لائیو, ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر کوئی جلدی نہیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر کوئی جلدی نہیں اور وہ بس ’ایک بہترین معاہدہ‘ چاہتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی وزیرِ داخلہ نے جنگ بندی میں توسیع کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے بھی مثبت پیش رفت کی امید ہے۔

خلاصہ

  • ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر 'وقت کی کوئی قید نہیں': ٹرمپ
  • آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے تین جہازوں پر حملے کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • امریکی بحریہ کے سیکریٹری جان سی فیلن ٹرمپ انتظامیہ سے علیحدہ
  • خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدمِ تحفظ کی 'اصل جڑ' امریکی اور اسرائیلی 'جارحیت' ہے: عباس عراقچی
  • آبنائے ہرمز میں بچھی بارودی سرنگیں صاف کرنے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں: پینٹاگون
  • بلوچستان میں معدنیات کی کمپنی نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کی سائٹ پر حملہ

لائیو کوریج

  1. ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر ’وقت کی کوئی قید نہیں‘: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میزبان مارٹھا میکالَم کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر ’وقت کی کوئی قید نہیں‘۔

    مارٹھا میکالَم کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں انھیں بتایا کہ وہ تنازع کے خاتمے کے لیے ’کسی عجلت میں نہیں‘ اور وہ ’ایک بہترین معاہدہ‘ چاہتے ہیں۔

    اس سے قبل بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ ’جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔‘

    لیویٹ نے جنگ بندی میں تین سے پانچ دن کی توسیع سے متعلق خبروں کو ’غلط‘ قرار دیا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ نے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی وہ بحری ناکہ بندی سے ’مطمئن‘ ہیں اور ’سمجھتے ہیں کہ ایران اس وقت بہت کمزور پوزیشن میں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قیادت کی جانب سے مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں،‘ جنھیں انھوں نے ’عوامی سطح پر بے معنی باتیں‘ قرار دیا۔

    ’ہم ایک متفقہ ردِعمل اور جواب کے منتظر ہیں۔‘

  2. آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے تین جہازوں پر حملے کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے تین جہازوں پر حملے کی اطلاعات کے بعد جمعرات کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے پیمانے کے طور پر استعمال ہونے والا برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا تیل 94 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا ہے۔

    منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ توسیع کا مقصد ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے مزید وقت فراہم کرنا ہے۔

  3. خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدمِ تحفظ کی ’اصل جڑ‘ امریکی اور اسرائیلی ’جارحیت‘ ہے: عباس عراقچی

    عراقچی

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدمِ تحفظ کی ’اصل جڑ‘ امریکہ اور اسرائیل کی ’جارحیت‘ ہے۔

    ایرانی حکومت کی جانب سے ایکس پر جاری بیانات میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی نے تہران میں جنوبی کوریا کے خصوصی ایلچی سے ملاقات کی۔

    اس ملاقات کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ ’ان حملوں کی مذمت میں واضح اور سخت مؤقف اختیار کریں‘۔

    بیان کے مطابق عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ کہ ایران نے اپنی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت اقدامات کیے ہیں، اور کسی بھی ممکنہ نتائج کی ’ذمے داری جارح فریقوں پر عائد ہوتی ہے‘۔

    یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو جہاز ’تحویل میں لے لیے‘ ہیں، جبکہ ایک تیسرے مال بردار جہاز پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔

  4. پاکستانی وزیرِ داخلہ کی اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور سے ملاقات: ایران کی جانب سے مثبت پیش رفت کی امید ہے، محسن نقوی

    محسن نقوی، نیٹلی بیکر

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of Interior

    پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ ایران کی جانب سے مثبت پیش رفت کی امید ہے۔

    جمعرات کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے حوالے سے سفارتی کاوشوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محسن نقوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے اقدام کو سراہا۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع خوش آئند ہے۔ انھوں نے اسے کشیدگی میں کمی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔

    وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بھی مثبت پیش رفت کی امید ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر مسئلے کے حل کے لیے ہر سطح پر بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

    ’امید ہے کہ فریقین سفارتی اور پر امن حل کو موقع دیں گے۔‘

    نیٹلی بیکر نے خطے میں قیام امن اور تنازع کے حل کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔

  5. ایران میں جاری جنگ نے یورپ کو ’کمزور‘ کرنا شروع کر دیا ہے: ترک صدر اردوغان

    اردوغان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے جرمنی کے صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا ہے کہ ایران میں جاری نے جنگ یورپ کو بھی ’کمزور‘ کرنا شروع کر دیا ہے۔

    اردوان کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بدھ کو فون پر بات چیت ہوئی، جس میں باہمی تعلقات کے علاوہ ایران اور یوکرین میں جاری جنگوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدر اردوغان نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہمارے خطے میں جنگ نے یورپ کو بھی کمزور کرنا شروع کر دیا ہے، اور اگر اس رجحان کا تدارک امن پر مبنی حکمتِ عملی کے ذریعے نہ کیا گیا تو اس تنازع سے ہونے والا نقصان کہیں زیادہ سنگین ہو جائے گا۔‘

  6. پاسداران انقلاب کا دو بحری جہازوں کو تحویل لینے کا دعویٰ: ’دونوں جہاز چوری چھپے آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے‘

    ایسی اطلاعات ہیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر حملہ کیا ہے اور ان میں سے دو کو تحویل میں لے لیا ہے۔

    ایران نے یہ اقدام امریکہ کی جانب سے خلیج میں بحری ناکہ بندی کے تحت ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز کو تحویل میں لیے جانے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ تہران نے اس پر جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

    اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ توسکا نامی جہاز کو امریکی بحریہ نے اس وقت تحویل میں لیا جب وہ رکنے کے ہدایات پر عمل میں ناکام رہا۔

    ایران کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور وہ اس ’مسلح بحری قزاقی‘ کے خلاف جلد جوابی کارروائی کرے گا۔

    بدھ کے روز پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت کی ’نگرانی‘ کر رہے ہیں اور ’خلاف ورزی کرنے والوں‘ کے خلاف ’سخت‘ کارروائی کا عندیہ دیا۔

    جہازوں ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینونداس کو تحویل میں لینے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کہنا تھا کہ یہ دونوں جہاز ’بنا اجازت‘ چل ہوئے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب کا الزام ہے کہ یہ دونوں جہاز چوری چھپے آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے اور انھوں نے نیویگیشن سسٹمز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔

    بی بی سی ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

  7. ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا شہر میں پیٹرول کی قلت کی خبروں کا نوٹس

    پیٹرول پمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی قلت کی خبروں پر ردِ عمل دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں پیٹرول پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کا سٹاک وافر مقدار میں موجود ہے۔

    ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیوی ٹریفک کی بندش کی وجہ سے چند پیٹرول پمپس کو وقتی پریشانی کا سامنا رپورٹ ہوا تاہم پیٹرول ٹینکرز کے ذریعے ایسے تمام پمپس پر فیول کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنرز اپنے اپنے علاقوں میں پمپس پر سٹاک کی دستیابی پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے بھی شہر بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی اور دستیابی کی مانیٹرنگ جاری ہے۔

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے پیشِ نظر شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

  8. بلوچستان میں معدنیات کی کمپنی نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کی سائٹ پر حملہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں معدنیات کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی نیشنل ریسورسز (پرائیوٹ) لمیٹڈ (این آر ایل) کی ایک سائٹ پر بدھ کے روز نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا ہے۔

    کمپنی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، 22 اپریل 2026 کو تقریباً شام 5 بج کر 45 منٹ پر بلوچستان کے ضلع چاغی میں داریگوان کے علاقے میں نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کی سائٹ پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔

    بیان کے مطابق فرنٹیئر کور سمیت سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو محفوظ بنا لیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اہلکاروں اور تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

    نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کا کہنا ہے کہ کمپنی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور مزید معلومات دستیاب ہونے پر تازہ صورتِ حال سے آگاہ کیا جائے گا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملازمین اور آپریشنز کی حفاظت اور سلامتی کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔

    این آر ایل کوئٹہ میں رجسٹرڈ ایک نجی پاکستانی کمپنی ہے۔ یہ فاطمہ فرٹیلائزر، لبرٹی ملز اور لکی سیمنٹ کے درمیان قائم ایک جوائنٹ وینچر کے طور پر تشکیل دی گئی ہے۔

    کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق این آر ایل کے پاس بلوچستان میں 500 مربع کلومیٹر میں سونے اور تانبے کی تلاش کا لائسنس ہے۔

    این آر ایل

    ،تصویر کا ذریعہwww.national-resources.com/

  9. آبنائے ہرمز میں بچھی بارودی سرنگیں صاف کرنے میں چھ ماہ تک لگ سکتے ہیں، پینٹاگون

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے عمل میں چھ ماہ تک لگ سکتے ہیں اور غالب امکان ہے کہ یہ کارروائی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بعد ہی شروع کی جائے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بارودی سرنگیں ایران کی جانب سے بچھائی گئی ہیں۔

    بی بی سی عربی نے واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ بات محکمۂ دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ارکان کو بند کمرے میں دی گئی بریفنگ کے دوران کہی۔ اس بریفنگ سے آگاہ تین عہدیداروں نے اس کی تصدیق کی ہے۔

    ان میں سے دو عہدیداروں نے بتایا کہ اس ٹائم لائن پر ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے ارکان نے مایوسی کا اظہار کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی امن معاہدے کے بعد بھی ایندھن اور تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تینوں عہدیداروں نے بتایا کہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے آس پاس کے علاقے میں بارودی سرنگیں بچھا چکا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

    ایک اعلیٰ عہدیدار نے کانگریس کو بتایا کہ ان میں سے بعض بارودی سرنگیں جی پی ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے دور سے نصب کی گئیں، جس کے باعث تنصیب کے دوران امریکی افواج کے لیے ان کی نشاندہی کرنا مشکل ہو گیا۔

    مزید یہ کہ خیال کیا جاتا ہے کہ کچھ دیگر بارودی سرنگیں ایرانی افواج نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بھی بچھائی ہیں۔

  10. ایران سے منسلک جہازوں کے ناکہ بندی سے بچ نکلنے کی اطلاعات ’درست‘ نہیں: امریکی فوج کا دعویٰ

    امریکی بحریہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے اُن کی افواج اب تک 29 جہازوں کو روک چکی ہیں اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ متعدد تجارتی بحری جہازوں کے ناکہ بندی سے بچ نکلنے کی میڈیا رپورٹس ’درست نہیں‘ ہیں۔

    سینٹکام کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دو ایرانی پرچم بردار ٹینکرز ’ہیرو ٹو‘ اور ’ہیڈی‘، جن کا میڈیا میں ذکر کیا گیا تھا کسی بحری قافلے کے حصے کے طور پر ناکہ بندی عبور نہیں کر سکے بلکہ انھیں روکنے کے بعد ایران کی بندرگاہ چاہ بہار میں لنگر انداز کر دیا گیا ہے۔‘

    بیان کے مطابق ایک اور جہاز ’ڈورینا‘ نے ناکہ بندی کی ’خلاف ورزی‘ کی کوشش کی جس کے بعد اسے بحرِ ہند میں امریکی بحریہ کے ایک ڈسٹرائر نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

    سینٹکام کا کہنا ہے کہ ’امریکی فوج کی رسائی عالمی سطح تک ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امریکی افواج مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر بھی کارروائی کرتے ہوئے ناکہ بندی کو نافذ کر رہی ہیں۔‘

  11. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی، ہم ایک متفقہ ردِعمل اور جواب کے منتظر ہیں۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی، دھمکیاں اور وعدوں کی خلاف ورزی مذاکرات میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران میں مبینہ طور مظاہروں میں شامل آٹھ خواتین کو ایرانی حکام سے اُن کی درخواست کے بعد اب پھانسی نہیں دی جائے گی۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ فوجی جارحیت سے اہداف حاصل نہیں ہو سکتے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنا ہے

    نیو یارک پوسٹ کے مطابق اسلام آباد میں آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران مذاکرات ہونے کے امکان کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے کہ ’یہ ممکن ہے۔‘

    ایران کے نائب وزیرِ توانائی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ’دو ہزار سے زیادہ بجلی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

  12. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔