آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایلون مسک نے یہ کیوں کہا کہ ’کیا انڈیا کا اصل باس امبانی ہے؟‘
ایلون مسک نے حال ہی میں جب یہ بیان دیا کہ انڈیا میں چند بڑے کاروباری نام سٹار لنک کی سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس کے راستے کی رکاوٹ بن رہے ہیں تو ملک میں جیسے کھلبلی مچ گئی۔
ایک جانب جہاں انڈیا کی حکومت کو اس الزام پر باضابطہ تردید جاری کرنا پڑی تو دوسری جانب اپوزیشن رہنما راہل گاندھی ان کی حمایت میں میدان میں کود پڑے۔
بات بڑھی تو ایلون مسک نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر بیان میں یہ تک لکھ دیا کہ ’کیا انڈیا کا اصلی باس امبانی ہے؟‘ یاد رہے کہ مکیش امبانی انڈیا کے امیر ترین کاروباری گروپ کے مالک ہیں۔
اس پیغام کے جواب میں انڈیا کے اپوزیشن رہنما کانگریس پارٹی کے راہل گاندھِی نے لکھا ’آپ کو انڈیا میں خوش آمدید۔‘
یہ تنازع کیا ہے؟ ایلون مسک اچانک انڈیا کی بڑی کاروباری شخصیات پر الزام کیوں لگا رہے ہیں اور ان الزامات پر حکومت کا کیا کہنا ہے؟
ایلون مسک نے کیا کہا تھا؟
یہ تنازع ایک پیغام سے شروع ہوا تھا جب ایلون مسک نے ایکس پر لکھا کہ انڈیا کی چند اہم کاروباری شخصیات سٹار لنک کے انڈیا میں داخل ہونے کی راہ میں حائل ہیں۔
انھوں نے بعد میں لکھا کہ سٹار لنک دنیا کے بیشتر ممالک میں اب سیٹلائیٹ انٹرنیٹ سروس مہیا کرتا ہے اور تمام مقامات پر مقامی قوانین کی پیروی کی جاتی ہے۔
انڈیا کی حکومت نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے مسک کے الزامات کی تردید کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزارت مواصلات نے 8 اکتوبر کو کہا کہ انڈیا کا سیٹلائٹ کمیونیکیشن ریگولیٹری نظام منصفانہ اور غیر امتیازی ہے۔
حکومت کے مطابق، سٹار لنک سمیت تین کمپنیاں اس وقت سیکیورٹی چیک کے ایک ہی ریگولیٹری مرحلے میں ہیں۔
یاد رہے کہ ایلون مسک نے یہ بھی کہا تھا کہ ’بدقسمتی سے، ہمیں کچھ صنعتکاروں کی جانب سے انڈیا کی عوام پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے روکا جا رہا ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔۔۔ یہ انڈیا کے لوگوں کے خلاف ایک جرم ہے۔‘
مسک کی جانب سے شیئر کی گئی پوسٹ میں لکھا گیا کہ انڈیا کے کئی دیہاتوں اور دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ تک رسائی اب بھی محدود ہے۔
سٹار لنک کا دعویٰ ہے کہ اس کی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی ان علاقوں تک تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کر سکتی ہے جہاں فائبر یا موبائل نیٹ ورکس تک پہنچنا مشکل ہے۔
سٹار لنک کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی تعلیم، ٹیلی میڈیسن اور چھوٹے کاروبار کے دوران کنیکٹوٹی میں مدد دے سکتی ہے اور انڈیا میں سروس شروع کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے دیگر منظوریوں اور سپیکٹرم کی تقسیم کو مکمل کرنا ہوگا۔
انڈیا کی حکومت نے کیا جواب دیا؟
انڈیا کی حکومت نے کہا ہے کہ سٹار لنک کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا۔
وزارت مواصلات نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ’انڈیا کے سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز کے ضوابط منصفانہ اور سب کے لیے برابر ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی جا رہی ہے، جو انڈیا کے سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز کے ضوابط کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ان ضابطوں کو امتیازی طریقے سے لاگو کیا جا رہا ہے۔‘
حکومت نے کہا کہ سیٹلائٹ کمیونیکیشن سمیت تمام ٹیلی کام خدمات کے لیے منصفانہ اور غیر امتیازی قوانین بنائے گئے ہیں۔
حکومت کے مطابق تین کمپنیوں کو سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز کے لیے ٹیلی کام لائسنس دیے گئے ہیں۔ ان تمام کمپنیوں کو لائسنس کی شرائط کے مطابق سیکیورٹی قوانین پر عمل کرنا ہو گا۔
حکومت نے کہا کہ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ان کمپنیوں کی خدمات صارفین اور ان کے ڈیٹا کی حفاظت سے متعلق تمام قواعد پر پورا اتریں۔
حکومت کے مطابق تینوں کمپنیوں کا سیکیورٹی آڈٹ فی الحال جاری ہے۔ ایک بار جب کوئی کمپنی اس عمل کو مکمل کر لیتی ہے، تو وہ سپیکٹرم مختص کرنے کے اگلے مرحلے میں جا سکتی ہے۔ ’فی الحال تینوں کمپنیاں تقریباً ایک ہی ریگولیٹری مرحلے میں ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ قواعد یا ان پر عمل درآمد امتیازی ہے، بے بنیاد اور غلط ہے۔‘
یہ تنازع کیا ہے؟
ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی بھارتی ایئرٹیل نے بھی ایلون مسک کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کی سیٹ کام کمپنی سٹار لنک کو انڈیا میں کام کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ چیئرمین سنیل بھارتی متل نے کہا کہ ان کا سیٹ کام وینچر بھی انڈیا میں اپنی خدمات شروع کرنے کی منظوری کا منتظر ہے۔
یاد رہے کہ بزنس سٹینڈرڈ کے مطابق ، سٹار لنک نے 2022 میں انڈیا میں خدمات شروع کرنے کے لیے اپنی کوششیں شروع کیں۔ جون 2025 میں، اسے ٹیلی کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے جی ایم پی سی ایس (سیٹیلائٹ کمیونیکیشن سروسز) کا لائسنس ملا۔
بعد ازاں، سپیکٹرم کو ستمبر 2025 میں ٹرائلز کے لیے دیا گیا۔ تاہم، کچھ دیگر طریقہ کار بشمول سیکیورٹی کلیئرنس، کمرشل سروس شروع ہونے سے پہلے مکمل ہونا باقی ہے۔
رائٹرز کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈیا میں سٹار لنک کے دو بڑے ممکنہ حریف ریلائنس جیو اور بھارتی ایئرٹیل نے بھی اس کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔
مارچ 2025 میں، جیو اور ایئر ٹیل نے سٹار لنک کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔
اس کے تحت دونوں کمپنیاں اپنے ریٹیل نیٹ ورک کے ذریعے سٹار لنک کے آلات کو دستیاب کرانے کی سمت کام کریں گی۔
تاہم، یہ کمپنیاں براڈ بینڈ سروس مارکیٹ میں اسٹار لنک کی حریف بھی ہیں۔
فی الحال، تین کمپنیوں نے انڈیا میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے لیے لائسنس حاصل کیے ہیں۔
سٹار لنک کے انڈیا میں داخلے کے دوران سپیکٹرم کے حوالے سے ایک بڑا تنازع بھی ہوا تھا۔
مسک کی خواہش تھی کہ انتظامی ذرائع سے سیٹلائٹ کمپنیوں کو سپیکٹرم دیا جائے، جب کہ ریلائنس جیو سمیت کچھ انڈین کمپنیاں سپیکٹرم کی نیلامی کے حق میں تھیں۔
بعد میں حکومت نے سیٹلائٹ سپیکٹرم کو نیلام کرنے کے بجائے انتظامی طور پر مختص کرنے کا راستہ اپنایا۔