فوج اور آئی ایس آئی میں نوکریوں کا مبینہ جھانسہ: لائبہ اعجاز کیس کا ملزم مانسہرہ پولیس کو کیوں مطلوب تھا؟

Laiba Ijaz
،تصویر کا کیپشنلائبہ اعجاز کیس کا مرکزی ملزم مانسہرہ پولیس کو بھی 85 لاکھ روپے کے مبینہ فراڈ میں مطلوب تھا (علامتی تصویر)
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اُردو، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

وفاقی دارالحکومت میں گذشتہ دنوں مبینہ ویزا فراڈ کے بعد خودکشی کرنے والی خاتون کے کیس میں نامزد گرفتار ملزم محمد نعمان کے حوالے سے اسلام آباد نے پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم خیبرپختونخوا کے شہر مانسہرہ میں بھی فراڈ کے ایک کیس میں ملوث ہے اور عدم گرفتاری کے باعث مقامی پولیس نے اسے ’اشتہاری‘ قرار دے رکھا ہے۔

23 سالہ لائبہ اعجاز کیس میں نامزد ملزم محمد نعمان اِس وقت پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر اسلام آباد پولیس کی حراست میں ہیں۔

صوبہ پنجاب کے وسطی شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی طالبہ لائبہ اعجاز کی لاش نو اکتوبر کو اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں واقع ہفتہ وار بازار میں درخت سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ پولیس کے مطابق اپنے ساتھ ہونے والے لاکھوں روپے کے فراڈ سے دلبرداشتہ لائبہ نے بظاہر گلے میں دوپٹہ ڈال کر مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق ملزم نعمان سے لائبہ کیس کی تفتیش کے دوران مزید معلومات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر اپنے بھائی وقاص اور دیگر دو افراد کے ساتھ مل کر دو برس قبل مانسہرہ میں ایک خاندان کے 12 افراد کو آرمی اور فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی میں بھرتی کروانے کے عوض مبینہ طور پر 85 لاکھ روپے موصول کیے تھے۔

اس حوالے سے ضلع مانسہرہ کے تھانہ سٹی میں نعمان، اُن کے بھائی وقاص اور دو دیگر ملزمان کے خلاف جعلسازی، دھوکہ دہی اور فراڈ سمیت مختلف دفعات کے تحت 27 اگست 2026 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق اس کیس وقاص اور دیگر افراد گرفتار ہو گئے تھے تاہم عدم گرفتاری کے باعث مقامی پولیس نے محمد نعمان کو اشتہاری قرار دے رکھا تھا۔

لائبہ اعجاز کے ہی کیس کی طرح، مانسہرہ کے اس کیس میں بھی متاثرین کو بھی آرمی اور آئی ایس آئی کی نوکریوں کے 12 اپائنٹمنٹ لیٹرز جعلی ہونے کا اُس وقت پتا چلا تھا جب، ایف آئی آر کے مطابق، وہ ملزمان کو 85 لاکھ ادا کر چکے تھے۔

یاد رہے کہ وفاقی پولیس نے لائبہ کی مبینہ خودکشی کی وجہ یہی بتائی ہے کہ ملزم محمد نعمان نے لائبہ اور اُن کے اہلخانہ سے امریکہ کی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کا جھانسہ دے کر 50 لاکھ روپے بٹورے، مگر بعدازاں جب ملزم کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کو چیک کروایا گیا تو وہ جعلی نکلے تھے۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے بی بی سی اُردو کے ساتھ مانسہرہ میں ملزم کے خلاف درج فراڈ کے مقدمے کی ایف آئی آر شیئر کی گئی ہے جس میں متاثرین کا بیان موجود ہے۔

Laiba Ijaz
،تصویر کا کیپشن23 سالہ طالبہ لائبہ اعجاز کے اہلخانہ سے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کا جھانسہ دے کر ملزم نے مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے بٹورے تھے

’ملزم نعمان بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ایس آئی‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مانسہرہ کے تھانہ سٹی میں درج ایف آئی آر کے مطابق مبینہ فراڈ کا یہ واقعہ جولائی 2024 میں پیش آیا، جس کا مقدمہ اگست 2026 میں درج کیا گیا۔

متاثرین کی جانب سے اس مبینہ فراڈ کی درخواست ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (مانسہرہ) کو دی گئی تھی، جس پر بعدازاں کارروائی ہوئی اور اس مقدمے میں نعمان اور وقاص سمیت چار افراد کو ملزم نامزد کیا گیا۔

سلطان محمد نامی شخص کی مدعیت میں درج اس ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے ملزم نعمان کی ایک بھابھی اُن کے گھر آئیں اور اہلخانہ کو باور کروایا کہ اُن کے دیور محمد نعمان ماضی میں ٹرپل تھری بریگیڈ سے منسلک رہے ہیں اور فی الحال اسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ایس آئی تعینات ہیں۔

یاد رہے کہ لائبہ اعجاز کیس میں بھی ملزم نعمان نے لائبہ اور اُن کے اہلخانہ کو بتا رکھا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے ملازم ہیں۔

مانسہرہ میں درج ایف آئی آر کے مطابق بات آگے بڑھی تو متاثرہ خاندان (مدعی مقدمہ) کو باور کروایا گیا کہ ملزمان اپنے ’اثر و رسوخ اور تعلقات کی بنیاد پر سائل کے بچوں اور دیگر نامزد کردہ افراد کی آرمی اور آئی ایس آئی کی مختلف مخصوص نشستوں پر تقرری کروا سکتے ہیں۔‘

ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ ’ملزمان نے یقین دہانی کروائی کہ اسامی کے معیار کے مطابق اگر انھیں فی اسامی چند لاکھ روپے سکیورٹی کی مد میں ادا کر دیے جائیں اور بقایا رقم بعد از تقرری دی جائے تو وہ سائل کے نامزد کردہ افراد کو پاکستان آرمی میں بھرتی کروا سکتے ہیں۔‘

ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ نے بتایا کہ ملزمان نے جب مختلف حیلوں بہانوں کے تحت ورغلا اور پھسلا کر انھیں اپنا یقین دلایا تو انھوں نے اپنے بچوں سمیت 12 افراد کی فہرست ملزمان کو دی اور بعدازاں مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ملک وقاص نامی ملزم کے اکاؤنٹ میں تقریباً 85 لاکھ روپے ادا کیے جس کے بعد تین دسمبر 2024 کو انھیں آرمی اور آئی ایس آئی میں نوکریوں پر تقرری کی نسبت سے 10 اپائنٹمنٹ لیٹرز دے گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق اپائنٹمنٹ لیٹرز ملنے کے بعد متاثرین کو ملزم محمد نعمان سے راولپنڈی میں ملنے کی ہدایت کی گئی تاہم وہ وہاں دستیاب نہ ہوئے جبکہ متاثرین کا ملزمان سے بھی رابطہ منقطع ہو گیا جس پر مدعی مقدمہ کو شک گزرا تو انھوں نے دیے گئے اپائٹمنٹ لیٹرز کی راولپنڈی میں چکلالہ کینٹ جا کر پڑتال کروائی تو معلوم ہوا کہ وہ سب جعلی ہیں۔

ایف آئی آر میں مدعی مقدمہ نے کہا کہ اُن کے ساتھ سوچی سمجھی سازش کے ساتھ دھوکہ اور فراڈ کیا گیا۔

اس کیس میں متاثرہ افراد کی جانب سے لاکھوں روپے کی ٹرانزیکشن، ایزی پیسہ و بینک اکاؤنٹس اور واٹس ایپ گفتگو کا ریکارڈ بھی فراہم کیا گیا جبکہ ملزمان کی جانب سے فراہم کردہ جعلی اپائٹمنٹ لیٹرز بھی ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے۔

تاہم یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس کیس کے متاثرین دو سال تک خاموش کیوں رہے اور جولائی 2024 میں پیش آئے اس واقعے کا مقدمہ اگست 2026 میں کیوں درج ہوا؟

بی بی سی اُردو نے اس کیس کے مدعی سلطان محمد سے رابطہ کر کے اس کا جواب جاننے کی کوشش کی ہے۔

Laiba Ijaz Suicide

’ہم صرف بچوں کا بہتر روزگار چاہتے تھے‘

سلطان محمد کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے نوکریوں کے عوض ملزمان کو ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم دی تھی جن میں سے 85 لاکھ روپے کا ریکارڈ اُن کے پاس موجود ہے اور اسی لیے یہ رقم ایف آئی آر میں ظاہر کی گئی ہے جبکہ باقی رقم کیش کی صورت میں دی گئی، جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ ملزمان کی جانب سے دیے گیے اپائٹمنٹ لیٹر جعلی ہیں تو پہلے تو ملزمان چکر دیتے رہے، پھر کچھ عرصے بعد انھوں نے رقم واپسی کے لیے کچھ ماہ کی مہلت مانگی اور جب یہ وقت بھی ختم ہو گیا تو وہ غائب ہو گئے اور رابطہ ختم ہو گیا۔

سلطان محمد کا دعویٰ ہے کہ بلآخر انھوں نے ایف آئی اے کو اس فراڈ کی درخواست دی، جنھوں نے چار ماہ یہ درخواست رکھنے کے بعد کہا کہ یہ پولیس کا کیس ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد انھوں نے متعلقہ تھانے میں درخواست دی جس پر انھیں قانونی رائے لینے میں کئی ہفتے لگے اور اس کے بعد جا کر اُن کا مقدمہ درج ہوا۔

سلطان محمد کے مطابق اُن کی جانب سے نامزد کردہ چار ملزمان میں سے تین پہلے ہی پولیس کی گرفت میں ہیں، جن کی ضمانت کی درخواستیں ماتحت عدالتوں سے مسترد ہوئی ہیں۔ اُن کے مطابق اب ملزمان نے ضمانت بعد از گرفتاری کی غرض سے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دے رکھی ہے۔

سلطان محمد کا کہنا ہے کہ ملزم نعمان اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں وہ نعمان کی گرفتاری کے لیے خیبر پختونخوا کی پولیس کے ہمراہ اسلام آباد کے علاقےشمس کالونی میں بھی آئے تھے کیونکہ اس کی آخری لوکیشن وہیں کی ٹریس ہو رہی تھی، تاہم ان کے مطابق وہ کوشش ناکام رہی تھی۔

سلطان محمد کے مطابق اُن سمیت دیگر متاثرہ افراد نے ملزمان پر اس لیے اعتماد کیا تھا کیونکہ وہ محض اپنے بچوں کے لیے بہتر روزگار چاہتے تھے، تاہم اس کے برعکس اُن کے ساتھ دھوکہ ہوا۔