ریئلٹی شو کے ’فرضی شوہر‘ پر ریپ کا الزام لگانے والی خاتون: ’وہ کہتا تم انکار نہیں کر سکتی، تم میری بیوی ہو‘

    • مصنف, نور نانجی
    • عہدہ, بی بی سی پینوراما
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 15 منٹ

انتباہ: اس تحریر میں مبینہ جنسی جرائم کی تفصیلات موجود ہیں

دو خواتین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ چینل فور کے مشہور شو ’میریڈ ایٹ فرسٹ سائٹ یو کے‘ کی فلم بندی کے دوران ان کا ریپ کیا گیا۔ ایک تیسری خاتون نے ان کی مرضی کے خلاف جنسی عمل کا الزام عائد کیا ہے۔

ان تمام خواتین کا کہنا ہے کہ چینل نے ان کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے۔ چینل فور براڈکاسٹ سے پہلے ہی چند الزامات سے باخبر تھا۔ اس شو کی وہ تمام اقساط جن میں یہ خواتین موجود ہیں سٹریمنگ سروس پر دستیاب تھیں۔

تاہم سوموار کو چینل فور نے کہا کہ تمام اقساط کو سٹریمنگ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس سے قبل چینل فور نے پینوراما کو بتایا تھا کہ تمام الزامات بے بنیاد اور متنازع تھے۔

یہ معاملہ کیا ہے اور اس شو میں ان خواتین کے ساتھ کیا ہوا؟ اس سے پہلے جانتے ہیں کہ اب تک اس تنازع پر خود چینل فور نے کیا کہا ہے اور حکام کا کیا کہنا ہے؟

’یہ سنجیدہ الزامات ہیں‘

سوموار کے دن ہی چینل فور کے چیف کنٹینٹ افسر این کاٹز، جو یہ عہدہ چھوڑ رہے ہیں، نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے پینوراما کی ڈاکومنٹری نہیں دیکھی اور کہا کہ ’یہ سنجیدہ الزامات ہیں اور ہم شو دیکھ کر جواب دیں گے۔‘

بی بی سی نیوز نے جب یہ خبر شائع کی تو اس کے فوری بعد چینل فور نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ سنجیدہ قسم کے الزامات سامنے آنے کے بعد گزشتہ ماہ اس شو کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک تیسرے فریق کو کام سونپا جا چکا ہے۔

لائرز فور سی پی ایل نامی پروڈکشن کمپنی برطانیہ میں اس شو کو تیار کرتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا نظام انٹرٹینمنٹ کے شعبے میں کافی اچھا ہے اور تمام کیسوں میں اس نے مناسب طریقے سے کام کیا۔

ڈیجیٹل، کلچر، میڈیا اور کھیلوں کے محکمے کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ الزامات سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور ٹی وی میں کام کرنے والے تمام لوگوں کو ہر وقت عزت اور احترام ملنا چاہیے۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ ’تمام الزامات حکام تک پہنچانے چاہییں اور اس کی تفتیش میں سب کو تعاون کرنا چاہیے تاکہ کارروائی ہو اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جرم کے نتائج ہوتے ہیں اور کام کرنے کے اعلی معیار کو یقینی بنایا جائے۔‘

آف کام کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ہمارے قوانین کے تحت براڈکاسٹرز کو ان لوگوں کا خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جنھیں کسی پروگرام میں حصہ لینے سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ چینل فور نے اس معاملے پر تحقیقات شروع کروائی ہیں اور ہم نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔

’میریڈ ایٹ فرسٹ سائٹ‘ شو کیا ہے؟

یہ شو ایک دلیرانہ معاشرتی تجربے کے طور پر پیش کیا گیا جس میں غیر شادہ شدہ افراد بلکل اجنبی لوگوں سے پہلی ملاقات میں ہی شادی کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور پھر ان کی فرضی شادی دکھائی جاتی ہے۔

اگرچہ یہ شادیاں کوئی قانونی درجہ نہیں رکھتیں لیکن شو دیکھنے والے جوڑے کو ہنی مون پر جاتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں اور اپنے تعلق کی اونچ نیچ سے گزرتے ہوئے بھی انھیں تقریبا روزانہ کی بنیاد پر فلمایا جاتا ہے۔

جن تین خواتین نے بی بی سی سے بات کی انھوں نے ان مردوں پر الزامات لگائے جن کے ساتھ ان کو پارٹنر بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بی بی سی سے اس لیے بات کر رہی ہیں کیوں کہ ان کے خیال میں انھیں زیادہ حفاظت کی ضرورت تھی۔

ایک خاتون نے الزام لگایا کہ ان کے فرضی شوہر نے ان کا ریپ کیا اور تیزاب سے حملہ کرنے کی دھمکی دی۔ اب وہ سی پی ایل نامی کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ایک دوسری خاتون نے براڈ کاسٹ ہونے سے پہلے ہی چینل فور اور سی پی ایل کو اپنے فرضی شوہر کی جانب سے مبینہ ریپ کے بارے میں بتایا تھا تاہم ان اقساط کو آن ایئر کر دیا گیا۔

اسی شو میں شریک ایک تیسری خاتون نے بھی اپنے فرضی شوپر پر جنسی نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ شو ایک کامیاب عالمی فرنچائز ہے اور بہت سے جوڑوں کا کہنا ہے کہ وہ محبت کی تلاش میں اس میں شرکت کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو شہرت پانے کے لیے اس شو میں حصہ لیتے ہیں۔

برطانیہ میں یہ شو دس سیزن سے جاری ہے جو چینل فور سے وابستہ چینل ای فور پر دکھایا جا رہا ہے۔ اب تک اسے دیکھنے والوں کی تعداد تقریبا 30 لاکھ کے قریب ہے۔

ان تین خواتین میں سے ایک، شونا مینڈرسن نے کہا کہ ’اگر آپ ریئلٹی ٹی وی میں شرکت کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے ساتھ ایسا ہونا چاہیے۔‘

اس شو کے دوران جوڑے ماہرین سے اس بارے میں بھی بات چیت کرتے ہیں کہ شادی کا تعلق کیسے نبھانا چاہیے۔ سی پی ایل کا کہنا ہے کہ شو میں شرکت کرنے والوں کی مکمل جانچ کی جاتی ہے اور ماہر نفسیات ان کا چیک اپ کرتے ہیں جبکہ ایک ویلفیئر ٹیم شرکا کو مکمل مدد فراہم کرتی ہے۔

’میں خوف سے جم کر رہ گئی‘

ایک خاتون، جنھیں ہم لزی کا فرضی نام دے رہے ہیں، نے کہا کہ ان کو بہت جلد ہی اپنے فرضی پارٹنر کے بارے میں خدشات ہونے لگے تھے۔ لزی نے بتایا کہ فرضی ہنی مون کے دوران ان کے فرضی شوہر اکثر اکیلے میں ان پر شدید غصہ کرتے تھے۔

لزی کے مطابق کیمرہ کی نظر سے دور ان کے فرضی شوہر نے انھیں بتایا کہ وہ اپنے سابق ساتھی کے ساتھ کافی پرتشدد تھے اور پریشان ہو کر انھوں نے ویلفیئر ٹیم کو مطلع کرنے کا ارادہ کیا۔

سی پی ایل کمپنی کے وکلا نے بی بی سی کو بتایا کہ ویلفیئر ٹیم نے جب اس فرضی شوہر سے اس معاملے پر بات کی تو انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے پرانے تعلق میں تشدد سے متاثر ہوئے تھے جس کے بعد جب دوبارہ لزی سے بات کی گئی تو انھوں نے کہا کہ وہ اب خود کو خطرے میں محسوس نہیں کر رہی ہیں۔

اس وقت تک لزی اور ان کے فرضی شوہر کے درمیان جسمانی تعلقات قائم ہو چکے تھے لیکن ان کے مطابق جلد ہی یہ تعلق پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ سیکس کے دوران ان کے فرضِ شوہر انھیں تکلیف پہنچاتے تھے جبکہ وہ رکنے کا کہتی رہتی تھیں۔

لزی کا کہنا ہے کہ پہلے وہ کسی کو یہ بات بتانے سے خوف محسوس کرتی تھیں کیوں کہ ’وہ کہتا تھا کہ اگر میں نے کسی کو بتایا تو وہ کسی کے ذریعے مجھ پر تیزاب پھنکوا دے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایک بار انھوں نے فرضی شوہر سے بات کرنے کی کوشش کی کہ یہ سب ماہرین کے سامنے رکھا جائے لیکن اس نے غصہ کیا اور شو چھوڑنے کی دھمکی دی۔

اسی رات کو لزی کا الزام ہے کہ ان کے فرضی شوہر نے ان پر حملہ کر دیا۔

’ہم اپنے اپارٹمنٹ میں صوفے پر بیٹھے تھے جب اس نے سیکس کرنے کی کوشش کی تو میں نے کہا میں نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن وہ کہتا رہا کہ تم انکار نہیں کر سکتی، تم میری بیوی ہو اور اس نے کر لیا۔‘

لزی نے کہا کہ ان کے جسم پر انگلیوں کے نشان تک پڑ گئے تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں خوف سے جم کر رہ گئی اور مجھے آج تک کسی چیز سے اس طرح خوف محسوس نہیں ہوا۔‘ ان کے مطابق اگلی صبح جیسے ہی ان کے فرضی شوہر باہر نکلے انھوں نے ویلفیئر ٹیم کو پیغام بھیجا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ٹیم کو اپنے جسم پر پڑنے والے نشانات دکھائے اور سب کچھ بتایا۔ ٹیم کے ایک رکن نے نشانات کی تصاویر بھی لیں جو پینوراما دیکھ چکا ہے۔

سی پی ایل کے وکلا کے مطابق لزی نے ویلفیئر ٹیم کو بتایا تھا کہ یہ نشانات ان کی رضامندی سے ہونے والے سیکس کے دوران زبردستی کرنے سے لگے۔

ان کا کہنا ہے کہ لزی نے وکلا کو یہ نہیں بتایا کہ ان کے فرضی شوہر نے ان سے یہ کہا تھا کہ وہ انکار نہیں کر سکتی ہیں اور تیزاب کے حملے کی بات کو انھوں نے ایک عمومی بات کے طور پر پیش کیا، نہ کہ دھمکی کے انداز میں۔

وکلا کا کہنا ہے کہ جب لزی نے بتایا کہ وہ غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں تو انھوں نے فوری کارروائی کی۔

لزی کا کہنا ہے کہ وہ فلم بندی میں اس لیے شریک رہیں کیوں کہ ’میں شو میں اتنی گم ہو چکی تھی کہ حقیقت کیا ہے یہ بھلا بیٹھی تھی۔‘ چند ماہ جب شو آن ایئر ہوا تو ان کا کہنا ہے کہ ان کو احساس ہوا کہ کیا ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ویلفیئر پروڈیوسر کو پیغام بھیجا کہ ان کو جنسی ہراسانی کا شکار بنایا گیا۔

سی پی ایل کے وکلا کا کہنا ہے کہ انھوں نے لزی سے رابطہ کیا اور ان کے مطابق یہ وہی قصہ تھا جس کے بارے میں لزی نے خود یہ بتایا تھا کہ یہ رضامندی سے ہونے والے سیکس کے دوران ہوا تھا۔

شو آن ایئر ہونے کے بعد لزی نے ایک ماہر نفسیات سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ان کا ریپ ہوا تھا۔

لزی کے فرضی شوہر کے وکلا کے مطابق ان کے موکل ریپ کے الزام کی تردید کرتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ جنسی تعلق رضامندی پر مبنی تھا۔ انھوں نے پرتشدد رویے یا دھمکیاں دینے کے الزامات کی بھی تردید کی۔

لیکن لزی اب سی پی ایل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا چاہتی ہیں۔

پینوراما سے بات کرتے ہوئے لزی کی وکیل بیرسٹر شارلٹ پراوڈمین نے پینوراما سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شو نے بنیادی حفاظتی اقدمات نہیں اٹھائے۔

چینل فور کا کہنا ہے کہ انھیں ریپ کے الزام کے بارے میں اس وقت آگاہ کیا گیا جب سیریز براڈکاسٹ ہو چکی تھی اور اسی لیے ویلفیئر سے متعلق فیصلوں کا تجزیہ کرنا درست نہیں ہو گا کیوں کہ اس وقت درکار معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

لزی جن اقساط میں شریک تھیں وہ سٹریمنگ پر دستیاب تھیں۔ ان کے علاوہ ایک اور خاتون، جن کی شناخت کے تحفظ کے لیے ہم انھیں کلوئی کا نام دے رہے ہیں، نے چینل فور اور سی پی ایل کو فلم بندی کے بعد لیکن سیریز آن ایئر ہونے سے قبل بتایا تھا کہ ان کا ریپ کیا گیا ہے۔

’میں نے کہا نہیں، ایسا نہ کرو‘

کلوئی کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے فرضی شوہر کے ساتھ رہنے لگیں تو ایک بار جب وہ سو رہی تھیں ان کا کمبل کھینچ کر ان کے فرضی شوہر نے ’میری چھاتیوں کو پکڑ لیا۔‘

’میں کہہ رہی تھی کہ نہیں، رک جاؤ، کیوں کہ میں سو رہی تھی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے فوری طور پر ویلفیئر ٹیم کو آگاہ کر دیا تھا۔

سی پی ایل کے وکلا کا کہنا ہے کہ کلوئی نے انھیں بتایا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ یہ معاملہ ان کے فرضی شوہر کے سامنے اٹھایا جائے۔

کلوئی اور ان کے فرضی شوہر کے درمیان جسمانی تعلق قائم ہو چکا تھا لیکن کلوئی کا کہنا ہے کہ ایک بار انھوں نے انکار کیا لیکن اس کے باوجود ان سے سیکس کیا گیا۔

’وہ ہنس کر میرے اوپر چڑھ گیا اور اس وقت تک میں ہمت کھو چکی تھی اور میں یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ جب کیمرے آئیں تو وہ مجھ پر غصہ نہ کر رہا ہو۔ میں بس لیٹی رہی اور کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جب ان کے فرضی شوہر کو احساس ہوا تو اس نے سوال کیا کہ ’کیا تم یہ نہیں چاہتی؟‘

’میں نے کہا میں نے کہا تھا کہ میں یہ نہیں چاہتی۔ وہ غصے میں آ گیا اور کہنے لگا کہ تمھیں چیخنا چاہیے تھا، مجھے دھکیل دینا چاہیے تھا۔‘

کلوئی کہتی ہیں کہ اس نے کہا ’تم مجھے ریپ کرنے والا محسوس کروا رہی ہو۔‘

کلوئی کے فرضی شوہر کے وکلا نے کہا ہے کہ یہ واقعہ باہمی رضامندی سے شروع ہوا تھا لیکن جب کلوئی نے یہ ظاہر کیا کہ وہ اس میں دلچسپی نہیں رکھتی ہیں تو ان کے موکل رک گئے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے موکل نے اس الزام کو بھی رد کیا ہے کہ کلوئی کے سوتے ہوئے انھوں نے چھاتیاں پکڑ لی تھیں۔

سیریز کی فلمبندی مکمل ہونے ہر کلوئی کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک ماہر نفسیات سے بات کی اور اس وقت انھیں محفوظ محسوس ہوا تو انھوں نے کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق ماہر نفسیات نے انھیں بتایا کہ ان کے ساتھ جو ہوا وہ ریپ تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جب لوگ ریپ کا سوچتے ہیں تو اس طرح کے تعلق کو ریپ نہیں سمجھتے لیکن یہ ایسا ہی تھا۔‘

سی پی ایل کے وکلا نے کہا کہ ماہر نفسیات کو کلوئی کے الزامات سنجیدہ لگے جس کے بعد سی پی ایل نے چینل فور کو آگاہ کر دیا۔ کلوئی نے بعد میں چینل فور سے براہ راست بھی شکایت کی۔

براڈکاسٹر نے انھیں بتایا کہ جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا ہے سی پی ایل نے فلاح کے لیے مروجہ طریقۂ کار پر عمل کیا تھا۔

جب تک انھیں یہ جواب ملا، اس وقت تک سیریز نشر ہو چکی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ شو دیکھنے سے ان پر بہت برا اثر پڑا، اور وہ خودکشی کے بارے میں بھی سوچنے لگیں۔

سی پی ایل کے وکلا نے کہا کہ انھوں نے فلاح کے لیے مروجہ طریقۂ کار پر عمل کیا تھا، فلم بندی کے دوران انھوں نے کلوئی کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا اور یہ کہ ریپ کے الزام لگانے سے پہلے انھوں نے سی پی ایل کو بتایا تھا کہ تمام جنسی سرگرمی مکمل رضامندی سے ہوئی تھی۔

وکلا نے یہ بھی کہا کہ کلوئی کو پورے عمل کے دوران اور اس کے بعد بھی تعاون فراہم کیا گیا اور یہ کہ انھوں نے شو سے خود کو نکالنے کی درخواست نہیں کی تھی۔

جن خواتین سے ہم نے بات کی، ان میں سے کسی نے بھی اپنے الزامات پولیس کو رپورٹ نہیں کیے۔

کلوئی نے کہا: ’اس بات کا امکان نہیں کہ کچھ بھی ہو گا۔ مجھے اس صورتحال میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

'مجھے اس صورتحال میں نہیں ہونا چاہیے تھا'

ایک تیسری خاتون، شونا مینڈرسن، ایم اے ایف ایس یو کے سنہ 2023 کے سیزن میں نظر آئیں۔ پینوراما سے کیمرے کے سامنے بات کرتے ہوئے شونا نے کہا کہ جب انھوں نے بتا دیا تھا کہ ساتھی سیکس کے دوران حد سے تجاوز کرتے ہیں تو اس کے بعد وہ سی پی ایل سے بہتر فلاح کی حق دار تھیں۔

ان کی جوڑی بریڈلی سکیلی کے ساتھ بنائی گئی، جو اُس وقت برطانوی شہر گریمسبی میں مراقبہ سکھاتے تھے۔ شونا جب اس شو میں شامل ہوئیں تو وہ پرمارمنگ آرٹس کی استاد تھیں۔ وہ کہتی ہیں ’ہمارا پہلا بوسہ جادوئی تھا۔‘

جوڑے نے جنسی تعلق کا آغاز کر دیا۔ شو کے ماہرین سے ان کی جو گفتگو فلم بند کی گئی، اس میں بریڈلی نے کھلے انداز میں کہا کہ وہ ایسے کام کرنا چاہتے ہیں جو شونا کی نافذ کردہ حدود سے تجاوز کریں، تاہم انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو شونا نہیں کریں گی اور وہ یہ بات سمجھتے ہیں۔

شونا نے کہا کہ ان دونوں نے اس مانع حمل طریقے پر اتفاق کیا تھا کہ انزال سے پہلے ہی بریڈلی جنسی تعلق ختم کر دیا کریں گے۔ لیکن انھوں نے ہمیں بتایا کہ ایک موقع پر ان کے آن سکرین شوہر نے ان کی اجازت کے بغیر ان کے اندر انزال کر دیا۔

شونا کہتی ہیں: ’میں حیران رہ گئی، میں الجھن میں تھی، ہم نے طے کیا تھا کہ ہم یہ نہیں کریں گے۔‘

شونا نے فوری طور پر کسی کو نہیں بتایا کہ کیا ہوا تھا۔ تقریباً اُسی وقت شو کے ماہرین نے نوٹ کرنا شروع کیا کہ بریڈلی کس طرح ان سے ایک قابو پانے والے انداز میں بات کر رہے تھے، اور انھیں شو کے دیگر جوڑوں کے سامنے آن سکرین متوجہ بھی کیا گیا۔

شونا نے کہا کہ بعد میں انھوں نے مارننگ آفٹر گولی لینے کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کیا اور ان کے ساتھ ایک ویلفیئر پروڈیوسر بھی تھے۔

سی پی ایل کے وکلا نے کہا کہ پروڈکشن کمپنی نے چند دن بعد اس جوڑے سے بات کی۔

وکلا کے مطابق شونا نے انھیں بتایا کہ کیا ہوا تھا اور یہ کہ بریڈلی نے ان سے اندر انزال کرنے کی اجازت نہیں لی تھی۔ وکلا کے کہنا ہے کہ شونا نے بعد میں سی پی ایل کو بتایا کہ انھیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔

وکلا نے یہ بھی کہا کہ بریڈلی نے سی پی ایل کو بتایا کہ انھوں نے کنڈوم استعمال کیا تھا۔

بعد ازاں بریڈلی سکیلی کی نمائندگی کرنے والے وکلا نے پینوراما کو بتایا کہ انھوں نے ایسا نہیں کیا تھا۔

سی پی ایل اور چینل فور نے اس واقعے کے فوراً بعد اس جوڑے کو شو سے ہٹا دیا۔ یہ خدشات تھے کہ یہ تعلق ممکنہ طور پر غیر صحت مند ہے۔

بریڈلی سکیلی نے کہا کہ ان کے خیال میں اُس رات شونا نے ان کے اندر انزال کرنے کی رضا مندی دی تھی۔

اپنے بیان میں انھوں نے سختی سے ان الزامات کی تردید کی کہ وہ ’جنسی بد سلوکی‘ میں ملوث تھے یا ان کا رویہ ’مغلوب‘ کرنے والا تھا۔

بریڈلی نے کہا کہ ان کا تعلق ’باہمی رضا مندی اور محبت‘ پر مبنی تھا۔

ایم اے ایف ایس یو کے چھوڑنے کے تقریباً ایک ہفتے بعد شونا کو معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہیں۔ انھوں نے کہا: ’میں نے یہ حمل ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ بہت مشکل تھا۔‘

شونا نے کہا کہ انھیں یہ معلوم نہیں کہ آیا حمل مبینہ واقعے کا نتیجہ تھا اور انھوں نے یہ بھی کہا کہ پروڈکشن اور ویلفیئر کے شعبے میں کچھ لوگوں نے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔

شو چھوڑنے کے بعد بریڈلی اور شونا چھ ہفتوں تک ساتھ رہے، اور پھر الگ ہو گئے۔

سی پی ایل کے وکلا نے کہا کہ کمپنی نے شونا کی فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کیے تھے۔

چینل فور نے کہا کہ اُس وقت شونا نے واضح کیا تھا کہ تمام جنسی رابطہ باہمی رضامندی سے ہوا تھا۔

کریئیٹو انڈسٹریز انڈیپنڈنٹ سٹینڈرڈز اتھارٹی کی سربراہ اور تجربہ کار فوجداری وکیل، بیرونس ہیلینا کینیڈی کے سی کے مطابق اگر کوئی شخص واضح طور پر کہہ دے کہ وہ نہیں چاہتا اس کا ساتھی اس کے اندر انزال کرے، اور وہ پھر بھی ایسا کرے تو ’یہ ایک قسم کی جنسی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔‘

وہ چینل فور سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ شو کے فلاحی (ویلفیئر) نظام کا جائزہ لینے کے لیے بیرونی تفتیش کار مقرر کیے جائیں۔ وہ اس فارمیٹ پر تنقید کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کے ذاتی خیال میں ایم اے ایف ایس یو کے کو نشر ہی نہیں ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ خواتین اکثر ریپ اور جنسی حملے کے الزامات فوری طور پر رپورٹ نہیں کرتیں ’کیوں کہ شرمندگی کا احساس ہوتا ہے کہ شاید یہ آپ کی اپنی غلطی ہے۔‘

’یہ تسلیم کرنے میں وقت لگتا ہے کہ میرے ساتھ جو ہوا وہ درست نہیں تھا۔‘

ایسٹن یونیورسٹی میں میڈیا کی استاد پروفیسر ہیلن ووڈ نے ریئلٹی ٹی وی پر تین سالہ تحقیق کی ہے اور اس کے حصے کے طور پر ایم اے ایف ایس یو کے میں شرکت کرنے والے افراد سے بھی بات کی۔

انھوں نے کہا کہ سب سے زیادہ خطرہ ان شوز میں ہوتا ہے جہاں لوگوں کو ’غیر فطری‘ ماحول میں لے جایا جاتا ہے، جہاں ’انھیں بیرونی دنیا سے رابطے سے محروم کر دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’شو کا ماحول یہ فرض کرتا ہے کہ کسی حد تک قربت ہو گی، اور یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔‘

چینل فور نے کہا تھا کہ فیصلے ہر کیس میں دستیاب معلومات مد نظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔

چینل نے کہا کہ پینوراما سے بات کرنے والی تینوں خواتین نے بارہا یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ خود کو محفوظ، خوش اور اس عمل کو جاری رکھنے کی خواہش مند محسوس کرتی تھیں۔ چینل نے یہ بھی کہا کہ متعدد شرکا نے اس بات کی کھلے عام تعریف کی کہ شو کے دوران ان کی کس قدر دیکھ بھال کی گئی۔

پیر کی شام جاری بیان میں چینل کی چیف ایگزیکٹو پریا ڈوگرا نے کہا کہ وہ ان شرکا کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہیں ’جنھیں میریڈ ایٹ فرسٹ سائٹ میں حصہ لینے کے بعد واضح طور پر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔‘

انھوں نے کہا کہ جن پر الزامات لگے ہیں وہ ان کی تردید کرتے ہیں، اور ان کے خیال میں براڈکاسٹر نے خدشات سامنے آنے پر ’فوری، مناسب، حساس انداز میں اور فلاح پر مرکوز‘ اقدامات کیے۔