خواجہ آصف کے بیان کا حوالہ اور لنزے گراہم کا اسلام آباد کی ثالثی پر اعتراض: ’پاکستان نے کبھی اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ڈرامہ نہیں کیا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے ایران امریکہ تنازع میں پاکستان کی ثالثی پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان ابراہم معاہدے میں شامل ہونے کے صدر ٹرمپ کے مطالبے کا جواب دے۔
متنازع بیانات کے لیے مشہور امریکی سینیٹر کے اس حالیہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ان پر خاصی تنقید ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل بھی لنزے گراہم اپنے ایک ایسے ہی بیان کی وجہ سے تنقید کی زد میں آئے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تنازع ختم ہونے پر اگر نتیجتاً خطے کے عرب اور مسلم اتحادی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں تو یہ مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے لیے سب سے موثر معاہدہ ہو گا۔‘
گراہم نے اس سلسلے میں سعودی عرب، قطر اور پاکستان کا ذکر کیا تھا اور اپنے پیغام میں خبردار کیا کہ اگر ان ممالک نے ایسا نہ کیا تو ’ہمارے مستقبل کے تعلقات پر اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔‘
گراہم کا یہ بیان سوموار کے روز امریکی صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آیا تھا جس میں انھوں نے دیگر ممالک کے معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
یاد رہے کہ ابراہیمی معاہدہ اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے کیے گئے معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے۔ سنہ 2020 میں میں اس معاہدے کے تحت کچھ عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کیا تھا۔
لنزے گراہم نے اپنے حالیہ بیان میں کیا کہا؟
بدھ کے روز امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ بات کافی عرصے سے واضح ہے کہ ثالث کے طور پر پاکستان بہت بڑا مسئلہ ہے اور اسرائیل سے ان کی دشمنی دیرینہ ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’یہ بات ناقابل تردید ہے کہ ایرانی فوجی طیارے پاکستانی فضائی اڈوں پر موجود ہیں اور پاکستان کے اعلیٰ ترین حکام کی اسرائیل کے خلاف ماضی کی بیان بازی بھی پریشان کن ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یاد رہے کہ 12 مئی کو امریکی کانگریس میں ہونے والی ایک اہم سماعت کے دوران لنزے گراہم نے امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ اور امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین سے سوال کیا تھا کہ آیا وہ اِن رپورٹس سے باخبر ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے دوران پاکستان نے ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جگہ دی؟
اس سے قبل امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ نے 11 مئی کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اپریل کے اوائل میں راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر متعدد ایرانی طیارے بھیجے گئے جن میں ایک آر سی 130 طیارہ بھی شامل ہے۔
تاہم پاکستان نے ’سی بی ایس نیوز‘ کے اس دعوے کو ’بے بنیاد، سنسنی خیز اور گمراہ کُن‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔
ابراہم معاہدے کے بارے میں پاکستانی وزیر خواجہ آصف کے بیان کے بارے میں سینیٹر لنزے گراہم نے اپنے حالیہ بیان میں لکھا کہ ’وزیر دفاع کے ابراہم معاہدے سے متعلق تبصرے کے مطابق پاکستان کبھی بھی اس میں شامل نہیں ہو گا کیونکہ وہ اسرائیل پر بھروسہ نہیں کرتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ یہ کلپ ایک سال پرانا ہو سکتا ہے لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ جذبات اب بھی تازہ ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ پاکستان ابراہم معاہدے میں شامل ہونے کے صدر ٹرمپ کے مطالبے کا جواب دے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
یاد رہے کہ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپریل میں اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’کینسر زدہ‘ قرار دیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ ’معصوم شہری اسرائیلی کارروائیوں میں مارے جا رہے ہیں، پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان میں خونریزی کا نہ رُکنے والا سلسلہ جاری ہے۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کے وزیرِ دفاع کی جانب سے اسرائیل کی تباہی کی اپیل نہایت اشتعال انگیز ہے۔ یہ ایسا بیان ہے جسے کسی بھی حکومت کی جانب سے قابلِ برداشت نہیں سمجھا جا سکتا، خاص طور پر ایسی حکومت کی طرف سے جو خود کو امن کے لیے غیر جانب دار ثالث قرار دیتی ہو۔‘
’اسلام آباد کے لیے ’ثالثی اور اسرائیل سے تعلقات‘ دو مختلف چیزیں ہیں‘
لنزے گراہم کے حالیہ بیان کے بعد صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے لوگ ان پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہ رہے ہیں۔
صارف تریتا پارسی نے امریکی سینیٹر کے حالیہ بیان پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’لنزے گراہم نے ہر اس ثالث پر حملہ کیا ہے، جس نے امریکہ ایران تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ یہ تنازع حل ہو۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستان کا ثالث ہونا مسئلہ کیوں ہے؟ گراہم نے جو پہلی وجہ بتائی وہ اسرائیل کے خلاف پاکستان کی دشمنی ہے۔‘
ایک امریکی صارف ٹام فورڈی نے لنزے گراہم پر تنقید کرتے لکھا کہ ’وہ ایران کے ساتھ جنگ چاہتے ہیں۔ انھیں پاکستان کی کاوشوں کو سراہنا چاہیے۔ پاکستان اس لیے ثالثی کی کوششں کر رہا ہے کیونکہ اس کے ایران، خلیجی عرب ریاستوں، چین اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ تو اسلام آباد کے لیے ’ثالثی‘ اور ’اسرائیل کے ساتھ تعلقات‘ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔‘
ایک اور صارف نے لکھا ’تو کیا پاکستان کو بطور ثالث اپنی کوششوں کو ثابت کرنے کے لیے ابراہم معاہدے میں شامل ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے مزید لکھا کہ ’ہر انسان فروخت کے لیے نہیں ہوتا، پاکستان نے کبھی بھی اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ڈرامہ نہیں کیا۔ اپنی پوری تاریخ میں اس کا موقف مستقل، واضح اور غیر مبہم رہا۔ پاکستان اس وقت نیک نیتی سے ثالثی میں مصروف ہے جبکہ اسرائیل اسے بگاڑنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
آصف نامی صارف نے لکھا کہ ’یہ محض دشمنی نہیں بلکہ یہ پاکستان کے مستقل اور اصولی موقف کی عکاسی کرتا ہے: ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے اسرائیل کو قبول کرنے سے پہلے سنہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔‘
انھوں نے لنزے گراہم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’سینیٹر گراہم اگر آپ کے پاس بنیادی اخلاقی مستقل مزاجی ہوتی تو آپ اسرائیل کے وکیل کے طور پر کام کرنے کے بجائے اس سانحے میں پھنسے فلسطینی بچوں اور خواتین کے لیے آواز اٹھاتے۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ لنزے گراہم کا عوامی سطح پر خودمختار ممالک سے بات کرنے کا طریقہ بہت عجیب ہے۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’ابھی جواب دو۔۔۔ یہ انداز سفارت کاری کم اور کسی نوآبادیاتی دور میں رپنے والی ذہنیت کی زیادہ عکاسی کرتا ہے۔‘
























