انڈین بحریہ کا اہلکار پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار: ’خاتون سوشل میڈیا کے ذریعے دوست بنی‘

خاتون، موبائل، سوشل میڈیا
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

انڈیا کی جنوبی ریاست اندھرا پردیش میں پولیس کے انسداد جاسوسی دستے نے بحریہ کے ایک اہلکار کو پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔

پولیس کے مطابق بحریہ کے 31 سالہ اہلکار پردیپ مکھرجی کو بحریہ کی حساس معلومات ایک مبینہ پاکستانی خاتون سے شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اس خاتون کے بارے میں پولیس کے تفتیش کاروں کو شک ہے کہ ان کا تعلق پاکستان کی خفیہ سروس سے ہے اور پردیپ کو اس خاتون کے ذریعے ہنی ٹریپ کیا گیا تھا۔

دریں اثنا آسام پولیس نے دو افراد کو پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے ایک ملزم ابھیشیک کمار سنگھ سابق فوجی بتایا جاتا ہے۔

تاحال پاکستانی حکام کی جانب سے ان کیسز پر تبصرہ نہیں کیا گیا۔

پردیپ مکھرجی کون ہیں اور ان پر کیا الزام ہے؟

پردیپ مکھرجی کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ وہ آندھرا پردیش کے کوئمبٹور شہر کے ریڈ فیلڈس میں واقع بحری لیڈرشپ کے ایک اہم تربیتی ادارے 'آئی این ایس اگرنی' میں مینیجمنٹ ڈیولپمنٹ کا ایک کورس کر رہے تھے۔

وہ انڈین بحریہ میں 2014 میں جہازراں کے طور پر شامل ہوئے تھے۔ وہ وشاکھا پٹنم میں واقع ایسٹرن نیول کمانڈ میں سیلر کے طور پر تعینات تھے۔ انھوں نے آئی این ایس اگرنی میں مینیجمنٹ ڈیولپمنٹ کورس ایک ہفتے پہلے ہی شروع کیا تھا۔

پولیس کے تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ یہ ہنی ٹریپ کا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق بحریہ کے اہلکار پردیپ مکھرجی سے ایک خاتون نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ قائم کیا۔ پردیپ نے اس خاتون سے دوستی ہونے کے بعد مبینہ طور پر انھیں وشاکھا پٹنم بحری اڈے کے جہازوں، بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور ان کے آپریشنل انتظام کے بارے میں معلومات شیئر کی تھیں۔

مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق پردیپ مبینہ طور پر ایک پاکستانی خاتون ایجنٹ کے آن لائن ہنی ٹریپ میں پھنس گئے تھے اور اس خاتون نے ان سے چند مہینے پہلے رابطہ قائم کیا تھا۔

حکام نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ ’اس خاتون نے پردیپ سے رفتہ رفتہ دوستی قائم کر لی اور اس نے بحری جہازوں کی نقل و حرکت اور دیگر تفصیلات پردیپ سے حاصل کیں۔‘

خاتون، سوشل میڈیا

آندھرا پردیش پولیس کی کاؤنٹر انٹیلی جنس کے سراغ رسانوں کو سوشل میڈیا پر کچھ مشتبہ سرگرمیوں کا شک ہونے کے بعد پردیپ پر نظر رکھنی شروع کی۔

جب مزید تفتیش سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ انھوں نے خفیہ معلومات شیئر کی ہیں تو کاؤنٹر انٹیلی جنس سیل نے بحریہ کے حکام سے ان کی گرفتاری کی منظوری حاصل کی۔

کاؤنٹر انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے پردیپ کو ہفتے کے روز حراست میں لیا۔ انھیں ایک مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کے بعد ان سے مزید پوچھ گچھ کے لیے کاؤنٹر انٹیلی جنس کے ہیڈ کوارٹر وجے واڑہ لایا گیا ہے۔

پولیس کے تفتیش کار یہ پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ’پردیپ نے کتنی اہم معلومات مشتبہ پاکستانی خفیہ سروس کی ایجنٹ سے شیئر کی ہیں اور یہ کہ کیا اس معلومات کے عوض انھیں معاوضہ بھی دیا گیا ہے؟‘

یہ معاملہ ابھی تفتیش کے مرحلے میں ہے۔

آسام میں سابق فوجی اہلکار بھی گرفتار

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

دوسری طرف آسام پولیس نے دو افراد کو پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے ایک ملزم ابھیشیک کمار سنگھ سابق فوجی بتایا جاتا ہے۔

آسام پولیس کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق ملٹری انٹیلی جنس کی طرف سے پولیس کی سپیشل ٹاسک فورس کو یہ اطلاع ملی تھی کہ ابھیشیک کمار سنگھ پاکستان کے انٹیلی جنس ایجنٹوں کی ہدایت پر مشتبہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

اس اطلاع کی بنیاد پر ٹاسک فورس کے اہلکاروں نے مزید چھان بین کے بعد 3 اور 4 اکتوبر کے درمیان رات کو گوہاٹی کے گاندھی نگر میں ایک کرائے کے مکان پر چھاپہ مار کر ابھیشیک کو حراست میں لے لیا۔

پولیس کے بیان کے مطابق ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ وہ مبینہ جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ وہ سکیورٹی فورسز کے بارے میں خفیہ معلومات پاکستانی ایجنٹ کو فراہم کر رہے تھے۔ انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا شرما نے اتوار کو بتایا کہ آسام پولیس کی سپیشل ٹاسک فورس نے گوہاٹی میں انڈین فوج کے ایک سابق اہلکار سمیت دو افراد کو پاکستان کی خفیہ سروس کے ایجنٹ سے ربط رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

آسام میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’مرکزی ایجنسیوں کی اطلاع کی بنیاد پر آج آسام پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں ایک سبکدوش فوجی ہے لیکن وہ ریٹائرمنٹ کے بعد فوج کے ساتھ ٹھیکے کی بنیاد پر کام کر رہے تھے۔ وہ ایک دیگر شخص کے ساتھ انڈین فوج کی نقل و حرکت کی تفصیلات پاکستانی ایجنٹ کو فراہم کر رہے تھے۔ ان دونوں ملزموں کو پاکستانی ایجنٹوں نے آن لائن سیکس ریکٹ کے ذریعے ہنی ٹریپ کے جال میں پھنسایا تھا۔‘

ریٹائرڈ فوجی ابھیشیک کمار سنگھ کا تعلق بہار سے ہے۔ تاہم ان کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔

پولیس کے تفتیش کار یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ مبینہ طور پر ’خفیہ اطلاعات کب سے فراہم کر رہے تھے اور انھوں نے کیا کیا معلومات لیک کی ہیں۔‘