آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, صوابی میں آخری پلان دیں گے، انصاف دیں ورنہ ہر روز سڑکوں پر تماشہ ہو گا: سہیل آفریدی

پاکستان تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کے چھٹے روز کارکنوں سے خطاب کے دوران وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ صوابی پہنچ کر آئندہ کا پلان بتائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ یا تو ہمیں انصاف دیا جائے ورنہ ہر روز سڑکوں پر تماشہ ہو گا‘

خلاصہ

  • بلوچستان کے ضلع دُکی سے اغوا کیے گئے 11 مزدور بازیاب
  • صوابی میں آخری پلان دیا جائے گا، جو مخالفین کی نیندیں حرام کر دے گا: سہیل آفریدی کا لانگ مارچ سے خطاب
  • افغانستان سے دہشت گردی پر اختلافات کے باعث ماسکو فارمیٹ اجلاس مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کر سکا، پاکستان
  • نئی دہلی کے حساس علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل
  • آبنائے ہرمز کے قریب گیس بردار جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاسدارانِ انقلاب کی مزید کارروائیوں کی دھمکی

لائیو کوریج

  1. بلوچستان کے ضلع دُکی سے اغوا کیے گئے 11 مزدور بازیاب, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع دُکی سے اغوا کیے گئے 11 مزدور بازیاب کرا لیے گئے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا شاہد رند نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں مزدوروں کی بازیابی کی تصدیق کی۔ تاہم حکام نے یہ نہیں بتایا کہ مغویوں کی بازیابی کن حالات میں ممکن ہوئی۔

    یاد رہے کہ 25 ستمبر کو دُکی کے علاقے پلری میں سڑک تعمیر کرنے والی ایک کمپنی کے کیمپ پر 30 سے زائد مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔

    سرکاری حکام کے مطابق حملے میں کمپنی کا ایک نجی سکیورٹی گارڈ ہلاک جبکہ ایک راہگیر سمیت تین افراد زخمی ہوئے تھے۔ حملہ آوروں نے کمپنی کی چار گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کے علاوہ 12 مزدوروں کو اغوا کر لیا تھا، جن میں سے 10 کا تعلق پنجاب سے تھا۔

    پانچ روز قبل اغوا کیے گئے مزدوروں میں سے ایک کو، جس کا تعلق پنجاب سے تھا، اغوا کاروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

  2. افغانستان سے دہشت گردی پر اختلافات کے باعث ماسکو فارمیٹ اجلاس مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کر سکا، پاکستان

    پاکستان نے کہا ہے کہ ماسکو فارمیٹ کے حالیہ اجلاس کے بعد افغانستان سے دہشت گردی کے مسئلے پر اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو سکا، تاہم اسلام آباد خطے کے ممالک کے ساتھ مکالمے اور سفارتی رابطوں کا عمل جاری رکھنا چاہتا ہے۔

    دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے 5 اکتوبر کو ماسکو میں ہونے والے آٹھویں ماسکو فارمیٹ اجلاس میں تعمیری انداز میں شرکت کی اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گرد سرگرمیوں پر اپنے تحفظات واضح طور پر پیش کیے۔

    ترجمان کے مطابق پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں خطے کے لیے، خصوصاً پاکستان کے لیے، ایک سنگین سکیورٹی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ انھوں نے یاد دلایا کہ گذشتہ سال ماسکو فارمیٹ کے مشترکہ اعلامیے میں بھی اس معاملے کا واضح ذکر شامل تھا۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سال افغان طالبان کے وفد نے دہشت گردی سے متعلق وہ زبان برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی جو گذشتہ برس تمام فریقوں کے درمیان طے پائی تھی، جس کے نتیجے میں اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے نزدیک یہ محض الفاظ یا سفارتی اصطلاحات کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک حقیقی اور سنجیدہ سکیورٹی چیلنج ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’کوئی بھی ایسا مشترکہ اعلامیہ جو افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کی حقیقت اور شدت کی عکاسی نہ کرے، زمینی صورتحال کی مکمل اور درست تصویر پیش نہیں کر سکتا۔‘

    ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ اجلاس کے دوران روسی نمائندے نے بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ طالبان وفد نے اس زبان پر اعتراض کیا جسے ایک سال قبل متفقہ طور پر قبول کیا گیا تھا۔

    ان کے مطابق طالبان وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان کی زمینی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے، تاہم پاکستان کی رائے میں صورتحال میں تبدیلی کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کو ملنے والی بڑھتی ہوئی گنجائش خطے اور عالمی برادری کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

    آئندہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستان کی شرکت کے بارے میں سوال پر دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اگلا اجلاس تقریباً ایک سال بعد متوقع ہے، اس لیے اس حوالے سے مشاورت اور فیصلہ سازی کے لیے کافی وقت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی رابطوں کا حامی ہے، تاہم آئندہ اجلاس میں شرکت کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

  3. مکہ دفاعی اتحاد ایک دفاعی معاہدہ ہے، یمن میں پاکستانی طیاروں کی کارروائیوں کی خبریں بے بنیاد ہیں: دفترِ خارجہ

    ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سکیورٹی کے تحفظ کے لیے مملکت کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی رکھتا ہے، جبکہ مکہ دفاعی اتحاد ایک دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے جس کا مقصد رکن ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔

    جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی افواج کی جانب سے شہریوں کے تحفظ کے اقدامات کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مدینہ میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن سٹیشن پر ہونے والے حملے کی بھی شدید مذمت کی تھی اور حرمین شریفین کی حرمت اور زائرین کی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔

    ترجمان کے مطابق 5 اکتوبر کو ریاض میں مکہ اتحاد کی سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت نے خطے کی صورتحال اور اجتماعی دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

    ’پاکستانی طیاروں کی یمن میں کارروائیوں کی خبریں بے بنیاد ہیں‘

    ترجمان نے میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں کے یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں شریک ہونے کی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں اور انھیں پہلے ہی رد کیا جا چکا ہے۔

    انھوں نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی اتحاد کا مقصد سعودی عرب کے دفاع کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ یمن میں کارروائیاں کرنا۔ ان کے مطابق پاکستان کے فوجی کئی دہائیوں سے مختلف دفاعی اور تربیتی ذمہ داریوں کے تحت سعودی عرب میں موجود ہیں اور مستقبل میں کسی بھی اضافی تعیناتی کا فیصلہ اتحاد کی ضروریات کے مطابق کیا جائے گا۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم

    ترجمان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے 6 سے 8 اکتوبر تک جاری رہنے والے دورۂ پاکستان نے پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط کیا۔

    ان کے مطابق سیکریٹری جنرل نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، صدرِ مملکت، وزیراعظم، عسکری قیادت اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں فلسطین، کشمیر، افغانستان، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی امن سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے سیکریٹری جنرل کو مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدے اور افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔

    کشمیر پر پاکستان کا مؤقف برقرار

    ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے، جس کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

    انھوں نے انڈیا کے نئے سیاسی نقشے کو ’کارٹوگرافک جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ نقشہ سازی سے کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔

    فلسطین پر مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں

    غزہ سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق پاکستان آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

    انڈیا کو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر احتجاج

    دفترِ خارجہ نے بتایا کہ 2 اکتوبر کو بین الاقوامی سرحد کے بیڈیاں سیکٹر میں انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر انڈین ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔

    پاکستان نے انڈیا سے واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    سعودی عرب میں پاکستانیوں کی سلامتی پر تشویش

    ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، اس لیے مملکت کی سکیورٹی پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا، تاہم سعودی عرب کے دفاع اور خودمختاری کے حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم ہے۔

  4. نئی دہلی کے حساس علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل

    انڈیا کی وزارتِ داخلہ نے دارالحکومت نئی دہلی کے ایک حساس علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر معطل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    دہلی پولیس کے سپیشل سیل کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق جن پتھ اور کرتیویہ پتھ کے چوراہے کے گرد چار کلومیٹر کے دائرے میں تمام موبائل انٹرنیٹ سروسز بند رہیں گی۔

    مراسلے کے مطابق پابندی 9 اکتوبر کی رات 10 بجے سے 10 اکتوبر کی رات 10 بجے تک نافذ رہے گی۔ حکام نے تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ مقررہ علاقے میں موبائل انٹرنیٹ کی تمام اقسام اور ٹیکنالوجیز عارضی طور پر معطل کر دی جائیں۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی وجوہات کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ نے ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 2023 اور متعلقہ قواعد کے تحت تمام موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز کی عارضی معطلی کی منظوری دی ہے۔ اس سلسلے میں ایئرٹیل، جیو، ووڈافون آئیڈیا اور ایم ٹی این ایل سمیت ٹیلی کام کمپنیوں کو فوری طور پر احکامات پر عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

  5. صوابی میں آخری پلان دیا جائے گا، جو مخالفین کی نیندیں حرام کر دے گا: سہیل آفریدی کا لانگ مارچ سے خطاب

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بخشی پل کے مقام پر لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پشاور کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ مرحلوں میں اہم اعلانات کا عندیہ دیا۔

    انھوں نے کہا کہ وہ پشاور کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ چکے ہیں، لیکن عوام کے جوش و جذبے اور مارچ میں شرکت میں کوئی کمی نہیں آئی۔

    وزیرِ اعلیٰ نے کہا، ’میں پشاور کے عوام کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ماشاء اللہ عوام نے بھرپور ساتھ دیا ہے اور ہمارے کارکنوں کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔‘

    سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ چارسدہ میں لانگ مارچ کے آئندہ لائحۂ عمل کا اعلان کریں گے اور کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ اس منصوبے کو ضرور سنیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’چارسدہ کے بعد صوابی میں آخری پلان دیا جائے گا، جو مخالفین کی نیندیں حرام کر دے گا۔‘ انھوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ نظم و ضبط برقرار رکھیں اور آئندہ مراحل کے لیے تیار رہیں۔

  6. آبنائے ہرمز کے قریب گیس بردار جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاسدارانِ انقلاب کی مزید کارروائیوں کی دھمکی

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک بڑے ایل پی جی گیس بردار جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم اور پیشرانی نظام میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔

    نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ ’این وی سن شائن‘ نامی گیس بردار جہاز ایک ’غیر مجاز راستے‘ سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، جس پر کارروائی کی گئی۔ ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز کے اہم حصوں میں آگ لگ گئی۔

    پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی نگرانی اور وہاں بحری آمدورفت کا انتظام اس کی بحری فورس کی ذمہ داری ہے اور خطے میں ’جارح قوتوں‘ کی موجودگی یا مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے انتظامی نظام کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

    دوسری جانب برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے اطلاع دی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک تجارتی جہاز نامعلوم گولے یا میزائل کی زد میں آیا، جس سے جہاز میں آگ لگ گئی۔ برطانوی ادارے کے مطابق آگ پر بعد میں قابو پا لیا گیا، تاہم اس واقعے اور ایرانی دعوے کے درمیان تعلق کے بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

    پاسداران انقلاب نے بعد ازاں ایک اور بیان میں خبردار کیا کہ مستقبل میں کارروائیاں صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہیں گی۔ اس کے مطابق ایسے تمام جہاز، جو ایرانی حکام کے بقول غیر مجاز راستے اختیار کریں گے یا ’امریکی جارحانہ اقدامات‘ کا ساتھ دیں گے، پورے خطے میں نگرانی اور تعاقب کی زد میں آ سکتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ اب کسی بھی ’خلاف ورزی‘ کے مرتکب جہاز کے خلاف کارروائی صرف آبنائے ہرمز میں نہیں بلکہ خطے کے دیگر سمندری راستوں پر بھی کی جا سکتی ہے، اور ایسے واقعات پر ’فیصلہ کن سزا‘ دی جائے گی۔

  7. انسانی حقوق کی تنظیم کا کا ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی کی گمشدگی پر تشویش، ’سرچ آپریشن جاری ہے‘: صوبائی ترجمان, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

    انسانی حقوق کی تنظیم، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بلوچستان کے ایڈیشنل سیشن جج اسداللہ رئیسانی کی مبینہ گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے ان کی فوری بازیابی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایچ آر سی پی کے بیان کے مطابق جج اسداللہ رئیسانی 6 اکتوبر 2026 کو کوئٹہ سے پنجگور کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم اہلِ خانہ کے مطابق سوراب کے علاقے سے گزرتے ہوئے ان سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اسداللہ رئیسانی کے ٹھکانے کا تعین کریں اور ان کے اہلِ خانہ کو تمام پیش رفت سے باخبر رکھیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور جج اسداللہ رئیسانی کی محفوظ بازیابی کے لیے تمام ضروری اقدامات فوری طور پر کیے جانے چاہییں۔

    جمعے کے روز وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند سے ایڈیشنل سیشن جج پنجگور کی بازیابی سے متعلق پیش رفت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    شاہد رند کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مغوی جج کی بازیابی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور جیسے ہی اس حوالے سے کوئی اہم پیش رفت سامنے آئے گی، میڈیا کو آگاہ کر دیا جائے گا۔

  8. خیبر پختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہے، پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست چھوڑ دے: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں، تاہم صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک ’قانونی ایٹم بم‘ کے مترادف ہے اور اسے صرف آخری آپشن کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

    کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک ہفتہ قبل وفاقی حکومت اور ’پورا نظام‘ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے تیار تھا، لیکن پیپلز پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے غیر معمولی آئینی اختیارات کا استعمال آخری چارۂ کار ہونا چاہیے۔

    بلاول بھٹو نے مذاکراتی عمل کے حوالے سے کہا کہ عوام کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کیوں ناکام بنائے۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے تو اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے گورنر راج کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی‘ اور ’صوبے میں ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔‘

    بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر زور دیا کہ سیاسی کشیدگی اور محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، پارلیمانی سیاست اور جمہوری عمل ہی مسائل کا حل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے ’انتہا پسندی اور نفرت کی سیاست‘ کر رہی ہے، جس کا نقصان صوبے، عوام اور ملک کو پہنچ رہا ہے۔ ان کے بقول اس طرزِ سیاست سے سب سے زیادہ نقصان خود پاکستان تحریک انصاف کو ہو رہا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس عوامی حمایت موجود ہے، لیکن اپنی سیاسی حکمت عملی اور ’انتہا پسندانہ سیاست‘ کے باعث وہ اپنے ہی حامیوں کو مایوس کر رہی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں بھی جماعت مؤثر سیاسی کردار ادا نہیں کر سکی۔

    انھوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے اپنی موجودہ سیاسی روش برقرار رکھی تو مستقبل میں خیبر پختونخوا میں بھی اس کی سیاسی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے انتخابی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کوشش کر کے تمام فریقوں کو الیکٹورل ریفارمز کمیٹی پر آمادہ کیا ہے اور مسلم لیگ (ن) اس پر رضامند ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک نہیں ہوگی تو آئندہ انتخابات کو شفاف کیسے بنایا جا سکے گا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ دھرنوں، محاذ آرائی اور ’انتہا پسندی کی سیاست‘ ترک کر کے پارلیمانی سیاست، سیاسی جماعتوں سے مکالمے اور پارلیمان کی کمیٹیوں میں فعال شرکت کا راستہ اختیار کرے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی یہ راستہ اپناتی ہے تو نہ صرف سیاسی ماحول بہتر ہو سکتا ہے بلکہ عوام کی مایوسی بھی کم کی جا سکتی ہے۔

  9. گورنر راج کا فیصلہ وفاق کرے گا، لانگ مارچ ’لکی ایرانی سرکس‘ بن چکا ہے: فیصل کریم کنڈی

    خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ وفاقی حکومت نے کرنا ہے، تاہم صوبے کی صورتحال پر رپورٹ طلب کی گئی تو وہ وفاق کو اپنی رپورٹ بھجوا دیں گے۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کے حالات سب کے سامنے ہیں اور اگر وفاقی حکومت نے رپورٹ مانگی تو وہ موجودہ صورتحال سے متعلق اپنی رائے اور مشاہدات سے آگاہ کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ وفاق کے بغیر خیبر پختونخوا نہیں چل سکتا، لیکن صوبائی حکومت مسلسل وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کی سیاست کر رہی ہے۔

    گورنر نے کہا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے اور صدرِ مملکت و وزیراعظم ہی اس بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاق یہ سمجھے کہ صوبے کے حالات اس نوعیت کے ہیں تو فیصلہ بھی وہی کرے گا۔

    فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ بطور گورنر جب چاہیں چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو طلب کر سکتے ہیں۔

    سیاسی صورتحال اور مذاکرات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کی پیشکش بھی قبول نہ کی جائے تو پھر معاملات کو آگے بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔

    پاکستان تحریکِ انصاف پر تنقید کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پارٹی کو پہلے اپنے داخلی مسائل کا جائزہ لینا چاہیے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اپنی صفوں کے لوگوں کا تحفظ ممکن نہیں تو صوبے، عوام اور وسائل کے تحفظ کی ذمہ داری کیسے نبھائی جا سکتی ہے۔

    پی ٹی آئی سے منسوب مبینہ آڈیو لیکس پر تبصرہ کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پارٹی رہنما خود ایک دوسرے کی حقیقت بتا رہے ہیں۔

    لانگ مارچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسے بھی ’لکی سرکس‘ میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور ایک سے دوسرے شہر گھوم رہے ہیں۔ صوابی میں متوقع اجتماع کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ صوابی نہیں آئیں گے، صوابی پار کر کے دکھائیں۔‘

  10. پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوشش، علی محمد خان کا سپیکر سے رابطہ

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ انھوں نے مذاکرات کی بحالی کے لیے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار محمد ایاز صادق سے جعے کی صبح رابطہ کیا ہے تاکہ کسی ممکنہ کشیدگی یا نقصان سے قبل بات چیت کا راستہ نکالا جا سکے۔

    علی محمد خان کے مطابق انھوں نے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست کی کہ وہ فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کردار ادا کریں تاکہ کسی نقصان سے بچا جا سکے۔

    انھوں نے کہا، ’اگر کہیں کوئی تعطل یا تناؤ کی صورتحال ہے تو نقصان ہونے سے پہلے بات چیت ہو جانی چاہیے، یہ بہتر ہوگا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف ایک پرامن جماعت ہے اور ’اگر کسی کو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم ایسا نہیں چاہتے، ہم پرامن لوگ ہیں۔‘

    ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ سپیکر کے دفتر سے اس ملاقات کی تفصیلات اور سپیکر کے مؤقف کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

  11. سابق اقوامِ متحدہ کمشنر ناوی پلے نے نوبیل امن انعام جیت لیا: ’اگر آپ تھوڑی اور تالیاں بجائیں تو شاید میں یہ انعام ٹرمپ کے نام بھی کر دوں‘

    جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ممتاز قانون دان اور سابق اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ناوانیتھم ’ناوی‘ پلے کو امن، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے خدمات کے اعتراف میں نوبیل امن انعام 2026 سے نوازا گیا ہے۔

    نوبیل کمیٹی کے سربراہ یورگن واٹنے فریدنیس نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ناوی پلے نے عالمی سطح پر امن، انصاف اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا، جس کے اعتراف میں انہیں اس سال کا نوبیل امن انعام دیا جا رہا ہے۔

    نوبیل امن انعام جیتنے پر ناوی پلے کا ردِعمل: ’یہ کوئی مذاق ہی لگتا ہے‘

    نوبیل امن انعام 2026 کی فاتح ناوی پلے نے انعام ملنے کی خبر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں ابتدا میں یقین ہی نہیں آیا کہ یہ خبر واقعی درست ہے۔

    انعام کے اعلان کے بعد اپنے مختصر خطاب میں سابق اقوامِ متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ انھیں ایک کال موصول ہوئی اور ایک شخص نے بتایا کہ وہ نوبیل امن انعام جیت گئی ہیں۔

    ناوی پلے نے ہنستے ہوئے کہا: ’یہ کوئی مذاق ہی ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’آپ کی تالیاں میرے لیے بہت معنی رکھتی ہیں، لیکن چونکہ میں ایک وکیل اور جج ہوں، اس لیے میں اب بھی اس خبر کی تصدیق کرنا چاہتی ہوں۔‘

    85 سالہ ناوی پلے نے حاضرین سے خوشگوار انداز میں مخاطب ہوتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی چٹکی لی۔ انھوں نے کہا: ’اگر آپ تھوڑی اور تالیاں بجائیں تو شاید میں یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ بھی بانٹ لوں۔‘

    یہ تبصرہ گذشتہ سال کی نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کے اس اقدام کی جانب اشارہ تھا، جب انھوں نے جنوری میں اپنا تمغہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیا تھا۔

    ناوی پلے کون ہیں؟

    85 سالہ ناوی پلے جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ایک غریب انڈین نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد بس ڈرائیور تھے۔ نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کے دور میں انھوں نے انسانی حقوق کے لیے کام کا آغاز کیا اور 1967 میں صوبہ نیٹل میں وکالت کا دفتر قائم کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔

    بعد ازاں وہ جنوبی افریقہ میں ہائی کورٹ کی جج مقرر ہونے والی پہلی غیر سفید فام خاتون بھی بنیں۔ اپارتھائیڈ مخالف کارکنوں کے مقدمات لڑنے کے بعد انھیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روانڈا کے لیے بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل کی جج منتخب کیا، جہاں انھوں نے آٹھ سال خدمات انجام دیں، جن میں چار سال بطور صدر شامل ہیں۔

    ناوی پلے حالیہ برسوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔ وہ اس وقت بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اس مقدمے سے بھی وابستہ ہیں جس میں میانمار پر نسل کشی کے الزامات زیرِ سماعت ہیں۔

    ناوی پلے کو دنیا بھر میں انسانی حقوق، انصاف اور جوابدہی کے اصولوں کے فروغ کے لیے طویل خدمات کے باعث عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہے۔

  12. ایران کے خلاف جنگ میں 81 امریکی فوجی طیارے اور ڈرون تباہ یا متاثر، لاگت 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

    امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر (سی بی او) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق رواں سال ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکی فوجی مہم ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران کم از کم 81 امریکی فوجی طیارے، جنگی جہاز اور ڈرون تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یکم اگست تک ان فضائی اثاثوں کے نقصان کی مالیت 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر کے درمیان تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ آٹھویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ مستقل جنگ بندی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

    متاثر ہونے والے امریکی فضائی اثاثوں میں 12 ایف-15 ای سٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے، ایک ایف-35 اے لائٹننگ ٹو، سات کے سی-135 فضائی ایندھن بردار طیارے اور 45 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز شامل ہیں۔

    سابق امریکی بحری افسر اور دفاعی تجزیہ کار ہارلن اُلمین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں کم لاگت والے ڈرونز بڑی فوجی طاقتوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور فوجی اثاثوں کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچانے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’چھوٹے ڈرون بھی انتہائی قیمتی فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور حالیہ تنازع کے دوران خلیجی ممالک میں اس کی مثالیں دیکھی گئی ہیں۔‘

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت نے روایتی فضائی برتری کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ روس۔یوکرین جنگ کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم وسائل رکھنے والے ممالک بھی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑی فوجی طاقتوں کو مؤثر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    اُدھر جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی درخواست کی ہے، تاہم کانگریس میں اس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    گذشتہ ماہ 45 ڈیموکریٹ سینیٹرز اور ایک آزاد رکن نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو خط لکھ کر جنگی اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

    کانگریس کے بجٹ دفتر کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق یکم اگست تک ایران کے ساتھ جنگ پر امریکی اخراجات تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جبکہ ادارے کا اندازہ ہے کہ تنازع جاری رہنے کی صورت میں ہر اضافی ماہ کی لاگت دو سے تین ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب پینٹاگون نے رپورٹ میں بیان کردہ نقصانات اور ان کے بجٹ پر ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

  13. پاکستان کی جانب سے نوبیل امن انعام کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزدگی: ’امید ہے اب کی بار صدر ٹرمپ کی کوششوں کو مناسب پذیرائی ملے گی‘

    آج (نو اکتوبر کو) نوبل فاؤنڈیشن کی جانب سے نوبل امن انعام کا اعلان کیا جانا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔

    شہباز شریف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کو فروغ دینے میں ایک تاریخی کردار ادا کیا۔

    ’اُن کی بروقت مداخلت نے پاکستان اور انڈیا کو کشیدگی کے دہانے سے واپس لانے اور جنگ بندی یقینی بنانے میں مدد دی، جو آج تک برقرار ہے۔‘

    وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔

    ’ہمیں خلوصِ دل سے امید ہے کہ ہمارے خطے میں امن کے فروغ اور تنازعات کی روک تھام کے لیے صدر کی کوششوں کو اس بار مناسب پذیرائی ملے گی۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ برس حکومتِ پاکستان نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا پاکستان اور انڈیا کے مابین حالیہ لڑائی کے دوران صدر ٹرمپ کی ’فیصلہ کن سفارتی مداخلت اور قائدانہ کردار‘ کے اعتراف میں انھیں 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کرنے کی سفارش کی ہے۔

  14. ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں سعودیہ ایئر لائن کے پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق

    سعودی عرب کی مقامی ایئر لائن سعودیہ نے جمعرات کے روز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے کے نتیجے میں اپنے ایک پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    ایئر لائن نے پائلٹ کی شناخت حمود علی الکلثامی کے نام سے کی ہے۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ریاض ہوائی اڈے کے ایک ٹرمینل پر کھڑے سرکاری ملکیت میں چلنے والی سعودیہ ایئرلائنز کا ایک مسافر طیارہ آگ لگنے سے شدید متاثر ہوا تھا۔

    دوسری جانب سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا ہے کہ کہ جمعرات کے روز ریاض کے کنگ خالد بین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ ایک ہوائی جہاز کو نقصان پہنچا ہے۔

  15. سعودی حکام کی کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں تین شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق

    سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز ریاض کے کنگ خالد بین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں تین افراد ہلاک جبکہ ایک ہوائی جہاز کو نقصان پہنچا ہے۔

    ادارے کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کے روز ریاض ایئرپورٹ پر دو حملے کیے گئے۔

    بیان کے مطابق پہلے حملے میں ہوائی اڈے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرے حملے میں سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔

    سعودی حکام کے مطابق ان دونوں حملوں کے نتیجے میں تین سعودی شہری ہلاک جبکہ مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد غیر ملکی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    سول ایوی ایشن کا کہنا زخمیوں کو مختلف نوعیتوں کی چوٹیں آئی تھیں جنھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ایئر پورٹ پر آپریشنل سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں اور فضائی آمدورفت معمول پر آ گئی ہے۔

  16. پی آئی اے نے ریاض کے لیے اپنا فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے لیے اپنا فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

    پی آئی اے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر پی آئی اے نے ریاض کے لیے اپنا فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کیا ہے۔‘

    بیان میں مسافروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے قبل اپنی پرواز کی تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے پی آئی اے کال سینٹر 786-786 -111 پر رابطہ کریں۔

    تاہم پی آئی اے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے دیگر شہروں کے لیے اس کی پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہِیں۔

    ریاض کے علاوہ پی آئی اے کی پروازیں جدہ، مدینہ، دمام اور القسیم بھی جاتی ہیں۔

    یاد رہے کہ گذشتہ تین روز کے دوران حوثیوں کی جانب سے ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ جمعرات کو ہونے والے تازہ حملے کے بعد ایئر انڈیا اور دیگر متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے سعودی دار الحکومت کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کر دی تھیں۔

    دوسری جانب بین الاقوامی خبر رساں اداروں اے ایف پی اور روئٹرز نے خبر دی تھی کہ جمعرات کو ہونے والے حملے کے نتیجے میں ایئر پورٹ پر موجود سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی کے ایک طیارے کو نقصان پہنچا ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی تصاویر میں ایک طیارے سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    بدھ کی رات سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے آگاہ کیا تھا کہ 6 اور 7 اکتوبر کی درمیانی شب بھی کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    سعودی حکام کے مطابق کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے اس حملے میں سوڈانی شہریت رکھنے والا ایک شخص ہلاک ہوا تھا جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔ زخمیوں میں پانچ سعودی شہری، ایک مصری اور ایک پاکستانی شہری شامل تھا۔

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی سعودی عرب پر ہوئے ان حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کو فوری طور پر یہ حملے بند کرنے چاہییں۔

  17. ریاض ایئر پورٹ پر حوثیوں کے حملوں میں ایک مسافر طیارے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ہوائی اڈے پر موجود دو عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے جمعرات کو ہونے والے حملوں کے نتیجے میں سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی کے ایک طیارے کو بظاہر نقصان پہنچا ہے۔

    اس سے قبل معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ہوائی اڈے پر کم از کم ایک طیارے کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ ایک دوسرے ذریعے کے مطابق تین طیارے متاثر ہوئے۔

    یمن کے حوثیوں نے جمعرات کو ایئرپورٹ پر تین الگ الگ حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ دارالحکومت ریاض میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ سعودی قیادت میں قائم افواج نے کہا کہ ہوائی اڈے کی جانب داغے گئے میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا۔

    دونوں عینی شاہدین کے مطابق ٹرمینل 4 پر کھڑے سعودیہ کے ایک طیارے کے ڈھانچے پر واضح نقصان کے آثار تھے۔ یہ ٹرمینل اس وقت سعودیہ اور ریاض ایئر کی اندرونِ ملک پروازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ریاض ہوائی اڈے کے ایک ٹرمینل پر کھڑے سرکاری ملکیت میں چلنے والی سعودیہ ایئرلائنز کا ایک مسافر طیارہ آگ لگنے سے شدید متاثر ہوا تھا۔

    سعودی حکومت کے میڈیا دفتر، ملک کی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور سعودی عربین ایئرلائنز نے اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

  18. پاکستان کی سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت: حوثیوں کو فوری طور پر یہ حملے بند کرنے چاہییں، وزیرِ اعظم شہباز شریف

    پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حوثی ملیشیا سے حملے فوری طور بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ ’میں حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بار بار کیے جانے والے حملوں بشمول ریاض کے کنگ خالد ایئر پورٹ اور ابھا انٹرنیشنل ایئر پورٹ کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کرتا ہوں جن کے نتیجے میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔‘

    بیان میں سعودی عرب کی سعودی مسلح افواج اور اتحاد کی جانب سے متعدد بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوششوں کو بھی سراہا گیا ہے۔

    وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور اس کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے مطابق، سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے ہمارا عزم پختہ ہے۔ ہم سعودی عرب کی اپنے عوام کے دفاع اور اپنے شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ ’حوثی ملیشیا کو فوری طور پر یہ حملے بند کرنے چاہییں۔ ہم ان خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔‘

  19. پاکستان میں پیٹرول اور ہائی سپید ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں ایک بار پھر اضافہ

    پاکستان کی حکومت نے جمعرات کے روز پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا اعلان کیا ہے۔

    وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 31 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 78 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 398 روپے 96 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 395 روپے 72 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام کو ریلیف دینے کے لیے گذشتہ ماہ پاکستانی حکومت نے ایک خصوصی سکیم کا اعلان کیا تھا۔

    اس سکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے گا۔

    وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی سمیت دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔

    جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے۔

  20. سابق امریکی فوجی افسر کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت براہِ راست نشر کی جائے گی: پینٹاگون

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ عوام سابق امریکی فوجی افسر کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت دیکھ سکیں گے۔

    محکمۂ دفاع کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ 2009 میں فورٹ ہُڈ میں 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے والے ندال حسن ملک کی سزائے موت براہِ راست نشر کی جائے گی۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تقریباً ایک صدی میں امریکہ میں پہلی عوامی پھانسی ہوگی۔

    سزائے موت پانے والے قیدیوں کے مقدمات پر کام کرنے والے وکیل جان ملز کا کہنا ہے ہ سزائے موت کی کارروائی کو براہِ راست نشر کرنے کے فیصلہ کی جدید دور میں مثال نہیں ملتی اور قانونی اعتبار سے غیر واضح نکتے پر لیا گیا اقدام ہے۔

    پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ لوگ اسے دیکھ سکیں، کہ یہ عوامی ہو۔‘

    ’لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے اقدامات کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔‘

    ہیگستھ نے قدامت پسند ٹی وی ’ریئل امریکا'ز وائس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ حسن کو ’فوجیوں کے فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔ اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘

    پینٹاگون نے اس ہفتے کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ حسن کو سزائے موت دی جائے گی، جو 60 برس سے زیادہ عرصے میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔

    امریکی فوج کے میجر اور معالج نِڈال ملک حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کر کے 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو ہلاک جبکہ 32 دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

    سوموار کے روز پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اس سزا کی سفارش کی تھی، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منظور کر لیا ہے۔

    یہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد فائرنگ سکواڈ کے ذریعے ہونے والی پہلی فوجی سزائے موت ہو گی۔

    حسن کو 13 افراد کے قتلِ عمد اور 32 افراد کے قتل کی کوشش کے الزامات میں فوجی افسران پر مشتمل 13 رکنی جیوری نے مجرم قرار دیا تھا۔ جیوری نے متفقہ طور پر انھیں سزائے موت دینے کی سفارش کی تھی۔