’ابراہم اکارڈ‘ کے حمایتی اور پاکستان کی ثالثی کے ناقد امریکی سینیٹر لنزے گراہم وفات پا گئے

United States

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلنزے گراہم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ سنیچر کی شب اچانک بیمار ہوئے جس کے بعد وہ وفات پا گئے
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

امریکی سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے سینئر سینیٹر اور امریکی صدر ٹرمپ کے قریب سمجھے جانے والے لنزے گراہم مختصر علالت کے بعد وفات پا گئے ہیں۔

ان کی عمر 71 برس تھی۔ لنزے گراہم کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سنیچر کی شام لنزے گراہم مختصر علالت کے بعد وفات پا گئے، سینیٹر گراہم کے اہلِ خانہ اس مشکل وقت میں دعاؤں کے طلبگار ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ ان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے۔‘

لنزے گراہم کا شمار صدر ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسیوں کے حمایتی اور ایران کے حوالے سے سخت موقف رکھنے والے امریکی سیاست دانوں میں ہوتا تھا۔ اُنھیں اسرائیل کا کٹر حمایتی بھی سمجھا جاتا تھا۔

لنزے گراہم نے بارہا تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی کی حمایت کی اور حالیہ برسوں میں ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اُنھوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی پر بھی سوال اُٹھائے تھے۔

اُنھوں نے پاکستان سمیت دیگر ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے مطالبے پر ابراہم اکارڈ میں شامل ہو جائیں۔

لنزے گراہم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے ناقد

سینیٹر لنزے گراہم نے رواں برس مئی میں ایران امریکہ تنازع میں پاکستان کی ثالثی پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ پاکستان ابراہم معاہدے میں شامل ہونے کے صدر ٹرمپ کے مطالبے کا جواب دے۔

متنازع بیانات کے لیے مشہور امریکی سینیٹر کے اس حالیہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ان پر خاصی تنقید ہوئی تھی۔

اُس وقت لنزے گراہم اپنے ایک ایسے ہی بیان کی وجہ سے تنقید کی زد میں آئے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تنازع ختم ہونے پر اگر نتیجتاً خطے کے عرب اور مسلم اتحادی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں تو یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے لیے سب سے موثر معاہدہ ہو گا۔‘

گراہم نے اس سلسلے میں سعودی عرب، قطر اور پاکستان کا ذکر کیا تھا اور اپنے پیغام میں خبردار کیا کہ اگر ان ممالک نے ایسا نہ کیا تو ’ہمارے مستقبل کے تعلقات پر اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔‘

گراہم کا بیان امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آیا تھا جس میں انھوں نے دیگر ممالک کے معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

یاد رہے کہ ابراہیمی معاہدہ اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے کیے گئے معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے۔ سنہ 2020 میں میں اس معاہدے کے تحت کچھ عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کیا تھا۔

’ایسے ثالث کو بدنام کیا جا رہا ہے جس نے کشیدگی کم کرانے کی کوشش کی‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جاپان میں ایرانی سفارتخانے نے لنزے گراہم کی ایک ٹویٹ کے جواب میں سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا تھا کہ 'اسرائیلی حکومت' کا ترجمان مسلسل ایک ایسے ثالث کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم اور قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے، جبکہ ساتھ ہی ایک خودمختار ریاست پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ اس نوعیت کا طرزِ عمل اقوام متحدہ کے منشور میں درج ریاستوں کی خودمختار برابری کے اصول کے منافی ہے اور اسے اس کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی سینیٹر گراہم نے اپنے ٹویٹ میں پاکستان کے بطور ثالث کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ 'کچھ عرصے سے میرے لیے یہ واضح ہے کہ پاکستان بطور ثالث ایک مشکل انتخاب ہے'۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اسرائیل کے ساتھ 'طویل عرصے سے جاری کشیدگی' ایک پس منظر ہے۔

سینیٹر گراہم نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ 'ایرانی فوجی طیاروں کو پاکستانی فضائی اڈوں پر رکھا جا رہا ہے'، تاہم انھوں نے اپنے اس الزام کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔ انھوں نے پاکستان کے وزیرِ دفاع کے ایک سابق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابراہم اکارڈز میں شمولیت کے حوالے سے پاکستان کا عدم اعتماد 'تشویش کا باعث' ہے اور ان کے بقول یہ مؤقف تاحال برقرار ہو سکتا ہے۔

سینیٹر گراہم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ابراہم اکارڈز میں شمولیت کے مطالبے پر اپنا واضح مؤقف پیش کرنا چاہیے۔

’ثالث کے طور پاکستان بہت بڑا مسئلہ ہے‘

لنزے گراہم نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’یہ بات کافی عرصے سے واضح ہے کہ ثالث کے طور پر پاکستان بہت بڑا مسئلہ ہے اور اسرائیل سے ان کی دشمنی دیرینہ ہے۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’یہ بات ناقابل تردید ہے کہ ایرانی فوجی طیارے پاکستانی فضائی اڈوں پر موجود ہیں اور پاکستان کے اعلیٰ ترین حکام کی اسرائیل کے خلاف ماضی کی بیان بازی بھی پریشان کن ہے۔‘

یاد رہے کہ 12 مئی کو امریکی کانگریس میں ہونے والی ایک اہم سماعت کے دوران لنزے گراہم نے امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ اور امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین سے سوال کیا تھا کہ آیا وہ اِن رپورٹس سے باخبر ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے دوران پاکستان نے ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جگہ دی؟

اس سے قبل امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ نے 11 مئی کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اپریل کے اوائل میں راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر متعدد ایرانی طیارے بھیجے گئے جن میں ایک آر سی 130 طیارہ بھی شامل ہے۔

تاہم پاکستان نے ’سی بی ایس نیوز‘ کے اس دعوے کو ’بے بنیاد، سنسنی خیز اور گمراہ کُن‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔

ابراہم معاہدے کے بارے میں پاکستانی وزیر خواجہ آصف کے بیان کے بارے میں سینیٹر لنزے گراہم نے اپنے حالیہ بیان میں لکھا کہ ’وزیر دفاع کے ابراہم معاہدے سے متعلق تبصرے کے مطابق پاکستان کبھی بھی اس میں شامل نہیں ہو گا کیونکہ وہ اسرائیل پر بھروسہ نہیں کرتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ یہ کلپ ایک سال پرانا ہو سکتا ہے لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ جذبات اب بھی تازہ ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ پاکستان ابراہم معاہدے میں شامل ہونے کے صدر ٹرمپ کے مطالبے کا جواب دے۔‘

خواجہ آصف

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکی سینیٹر لنزے گراہم نے ایکس پر اپنے بیان میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کے اسرائیل کے حوالے سے بیان کا ذکر بھی کیا

یاد رہے کہ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپریل میں اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’کینسر زدہ‘ قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ ’معصوم شہری اسرائیلی کارروائیوں میں مارے جا رہے ہیں، پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان میں خونریزی کا نہ رُکنے والا سلسلہ جاری ہے۔‘

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کے وزیرِ دفاع کی جانب سے اسرائیل کی تباہی کی اپیل نہایت اشتعال انگیز ہے۔ یہ ایسا بیان ہے جسے کسی بھی حکومت کی جانب سے قابلِ برداشت نہیں سمجھا جا سکتا، خاص طور پر ایسی حکومت کی طرف سے جو خود کو امن کے لیے غیر جانب دار ثالث قرار دیتی ہو۔‘

’اسلام آباد کے لیے ’ثالثی اور اسرائیل سے تعلقات‘ دو مختلف چیزیں ہیں‘

لنزے گراہم کے حالیہ بیان کے بعد صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے لوگ ان پر تنقید کی تھی۔

صارف تریتا پارسی نے امریکی سینیٹر کے بیان پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’لنزے گراہم نے ہر اس ثالث پر حملہ کیا ہے، جس نے امریکہ ایران تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ یہ تنازع حل ہو۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستان کا ثالث ہونا مسئلہ کیوں ہے؟ گراہم نے جو پہلی وجہ بتائی وہ اسرائیل کے خلاف پاکستان کی دشمنی ہے۔‘

ایک امریکی صارف ٹام فورڈی نے لنزے گراہم پر تنقید کرتے لکھا کہ ’وہ ایران کے ساتھ جنگ چاہتے ہیں۔ انھیں پاکستان کی کاوشوں کو سراہنا چاہیے۔ پاکستان اس لیے ثالثی کی کوششں کر رہا ہے کیونکہ اس کے ایران، خلیجی عرب ریاستوں، چین اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ تو اسلام آباد کے لیے ’ثالثی‘ اور ’اسرائیل کے ساتھ تعلقات‘ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔‘

ایک اور صارف نے لکھا ’تو کیا پاکستان کو بطور ثالث اپنی کوششوں کو ثابت کرنے کے لیے ابراہم معاہدے میں شامل ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’ہر انسان فروخت کے لیے نہیں ہوتا، پاکستان نے کبھی بھی اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ڈرامہ نہیں کیا۔ اپنی پوری تاریخ میں اس کا موقف مستقل، واضح اور غیر مبہم رہا۔ پاکستان اس وقت نیک نیتی سے ثالثی میں مصروف ہے جبکہ اسرائیل اسے بگاڑنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

X پوسٹ کا اختتام

آصف نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ محض دشمنی نہیں بلکہ یہ پاکستان کے مستقل اور اصولی موقف کی عکاسی کرتا ہے: ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے اسرائیل کو قبول کرنے سے پہلے سنہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔‘

انھوں نے لنزے گراہم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’سینیٹر گراہم اگر آپ کے پاس بنیادی اخلاقی مستقل مزاجی ہوتی تو آپ اسرائیل کے وکیل کے طور پر کام کرنے کے بجائے اس سانحے میں پھنسے فلسطینی بچوں اور خواتین کے لیے آواز اٹھاتے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ لنزے گراہم کا عوامی سطح پر خودمختار ممالک سے بات کرنے کا طریقہ بہت عجیب ہے۔

انھوں نے مزید لکھا کہ ’ابھی جواب دو۔۔۔ یہ انداز سفارت کاری کم اور کسی نوآبادیاتی دور میں رپنے والی ذہنیت کی زیادہ عکاسی کرتا ہے۔‘