’زمین پر جہنم‘: ٹرمپ کی انڈیا سے متعلق متنازع پوسٹ پر اپوزیشن کی کڑی تنقید، ’مودی ٹرمپ سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے فقط اتنا کہا ہے ’ہم نے کچھ رپورٹس دیکھی ہیں۔۔۔ میں بس یہی کہنا چاہوں گا‘
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹس کے ذریعے تنازعات کو جنم دینے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک حالیہ پوسٹ میں امریکہ میں پیدائش پر شہریت کے حق سے متعلق ایسا بیان ’ری پوسٹ‘ کیا ہے جس پر انڈیا میں اپوزیشن جماعتوں اور صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کی گئی متنازع تحریر دراصل مائیکل سیویج کی پوڈ کاسٹ ہے، جو ایک قدامت پسند مصنف اور ریڈیو پروگرام کے میزبان ہیں۔

اس پوسٹ میں پیدائش پر شہریت کے حق کے قانون پر شدید تنقید کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’لوگ حمل کے نویں مہینے میں امریکہ آ جاتے ہیں اور (پیدائش کے فوری بعد) بچہ امریکی شہری بن جاتا ہے۔ اور پھر وہ چین یا انڈیا یا زمین پر موجود کسی اور جہنم (جہنم جیسے مقام) سے پورے کا پورا خاندان امریکہ لے آتے ہیں۔‘

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اور اس بات کا مشاہدہ کرنے کے لیے آپ کو زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں (امریکہ) اب انگریزی نہیں بولی جاتی۔ آج کے دور میں آنے والے تارکینِ وطن کی اکثریت میں امریکہ کے ساتھ وفاداری تقریباً ناپید ہے، حالانکہ ایسا ہمیشہ نہیں تھا۔‘

اس تحریر میں آگے چل کر مزید لکھا ہے کہ ’ہمارے ملک پر چینیوں کی یلغار ہو رہی ہے، جو یہاں صرف اس لیے آتے ہیں کہ بچہ پیدا کریں اور پھر اپنا پورا خاندان بُلا لیں۔ لیکن یہ معاملہ صرف چین تک ہی محدود نہیں بلکہ انڈیا بھی اس میں شامل ہے۔‘

تحریر کے مطابق انڈیا بھی پیدائش کے وقت شہریت ملنے کی سہولت کا ’استحصال‘ کر رہا ہے (یا اس کا غلط فائدہ اٹھا رہا ہے)۔

ٹرمپ نے مائیکل سیویج کا یہ دعویٰ بھی شیئر کیا کہ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ٹیکنالوجی کے شعبے کی نوکریاں چینی اور انڈین شہریوں کو مل جاتی ہیں کیونکہ ’تقریباً تمام اندرونی نظام انڈینز یا چینیوں کے قبضے میں ہے۔‘

ٹرمپ کی جانب سے شیئر کردہ تحریر چار صفحات پر مشتمل ہے اور کافی طویل ہے مگر بظاہر تحریر کا اوپر بیان کردہ حصے کو متنازع قرار دیتے ہوئے اس کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ انڈیا کی حکمران جماعت کو بھی اس معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایکس پر پوسٹ میں کانگریس نے ٹرمپ کے اس بیان کو ’توہین آمیز‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ٹرمپ انڈیا کو ’جہنم‘ کہہ رہے ہیں مگر مودی حکومت کی جانب سے کوئی سخت بیان نہیں دیا گیا۔

کانگریس نے کہا کہ ٹرمپ کے بیان پر ’ہر انڈین کا دل دُکھا ہے۔‘

بی بی سی ہندی کے مطابق جب اس معاملے پر انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال سے استفسار کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’ہم نے کچھ رپورٹس دیکھی ہیں۔۔۔ میں بس یہی کہنا چاہوں گا۔‘

اس پوسٹ کا پس منظر کیا ہے؟

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ٹرمپ کی پوسٹ کو ’توہین آمیز‘ قرار دیا ہے
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ٹرمپ کی جانب سے شیئر کردہ تحریر کی تفصیل میں جانے سے قبل اس واقعے کا پس منظر جاننا ضروری ہے جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

جب ڈونلڈ ٹرمپ دوسری مدت کے لیے امریکہ کے صدر بنے تو انھوں نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر جاری کرتے ہوئے امریکہ میں رائج وہ قانون ختم کر دیا جس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو پیدائش کے ساتھ ہی ملک کی شہریت بھی مل جایا کرتی ہے۔

تاہم امریکی صدر کے اس حکمنامے کے خلاف عدالت میں کیس دائر کر دیا گیا جس کا عنوان ’ٹرمپ بنام باربرا‘ ہے۔

امریکہ میں بی بی سی کے شراکتی ادارے سی بی ایس کے مطابق جب یہ کیس ذیلی عدالتوں میں تھا تو ٹرمپ انتظامیہ نے دلیل دی کہ ذیلی عدالتوں کے ججز کے پاس ایسے احکامات جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے جو پورے ملک پر لاگو ہوتے ہوں۔ سپریم کورٹ نے بھی اس بات سے اتفاق کیا۔

اس پر امریکہ میں شہری آزادیوں کی تنظیم، امریکن سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) اور دیگر تنظیموں نے ایک مقدمہ دائر کر دیا۔ اس مقدمے کے مدعی تین ایسے افراد تھے جن کے ہاں گذشتہ سال بچے پیدا ہوئے تھے اور جنھیں خدشہ تھا کہ ٹرمپ کے حکم نامے سے ان کی شہریت ختم کر دی جائے گی۔

اس پر ٹرمپ انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ وہ براہ راست اس کیس کو سُنے۔ اپریل کے آغاز میں اس کیس کی سماعت ہوئی تو عدالت میں دلائل کا مشاہدہ کرنے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ خود سپریم کورٹ گئے۔

اب انھوں نے مائیکل سیویج کی ایک انتہائی طویل تحریر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کی ہے جس میں عدالت میں زیر سماعت کیس پر تبصرہ کیا کیا ہے اور انڈیا اور چین کے لیے اور ان ممالک کے شہریوں کے لیے متنازع کلمات استعمال کیے گئے ہیں۔

ٹروتھ سوشل کی پوسٹ میں کیا ہے؟

ٹرمپ کی شیئر کردہ مائیکل سیویج کی تحریر کے آغاز میں ’ٹرمپ بنام باربرا‘ کیس کرنے والی تنظیم ’اے سی ایل یو‘ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور اُسے ’سانپ کا سر‘ قرار دیا گیا۔

امریکی صدر کی شیئر کردہ تحریر کے مطابق سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس میں ’یہ بات قابل توجہ تھی کہ امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے حق میں دلائل دینے والی وکیل بھی چینی نژاد امریکی تھیں۔‘

کیس کرنے والوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی لکھا گیا کہ ’ان وکیلوں نے ہم سے ہمارا ملک چھین لیا ہے،‘ اے سی ایل یو کی وکیل امریکہ کو چین کی نو آبادی بنانا چاہتی ہیں اور قوم کا مستقبل ’مٹھی بھر وکیلوں کے ہاتھ میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔‘

ٹرمپ کی شیئر کردہ تحریر میں یہ مطالبہ موجود ہے کہ پیدائش کے وقت شہریت کے کیس کا فیصلہ عدالت کے ذریعے نہیں بلکہ عوامی رائے شماری سے کروایا جائے اور اس پر ’قومی ریفرنڈم‘ کرایا جائے۔

اس تحریر میں تمام تارکین وطن کو بالعموم اور انڈین اور چینی تارکین وطن کو بالخصوص تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم یورپی تارکین وطن کے لیے نرم زبان استعمال کی گئی ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’یورپی ممالک سے امریکہ آنے والے تو یہاں رچ بس جاتے ہیں لیکن یہ لوگ (یعنی انڈین، چینی اور دیگر تارکین وطن) یورپی امریکیوں جیسے نہیں۔‘

امریکی صدر کی شیئر کردہ اس طویل تحریر میں درج ہے: ’ہمارے ملک پر چینیوں کی یلغار ہو رہی ہے، جو یہاں صرف اس لیے آتے ہیں کہ بچہ پیدا کریں اور پھر اپنا پورا خاندان بلا لیں۔ لیکن یہ معاملہ صرف چین تک ہی محدود نہیں بلکہ انڈیا بھی اس میں شامل ہے۔‘

ٹرمپ کی شیئر کردہ تحریر کے مطابق ’تارکین وطن اس نظام کو نچوڑ رہے ہیں۔ آپ کسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں جا کر دیکھیں، ان میں سے کسی ایک کی ناک بہنے لگے تو 15 افراد اس کے ساتھ آ جاتے ہیں اور انھیں کچھ بھی دیے بغیر ایک لاکھ ڈالر تک کا علاج مل جاتا ہے۔‘

یاد رہے کہ امریکی آئین میں 14ویں ترمیم کے ذریعے ’پیدائش پر شہریت‘ کا قانون عمل میں آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے ’تمام افراد امریکی شہری ہیں۔‘

ایک شخص نے بینر اٹھا رکھا ہے جس پر امریکی آئین کی 14 ویں ترمیم درج ہے

،تصویر کا ذریعہAl Drago/Getty Images

،تصویر کا کیپشنامریکی آئین کی 14 ویں ترمیم کے مطابق ملک میں پیدا ہونے والے ’تمام افراد امریکی شہری ہیں‘

امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کا پہلا جملہ ہی ’پیدائش پر شہریت‘ کے اصول کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کے مطابق ’وہ تمام افراد جو امریکہ میں پیدا ہوئے اور اس کی حدود میں رہائش پذیر ہیں وہ سب امریکی شہری ہیں۔‘

امریکی آئین میں 14ویں ترمیم خانہ جنگی کے اختتام پر 1868 میں کی گئی تھی۔ ملک میں 1865 میں غلام رکھنے کو ممنوع قرار دیا گیا تھا جبکہ 14ویں ترمیم میں آزاد کیے جانے والے ان غلاموں کی شہریت کی بات کی گئی تھی جو امریکہ میں ہی پیدا ہوئے تھے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے کچھ فیصلوں میں کہا گیا تھا کہ امریکہ میں موجود افریقی کبھی بھی امریکی شہری نہیں بن سکتے تاہم 14ویں ترمیم کے بعد یہ تمام فیصلے کالعدم ہو گئے۔

سنہ 1898 میں سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کے دوران یہ اصول طے کر دیا تھا کہ ’پیدائش پر شہریت‘ کے قانون کا اطلاق پناہ گزینوں کے بچوں پر بھی ہو گا۔

تاہم امریکی صدر کی جانب سے شیئر کردہ تحریر میں کہا گیا کہ ملک کا آئین تو ’ہوائی سفر کے آغاز سے بھی پہلے لکھا گیا تھا۔ یہاں تک کہ ٹیلی وژن، انٹرنیٹ اور ریڈیو کے دور سے بھی پہلے۔‘

’نریندر مودی ٹرمپ سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیر اعظم نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

،تصویر کا کیپشناپوزیشن جماعت کانگریس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے

اس بیان پر انڈیا میں تنقید ہو رہی ہے۔

کانگریس نے انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی صدر کے ساتھ اس معاملے پر بات کریں اور سخت احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ کانگریس نے کہا کہ ٹرمپ پہلے بھی انڈیا کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کر چکے ہیں اور ان پر بھی مودی خاموش رہے۔

انڈیا کی اپوزیشن جماعت کی طرف سے جاری بیان میں یہ سوال بھی پوچھا گیا کہ ’نریندر مودی ٹرمپ سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟‘

انڈین سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کے رہنما منیش سسوڈیا نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’انڈیا کو جہنم کہنا دراصل انڈیا کی توہین نہیں بلکہ یہ آپ کی لاعلمی اور تکبر کو بے نقاب کرتا ہے۔‘