آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کانز فلمی میلے میں صنم سعید کا ڈیبو اور شمیم آرا کی میراث
معروف پاکستانی اداکارہ صنم سعید فلمی دنیا کے سب سے منفرد میلے ’کانز فلم فیسٹیول‘ میں نظر آئیں۔
اداکارہ صنم سعید نے اپنے انسٹا گرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں نہ صرف انھوں نے ’کانز فلم فیسٹیول‘ میں شرکت کی خبر کی تصدیق کی بلکہ اسی میں انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ پاکستان کی ماضی کی مایہ ناز اداکارہ اور فلم ساز ’بیگم شمیم آرا‘ کی میراث کو اپنے ساتھ لے کر اس بڑے فیسٹیول میں شامل ہوں گی۔
اداکارہ صنم سعید کو ’ساؤتھ ایشین ویمن ایکسیلنس ان سنیما آرٹس‘ کے پہلے اعزازی گروپ میں شامل کیا گیا۔
صنم سعید نے کانز ڈیبیو کے موقع پر پاکستانی ڈیزائنر حسین ریہار کا تیار کردہ لباس پہن رکھا تھا، جو خود بھی اس سال اس بڑے فلمی میلے میں شریک تھے۔
ڈیزائنر حسین ریہار نے اپنے انسٹا گرام پر صنم سعید کی تصویر شئیر کی اورلکھا کہ ’کانز کے لیے خاص طور پر اس لباس کو سفید مور سے متاثر ہو کر ڈیزائن کیا گیا۔‘
حسین ریہار نے کہا کہ ’اس منفرد لباس کی تیاری میں 50 ہنرمند کاریگروں نے مجموعی طور پر 2354 گھنٹے صرف کیے جس سے اس شاندار تخلیق کو حتمی شکل دی گئی۔‘
صنم سعید نے انسٹا گرام پر اپنی پوسٹ میں بیگم شمیم آرا کے بارے میں کیا کہا؟
صنم سعید نے انسٹا گرام پر اپنی ایک پوسٹ کے کیپشن میں لکھا ’کانز کے اپنے سفر میں، میں ’بیگم شمیم آرا‘ کی میراث اور آپ کی دعاؤں کو اپنے ساتھ لیے جا رہی ہوں۔ میرے لیے دعا کیجیے۔‘
صنم سعید نے اسی پوسٹ میں مزید یہ بھی کہا کہ بیگم شمیم آرا ایک آئیکن تھیں اور پاکستانی فلم انڈسٹری کی ایک ایسی اداکارہ کہ جنھوں نے ہم میں سے بہت سوں کے لیے اس انڈسٹری میں راہ ہموار کی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صنم سعید نے اپنے انسٹا گرام پر شئیر کی جانے والی ویڈیو میں کہا کہ ’سنہ 1960 کی دہائی میں بیگم شمیم آرا نے ’سہیلی‘ اور ’نائلہ‘ جیسی کامیاب فلموں میں کام کیا۔ انھوں نے خاموشی سے بڑی رکاوٹوں کو عبور کیا اور کیمرے کے پیچھے خواتین کے لیے نئے راستے کھولے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس بار کانز میں، میں بیگم شمیم آرا کے بارے میں سوچتے ہوئے قدم رکھوں گی، اُن کی جرأت کے بارے میں۔‘
صنم سعید کی تصاویر پر ردِ عمل
عمومی طور پر تو پاکستانی اداکاروں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے صنم سعید کی کانز فلم فیسٹیول میں شمولیت کو سراہا مگر اسی کے ساتھ ساتھ کُچھ ایسے بھی ایکس صارف سامنے آئے کہ جنھیں بعض باتوں پر اعتراض تھا۔
لکی چارم گل کے نام سے ایک ایکس صارف نے صنم سعید کے کانز میں لباس کے حوالے سے لکھا کہ ’شاید یہ ایک غیر مقبول رائے ہو، لیکن میں توقع کر رہی تھی کہ صنم سعید ایسے خوبصورت اور دیدہ زیب پاکستانی لباس میں نظر آئیں گی جو ہماری ثقافت اور ورثے کی کاریگری کو نمایاں کرے، بالکل ویسے ہی جیسے عتیقہ اوڈھو نے ریڈ سی فلم فیسٹیول میں کیا تھا۔‘
مگر بہت سے صارفین ایسے بھی تھے کہ جنھوں نے صنم سعید کے لباس اور انداز کی تعریف کی ایک نے لکھا ’قد، جسامت، رعب دار شخصیت اور چہرے کی کشش۔ کمال انداز کی مالک خوبصورت اداکارہ صنم سعید، ایسی اداکارہ کہ اُن سے نظریں ہٹانا مشکل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بے حد شائستہ اور بہترین اندازِ گفتگو رکھتی ہیں۔‘
کانز کی انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے لکھا کہ ’صنم سعید دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔‘
ماہ نور شیخ نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ دور اور دُنیا صنم سعید کی دنیا ہے اور ہم سب خوش قسمت ہیں کہ اس میں رہ رہے ہیں۔‘
نور جہاں نامی ایک اور ایکس صارف نہ صنم سعید کہ لیے لکھا کہ ’میرے لیے تو وہ ہمیشہ سب سے پہلے ’کشف‘ ہی رہیں گی ایک ایسا کردار جو میری روح کے سب سے قریب ہے، اور خود صنم نے بھی ہمیشہ مجھے متاثر کیا ہے۔ کانز میں اُن کی شخصیت اور انداز مجھے بے حد پسند آ رہا ہے۔ میں اُن کے لیے بہت خوش ہوں۔‘
تاہم ایسے میں پاکستانی تجزیہ کار رضا احمد رومی صنم سعید کے لیے لباس ڈیزائن کرنے والے حسین ریہار کی تعریف کرتے نٌظر آئے۔
انھوں نے ایکس پر لکھا ’حسین ریہار کانز 2026 کے ریڈ کارپٹ پر جلوہ گر ہونے والے پہلے پاکستانی ڈیزائنر بن گئے۔ انھوں نے ہاتھ سے بنی ٹشو سلک سے تیار کردہ کلاسک شیروانی پہنی، زمردی سبز تعویذ نما جیولری بازو پر پہنی، جو ان کے انداز کو نہایت شاندار اور نفیس بنا رہی تھی۔‘
مہوش خان نامی ایک ایکس صارف نے اپنی پوسٹ میں صنم کے لباس کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے صنم کا یہ لباس پسند نہیں آیا، نیچے کی سائیڈ پر بہت زیادہ کام لگ رہا ہے۔‘
تاہم اس کے باوجود صنم سعید کی تعریف کرنے والوں کی تعداد اُن پر تنقید کرنے والوں سے کہیں زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ صنم سعید کانز کے ریڈ کارپٹ پر قدم رکھنے والی دوسری پاکستانی اداکارہ ہیں۔ اس سے قبل سنہ 2018 میں اداکارہ ماہرہ خان کو کانز فلم فیسٹیول کے ریڈ کارپٹ پر ڈیبو کرنے والی پہلی پاکستانی اداکارہ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔
بیگم شمیم آرا کون ہیں؟
سنہ 1938 میں علی گڑھ میں پیدا ہونے والی شمیم آرا کا اصل نام پتلی بائی تھا، جسے فلمی ضرورت کے تحت بدل کر اسے شمیم آرا کر دیا گیا تھا۔
تقسیمِ برصغیر کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہو گیا تھا۔
ان کی پہلی فلم کنواری بیوہ تھی جسے باکس آفس پر کچھ خاص کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، البتہ لوگوں کو ایک نئی اداکارہ کا انداز بھا گیا۔
اس کے بعد انھیں مختلف قسم کے کردار ملتے رہے۔ بالآخر 1960 میں شمیم آرا نے فلم 'سہیلی' میں نگار ایوارڈ حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔
یہاں اس بات کا بھی ذکر ضروری ہے کہ بیگم شمیم آرا وہ اداکارہ تھیں جنھیں یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ انھوں نے پاکستانی سینما کی پہلی رنگین فلم میں بھی اداکاری کے جوہر دیکھائے۔
اس کے بعد انھوں نے 80 سے زیادہ فلموں میں کام کیا جن میں پاکستان کی پہلی رنگین فلم نائلہ بھی شامل ہے۔
شمیم آرا کی چند مقبول فلموں میں ’دیوداس،‘ ’صائقہ،‘ ’لاکھوں میں ایک،‘ ’انارکلی،‘ ’چنگاری،‘ ’فرنگی،‘ ‘دوراہا،‘ ’منڈا بگڑا جائے،‘ وغیرہ شامل ہیں۔ وحید مراد کے ساتھ ان کی جوڑی کو شائقینِ فلم میں بےحد پذیرائی ملی۔
فلم ’قیدی‘ میں فیض احمد فیض کی مشہور نظم ’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘ انھی پر فلمائی گئی تھی جسے بےحد مقبولیت حاصل ہوئی۔
شمیم آرا کی پہلی شادی سردار رند سے ہوئی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد انھوں نے دو اور شادیاں کیں لیکن دونوں زیادہ دیر نہیں چل سکیں البتہ سکرپٹ رائٹر دبیر الحسن سے ان کی چوتھی شادی آخر تک چلی۔
سنہ 1989 میں آنے والی پنجابی فلم ’تیس مار خان‘ شمیم آرا کی بطورِ اداکارہ آخری فلم ثابت ہوئی، جس کے بعد انھوں نے ہدایت کاری کے میدان میں قسمت آزمائی کی اور ’جیو اور جینے دو،‘ ’پلے بوائے،‘ ’مس ہانگ کانگ،‘ اور ’مس کولمبو‘ جیسی فلمیں بنائیں۔
انھیں پاکستان کی پہلی کامیاب خاتون ہدایت کارہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے اداکاری میں چھ نگار ایوارڈ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہدایت کاری کے لیے بھی تین نگار ایوارڈ حاصل کیے۔
کچھ سال قبل بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں جب شمیم آرا سے پوچھا گیا تھا کہ کیا اداکاری میں ان کے تجربات ہدایت کاری میں کام آئے تھے تو انھوں نے کہا کہ ’بالکل آئے۔ ایک ہدایت کار کو اچھا اداکار ہونا چاہیے تاکہ وہ وہ کردار خود بھی ادا کر سکے جو اپنی فلموں کے اداکاروں سے کرواتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’اس زمانے میں ہیروئن کے ارد گرد کہانی بنتی تھی۔ وہ ایک سادہ سا دور تھا۔ ہم فلمیں دیکھتے تھے اور سینئر آرٹسٹس سے سیکھتے تھے۔‘