’یہی وجہ ہے کہ دنیا میسی کی ٹیم سے خوف کھاتی ہے‘: ارجنٹینا اور انگلینڈ سیمی فائنل میں، ’سپائیڈر کیم‘ تنازع پر فیفا کی وضاحت

،تصویر کا ذریعہReuters
ارجنٹینا اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان کھیلے جانا والا کوارٹر فائنل ایک، ایک گول سے برابر تھا۔ اضافی وقت ختم ہونے میں بھی صرف چھ منٹ باقی تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ اب میچ کا فیصلہ پینلٹی ککس پر ہو گا۔
لیکن میچ کے 112 ویں منٹ میں ارجنٹینا کے جولیان الواریز تقریباً 25 گز کے فاصلے پر اپنے دائیں پاؤں سے گیند سنبھالتے ہیں اور اسے پوری طاقت کے ساتھ گول پوسٹ کے کونے میں پہنچا دیتے ہیں۔ آخری لمحات میں لاؤتارو مارٹینز ایک اور گول کر کے ارجنٹینا کو دو گول کی برتری دلا کر سیمی فائنل تک رسائی کو یقینی بنا دیتے ہیں۔
یہ اس ورلڈ کپ میں پہلا موقع نہیں تھا کہ جب ارجنٹینا کو حریف ٹیم نے مشکل میں ڈالا ہو، اس سے قبل راؤنڈ آف 32 میں کیپ وردے اور پھر راؤنڈ آف 16 میں مصر نے دفاعی چیمپئن کے اعصاب کا امتحان لیا تھا۔
کنساس سٹی میں سنیچر کو کھیلے گئے اس میچ سے قبل فیفا ورلڈ کپ کے ایک اور سیمی فائنلسٹ کا فیصلہ ہو چکا تھا، جب میامی میں انگلینڈ، ناروے کو دو، ایک سے شکست دے کر سیمی فائنل میں اپنی جگہ پکی کر چکا تھا۔
اب 15 جولائی کو اٹلانٹا میں ارجنٹینا کے سٹار فٹبالر لیونل میسی پہلی مرتبہ انگلینڈ کے خلاف میدان میں نظر آئیں گے۔ سنہ 2005 میں ڈیبو کرنے والے میسی کسی بین الاقوامی میچ میں انگلینڈ کے خلاف میدان میں نہیں اُترے۔ 14 جولائی کو پہلے سیمی فائنل میں فرانس اور سپین کی ٹیمیں مدِمقابل ہوں گی۔
سنیچر کے کوارٹر فائنلز کے نتائج توقعات کے مطابق ہی تھے جب دفاعی چیمپئن ارجنٹینا نے سوئٹزرلینڈ کو تین، ایک جبکہ انگلینڈ نے ناروے کو دو کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دے دی۔
فرانس کی ٹیم مراکش جبکہ سپین نے بیلجیم کو شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انگلینڈ اور ناروے کے درمیان میچ میں پہلا گول کھیل کے 36 ویں منٹ پر ہوا، جب ناروے کے اے شیلڈروپ نے گیند جال میں پہنچا دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پہلے ہاف کے آخری لمحات میں انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم نے گول کر کے میچ برابر کر دیا. دوسرے ہاف کے آخر تک میچ ایک، ایک سے برابر رہا۔ تاہم نوے منٹ مکمل ہونے پر اضافی وقت کے تیسرے منٹ پر ایک بار پھر جوڈ بیلنگھم نے گول کر انگلینڈ کی فتح کو یقینی بنا دیا۔
اتوار کو دوسرے کوارٹر فائنل کے پہلے ہاف کے 10 ویں منٹ میں ارجنٹینا کے الیکسس میک ایلسٹر نے گول کر کے دفاعی چیمپئنز کو برتری دلا دی جسے میچ کے 67 ویں منٹ میں سوئٹزرلینڈ نے ختم کر دیا اور میچ ایک، ایک گول سے برابر ہو گیا۔
نوے منٹ مکمل ہونے پر میچ ایک، ایک گول سے برابر رہا، تاہم کھیل پینلٹی ککس پر جانے سے آٹھ منٹ قبل جولیان الواریز نے گیند میں جال میں پہنچا کر ارجنٹینا کو برتری دلا دی۔ اضافی وقت کے آخری لمحات میں لاؤتارو مارٹینز نے ایک اور گول کر کے ارجنٹینا کی فتح یقینی بنا دی۔
1966 میں میزبان کی حیثیت سے اور پھر 1990 اور 2018 میں اٹلی اور روس میں اس مرحلے تک پہنچنے کے بعد انگلینڈ اب ایک اور ورلڈ کپ سیمی فائنل کی تیاری کر رہا ہے۔
جب میامی میں فرانسیسی ریفری کلیمینٹ ٹرپن نے واقعات سے بھرپور کوارٹر فائنل میں فائنل وسل بجائی تو انگلش کھلاڑی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور سٹیڈیم میں موجود تماشائی رقص کرتے رہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’جب فیصلہ کن لمحہ آتا ہے، تو وہ راستہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سوشل میڈیا پر دونوں کوارٹر فائنلز پر تبصرے جاری ہیں، ایک جانب جہاں انگلینڈ کی ٹیم سیمی فائنل تک رسائی پر تعریفیں سمیٹ رہی تھی تو وہیں ارجنٹینا کے مداح بھی خوشی سے نہال ہیں۔ دوسری جانب انگلینڈ اور ناروے کے میچ میں گیند مبینہ طور پر سپائیڈر کیم سے ٹکرانے پر بھی بحث جاری ہے۔
ارجنٹینا کے ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’یہی وجہ ہے کہ دنیا ارجنٹائن سے خوف کھاتی ہے۔ آپ 90 منٹ تک ان پر تنقید کر سکتے ہیں، آپ کہہ سکتے ہیں کہ اُنھوں نے اپنی بہترین فٹبال نہیں کھیلی، لیکن جب فیصلہ کن لمحہ آتا ہے، تو وہ ہمیشہ بچ نکلنے یا کامیابی حاصل کرنے کا راستہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ چیمپئنز کا یہی تو خاصہ ہے۔‘
لیکن ساتھ ہی بعض صارفین ایک مرتبہ پھر ارجنٹینا کی جیت پر سوال اُٹھا رہے ہیں۔ پریتی نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ لیونل میسی کو ریفری سے بہت غصے میں بات کرتے ہوئے دیکھا گیا اور انھوں نے سوئٹزرلینڈ کی طرف اشارہ کیا۔ صرف ایک منٹ بعد سوئٹزرلینڈ کے سٹرائیکر کو پیلا کارڈ دکھا دیا گیا۔
ارجنٹائن کی مصر کے خلاف جیت پر بھی سوال اُٹھائے گئے تھے۔ مصر نے فیفا سے مطالبہ کیا تھا کہ اس میچ کے ریفریز کو ٹورنامنٹ سے باہر کیا جائے۔
مصر نے فیفا پر ارجنٹینا کے حق میں جانبداری اور اس کے سٹار کھلاڑی لیونل میسی کی طرف جھکاؤ کا الزام لگایا تھا۔
ڈیٹا ایکسپرٹ مظہر ارشد نے ایکس پر لکھا کہ فیفا رینکنگز کے متعارف ہونے کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ورلڈ کپ میں جانے والی سرفہرست چار ٹیمیں سیمی فائنل تک پہنچ گئی ہیں۔
پیٹرک نامی صارف نے لکھا کہ ’انگلینڈ کو مبارکباد۔ بیلنگھم نے شاندار کھیل پیش کیا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
البتہ انگلینڈ اور ناروے کے درمیان میچ ریفری کے فیصلوں سے متعلق تنازع سے خالی نہیں تھا۔ بعض صارفین کا دعویٰ ہے کہ بال ’سپائیڈر کیم‘ (Spidercam) کی کیبل سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں انگلینڈ نے سکور برابر کر دیا۔
سوشل میڈیا پر ناروے کے حمایتیوں کا کہنا ہے کہ گیند واضح طور پر سپائیڈر کیم سے ٹکرائی، تاہم انگلینڈ کے حامیوں کے مطابق ایسا نہیں ہوا۔
فیفا نے بھی اس پر وضاحت کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ بال میں موجود سینسر نے بال کے زاویے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں دیکھی۔ لہٰذا اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ گیند اوپر موجود تار سے ٹکرائی ہو اور اس کے نتیجے میں اس کی حرکت تبدیل ہوئی ہو۔
ناروے کے بعض صارفین یہ گلہ بھی کرتے دکھائی دیے کہ ناروے کو میچ کے دوران ایک پینلٹی نہیں دی گئی۔

























