افغانستان سے دہشت گردی پر اختلافات کے باعث ماسکو فارمیٹ اجلاس مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کر سکا، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے کہا ہے کہ ماسکو فارمیٹ کے حالیہ اجلاس کے بعد افغانستان سے دہشت گردی کے مسئلے پر اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو سکا، تاہم اسلام آباد خطے کے ممالک کے ساتھ مکالمے اور سفارتی رابطوں کا عمل جاری رکھنا چاہتا ہے۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے 5 اکتوبر کو ماسکو میں ہونے والے آٹھویں ماسکو فارمیٹ اجلاس میں تعمیری انداز میں شرکت کی اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں پر اپنے تحفظات واضح طور پر پیش کیے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں خطے کے لیے، خصوصاً پاکستان کے لیے، ایک سنگین سکیورٹی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ انھوں نے یاد دلایا کہ گذشتہ سال ماسکو فارمیٹ کے مشترکہ اعلامیے میں بھی اس معاملے کا واضح ذکر شامل تھا۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سال افغان طالبان کے وفد نے دہشت گردی سے متعلق وہ زبان برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی جو گذشتہ برس تمام فریقوں کے درمیان طے پائی تھی، جس کے نتیجے میں اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے نزدیک یہ محض الفاظ یا سفارتی اصطلاحات کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک حقیقی اور سنجیدہ سکیورٹی چیلنج ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی ایسا مشترکہ اعلامیہ جو افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کی حقیقت اور شدت کی عکاسی نہ کرے، زمینی صورتحال کی مکمل اور درست تصویر پیش نہیں کر سکتا۔‘
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ اجلاس کے دوران روسی نمائندے نے بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ طالبان وفد نے اس زبان پر اعتراض کیا جسے ایک سال قبل متفقہ طور پر قبول کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق طالبان وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان کی زمینی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے، تاہم پاکستان کی رائے میں صورتحال میں تبدیلی کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کو ملنے والی بڑھتی ہوئی گنجائش خطے اور عالمی برادری کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
آئندہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستان کی شرکت کے بارے میں سوال پر دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگلا اجلاس تقریباً ایک سال بعد متوقع ہے، اس لیے اس حوالے سے مشاورت اور فیصلہ سازی کے لیے کافی وقت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی رابطوں کا حامی ہے، تاہم آئندہ اجلاس میں شرکت کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔



















