آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے مقامی سطح پر تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کے ’توسیعی ورژن‘ میں نیا کیا ہے؟
- مصنف, اسد صہیب، عمیر سلیمی
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
پاکستان نے مقامی طور پر تیار کردہ ’فتح-4‘ گراؤنڈ لانچڈ کروز (زمین سے داغے جانے والے) میزائل کے توسیعی ورژن کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستان فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق ’جدید ترین ایویونکس اور نیویگیشنل آلات سے لیس یہ میزائل انتہائی درستگی اور تباہ کن صلاحیت کے ساتھ طویل فاصلے پر موجود اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تجربے کے دوران ’بہتر درستگی اور صلاحیت کو بڑھانے کے لیے شامل کیے گئے مختلف ذیلی نظاموں کے اضافی تکنیکی پیرامیٹرز کی بھی تصدیق کی گئی۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس تجربے کا مشاہدہ پاکستان آرمی کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ساتھ اسے تیار کرنے والے ادارے کے سائنسدانوں اور انجینئروں نے کیا۔
پاکستان فوج کے بیان کے مطابق یہ میزائل ’زمین کی سطح کے قریب پرواز کرنے کی خصوصیات کی بدولت دُشمن کے میزائل دفاعی نظام کو چکمہ دینے اور انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان کے پاس فتح سیریز کے ’فتح ون‘۔ ’فتح 2‘ اور ’فتح 3‘ میزائل پہلے سے ہی موجود ہیں۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ برس مئی میں ہونے والی چار روزہ جنگ کے دوران جہاں انڈیا نے پاکستان پر براہموس میزائلوں سے حملہ کیا تو وہیں پاکستان نے 'فتح ون' میزائل سے جوابی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
رواں برس سات مئی کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ایک ویڈیو میں ’فتح تھری کروز میزائل‘ کی رونمائی کی تھی اور اس کا موازنہ انڈیا کے براہموس میزائلوں کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹورنٹو میں قائم ڈیفنس نیوز اینڈ اینالسس گروپ قوة کے مطابق پاکستان نے سنہ 2021 میں پہلی مرتبہ فتح ون سیریز کا میزائل لانچ کیا تھا جس کے مار کرنے کی صلاحیت 140 کلو میٹر تھی۔
سنہ 2024 میں پاکستان نے فتح 2 کو اپنے بیڑے میں شامل کیا تھا جو 400 کلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پھر رواں برس مئی میں فتح تھری میزائل کی رونمائی کی گئی۔
’یہ بہت نیچے پرواز کر سکتا ہے‘
پاکستانی فضائیہ کے سابق ایئر کموڈور (ر) اویس خان کہتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ برس ہونے والی جھڑپ کے بعد پاکستان نے فتح سیریز کے میزائل بنانے میں زیادہ توجہ دی ہے۔
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’فتح 4‘ کا نیا میزائل 330 کلو گرام روایتی پے لوڈ لیجانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا نیویگیشن سسٹم شدید جیمنگ کے باوجود آزادانہ طور پر کام کر سکتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’اس کی رفتار کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ مَیک 0.7 (864 کلو میٹر فی گھنٹہ) سب سونک میزائل ہے جس کی ہدف کو نشانہ بنانے کی درستگی تقریباً پانچ میٹر بتائی گئی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میزائل کا 750 کلومیٹر تک مار کرنے کا تجربہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے جبکہ مزید فاصلے کے لیے بھی کم بلندی پر آزمائشیں کی گئی ہیں۔ اس کی نمایاں خصوصیت دشمن کے ریڈار نظام کو چکمہ دے کر ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’دُشمن کے ریڈار گرڈز سے بچنے کے لیے یہ زمین کی سطح سے صرف 50 میٹر اُوپر پرواز کرنے کی نمایاں خصوصیت بھی رکھتا ہے۔‘
’یہ فتح 4 کا ایک نیا ویریئنٹ فتح 4 ای آر ہے‘
ٹورنٹو میں قائم ڈیفنس نیوز اینڈ اینالسس گروپ قوة کے بانی اور دفاعی امور کے محقق بلال حسین خان کے مطابق فوج کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ ’یہ فتح 4 کا ایک نیا ویریئنٹ فتح 4 ای آر ہے۔‘
بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’فتح 4 ای آر سائز کے لحاظ سے فتح 4 کے مقابلے میں بڑا دکھائی دیتا ہے۔‘
آئی ایس پی آر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس نئے ویریئنٹ کی رینج زیادہ ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ اضافہ کس حد تک ہے۔
لیکن بلال حسین کہتے ہیں کہ ’اپنی حالیہ رپورٹنگ میں ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ پاک فوج زیادہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائلوں کے حصول پر کام کر رہی ہے، خاص طور پر ایسے میزائل جن کی رینج ایک ہزار کلو میٹر سے زیادہ ہو۔‘
اُن کے بقول ’موجودہ فتح 4 کی رینج 750 کلو میٹر ہے جبکہ ماضی میں بابر-ون کی رینج 900 کلو میٹر بتائی گئی تھی۔ لہذا فتح 4 ای آر کی حقیقی رینج کی تصدیق نہیں کی جا سکتی، لیکن میرے خیال میں ایک ہزار کلو میٹر سے زائد رینج کا اندازہ محفوظ ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس کی رینج 1200 سے 1500 کلو میٹر تک بڑھانا پاکستان فوج کا اگلا ممکنہ ہدف ہو سکتا ہے۔
اُن کے بقول اضافی رینج کے علاوہ فتح 4 کے ڈیزائن میں بھی کچھ اہم تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ ’اس کے فولڈ ہونے والے پر میزائل کے اندر رکھنے کے بجائے بیرونی حصے میں شامل کیے گئے ہیں، جس سے اس کی تیاری نسبتاً آسان اور کم لاگت ہو سکتی ہے۔ رینج بڑھانے کے لیے اس کا ایئر فریم بھی بڑا کیا گیا ہے تاکہ زیادہ ایندھن کی گنجائش پیدا ہو سکے۔‘
بلال حسین کا کہنا ہے کہ ’یہ سب سونک کروز میزائل ہے جو طویل فاصلے تک زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ فتح ون، فتح 2 اور فتح تھری سے اس کا کردار مختلف ہے اور اسے طویل فاصلے پر مار کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘
آئندہ فوجی لڑائیوں میں کروز میزائلوں کا کیا کردار ہو گا؟
دفاعی امور کے ماہرین اس جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان دونوں کے پاس ایسے سپر سونک کروز میزائل ہیں جو آئندہ کی فوجی لڑائیوں کو ماضی کی لڑائیوں سے بہت مختلف بنا سکتے ہیں۔
پاکستانی فوج کے سابق بریگیڈیئر ڈاکٹر طغرل یمین نے مئی میں بی بی سی کے عمیر سلیمی کو بتایا تھا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے برعکس کروز میزائل ریڈار کی نظروں سے اوجھل رہ سکتے ہیں اور ان کی رفتار سپر سونک ہوتی ہے مگر ان کی رینج قدرے کم ہوتی ہے۔
وہ یوکرین جنگ اور مشرق وسطی میں جاری لڑائیوں کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب جنگوں میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔
گذشتہ سال اگست میں راکٹ فورس کے قیام کے بعد سے پاکستان کی مسلح افواج نے کئی میزائلوں کی آزمائش کی ہے۔ پاکستانی فوج کے سابق بریگیڈیئر اور دفاعی امور کے ماہر ڈاکٹر طغرل یمین بتاتے ہیں کہ راکٹ فورس کے قیام کا مقصد یہی تھا کہ پاکستان اپنے سٹریٹیجک جوہری میزائلوں کو روایتی میزائلوں سے الگ کرنا چاہتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جنگ میں استعمال ہونے والے روایتی میزائلوں کو الگ اسی لیے کیا گیا تاکہ فیصلہ سازی آسان اور تیز ہو سکے۔‘
کینبرا کی نیشنل یونیورسٹی میں سٹریٹیجک اور ڈیفینس سٹڈیز کے لیکچرر ڈاکٹر منصور احمد نے مئی 2025 میں بی بی سی کی منزہ انوار کو بتایا تھا کہ فتح میزائل پاکستان کی لانگ رینج راکٹ آرٹلری سسٹم میں جدید اضافہ ہیں۔
ان کا استعمال انتہائی درستگی کے ساتھ مختلف اہم اہداف پر جوابی حملوں کے لیے کیا جاتا ہے جن میں ائیربیسز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، ایمونیشن ڈیپوز، لاجسٹک سپلائی لائنز، اور دشمن کے فاروڈ سپلائی ٹینکس یا توپ خانے وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر منصور کے مطابق فتح سیریز پاکستان کا بہت مؤثر میزائل سسٹم ہے جو ایئر فورس کے ساتھ مل کر دشمن کی (آفینسو کیپیبلٹی) کو نشانہ بنانے اور اُن کے ہائی ویلیو ڈیفینسو ٹارگٹس کو نیوٹرآئز کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس میزائل کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ آپ ان میزائلوں کو دشمن کے دفاعی نظام کی حدود سے باہر، سٹینڈ آف رینج سے فائر کر سکتے ہیں۔ ان میزائلوں میں 'شوٹ اینڈ سکوٹ' کی صلاحیت موجود ہے، یعنی فائر کرنے کے فوراً بعد یہ اپنی جگہ بدل سکتے ہیں اسی وجہ سے یہ دشمن کی جوابی گولہ باری سے محفوظ رہتے ہیں، کیونکہ ان کا مقام فوری طور پر تبدیل ہو جاتا ہے لہٰذا انھیں نشانہ بنانا یا روکنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔