آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ہم سے گناہ ہوا، ہمیں معاف کر دو‘: اس بستی کے مرد خواتین کا لباس پہن کر ’رقص‘ کیوں کرتے ہیں؟
- مصنف, جے شُکلا
- عہدہ, بی بی سی، انڈیا
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
ہر سال احمد آباد کے شاہ پور میں ایک رات ایسی آتی ہے جب بستی کے تمام مرد سولہ سنگھار کر کے خواتین کی طرح روایتی گجراتی ساڑھیاں یا چولیاں پہنتے ہیں،اپنے اپنے سر پر چوندرِی (ایک قسم کا دوپٹہ) اوڑھتے ہیں۔ بالوں کی چٹیاں بناتے اور آنکھوں میں کاجل لگاتے ہیں۔
مردوں کے خواتین کی طرح روپ دھارنے کی یہ روایت شاہ پور میں واقع سَدوماتا پول (قدیم محلے) میں ہندو دھرم کے مذہبی اور ثقافتی تہوار سو نوراتری کی آٹھویں رات ادا کی جاتی ہے اور اس رات یہاں کا ماحول عام دنوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔
اس رات خواتین کے لباس میں ملبوس یہ مرد سَدوماتا چوک میں واقع مندر کے سامنے روایتی رقص ’گربا‘ کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
یہاں رہنے والوں کے عقیدے کے مطابق ’یہ گربا تفریح کے لیے نہیں بلکہ معافی مانگنے کی ایک رسم کا حصہ ہے۔‘
گربا گاتے ہوئے وہ ’سَدوماتا نو پاواڈو‘ بھی گاتے ہیں۔ پاواڈو دراصل نظم کی ایک صنف ہے لیکن یہاں یہ نظم اس بستی کے مردوں کی توبہ اور ندامت کے اظہار کے لیے گائی جاتی ہے۔
یہ پاواڈو مختلف راگوں میں آہستہ ڈھول کی تھاپ پر نہایت سنجیدہ اور غمگین انداز میں (مرثیے سے مشابہ طرز میں) گایا جاتا ہے۔
اس میں پڑھے جانے والے الفاظ کا لب لباب یہ ہے کہ ’ہم آپ کی اولاد ہیں، سَدوماتا...
ہمارے گناہ معاف کر دیجیے، ہمیں اپنے قدموں میں جگہ دیجیے، ماں! چادر اوڑھ کر چوک میں سچی معافی مانگنے کے لیے آئے ہیں۔ رحم دل ماں، ہم پر اپنی برکتوں کی بارش فرمائیں!‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس گاؤں کے مرد خواتین کے لباس پہن کر یہ رقص کیوں کرتے ہیں؟ اس کے پیچھے ان کا کیا عقیدہ ہے؟ اور اس روایت کی تاریخ کیا ہے؟
سادوبا کی کہانی
یہ واقعہ تقریباً 1816 عیسوی میں پیش آیا تھا۔
لوک روایات کے ساتھ ساتھ چارن اور باروٹ برادری کی تاریخ سے متعلق مختلف تحقیقات اور بعض تاریخی شواہد کے مطابق سَدوبا ایک نہایت خوبصورت خاتون تھیں۔
بعض محققین کے مطابق سَدوبا کا تعلق سدھ پور سے تھا اور ان کی شادی احمد آباد کے ہری سنگھ باروٹ (کچھ روایات میں ہاتھی سنگھ باروٹ) سے ہوئی تھی۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا خاندانی نام بھٹ تھا۔
احمد آباد کے مؤرخ اور مصنف اچیوت یاگنک اپنی کتاب احمد آباد: رائل سٹی ٹو میگا سٹی میں لکھتے ہیں کہ 19ویں صدی کے آغاز میں احمد آباد مراٹھا پیشواؤں اور گایکواڑ حکمرانوں کی مشترکہ حکومت کے تحت بدامنی اور جبر کے دور سے گزر رہا تھا۔
وہ لکھتے ہیں کہ مراٹھا پیشوا کے آخری حکمران رام چندر مُلالیکر، نے شہریوں سے رقم وصول کرنے کے لیے انتہائی شاطر طریقہ اختیار کر رکھا تھا۔ انھوں نے شہر میں پیشہ ور مخبروں اور افواہیں پھیلانے والوں کا ایک گروہ بنا رکھا تھا، جنھیں مقامی زبان میں ’چاڈیا‘ کہا جاتا تھا۔
یہ لوگ شہر کے دولت مند اور بااثر افراد کی نجی زندگی اور مالی معاملات کے بارے میں سچی، جھوٹی اور ہتک آمیز معلومات سرسوبا(حکام) تک پہنچاتے تھے۔
حکام پھر ان اطلاعات کی بنیاد پر ان افراد کو طلب کرتے اور ان پر جرمانے عائد کرتے۔
اگر کوئی شخص جرمانہ ادا کرنے سے انکار کرتا تو اسے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا یا رقم ادا کرنے تک حراست میں رکھا جاتا تھا۔
خوبصورت ہونے کے ناطے الزام کی زد میں
باروٹ برادری کے رہنما اور سَدوماتا مندر کے منتظم تشار باروٹ نے بی بی سی گجراتی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ چاڈیا پیشوا (حکمران) کے جاسوس تھے۔ ان کا ایک پورا نیٹ ورک تھا اور وہ شہر میں خوف پھیلاتے تھے۔‘
مصنف مہیش شاہ اپنی کتاب احمد آباد: جرنی ٹو دی میگا سٹی میں لکھتے ہیں کہ ’اس زمانے میں ان جاسوسوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی تھی کہ وہ لوگوں کے گھریلو معاملات تک صوبے کے حاکم تک پہنچاتے اور پھر ان سے پیسے وصول کرتے تھے۔ ان کا خاص نشانہ شہر کے امیر لوگ ہوتے تھے۔‘
وہ لکھتے ہیں کہ ’ان دنوں اوتیو اور گودھیو نام کے دو چاڈیا بہت بدنام تھے۔ انھی لوگوں نے سَدوبا نامی ایک خاتون کے خلاف جھوٹی شکایت کی۔ اس کے بعد صوبے کے حاکم نے سَدوبا کو گرفتار کر کے دربار میں پیش کرنے کا حکم دیا۔‘
مصنف اچیوت یاگنک کے مطابق ’اوتیو‘ کا اصل نام اُتم چند تھا۔ اوتیو نے شاہ پور میں رہنے والی بھٹ برادری کی ایک نیک نام خاتون سَدوبا پر بدچلنی اور ناجائز تعلقات کا جھوٹا الزام لگایا۔ اسی الزام کی بنیاد پر صوبے کے حاکم نے مسلح سپاہیوں کو سَدوبا کو گرفتار کرنے کے لیے بھیجا۔‘
باروٹ برادری کے رہنما مدھو بھائی باروٹ نے بی بی سی گجراتی کو بتایا: ’سَدوبا بہت خوبصورت تھیں۔ اسی وجہ سے ان پر جھوٹا الزام لگایا گیا کہ ان کے گھر میں ناجائز تعلقات قائم کیے جاتے ہیں، جس کے بعد وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے محل گئیں۔‘
تراگا کی روایت اور ماں بچے کی قربانی
جب صوبائی حاکم رام چندر کے سپاہی سَدوبا کو گرفتار کرنے پہنچے تو وہ غم اور غصے کا شکار ہو گئیں۔
مؤرخ اچیوت یاگنک کے مطابق، اس زمانے میں بھٹ (باروٹ یا چارن) برادری میں عزت اور سچائی کے دفاع کے لیے ایک روایت رائج تھی، جسے ’تراگا‘ کہا جاتا تھا۔ اس روایت میں لوگ احتجاج کے طور پر اپنی جان تک قربان کر دیتے تھے۔
تشار باروٹ کے مطابق، ''سَدوبا کو لگا کہ ان کی وجہ سے پوری برادری مشکل میں پڑ جائے گی، اس لیے انھوں نے خود کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
کہا جاتا ہے کہ سَدوبا نے اپنے شوہر ہری سنگھ سے ’تراگا‘ کی روایت پر عمل کرنے کو کہا۔ بعض روایات کے مطابق ہری سنگھ نے اپنی بیٹی کو قتل کر دیا، جبکہ کچھ روایات میں بیٹے کا بھی ذکر ملتا ہے۔
احمد آباد کے رائل سٹی ٹو میگا سٹی میں لکھی تحریر کے مطابق اوتیو سَدوبا کو صوبائی حاکم کے دربار میں لے جانا چاہتا تھا۔ اس پر سَدوبا نے اپنے شوہر سے کہا کہ انھیں بھی قتل کر دیا جائے۔ یوں ماں اور ان کا بچہ دونوں جان سے گئے۔
اس دور میں گجرات کی بھٹ برادری میں ’تراگا‘ کو بہت اہم سمجھا جاتا تھا اور برادری کے کسی فرد کا قتل بڑا گناہ تصور کیا جاتا تھا۔ سَدوبا اور ان کے بچے کی موت کی خبر پھیلتے ہی برادری میں شدید غم و غصہ پیدا ہو گیا۔
انصاف کے مطالبے کے لیے لوگ احمد آباد کے بھدرہ علاقے میں واقع محل کے باہر اعظم خان سرائے میں جمع ہو گئے۔
احمد آباد: رائل سٹی ٹو میگا سٹی کے مطابق، لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اوتیو کو سزا دی جائے۔
جب صوبائی حاکم نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کیا تو شہر کے تاجروں، مذہبی رہنماؤں اور فقیروں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔
لوگوں نے ایک روز کے لیے احتجاج کیا، شہر بھر کی دکانیں بند رہیں اور غم و غصہ کے اس ماحول میں اوتیو نے صوبائی حاکم کے محل میں پناہ لے لی۔
اسی دوران احمد آباد میں برطانوی اثر و رسوخ بھی بڑھنے لگا تھا۔ وڈودرا میں تعینات برطانوی نمائندے کرنل بالنٹائن نے اس معاملے میں مداخلت کی لیکن وہ بھی کوئی حل نہ نکال سکے۔
لوگوں کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک دن انھیں محل کے باہر دو چاڈیا نظر آئے۔ مشتعل ہجوم نے ان پر اینٹیں پھینکیں اور حملہ کر دیا، جس سے ایک چاڈیا مارا گیا۔
مدھو بھائی باروٹ کہتے ہیں کہ ’یہ گجرات کا پہلا واقعہ تھا جب ایک برادری نے پیشوا حکومت کے خلاف کھل کر احتجاج کیا۔‘
آخرکار لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اوتیو کو ان کے حوالے کیا جائے۔
انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اسے قتل نہیں کریں گے بلکہ سزا کے طور پر گدھے پر بٹھا کر شہر میں گھمائیں گے۔
مؤرخین کے مطابق صوبائی حاکم نے اوتیو کو اس شرط پر لوگوں کے حوالے کیا کہ اسے قتل نہیں کیا جائے گا، لیکن ہجوم نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔
مؤرخ اچیوت یاگنک لکھتے ہیں کہ جیسے ہی اوتیو کو لے جانے والا جلوس محل سے کچھ دور پہنچا مشتعل لوگوں نے کالوپور دروازے کے قریب اس پر پتھراؤ کیا جس سے وہ ہلاک ہو گیا۔
سادوبا مندر
تاریخ دانوں کے مطابق اس واقعے کے ایک سال بعد، یعنی 1817 میں، لوگوں نے شاہ پور میں سَدوبا کی قربانی کی یاد میں ایک چھوٹا سا مندر تعمیر کیا۔
اچیوت یاگنک لکھتے ہیں کہ ’لوگوں نے سَدوبا کو ستی کا درجہ دیا۔ ان کی یاد میں ں ایک لوک نظم (پاواڈو) بھی لکھی گئی۔
چند دہائیوں بعد مشہور مصنف اے کے فوربس نے اپنی کتاب راس مالا میں اس مندر کا ایک خاکہ بھی شائع کیا۔ بعد میں سَدوبا کی کہانی احمد آباد کی تاریخ پر لکھی گئی کئی کتابوں اور تحقیقات کا حصہ بنی۔
تشار باروٹ کہتے ہیں کہ ’باروٹ برادری کے لوگوں کومحسوس ہوتا تھا کہ وہ ایک بے قصور خاتون کو نہیں بچا سکے۔ اسی احساس کے تحت انھوں نے پچھتاوے کے اظہار کے لیے ایک چھوٹا مندر بنایا، ایک گوکھ (طاق) تعمیر کی اور ایک کنواں کھدوایا۔‘
باروٹ برادری کے رہنما نیلیش بھائی باروٹ نے بی بی سی گجراتی کو بتایا کہ ’ہمارے بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ معافی مانگنے اور اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے وہ آسو سود آٹھم، یعنی آسو مہینے کے آٹھویں دن، گربا کریں گے۔ تب سے یہ روایت چلی آ رہی ہے۔‘
اس روایت سے متعلق کئی دوسری کہانیاں بھی مشہور ہیں، تاہم ان کی تاریخی بنیاد نہیں ملتی۔
مدھو بھائی باروٹ کہتے ہیں کہ ’ آج گربا میں حصہ لینے والوں میں دوسری برادریوں کے لوگوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ جیسے جیسے اس مندر کے بارے میں لوگوں کا عقیدہ بڑھا، ویسے ویسے یہاں گربا کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی۔‘
شاہ پور کے رہائشی جے مِن بھوسر بھی اس مندر کے عقیدت مندوں میں سے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میں پہلے بھی دو بار خواتین کا لباس پہن کر گربا کر چکا ہوں اور اس سال بھی حصہ لوں گا۔ میرا اس مندر پر یقین ہے، اسی لیے میں اس روایت میں شامل ہوتا ہوں اور عبادت کرتا ہوں۔‘
سَدوبا پر لکھا ناول
اس واقعے پر زویَرچند میگھانی نے سَدوبا کے نام سے ایک ناول بھی لکھا ہے۔ تاہم اس کتاب میں صرف تاریخی واقعات ہی نہیں بلکہ لوک کہانیوں اور روایتی قصوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
اس کہانی کے ذریعے میگھانی معاشرے کی بزدلی پر تنقید کرتے ہیں اور خواتین کے احترام کا ایک واضح پیغام دیتے ہیں۔
اپنی کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ ’سَدوبا نے چوک کے بیچ لکڑیاں جمع کیں اور کافور جلایا۔ آگ کے شعلے آسمان کی طرف بلند ہونے لگے۔ آگ میں داخل ہونے سے پہلے سَدوبا نے آنگن کی بند کھڑکیوں کی طرف ہاتھ بڑھایا اور بد دعا دی۔‘
’سَدوبا نے کہا کہ ’اے پول کے بزدل باروٹو، تم مرد ہوتے ہوئے بھی ایک عورت کی عزت نہ بچا سکے۔ میں تمھیں بددعا دیتی ہوں کہ آج کے بعد تمھاری مردانگی تمھارے لیے شرمندگی کا باعث بنے۔‘
کتاب کےمتن کے مطابق سدوبا نے کہا کہ ’اگر تمھاری آنے والی نسلیں مرد پیدا ہوں گی تو بھی انھیں نوراتری کے آٹھویں دن عورتوں کا لباس پہننا پڑے گا اور میرے چوک میں آ کر معافی مانگنی ہو گی۔ اگر ایسا نہ کیا تو تمھارا خاندان ختم ہو جائے گا۔‘
اس کے بعد سَدوبا آگ میں جل کر راکھ ہو جاتی ہیں۔ سپاہی خوف کے مارے وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔ کچھ دیر بعد قلعے کے دروازے کھلتے ہیں اور مرد سَدوبا کی راکھ کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں۔
تاہم یہ ایک مختصر ناول ہے۔ اس میں میگھانی نے کہانی کے انداز میں حقیقت اور تخیل کو ملا کر اپنا پیغام پیش کیا ہے۔
زویَر چند میگھانی نے اپنے ناول میں باروٹ برادری کے لوگوں کو بزدل قرار دیا ہے، لیکن تشار باروٹ اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میگھانی نے اپنی کتاب میں بہت سی ایسی باتیں لکھی ہیں جن سے ہماری برادری اتفاق نہیں کرتی۔‘