’لوگ مجھے باتیں سناتے ہیں تمھاری کزن بے پردہ ہے‘: میانوالی میں 13 سالہ لڑکی کو ’برقع نہ پہننے پر‘ چچازاد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا

    • مصنف, احتشام احمد شامی
    • عہدہ, صحافی، میانوالی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

انتباہ: اس تحریر میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر میانوالی میں پولیس نے 13 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر ’برقع نہ پہننے‘ پر بھرے بازار میں سات گولیاں مار کر قتل کرنے کے الزام میں اس کے 16 سالہ چچا زاد بھائی کو گرفتار کر لیا ہے۔

تھانہ صدر کے ایس ایچ او عمر فاروق شاہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملزم کے خلاف قتل کی دفعہ 302 اور غیرت کے نام پر قتل کی دفعہ 311 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ملزم کو آج سنیچر کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرکے تین دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے قبضے سے آلہ قتل تیس بور پستول برآمد کیا جانا ہے، اس کے علاوہ قتل سے متعلقہ تفتیش کرنی ہے اور اگر قتل کی منصوبہ بندی میں کوئی اور ملزم بھی شریک ہوا تو اس بارے میں بھی پوچھ گچھ کرنی ہے۔

’آج بغیر حجاب گھر سے باہر نکلنے کا مزہ چکھانے آگیا ہوں‘

تھانہ صدر میانوالی میں درج ہونے والے مقدمے کے مدعی مقتولہ کے والد ہیں، ایف آئی آر کے مطابق یہ وقوعہ 15 اکتوبر کی سہ پہر چار بجے پیش آیا۔

مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ وہ موضع بٹیاں کے رہائشی محنت کش ہیں، ان کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔

ایف آئی آر کے مطابق وقوعہ کے روز وہ اپنی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی کے ہمراہ سودا سلف خریدنے کے لیے کریانہ سٹور کی طرف پیدل جا رہے تھے، ان کی بیٹی ان سے چند قدم آگے تھی۔ مدعی کے مطابق جب وہ مدینہ چوک بٹیاں کے قریب پہنچے تو ملزم جو کہ ان کا بھتیجا ہے، اچانک سامنے آ گیا۔

’ملزم کے ہاتھ میں تیس بور پستول تھا، اس نے میری بیٹی کو للکارا کہ آج بغیر حجاب گھر سے باہر نکلنے کا مزہ چکھانے آ گیا ہوں، اور ساتھ ہی ملزم نے پستول سے یکے بعد دیگرے سات فائر کیے جس سے میری بیٹی کو جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں لگیں اور وہ زخمی ہو کر گر پڑی۔‘

ایف آئی آر کے متن کے مطابق اس دوران مقتولہ کے والد کا ایک دوست بھی وہاں آ گیا اور انھوں نے مل کر ملزم کو پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ بھاگ جانے میں کامیاب ہو گیا۔ ’ہم نے بیٹی کو سنبھالا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔‘

ایف آئی آر میں مدعی نے وجہ عناد یہ بتائی ہے کہ ’ملزم جو کہ میرا حقیقی بھتیجا ہے اور ہمارے گھر ایک دوسرے سے ملحقہ ہیں، وہ اکثر میری بیٹی کو بغیر حجاب کے گھر سے باہر نکلنے سے منع کرتا تھا، اور وہ اس کی بات نہیں مانتی تھی، اسی وجہ سے میری بیٹی کو بغیر حجاب کے گھر سے باہر نکلنے پر تیس بور پستول سے فائرنگ کرکے ناحق قتل کیا گیا ہے۔‘

ملزم کی عمر سولہ سال ہے اور وہ نویں جماعت کا طالبعلم ہے

میانوالی کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقار عظیم کھرل نے بی بی سی اردو بتایا کہ اس واقعہ کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کارروائیاں کیں اور ملزم کو 24 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم کو اپنی کزن کا بغیر برقع کے گھر سے باہر نکلنے پر اعتراض تھا، اور اس نے مبینہ طور پر مقتولہ کو گھر سے باہر پردے کے بغیر نکلنے پر فائرنگ کرکے قتل کیا ہے۔

ڈی پی او نے بتایا کہ ملزم کی عمر 16 سال ہے اور وہ نویں جماعت کا طالبعلم ہے، ملزم کا کوئی سابقہ ریکارڈ یافتہ نہیں تاہم اس سے پوچھ گچھ کی جائے گی کہ اس کے پاس پستول کہاں سے آیا۔

ان کے مطابق پولیس کی جانب سے ملزم کے خلاف حسبِ ضابطہ مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔

’لوگ مجھے باتیں سناتے ہیں کہ تمہاری کزن بے پردہ ہے‘

بچی کے والد کا بی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارے خاندان اور علاقے میں بچیوں کو زیادہ تعلیم دلوانے کا رجحان نہیں۔

’مجھے شوق تھا کہ میری بیٹی پڑھے، اسی لیے میں نے اسے سکول میں داخل کروایا لیکن جب وہ پانچویں کلاس میں تھی تو خاندان کے لوگوں کے دباؤ میں آ کر اسے سکول سے نکال لیا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ میرے اور میرے بھائی کے مکان ساتھ ساتھ ہی ہیں اور میرے بھتیجے کی چار بہنیں ہیں۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ ’ان کا بھتیجا اپنے گھر میں بھی پردے اور برقعے کے نام پر ہر وقت اودھم مچائے رکھتا ہے، جس وجہ سے اس کی اپنی بہنیں بھی سخت پریشان رہتی ہیں۔‘

انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’ہمیں شک ہے ملزم کا ایک قریبی دوست ہے جو اسے اکثر بڑھکاتا رہتا تھا اور اسے بتاتا ہے کہ فلاں نے پردہ کیا ہے اور فلاں نے نہیں۔‘

’وقوعہ کے روز ملزم نے ہمارا پیچھا کیا اور پلاننگ کرکے میری بیٹی کا قتل کیا۔‘

انھوں نے مزید دعوٰی کیا کہ ’ہمیں شک ہے کہ اس قتل میں کوئی دوسرا بھی ملوث ہے، پولیس کو چاہیے کہ مکمل تحقیقات کرے اور ہمیں انصاف دلوائے۔‘

مقتولہ کے والد نے دعویٰ کہ ’اس واقعہ سے پہلے بھی ملزم پردے اور برقعے کے نام پر تین دفعہ میری بیٹی پر حملہ کر چکا ہے جس پر میں نے اسے سختی سے سمجھایا کہ ایسا نہ کرو ورنہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے، لیکن وہ کہتا تھا کہ ’لوگ مجھے باتیں سناتے ہیں کہ تمہاری کزن بے پردہ ہے‘ حالانکہ میری بیٹی تو دوپٹہ اور چادر اوڑھتی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں باپ ہوں اور اپنے بچوں کے اچھے برے کے بارے میں بہتر سمجھتا ہوں، لیکن ہمارے علاقے میں جہالت کا دور دورہ ہے اور لوگ ہر چیز کو اپنے حساب سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں، میں پوچھتا ہوں کہ میری بیٹی نے کون سا گناہ کیا تھا، کسی کا کیا بگاڑا تھا جو اسے یوں بھرے بازار گولیاں مار کر مارا گیا۔‘

پاکستان میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات

حالیہ عرصے کے دوران پاکستان میں مبینہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔

رواں مہینے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مانسہرہ میں ایک نوجوان مرد اور خاتون کے الگ الگ قتل کے مقدمات کی تفتیش میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر ان کے اپنے بھائیوں نے قتل کیا اور لواحقین نے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

کچھ عرصہ قبل اگست 2026 میں راولپنڈی میں پولیس نے ٹک ٹاکر عائشہ گلمنہ کے قتل کے مقدمے میں اُن کے والد سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے اسے مبینہ غیرت کے نام پر قتل قرار دیا گیا تھا۔

اسی طرح رواں سال جولائی کے دوسرے ہفتے میں خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کوہستان کی تحصیل داسو میں 'غیرت کے نام' پر ایک پولیس اہلکار اور ایک 22 برس کی خاتون کو قتل کیا گیا تھا جس کے الزام میں خاتون کے شوہر، والد اور بھائی سمیت سات ملزمان کے خلاف دوہرے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

جولائی 2025 میں راولپنڈی کے علاقے فوجی کالونی میں جرگے کے حکم پر سدرہ نامی خاتون کو 'غیرت کے نام' پر اُن ہی کے اہلخانہ نے قتل کر دیا تھا۔ جبکہ اپریل 2025 میں ضلع مانسہرہ ہی میں 'غیرت کے نام پر' ایک خاتون اور اُن کی چند ماہ کی بچی کا قتل کیا گیا تھا۔

مئی 2025 میں سندھ کے ضلع جامشورہ کے علاقے 'خدا کی بستی' میں 'غیرت' کے نام پر میاں، بیوی اور اُن کے دو بچوں کا قتل کیا گیا تھا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2024 میں ملک بھر میں نام نہاد غیرت کے نام پر مجموعی طور پر 346 افراد قتل ہوئے تھے، جن میں سے بیشتر کا تعلق سندھ اور پنجاب سے تھا۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی رہنما ثریا منظور کہتی ہیں کہ حجاب نہ پہننے پر 13 سالہ بچی کا قتل پاکستان میں غیرت کے نام پر خون ریزی کے بڑھتے واقعات کی سنگین حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میانوالی واقعے سے اٹھنے والا سوال یہ ہے کہ کیا لباس کے تنازع پر کسی کی جان لینے کو غیرت کا نام دیا جا سکتا ہے، میانوالی میں 13 سالہ بچی کا مبینہ طور پر حجاب نہ پہننے کے تنازع پر قتل ایک ایسا واقعہ ہے جس نے خواتین اور کم عمر لڑکیوں کے تحفظ کے حوالے سے کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔‘

غیر سرکاری تنظیم ساحل کی رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ (جنوری تا جون) میں ملک بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 3172 واقعات سامنے آئے، جن میں 132 غیرت کے نام پر قتل کے واقعات شامل تھے۔

پنجاب کی صورتحال سب سے زیادہ خراب رہی جہاں سال 2026 کے دوران بھی پنجاب میں خواتین پر تشدد اور غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے تناسب میں بڑا حصہ دیکھا گیا، جہاں 74 فیصد کے قریب کیسز رپورٹ ہوئے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بلال شفیق جنجوعہ ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ میانوالی کا واقعہ صرف ایک قتل کے مقدمے کی تفتیش تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس کی مکمل تحقیقات میں یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا بچی کو پہلے بھی دھمکیاں دی گئی تھیں، کیا خاندان یا پولیس کو کسی ممکنہ خطرے کا علم تھا، اور کیا کسی نے بروقت مداخلت یا مزاحمت کی کوشش کی، اس واقعے کو پاکستان میں خواتین اور بچیوں کے تحفظ، خاندانی جبر، نام نہاد غیرت کے تصور اور قانون کے نفاذ کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

’حجاب ہو یا کوئی دوسرا ذاتی معاملہ، کسی اختلاف کو قتل کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کیس میں اصل امتحان یہ ہے کہ تفتیش شواہد کی بنیاد پر مکمل ہو، قانونی تقاضے پورے کیے جائیں اور متاثرہ بچی کے لیے انصاف کا عمل شفاف انداز میں آگے بڑھے۔‘