راکٹ تھرسٹر اور حیران کُن رفتار: ہوا میں قلابازی لگانے والی ٹیسلا کی ’فلائنگ کار‘ میں کیا خاص ہے؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

امریکی ریاست ٹیکساس میں ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس کے راکٹ ڈیولپمنٹ اینڈ ٹیسٹ فیسلٹی میں جمعرات کے روز ایک تقریب کے دوران ایک سفید رنگ کی دو سیٹوں والی کار نمودار ہوئی اور ایک ریمپ کی طرف چلنا شروع ہوئی۔

تقریب میں موجود حاضرین اور دنیا بھر میں اس تقریب کو آن لائن دیکھ رہے ناظرین کی حیرت کی اس وقت انتہا نہ رہی جب گاڑی ریمپ پر چڑھتے چڑھتے تقریباً الٹی ہو گئی۔ اور جیسے ہی ریمپ ختم ہوا، گاڑی نے جیسے ایک چھلانگ لگائی اور سیدھی نیچے زمین کی جانب آنے لگی۔

تاہم آدھے رستے میں پہلے گاڑی کی سائیڈ اور پھر نیچے لگے راکٹ تھرسٹرز سے ہوا نکلی اور گاڑی ہوا میں کچھ دیر کے لیے معلق ہو گئی اور پھر آہستہ آہستہ زمین پر لینڈ کر گئی۔

یہ سپیس ایکس کے تھرسٹرز سے لیس نئی ٹیسلا روڈسٹر ہے۔ تاہم ان سب صلاحیتوں کے باوجود بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی کوئی کمرشل اہمیت نہیں اور یہ روایتی گاڑی ساز کمپنیوں کو شرمندہ کرنے کے لیے کی جانے والی شعبدہ بازی سے زیادہ کچھ نہیں۔

راکٹ تھرسٹرز سے لیس ٹیسلا روڈسٹر

ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹیو ایلون مسک کی راکٹ کمپنی سپیس ایکس کے تعاون سے ڈیزائن کردہ روڈسٹر راکٹ طرز کے تھرسٹرز سے لیس ہے۔

کمپنی کے مطابق اس گاڑی کے نیچے سکشن سسٹم نصب ہے جس کی مدد سے نمائش کے دوران روڈسٹر ریمپ پر چڑھتے وقت الٹی ہونے کے باوجود نہیں گری اور ریمپ سے چپکی رہی۔

ٹیسلا کا کہنا ہے کہ اس میں کولڈ تھرسٹرز نصب ہیں جن کی مدد سے یہ گاڑی ریمپ سے نیچے اترتے وقت پہلے ہوا میں مڑی اور پھر نیچے اترنے میں کامیاب رہی۔

بعد ازاں کمپنی نے تقریب کے دوران ایک بار روڈسٹر کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ایک ٹرک اور دیگر گاڑیوں کے اوپر سے چھلانگ لگوائی اور فضا میں گھومتی ہوئی دکھائی دی۔

روڈسٹر کی قیمت اور دستیابی

ٹیسلا کا کہنا ہے کہ اس سپورٹس کار کی پروڈکشن 2028 میں شروع ہو گی۔

ایلون مسک اور دیگر حکام نے تقریب کے دوران گاڑی کی قیمت سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا، حالانکہ ٹیسلا تقریباً ایک دہائی قبل اس کی بنیادی قیمت دو لاکھ ڈالر بتا چکی تھی۔

تقریب کے بعد ٹیسلا کی ویب سائٹ پر روڈسٹر کی بکنگ کے لیے موجود صفحے کے مطابق ’پرفارمنس‘ ماڈل کے لیے 50 ہزار ڈالر جبکہ ’تھرسٹ‘ ماڈل کے ڈھائی لاکھ ڈالر جمع کروانا ہوں گے۔ ’تھرسٹ‘ ماڈل میں ’تیز رفتاری کے لیے تھرسٹرز‘ نصب ہیں۔

روڈسٹر کا تیسرا ماڈل جسے ’راکٹ‘ کا نام دیا گیا ہے کمپنی کے مطابق ’صرف دعوت پر دستیاب‘ ہوگا۔ ٹیسلا کے مطابق ایک نشست والے اس ماڈل میں ’پرواز کا مکمل نظام‘ موجود ہے۔

’ایسی گاڑی جو آپ نے فلم میں بھی نہیں دیکھی ہو گی‘

ٹیکساس کے شہر میک گریگر میں واقع سپیس ایکس کے ٹیسٹ مرکز پر منعقد ہونے والی اس تقریب میں ایلون مسک کی روایتی مصنوعات متعارف کرانے والی تقاریب کے تمام عناصر موجود تھے، جن میں ڈرامائی موسیقی، دھواں، مشینی آوازیں اور الٹی گنتی شامل تھیں۔

ٹیسلا کے لوگو والی چاندی کے رنگ کی بیلٹ بکل پہنے مسک نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’یہ ٹیسلا اور سپیس ایکس کے انجینیئروں کی غیر معمولی محنت کا نتیجہ ہے، جنھوں نے مل کر ایسی چیز بنائی ہے جو آپ نے کسی فلم میں بھی نہیں دیکھی ہو گی۔‘

ٹیسلا کے انجینیئرنگ سربراہ لارس موراوے کے مطابق روڈسٹر صفر سے 60 میل فی گھنٹہ (97 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں حاصل کر سکتی ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 230 میل فی گھنٹہ (370 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے زیادہ ہے۔

اس پر مسک نے جوشیلے انداز میں کہا ’یقیناً اس سے بھی کہیں زیادہ تیز۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں آواز کی رفتار کے نصف تک پہنچ جانا چاہیے۔‘

کمپنی کے مطابق روڈسٹر ایک بار چارج ہونے پر 300 میل (480 کلومیٹر) سے زیادہ چل سکتی ہے۔ تاہم یہ حدِ سفر اس دعوے کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہے جو مسک نے 2017 میں کیا تھا، جب دوسری نسل کی روڈسٹر کا ابتدائی نمونہ دکھایا گیا اور کہا گیا تھا کہ اس کی فراہمی 2020 میں شروع ہو گی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اصل روڈسٹر 2008 میں متعارف کروائی گئی تھی اور 2012 تک فروخت ہوتی رہی۔ یہ ٹیسلا کی پہلی الیکٹرک گاڑی تھی اور اسے لوٹس ایلیز کے چیسز پر بنایا گیا تھا۔ اس نے دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے بارے میں رائے بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد ازاں کمپنی اپنے ماڈل وائی اور ماڈل ایکس ایس یو ویز، اور ماڈل ایس اور ماڈل 3 سیڈان گاڑیوں کے لیے مشہور ہوئی۔

دوسری نسل کی روڈسٹر کی رونمائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹیسلا کی توجہ انسانی ڈرائیوروں کے لیے گاڑیاں بنانے کے بجائے مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار ڈرائیونگ اور روبوٹکس کی جانب منتقل ہو چکی ہے۔

اس سال ٹیسلا نے اپنے آپٹیمس ہیومنائیڈ روبوٹس کی پیداوار پر توجہ دینے کی غرض سے ماڈل ایس اور ماڈل ایکس کی فروخت بند کر دی۔ کمپنی نے سائبرکیب بھی متعارف کروائی، جو دو نشستوں والی روبوٹیکسی ہے اور اس میں سٹیئرنگ وہیل، پیڈل یا آئینے جیسے روایتی آلات موجود نہیں۔

بعض مبصرین نے ٹیسلا اور سپیس ایکس کے اس تعاون کو مسک کی جانب سے ان دو بڑی کمپنیوں کے ممکنہ انضمام میں دلچسپی بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔ مسک اس بارے میں پہلے بھی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ اگلے چند روز میں ٹیسلا کے تیسرے سہ ماہی کے نتائج بھی متوقع ہیں، جنھیں تجزیہ کار سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ اہم قرار دے رہے ہیں۔

اگرچہ گذشتہ دو برس کے دوران ٹیسلا کی موجودہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں کمی آئی ہے، تاہم ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے تیسری سہ ماہی میں فروخت بڑھانے میں مدد دی ہے۔

ای ٹورو کے ایشیا پیسیفک خطے کے مرکزی تجزیہ کار جوش گلبرٹ کا کہنا ہے ’سرمایہ کاروں کے لیے منافع کے مارجن اور کیش فلو کے اعداد و شمار اس تقریب میں دیکھی جانے والی کسی بھی چیز سے کہیں زیادہ اہم ہوں گے۔‘

انجینیئرنگ کا شاہکار یا محض شعبدہ بازی

ٹیسلا کے سرمایہ کار ادارے ڈیپ واٹر ایسٹ مینجمنٹ کے منیجنگ پارٹنر جین مَنسٹر نے روڈسٹر کی نمائشی تقریب کے متعلق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اسے انجینیئرنگ مہارت کا ایک ایسا مظاہرہ قرار دیا جس کی ان کے نظر میں تجارتی اہمیت محض ’روایتی گاڑی ساز کمپنیوں کو شرمندہ کرنے سے زیادہ نہیں۔‘

جین مَنسٹر کا مزید کہنا تھا کہ ’روڈسٹر کی یہ تقریب اس بات کی تازہ مثال ہے کہ ایلون، ٹیسلا اور سپیس ایکس کو یکجا کرنے کے لیے کیوں بے تاب ہیں۔‘

ٹیسلا کے سرمایہ کار ساویئر میرٹ ایکس پر لکھتے ہیں کہ ’یہ شاید سب سے حیرت انگیز پروڈکٹ ڈیمونسٹریشن تھی جو میں نے اب تک دیکھی ہے۔ میں نے یہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اب بھی سوچ رہا ہوں کہ کیسے ممکن ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ویڈیو نہیں۔‘

تاہم بعض افراد اس بات سوال اٹھا رہے ہیں آیا روڈسٹر عملی زندگی میں واقعی کارگر ثابت ہو گی؟

مانسی نامی صارف ایکس پر لکھتی ہیں کہ ٹیسلا روڈسٹر کا یہ مظاہرہ حیران کن تھا لیکن ہمیں مارکیٹنگ اور انجینیئرنگ میں فرق کرنے کی ضروت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت روڈسٹر اُڑی نہیں، بلکہ صرف اچھلی اور محفوظ طریقے سے زمین پر آ گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ فضا میں بلند ہونے کے لیے روڈسٹر کو ریمپ کی ضرورت تھی جو کہ عام سڑک پر دستیاب نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ اڑنے والی گاڑی کہلانے کے لیے محض ایک شاندار چھلانگ کافی نہیں، بلکہ اسے قابو میں رہتے ہوئے پرواز کرنا، فضا میں سمت کا تعین اور محفوظ لینڈنگ کی صلاحیت ضروری ہوتی ہے۔

ایک اور صارف لکھتے ہیں کہ بلاشبہ یہ انجینیئرنگ کا شاہکار ہے لیکن روڈسٹر عمر رسیدہ ٹام کروز جیسے ارب پتی افراد کے لیے ایک دلچسپ کھلونا سے زیادہ کچھ نہیں۔

ان کا کہنا ہے بطور گاڑی یہ تقریباً بے کار ہے۔ ’پرواز‘ کی صلاحیت والے ماڈل میں صرف ایک شخص سوار ہو سکتا ہے کیونکہ کمپریسڈ ایئر ذخیرہ کرنے کے لیے اندرونی جگہ کا تقریباً سارا حصہ استعمال ہو جاتا ہے۔

شیٹج نامی ایک صارف لکھتے ہیں کہ اس میں تھرسٹ صرف چند سیکنڈ تک ہی فراہم کیا جا سکتا ہے، جبکہ اسے دوبارہ ری چارج ہونے میں نسبتاً زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

’یہ کسی حقیقی ’اڑنے والی گاڑی‘ سے زیادہ ایک نمائشی ماڈل معلوم ہوتی ہے۔‘

تاہم ایکس صارف ڈیوڈ ریمنڈ روڈسٹر کا دفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’لوگ نئے ٹیسلا روڈسٹر کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اسے ’بے کار‘ قرار دے رہے ہیں کیونکہ ان کے بقول ’کوئی بھی گاڑی میں لگے تھرسٹرز کو حقیقت میں استعمال نہیں کرے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ 2008 میں جب پہلی روڈسٹر متعارف کروائی گئی تب اسے بھی صرف امیر لوگوں کے لیے بنایا گیا اور اسے ایک لاکھ ڈالر مالیت کی کھلونا کار قرار دیا گیا تھا۔

ریمنڈ لکھتے ہیں کہ ناقدین کہتے تھے الیکٹرک سپورٹس کاریں محض ایک عارضی رجحان ہیں اور ٹیسلا کبھی کوئی عملی گاڑی نہیں بنا سکے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ تب ایلون مسک نے جواب دیا تھا کہ کم قیمت گاڑیوں تک پہنچنے سے قبل آپ کو ابتدا میں مہنگی گاڑیاں بنانی پڑتی ہیں۔

’وہی ’بے کار‘ روڈسٹر بعد میں ماڈل ایس کی راہ ہموار کرنے کا باعث بنی، جس نے الیکٹرک گاڑیوں کو مرکزی دھارے میں لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاریخ اکثر خود کو دہراتی ہے۔ انتظار کیجیے اور دیکھیے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔‘