پاکستان میں ایک بار پھر ’سائفر‘ کی بازگشت: ملکی سیاست میں موضوع گفتگو بننے والے ’حساس سفارتی مراسلے‘ کی داستان

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 10 منٹ

لگ بھگ چار سال کے وقفے کے بعد پاکستان میں اُس مبینہ سائفر (حساس سفارتی دستاویز) کی بازگشت دوبارہ سُنائی دے رہی ہے جسے ’سیاسی فائدے کے لیے استعمال‘ کرنے کی پاداش میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دس، دس سال قید کی سزا سُنائی گئی تھی۔

پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اِس مبینہ سائفر پر بحث کا آغاز اُس وقت ہوا ہے جب ایک نیوز ویب سائٹ ’ڈراپ سائٹ‘ نے تین صفحات پر مشتمل ایک دستاویز شائع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ وہ ’اوریجنل سائفر‘ ہے جو ’سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی اقتدار سے برطرفی کی وجہ بنا۔‘

واضح رہے کہ بی بی سی اُردو ’ڈراپ سائٹ‘ پر شائع ہونے والی اِس دستاویز اور اِس کے متن کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور اس جماعت کے حامی اکاؤنٹس کی جانب سے ڈراپ سائٹ پر جاری ہونے والی اس مبینہ دستاویز کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 10 اپریل 2022 کو سابق وزیر اعظم عمران خان کو حزب اختلاف کی جانب سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اس برطرفی سے تقریباً دو ہفتے قبل (27 مارچ 2022) کو عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک جلسے کے دوران اپنے حامیوں کے سامنے ایک کاغذ لہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اُن کی حکومت کے خلاف بیرون ملک سے سازش ہو رہی ہے اور انھیں ’لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔‘

اس جلسے کے بعد عمران خان نے ایک اور تقریر میں دعویٰ کیا کہ اُس وقت کے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے کہا تھا کہ ’اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وہ پاکستان کو معاف کر دیں گے۔‘

عمران خان کا اصرار تھا کہ ڈونلڈ لُو اُن کی حکومت گرانے کی اُس ’سازش‘ کا حصہ ہیں جس کا مقصد اُن کی حکومت کو ہٹانا تھا تاہم امریکی دفتر خارجہ نے ان تمام الزامات کی تردید کی تھی۔

اگست 2023 میں اتحادی حکومت کے سربراہ شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’عمران خان اس معاملے (سائفر) پر اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے خود کہہ چکے ہیں کہ سازش امریکہ نے نہیں کی تھی بلکہ فلاں نے کی تھی۔۔۔ یہ سر سے پاؤں تک ایک جھوٹ کا پلندہ ہے، اور انھی معاملات کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بڑا بگاڑ آ چکا تھا جسے اعتماد کے لیول تک لانے میں اُن کی حکومت نے بڑی محنت کی۔‘

تاہم اب ’ڈراپ سائٹ' کی جانب سے شائع کردہ مبینہ دستاویز کے بعد ایک بار پھر صارفین پوچھ رہے ہیں کہ سائفر کیا ہوتا ہے اور چار برس قبل پیش آئے واقعات کا تناظر کیا تھا؟

سائفر کیا ہوتا ہے اور کیسے لکھا جاتا ہے؟

سائفر کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ سفارتی خفیہ طریقہ کار ہے، جس میں عام فہم زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہے۔

کسی عام سفارتی مراسلے یا خط کے برعکس سائفر کوڈڈ زبان میں لکھا جاتا ہے۔ سائفر کو کوڈ زبان میں لکھنا اور بعدازاں اِن کوڈز کو ڈی کوڈ کرنا کسی عام انسان نہیں بلکہ متعلقہ شعبے کے ماہرین کا کام ہوتا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے پاکستان کے دفترخارجہ میں گریڈ 16 کے 100 سے زائد اہلکار موجود ہیں، جنھیں ’سائفر اسسٹنٹ‘ کہا جاتا ہے۔

یہ سائفر اسسٹنٹ پاکستان کے بیرون ملک سفارتخانوں میں بھی تعینات ہوتے ہیں۔

اصل میں ہوتا یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں تعینات کسی دوسرے ملک کا سفیر یا دیگر سینیئر اہلکار اِس ملک میں رہتے ہوئے جو کچھ دیکھتے، سنتے اور جانتے ہیں، اس سے اپنے ملک کو آگاہ کرنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے اور انتہائی حساس معلومات اپنے ملک واپس بھیجنے کے لیے سائفر کا سہارا لیا جاتا ہے۔

سائفر کی زبان ہر ملک اپنے لیے خصوصی طور پر تیار کرتا ہے، بعض اوقات اس زبان کو ترتیب دینے کے لیے مشینیں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ یہ زبان سیکھنے کے لیے اعلیٰ سرکاری ملازمین کا نہایت احتیاط سے انتخاب کیا جاتا ہے اور اس زبان کے سمجھنے والوں کی تعداد عام طور پر زیادہ نہیں ہوتی۔

سفارتخانوں سے موصول ہونے والے پیغامات کو ڈیل کرنے کی ذمہ داری بھی کسی اہم اعلیٰ اہلکار پر ہوتی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ان پیغامات کو ڈی سائفر یعنی ڈی کوڈ کروا کے ریاست کے چوٹی کے تین، چار دفاتر کو منتقل کرتا ہے۔ اس منتقلی میں بھی رازداری کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے۔

اس مقصد کے لیے مواصلات کے معمول کے ذرائع استعمال نہیں کیے جاتے یعنی ڈاک یا ای میل وغیرہ۔ کسی بھی ملک کے سفارتخانے کے قریب سے گزرتے ہوئے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کی چھت پر مختلف قسم کے انٹینا نصب ہوتے ہیں۔

یہ انٹینا اس نظام سے تعلق رکھتے ہیں جن کے ذریعے اس دارالحکومت سے اس سفارتخانے کے دارالحکومت کے درمیان مواصلاتی رابطہ قائم ہوتا ہے۔ رابطے کے اس ذریعے کو کسی مداخلت اور جاسوسی سے محفوظ رکھنے کے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ بیرون ملک سفارتخانوں سے موصول ہونے والے سائفرز عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک غیر گردشی اور دوسرے عمومی طور پر وہ ہوتے ہیں جنھیں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

غیر گردشی سائفرز کو مخصوص ایڈریسز (مخصوص افراد) کے لیے نشان زد کیا جاتا ہے اور بھیجنے والا سفیر فیصلہ کرتا ہے کہ یہ کسے وصول ہونا چاہیے۔ البتہ سیکریٹری خارجہ، وزارت خارجہ کا سربراہ ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ ایسی ڈپلومیٹک کیبل یا سائفر کس کس کو بھیجا جا سکتا ہے۔

عمران خان والے کیس میں دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ سائفر اُس وقت کے وزیراعظم، صدر مملکت، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بھیجا گیا تھا۔

دفتر خارجہ کے حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ سائفر کی یہ تمام کاپیاں اصلی تصور کی جاتی ہیں اور ایک مہینے کے اندر سائفر کو واپس دفتر خارجہ بھیجنا ہوتا ہے۔ یہ کام اس وجہ سے بھی احسن انداز میں ہو جاتا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر میں بھی دفتر خارجہ کے اہم دو سے تین افسران تعینات ہوتے ہیں جو اس ’کمیونیکیشن‘ کو یقینی بناتے ہیں۔

بعدازاں دفتر خارجہ کو آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور صدر مملکت کو بھیجی گئی کاپیاں تو دفتر خارجہ کو موصول ہو گئیں مگر وزیراعظم کو بھیجا گیا سائفر دفترخارجہ کو موصول نہیں ہوا، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ کہیں اس کا کوڈ کمپرومائز تو نہیں ہو گیا ہے یا کہیں یہ سائفر کسی دوسرے ملک کے ہاتھ تو نہیں لگ جائے گا۔

ستمبر 2022 میں عمران خان نے نجی ٹی وی چینل ’اے آر وائی‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سائفر کے غائب ہونے سے متعلق سوال پر جواب دیا تھا کہ ’اگر تو وہ ڈی کلاسیفائی ہے، تو پھر اس کا چھاپہ مار کر کیا کرنا ہے۔ ایک میرے پاس تھا اور وہ غائب ہو گیا، کہیں ہو گیا، مجھے نہیں پتا۔‘

ماضی میں صدرِ پاکستان کے مشیر کے طور پر کام کرنے والے فاروق عادل نے یکم اپریل 2022 کو بی بی سی اُردو کے لیے لکھی گئی اپنی تحریر بعنوان ’ڈپلومیٹک کیبل: حساس سفارتی مراسلے کیسے لکھے اور بھیجے جاتے ہیں؟‘ میں بتایا تھا کہ کیسے جب وہ بیرون ملک ایک سفارتخانے میں موجود تھے تو انھیں اس سفارتخانے میں موجود انتہائی محفوظ مقام ’کیبل روم‘ کو دیکھنے کا موقع ملا تھا، جہاں اس نوعیت کی حساس سمجھی جانے والی تحریریں لکھی جاتی ہیں۔

اُن کے مطابق سفارتخانے کی سیر کے دوران انھیں وہاں ایک مقفل جگہ دکھائی دی۔ ’اِس مقام کو کتنی حفاظت سے رکھا جاتا ہے، اس کا تقابل کسی بینک کے سٹرانگ روم سے کیا جاسکتا ہے جس کی حفاظت جان سے بڑھ کر کی جاتی ہے۔ یہ 'سٹرانگ روم' دیکھ کر حیرت ہوئی۔ پھر ایک خوشگوار طریقے سے یہ راز کھل گیا۔‘

’سفارتخانوں میں یہ انتہائی محفوظ مقام کیبل روم کہلاتا ہے جس تک صرف دو افراد کو رسائی ہوتی ہے، ایک سفیر اور دوسرے اُن کے معاون۔ ایسا تو نہیں ہے کہ ایک دفتر میں کام کرنے والے چند یا بعض صورتوں میں درجنوں اہلکار کیبل روم کے آس پاس سے گزر بھی نہ سکتے ہوں لیکن یہ اس جگہ کی اہمیت، حرمت اور رازداری کی تربیت ہی کا خاصا ہے کہ سفارتخانے میں اس مقام کو کچھ اس طرح دیکھا اور سمجھا جاتا ہے جیسے یہ ہے ہی نہیں۔ لوگ اس سے لاتعلق رہتے ہیں۔‘

’کیبل روم کے مقفل دروازے اور اس کی اہمیت کو پہلی بار دیکھ کر حیرت ہوئی پھر رفتہ رفتہ اس کی اہمیت اور یہاں کام کرنے کے طریقہ کار کی سمجھ آتی چلی گئی۔‘

’اصل میں ہوتا یہ ہے کہ کسی ملک میں تعینات کسی دوسرے ملک کا سفیر یا دیگر سینیئر اہلکار اس ملک میں رہتے ہوئے جو کچھ دیکھتے، سنتے اور جانتے ہیں، اس سے اپنے ملک کو آگاہ کرنا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔۔۔ اس سلسلے میں جتنی معلومات معروف ذرائع یعنی ذرائع ابلاغ، مختلف شخصیات سے ملاقاتوں اور اعلیٰ حکام سے رابطوں کے ذریعے ان کے علم میں آئیں گی، وہ ان سب معلومات سے اپنے ملک کو ایک اضافے کے ساتھ اطلاع کر دیں گے۔‘

’ان معلومات میں یہ اضافہ سفیر کے تجزیے پر مشتمل ہوتا ہے جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی ملک میں کسی نوعیت کی آنے والی کوئی تبدیلی اس کے اپنے وطن کے لیے کیا معنی رکھتی ہے اور اس سلسلے میں اس ملک کا ردعمل کیا ہونا چاہیے۔۔۔‘

’ان کیبلز میں بہت سے حساس پیغامات بھی ہوتے ہیں جیسے کوئی ملک کسی دوسرے یا کسی خاص صورتحال کے بارے میں کیا جذبات رکھتا ہے اور کسی خاص صورتحال یا کسی خاص واقعے کے ردعمل میں وہ ملک کیا کر سکتا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔‘

سائفر کیس: عمران خان کو 10 سال قید اور بعدازاں سزا کی معطلی

عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے تحت ایک مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان افراد نے ’سیاسی فائدے کے لیے‘ حساس سفارتی دستاویز کا استعمال کیا۔

عائد کردہ الزامات میں کہا گیا تھا کہ ان افراد نے خفیہ سفارتی سائفر کا غلط استعمال کرتے ہوئے اور اسے غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھ کر ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچایا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے 19 جولائی 2023 کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اس مقدمے میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور بعدازاں 29 اگست 2023 کو سائفر کیس میں عمران خان کی گرفتاری ڈال دی گئی تھی۔

اُس وقت کی اتحادی حکومت کا کہنا تھا کہ سائفر کو سیکرٹ ایکٹ کے تحت پبلک نہیں کیا جا سکتا ہے مگر عمران خان نے اس سائفر کے منٹس کو تجزیے میں تبدیل کیا اور اس کے متن کے ساتھ ’کھلواڑ‘ کیا۔

یاد رہے کہ ایک انٹرویو کے دوران عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ اُن کو وزارت خارجہ کی جانب سے بھیجی گئی سائفر کی کاپی ’غائب‘ ہو گئی تھی اور اس حوالے سے اُن کا موقف ہے کہ سائفر کی حفاظت کی ذمہ داری اُن کے آفس (وزیر اعظم آفس) کے عملے کی تھی نہ کہ خود وزیر اعظم کی۔

خصوصی عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم 13 دسمبر 2023 کو عائد کی تھی جس کے بعد سے اس کیس پر سماعت لگ بھگ روزانہ کی بنیاد پر جاری رہی اور اس دوران استغاثہ کی جانب سے مجموعی طور پر 25 گواہان کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا جن میں عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید بھی شامل تھے۔

اسلام آباد میں خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے جنوری 2024 میں سائفر مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو مجرم قرار دیتے ہوئے دس، دس سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم اس فیصلے کو تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

تین جون 2024 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے (سابقہ) چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے اپیلیں منظور کرتے ہوئے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اس کیس میں سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے بی بی سی اُردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ وفاق کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی، جو کہ ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی ہے۔