راولاکوٹ میں فائرنگ کے دو واقعات میں رینجرز اور پولیس کے ایک، ایک اہلکار ہلاک: کشمیر پولیس

کشمیر، پولیس

،تصویر کا ذریعہReuters

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ کے دو الگ واقعات میں رینجرز اور پولیس کے ایک، ایک اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت رینجرز کے نائک امتیاز علی اور پولیس کانسٹیبل عاقب کے ناموں سے ہوئی ہے۔

منگل کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’راولاکوٹ کے نیو بس ٹرمینل کے علاقے میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اور مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔‘

پولیس نے مزید دعوی کیا ہے کہ ’گذشتہ ہفتے عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد کالعدم تنظیم نے پیر کی صبح نیو بس ٹرمینل کے قریب اندھا دھند فائرنگ کی تاکہ اس کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا جا سکے۔‘

جبکہ کشمیر پولیس کی ایک دوسری پریس ریلیز کے مطابق بیٹھک بلوچ کے مقام پر ’مسلح جتھوں کی بلا اشتعال فائرنگ‘ سے ایک پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ آٹھ پولیس اہلکار، ایف سی کا ایک اہلکار اور محکمۂ پی ڈبلیو ڈی کے دو ملازمین بھی زخمی ہوئے ہیں۔

بی بی سی اردو ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ اگرچہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر اس تنظیم سے منسلک ایک اکاؤنٹ نے رینجرز اہلکار کی ہلاکت کے الزام کی تردید کی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موجود ایک پوسٹ میں کمیٹی کا کہنا تھا کہ ’ایک ویڈیو سوشل میڈیا اور پاکستانی میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد کے ہاتھوں میں گنیں ہیں۔ ہم سب اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں یہ لوگ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

’اگر ہم نے گن اٹھانی ہوتی تو آج تک اپنے نہتے بھائیوں کی اتنی لاشیں نہ اٹھانی پڑتیں۔‘

حکام کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری مظاہروں اور حکومتی کریک ڈاؤن میں اب تک پانچ پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 22 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

راولاکوٹ میں کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں 15 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

تنظیم نے اس سے قبل 9 جون کو بھمبر سے لانگ مارچ شروع کیا تھا، تاہم راولاکوٹ پہنچنے پر انتظامیہ نے شرکا کو آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔ اس کے بعد سے لانگ مارچ کے شرکا راولاکوٹ کے نواحی علاقے دریک عیدگاہ میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

مظفر آباد، کشمیر، پولیس

،تصویر کا ذریعہReuters

راولاکوٹ بس ٹرمینل اور بیٹھک بلوچ کے واقعات پر پولیس نے کیا کہا؟

بس ٹرمینل واقعے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے۔ ویڈیو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اسے کسی ڈرون کے ذریعے بنایا گیا ہے۔

اس ویڈیو میں سات افراد کو دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اسی ویڈیو میں سڑک پر ایک بکتربند گاڑی بھی دیکھی جا سکتی ہے، جس کے پاس سے دھواں اٹھتا ہوا بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ دھواں کسی دھماکے کے نتیجے میں پھیلا یا یہ کوئی گیس کا شیل تھا۔

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

دوسری جانب پولیس کا اس ویڈیو کے حوالے سے کہنا ہے کہ ’اس کارروائی کی فضائی نگرانی کے دوران نشاندہی کی گئی اور اس کی ویڈیو بھی موجود ہے، جس میں فائرنگ کے بعد جب پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار صورتحال پر قابو پانے کے لیے آگے بڑھے تو ان پر فائرنگ کی گئی۔‘

’کالعدم جے اے اے سی کے مسلح افراد اور مشتعل مظاہرین نے سکیورٹی فورسز کو براہِ راست نشانہ بنایا۔‘

بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’کالعدم جے اے اے سی کی جانب سے دھماکہ خیز مواد استعمال کیے جانے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔‘

پولیس کے بیان کے مطابق کے ’علاقے کو فوری طور پر مسلح مظاہرین سے خالی کرانا ضروری ہے کیونکہ مقامی آبادی کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔‘

دوسرے واقعے، جس میں پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت ہوئی، کے بارے میں جاری کردہ پریس ریلیز میں پولیس نے کہا ہے کہ ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے ٹولی/تتہ پانی شاہراہ کے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر کے آمدورفت معطل کر رکھی تھی جس کے باعث آمد و رفت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ شہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ روزمرہ استعمال کی اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی تھی۔‘

پولیس نے مزید بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منگل کو کلیئرنس آپریشن کا آغاز کیا جس دوران ’بیٹھک بلوچ مقام پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر بلا اشتعال اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ اس فائرنگ کے نتیجے میں کشمیر پولیس کے کانسٹیبل عاقب ہلاک جبکہ آٹھ پولیس اہلکار، ایف سی کا ایک اہلکار اور محکمۂ پی ڈبلیو ڈی کے دو ملازمین زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس نے کہا ہے کہ ’کسی بھی اشتہاری یا مسلح گروہ کو شاہراہیں بند کر کے عوام کی زندگی مفلوج بنانے اور ریاستی رٹ کو چیلنج بنانے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

بعد ازاں آئی جی کشمیر پولیس لیاقت علی ملک نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ منگل کے روز ایک پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ ایک اہلکار کی حالت تشویش ناک ہے۔ ’ہمارے دیگر 10 اہلکار گولیاں لگنے سے معمولی زخمی ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مختلف مقدمات میں دو اشتہاری‘ فائرنگ کے واقعے میں ملوث تھے جن کی ہلاکت ہوئی ہے۔

آئی جی کشمیر پولیس کا کہنا تھا کہ ’ابھی بھی لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ پُرامن ہیں اور ان کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہییں۔۔۔ یہ پُرامن نہیں ہیں، یہ جتھہ ہے۔‘