ایبولا وائرس کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟
اب سے کُچھ دیر قبل ہم نے آپ کو یہ خبر دی تھی کہ عالمی ادارہ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی سطح پر صحت عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔ ایبولا کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے؟ آئیے اس بارے میں جانتے ہیں۔
ایبولا کیا ہے؟
ایبولا ایک خطرناک اور مہلک بیماری ہے جو ایک وائرس کے باعث ہوتی ہے۔ یہ بیماری نایاب ہے مگر شدید نوعیت کی ہوتی ہے اور اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ایبولا وائرس کی تین اقسام ایسی ہیں جو وباؤں کا سبب بنتی ہیں اور موجودہ وبا ’بنڈی بوجیو‘ وائرس سے پھیل رہی ہے۔
ایبولا کیسے منتقل ہوتا ہے؟یہ وائرس انسانوں کے درمیان متاثرہ جسمانی رطوبتوں، جیسے خون، قے اور دیگر رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔
یہ کتنا خطرناک ہے؟ماضی میں بنڈی بوجیو ایبولا وائرس سے ہونے والی وباؤں میں تقریباً 30 فیصد متاثرہ افراد ہلاک ہوئے۔
علامات ظاہر ہونے میں کتنا وست لگتا ہے؟وائرس سے متاثر ہونے کے بعد 2 سے 21 دن کے اندر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
اس کی علامات ہیں کیا؟ابتدائی علامات اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور فلو جیسی ہوتی ہیں، جن میں بخار، سر درد اور تھکن شامل ہیں۔ تاہم بیماری کے بڑھ جانے پر قے، اسہال شروع ہو جاتا ہے اور جسم کے اعضا متاثر ہونے لگتے ہیں۔ بعض مریضوں میں اندرونی اور بیرونی خون بہنے کی علامات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔
ایبولا کہاں سے شروع ہوتا ہے؟یہ بیماری عموماً متاثرہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، خاص طور پر پھل کھانے والی چمگادڑوں سے۔
کیا اس سے بچاؤ کی ویکسین موجود ہے؟ایبولا کی تین میں سے ایک قسم ’زئیر‘ کے لیے ویکسین دستیاب ہے، تاہم اس وائرس کی جو قسم اس وقت پھیل رہی ہے یعنی ’بنڈی بوجیو‘ اس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں ہے۔