ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سکیورٹی کے تحفظ کے لیے مملکت کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی رکھتا ہے، جبکہ مکہ دفاعی اتحاد ایک دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے جس کا مقصد رکن ممالک کی اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی افواج کی جانب سے شہریوں کے تحفظ کے اقدامات کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مدینہ میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن سٹیشن پر ہونے والے حملے کی بھی شدید مذمت کی تھی اور حرمین شریفین کی حرمت اور زائرین کی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔
ترجمان کے مطابق 5 اکتوبر کو ریاض میں مکہ اتحاد کی سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت نے خطے کی صورتحال اور اجتماعی دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
’پاکستانی طیاروں کی یمن میں کارروائیوں کی خبریں بے بنیاد ہیں‘
ترجمان نے میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی لڑاکا طیاروں کے یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں شریک ہونے کی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں اور انھیں پہلے ہی رد کیا جا چکا ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی اتحاد کا مقصد سعودی عرب کے دفاع کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ یمن میں کارروائیاں کرنا۔ ان کے مطابق پاکستان کے فوجی کئی دہائیوں سے مختلف دفاعی اور تربیتی ذمہ داریوں کے تحت سعودی عرب میں موجود ہیں اور مستقبل میں کسی بھی اضافی تعیناتی کا فیصلہ اتحاد کی ضروریات کے مطابق کیا جائے گا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم
ترجمان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے 6 سے 8 اکتوبر تک جاری رہنے والے دورۂ پاکستان نے پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط کیا۔
ان کے مطابق سیکریٹری جنرل نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، صدرِ مملکت، وزیراعظم، عسکری قیادت اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں، جن میں فلسطین، کشمیر، افغانستان، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی اور علاقائی امن سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے سیکریٹری جنرل کو مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدے اور افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔
کشمیر پر پاکستان کا مؤقف برقرار
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے، جس کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
انھوں نے انڈیا کے نئے سیاسی نقشے کو ’کارٹوگرافک جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یکطرفہ نقشہ سازی سے کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
فلسطین پر مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں
غزہ سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور دو ریاستی حل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق پاکستان آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
انڈیا کو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر احتجاج
دفترِ خارجہ نے بتایا کہ 2 اکتوبر کو بین الاقوامی سرحد کے بیڈیاں سیکٹر میں انڈین بارڈر سکیورٹی فورس کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت پر انڈین ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے۔
پاکستان نے انڈیا سے واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سعودی عرب میں پاکستانیوں کی سلامتی پر تشویش
ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، اس لیے مملکت کی سکیورٹی پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا، تاہم سعودی عرب کے دفاع اور خودمختاری کے حوالے سے اپنے وعدوں پر قائم ہے۔