہداف ہوں گے‘

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں جن میں اس کے بقول آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ادھر ایران نے اپنی سرزمین پر امریکی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے گذشتہ مہینوں کی تمام سفارتی کوششوں کو ’ناکام بنا دیا ہے۔‘

خلاصہ

  • سینٹکام کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا
  • ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور ایرانی پارلیمان کے فیصلوں کے مطابق ان حملوں کا جواب دینے کی پابند ہیں
  • اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے امریکہ اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ بند کریں اور ان کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں
  • ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب میں سیریک کے قریب اور قشم و جاسک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں

لائیو کوریج

  1. ایران کے خلاف امریکی کارروائیاں مکمل، پہلی بار سمندری ڈرونز استعمال کیے گئے: سینٹکام

    بحری ڈرونز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ 12 اور 13 جولائی کی درمیانی شب ایران کے خلاف نئی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں جن میں اس کے بقول آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنے کے لیے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں، فضائی ڈرونز اور پہلی مرتبہ بار ’سمندری ڈرونز‘ کا استعمال کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ فضائی اور سمندری ڈرونز یکطرفہ حملوں کے لیے استعمال کیے گئے۔ اس کے مطابق ان حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں اور چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ ایران اس پر کنٹرول نہیں رکھتا۔‘

    ’امریکی افواج اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تعینات اور تیار ہیں تاکہ تجارتی جہاز آزادانہ طور پر آمد و رفت کر سکیں، باوجود اس کے کہ ایران اپنی بلاجواز جارحیت، ہراسانی، دھمکیوں اور یک طرفہ اعلانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

  2. جنوبی ایران میں دھماکوں کی اطلاعات

    ایران میں فوجی قیادت کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسیوں نے سرک، بندر عباس اور جاسک کے قریب واقع دیہات کے اطراف میں دھماکوں کی آوازوں کی اطلاعات دی ہیں۔ خیال رہے کہ سینٹکام نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے اتوار کو ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر شروع کی ہے۔

    خوزستان میں مقامی حکام نے پیر کی صبح جنوبی ایران کے اس صوبے کے کئی شہروں پر امریکی فضائی حملوں کی اطلاع دی۔

    سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق خوزستان گورنریٹ کے حکام نے ان حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’آج رات 1:35 بجے اہواز کے اطراف میں دو مقامات کو امریکی دشمن کے میزائلوں نے نشانہ بنایا۔ اسی طرح 1:40 بجے بہبہان اور دزفول شہروں میں مقامات پر حملے کیے گئے، اور 1:45 بجے امیدیہ اور ماہشہر میں چار مقامات دشمن کے حملوں کا نشانہ بنے۔‘

    دریں اثنا نیوز ایجنسی فارس نے خوزستان گورنریٹ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پیر کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات 2 بجے آبادان اور شادگان شہروں کے بعض حصے بھی فضائی حملوں کا نشانہ بنے۔

    تاہم خوزستان کے نائب گورنر نے بندر خمیر پر حملے اور دھماکے کی آواز سنے جانے کی تردید کی ہے۔

  3. اقوام متحدہ کے بیان پر ایران کا ردعمل: ’ایران کو اپنے دفاع کے لیے موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ ہے‘

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے اتوار کو ایران اور امریکہ سے ایک دوسرے پر فوجی حملے بند کرنے کی اپیل کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’ایران نے کہیں بھی حملہ نہیں کیا۔ خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں کے خلاف ایران کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے حقِ دفاع کا استعمال ہیں۔‘

    بقائی نے کہا کہ ’آپ کو ان ممالک سے پوچھنا چاہیے جو اپنی سرزمین اور اڈے امریکہ کو فراہم کرتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرانے کے بجائے ایران کو اپنے دفاع کے لیے موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمہ دارانہ ہے۔‘

    ان بیانات کے اختتام پر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان کو طنزیہ انداز میں خلیج فارس کے نام سے متعلق سرکاری دستاویزات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’درست نام ’خلیج فارس‘ ہے۔ براہِ کرم اقوام متحدہ کی متعلقہ ہدایات پر عمل کریں۔۔۔ جن کے مطابق مکمل نام ’خلیج فارس‘ کا استعمال لازمی ہے۔‘

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے اپنے بیان میں ’خلیجی خطے‘ کہا تھا۔

    خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اتوار کو امریکہ اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ جھڑپوں کا سلسلہ بند کریں اور ان کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔

    گوتریس نے خاص طور پر ایران کے خلاف امریکہ کے حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر ایران کے حملوں اور خلیج فارس کے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا ذکر کیا۔

  4. امریکہ کے ایران پر نئے حملے، تہران کا انتقامی کارروائیوں کا اعلان: ’فوجی جارحیت میں مدد کرنے والے ممالک جائز اہداف ہوں گے‘

    امریکہ کے ایران پر نئے حملے، تہران کا انتقامی کارروائیوں کا اعلان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اتوار کی شام ایران کے خلاف حملوں کا اعلان کیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز پر جہاز رانی کی بحالی اور تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کمزور کرنا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس کی افواج یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کی جا رہی ہیں جو کہ مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق جنوب میں سیریک کے قریب اور قشم و جاسک کے علاقوں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ جبکہ ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق ملک کے جنوب میں واقع صوبہ بوشہر کے بعض حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ایران نے اپنی سرزمین پر امریکی حملوں کی تازہ لہر کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے گذشتہ مہینوں کی تمام سفارتی کوششوں کو ’ناکام بنا دیا‘ ہے۔

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور ایرانی پارلیمان کے فیصلوں کے مطابق ان حملوں کا جواب دینے کی پابند ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کو جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔‘

    سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق وزارت خارجہ کے پیر کی صبح جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ یہ ’وحشیانہ حملے نہ صرف اقوام متحدہ کے اصولوں، خصوصاً آرٹیکل 2 کی شق 4، کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ نے بعض خلیجی ممالک کی سرزمین اور تنصیبات کو ’ایران کے خلاف فوجی جارحیت‘ کے لیے استعمال کیا ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ نے ان ملکوں کو امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی معاونت کے خلاف خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کریں، ورنہ وہ ’ایرانی فوج کی دفاعی کارروائیوں کے لیے جائز اہداف ہوں گے۔‘

    پیر کے روز نئے تجارتی ہفتے کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کی وجہ ہفتے کے اختتام پر ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان تھا۔

  5. بی بی سی کی نئی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید

    مشرق وسطی، پاکستان اور دنیا بھر سے اہم خبروں، تبصروں اور تجزیوں کے لیے بی بی سی کی نئی کوریج شروع کی گئی ہے۔

    اس سے قبل رپورٹ ہونے والی خبروں کے لیے آپ 10 سے 12 جولائی تک چلنے والی لائیو کوریج کا رُخ کر سکتے ہیں۔