سوشل میڈیا انفلوئنسر میڈ سندھو کا قتل: پولیس کیو آر کوڈ کے ذریعے چھپے ہوئے مبینہ ملزم تک کیسے پہنچی؟

،تصویر کا ذریعہMad Sandhu / Insta
انڈیا کی ریاست گجرات میں سوشل میڈیا انفلوئنسر اور میک اپ آرٹسٹ میڈ سندھو کے قتل کے مقدمے میں امرتسر پولیس نے گجرات پولیس کے تعاون سے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مبینہ مرکزی شوٹر پرمیندر عرف کاکا کو گجرات سے گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم کو پنجاب منتقل کیا جا رہا ہے۔
امرتسر پولیس کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں پرمیندر عرف کاکا کے علاوہ مزید پانچ ملزمان، بلراج سنگھ عرف بنٹی، وکاس سنگھ، بلجیندر سنگھ عرف لالی، امن دیپ سنگھ اور پرم ویر سنگھ کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
پولیس کے مطابق دوسرے مبینہ شوٹر کی شناخت ہو چکی ہے اور اسے جلد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا انفلوئنسر اور میک اپ آرٹسٹ میڈ سندھو کو 3 اکتوبر 2026 کو امرتسر کے لوہارکا روڈ پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔
فائرنگ کے بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں دم توڑ گئے۔ واقعے کے بعد امرتسر کینٹ تھانے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے جدید سہولیات کو ہی حربے کے طور پر استعمال کیا اور اس کی لوکیشن معلوم کر کے اسے گرفتار کرلیا۔
مرکزی ملزم کی کیو آر کوڈ کے ذریعے ٹریسنگ

،تصویر کا ذریعہRavinder Singh Robin
امرتسر کے پولیس کمشنر ہرمن بیر سنگھ گل کے مطابق میڈ سندھو قتل کیس کے مرکزی ملزم پرمیندر سنگھ عرف کاکا کو گجرات میں تلاش کرنے کے لیے پولیس نے ایک منفرد تکنیکی حکمتِ عملی اپنائی، جس میں ادائیگی کے کیو آر کوڈ کا استعمال کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق میڈ سندھو کے قتل کے بعد پرمیندر سنگھ عرف کاکا فرار ہو کر احمد آباد پہنچ گئے تھے۔ وہاں انھوں نے پنجاب میں موجود اپنے بھائی امن دیپ سنگھ سے رابطہ کر کے مزید رقم منگوانے کی کوشش کی۔
پریس کانفرنس میں پولیس کمشنر نے بتایا کہ بیرونِ ملک موجود ہینڈلرز نے امن دیپ سنگھ کے اکاؤنٹ میں 16 ہزار روپے منتقل کیے تھے۔ ان میں سے 11 ہزار روپے پرمیندر سنگھ عرف کاکا کو جبکہ پانچ ہزار روپے مبینہ طور پر اسلحہ فراہم کرنے والے ملزم پرم ویر سنگھ کو بھیجے گئے۔
ان کے مطابق پولیس نے تکنیکی شواہد اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر پہلے ہی امن دیپ سنگھ کو گرفتار کر لیا تھا، تاہم پرمیندر سنگھ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس کا بھائی پولیس کی تحویل میں ہے۔
پولیس نے بعد ازاں امن دیپ سنگھ کے موبائل فون سے پرمیندر کو ایک کیو آر کوڈ بھیجا اور رقم وصول کرنے کے لیے انھیں سکین کرنے کا کہا۔ پولیس کے مطابق جیسے ہی پرمیندر نے کیو آر کوڈ سکین کیا تو ان کی لوکیشن احمد آباد میں ٹریس ہو گئی۔
اس کے بعد پنجاب پولیس نے معلومات گجرات پولیس کی کرائم برانچ کے ساتھ شیئر کیں، جس کے نتیجے میں احمد آباد کے وڈاج علاقے سے پرمیندر سنگھ عرف کاکا کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی شناخت ویڈیو کال کے ذریعے ان کے جوتوں سے بھی کی گئی۔ تفتیش کاروں کے مطابق یہی جوتے واردات کے وقت مبینہ شوٹر کے پاؤں میں نظر آئے تھے۔ ہرمن بیر سنگھ گل کے مطابق تحقیقات کے دوران مجموعی طور پر چھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں مرکزی ملزم، ان کا بھائی، اسلحہ فراہم کرنے والے اور مبینہ طور پر ریکی کرنے والے افراد شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMad Sanndhu/FB/BBC
میڈ سندھو کون تھے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
میڈ سندھو، جن کا اصل نام مدھوسودن تھا، سوشل میڈیا پر اپنے منتخب کردہ نام سے ہی پہچانے جاتے تھے۔ وہ ایک معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور میک اپ آرٹسٹ تھے اور اپنا بیوٹی و میک اپ سیلون بھی چلاتے تھے۔
وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر میک اپ، فیشن اور پنجابی گانوں پر مبنی ویڈیوز شیئر کرتے تھے۔
انسٹاگرام پر ان کے دو لاکھ سے زائد فالوورز تھے، جبکہ انھوں نے پنجابی فلم ’اوئے بھولے اوئے‘ میں بھی اداکاری کی تھی۔
میڈ سندھو اپنی جنسی شناخت کے حوالے سے کھل کر بات کرتے تھے اور ’ایل جی بی ٹی کیو‘ کمیونٹی سے وابستگی کو کبھی نہیں چھپایا۔ مختلف انٹرویوز میں انھوں نے بتایا تھا کہ زندگی میں انھیں تعصب، تنقید اور مذاق کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ساتھ ہی لوگوں کی جانب سے محبت اور قبولیت بھی ملی۔
ایک پرانے انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ بچپن ہی سے انھیں میک اپ اور فیشن میں دلچسپی تھی۔ ان کے مطابق ان کی والدہ نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی، اگرچہ گھر سے باہر انھیں اکثر طعنوں اور تمسخر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بعد میں دہلی میں تعلیم کے دوران انھیں زیادہ قبولیت ملی اور خاندان نے بھی ان کے کریئر کی حمایت کی۔
میڈ سندھو کو اپنی شناخت کی وجہ سے ہوموفوبک ٹرولنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم وہ اس بارے میں کھل کر بات کرتے رہے۔ ایک پوڈکاسٹ میں ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا‘ ’یہ کوئی ذہنی عارضہ نہیں ہے‘ اور ’میں وہی ہوں جو میں ہوں‘۔
ان کے قتل سے چند ماہ قبل ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں ایک شخص مبینہ طور پر انھیں دھمکیاں دیتا اور ان سے ملنے کی بات کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔




















