’میڈم آپ نے جو پارسل عراق بھیجا، اس میں منشیات ہیں‘: انڈین کامیڈین کے ساتھ لاکھوں روپے کا دھوکہ

،تصویر کا ذریعہAnkita Shrivastav
- مصنف, شیریلن مولن
- مقام, ممبئی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
’ہیلو میڈم، میں فیڈ ایکس سے بات کر رہا ہو۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ آپ نے جو پارسل عراق بھیجا، اس میں منشیات ہیں۔‘
فون کے دوسری طور موجود ایک شخص نے اکتوبر 2024 کی ایک دوپہر کو ممبی میں مقیم سٹینڈ اپ کامیڈین انکیتا شریواستو کو یہ اطلاع دی۔
انکیتا کے مطابق اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ان کی زندگی کے سب سے ہولناک تجربات میں سے ایک تھا۔ رواں برس اپریل میں انھوں نے پہلی مرتبہ اپنے اس تجربے کو مزاحیہ انداز میں بیان کیا تاہم اس سے قبل انھوں نے عوامی سطح پر اس موضوع پر کبھی بات نہیں کی تھی۔
اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی گئی تقریباً 30 منٹ کی ویڈیو میں، انکیتا نے بتایا کہ فون پر موجود شخص نے انھیں ویڈیو کال کرنے کو کہا اور ان کا رابطہ پولیس کی وردی میں ملبوس دو افراد سے جوڑ دیا، جنھوں نے کامیڈین کو اس وقت تک ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ میں رکھا جب تک ان کی شناخت کی تصدیق نہیں ہو گئی اور یہ ثابت نہیں ہو گیا کہ ان کی طرف سے یہ پارسل نہیں بھیجا گیا۔
اگلے آٹھ گھنٹوں تک ’پولیس اہلکار‘ لیپ ٹاپ پر موجود ایک ویڈیو کالنگ ایپ کے ذریعے انکیتا کی نگرانی کرتے رہے۔ انھیں کیمرا بند کرنے، گھر سے نکلنے اور کسی سے ملاقات یا بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔
’پولیس اہلکاروں‘ نے انکیتا کے بینک اکاؤنٹس اور ریکارڈ سے متعلق متعدد سوالات کیے اور انھیں ڈراتے رہے کہ یہ ایک سنگین مقدمہ ہے اور وہ بڑی مصیبت میں ہیں۔
انکیتا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھ پر شدید دباؤ تھا، میں اضطراب میں تھی اور ذہنی طور پر تھکی ہوئی تھی۔ میں بس چاہتی تھی کہ یہ پریشانی ختم ہو جائے۔‘
انھوں نے نام نہاد پولیس اہلکاروں کے کہنے پر نو لاکھ روپے کی ادائیگی بھی کر دی مگر بعد میں انھیں احساس ہوا کہ یہ پورا آپریشن ایک دھوکہ تھا اور وہ اپنی رقم کھو چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انکیتا کہتی ہیں کہ ’جسے بھی میں اس بارے میں بتاتی ہوں وہ کہتا ہے کہ آپ تو تعلیم یافتہ ہیں، آپ کے ساتھ دھوکہ کیسے ہوگیا؟‘
’یہی سوال میں خود سے بھی بار بار پوچھتی ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن دھوکہ کھانے والوں میں انکیتا اکیلی نہیں۔
نیشنل کرائم ریکارڈر بیورو (این سی آر بی) کی 2023 اور 2024 کی رپورٹ کے مطابق انڈیا میں سائبر کرائمز میں پچھلے برسوں کے مقابلے میں 18 فیصد اضافہ ہوا تھا اور شہری ڈیجیٹل دھوکہ دہی کے سبب 220 ارب روپے سے محروم ہوئے تھے۔
سنہ 2024 میں ملک بھر میں ایک لاکھ ایک ہزار 928 سائبر کرائمز رپورٹ ہوئے تھے، جو سنہ 2021 کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ تھے۔
’ڈیجیٹل گرفتاری‘ جس میں مجرم قانون نافذ کرنے والے اداروں یا سرکاری حکام کا روپ دھار کر متاثرین پر جھوٹا جرم عائد کرتے ہیں اور انھیں ویڈیو کال پر رہنے کے لیے ڈرا دھمکا کر رقم بٹورتے ہیں، ملک میں سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے سائبر جرائم میں شامل ہے۔
دھوکے باز لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے جعلی ایپس، ای میلز یا ٹیکسٹ میسجز کا بھی استعمال کرتے ہیں اور ان سے حساس معلومات، بشمول ون ٹائم پاس ورڈز حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ لوگ بعض اوقات مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے آوازوں کی نقل تیار کرتے ہیں اور جذباتی اپیلیں کر کے بھی رقم بٹورتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا میں مقدمات میں اضافہ جہاں سائبر جرائم کی بہتر رپورٹنگ کی عکاسی کرتا ہے، وہیں یہ مجرمانہ سرگرمیوں کی بدلتی ہوئی نوعیت کی بھی نشاندہی کر رہا ہے۔
ٹیلی گراف اخبار کے ایک اداریے میں کہا گیا کہ انڈیا میں اس قسم کی مجرمانہ سرگرمیاں ملک کے نظامِ عدل کو چیلنج کر رہی ہیں۔
انکیتا اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی رقم کی واپسی کے لیے متعدد قانون نافذ کرنے والے ادارون کے دفاتر کے چکر لگائے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
انکیتا کہتی ہیں کہ ’دھوکے باز پولیس اور بینک حکام سے ایک قدم آگے تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
این آر سی بی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2024 کے اختتام تک تقریباً 100,000 سائبر جرائم کے کیسز زیرِ تفتیش تھے اور تقریباً 75,000 عدالتوں تک بھی نہیں پہنچے تھے۔
تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ انڈیا اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کوشش نہیں کر رہا۔ سنہ 2020 میں وفاقی حکومت نے انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آَئی فور سی) قائم کیا، جو ملک بھر میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے انڈین اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔
حکومت نے ایک ہیلپ لائن اور سائبر فراڈ کی اطلاع دینے اور اسے روکنے کے لیے ایک پورٹل بھی متعارف کرایا ہے۔ ڈیپ فیک اوراے آئی سے تیار کی گئی آوازوں سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی مہمات شروع کی ہیں، نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی اور ڈیٹا کے تحفظ کے قوانین نافذ کیے ہیں۔
حال ہی میں انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ نے اعلان کیا کہ آئی فور سی ریزرو بینک انوویشن حب کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے ایسے خفیہ جعلی اکاؤنٹس کی نشاندہی اور خاتمہ کرنے پر کام کر رہا ہے۔ یہ وہ بینک اکاؤنٹس یا ڈیجیٹل والٹس ہیں جو سائبر مجرم ناجائز طور پر حاصل کی گئی رقوم وصول کرنے، منتقل کرنے اور منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ ان کی اصل حیثیت کو چھپایا جاتا ہے۔
انڈیا کا مرکزی بینک بھی ڈیجیٹل دھوکہ بازوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
لیکن ڈیٹا دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ انڈیا میں سائبر جرائم کم نہیں ہو رہے۔
انٹرنیٹ پر کی جانے والی دھوکہ دہی پر لکھی گئی ایک کتاب کی مصنفہ سومیا گپتا کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کنیکشنز اور سمارٹ فونز میں اضافے نے لوگوں کو ڈیجیٹل دھوکہ دہی کا شکار ہونے کے بڑھتے خطرے سے دوچار کر دیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب 86 فیصد سے زیادہ گھرانے انٹرنیٹ سے منسلک ہیں۔
سومیا کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل خواندگی اس رفتار سے نہیں بڑھی تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ عوامی آگاہی مہمات اور میڈیا میں رپورٹنگ کے باعث صورتِ حال بتدریج بدل رہی ہے۔
’لیکن دھوکہ دہی کے فن کا انحصار ٹیکنالوجی سے زیادہ نفسیات پر ہوتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ دھوکہ دینے والے ہمارے خوف، لالچ یا عقائد اور نظریات سے کھیلتے ہیں اور ایک بار جب ہم کسی دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں تو یا تو ہمیں اس سے نکلنے کا طریقہ نہیں معلوم ہوتا، یا ہم اتنے شرمندہ ہوتے ہیں کہ کچھ کہہ نہیں پاتے، یا پھر ہم ڈوبی ہوئی لاگت کے مغالطے کے باعث اس میں مزید پھنستے چلے جاتے ہیں۔
سومیا کا کہنا ہے کہ دھوکے باز لوگوں کے آن لائن رویے پر گہری نظر رکھتے ہیں اور اس معلومات کو متاثرین کے انتخاب اور ایسے دھوکے تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جن کے ذریعے وہ انہیں اپنے جال میں پھنسا سکیں۔
سٹینڈ اپ کامیڈین انکیتا کہتی ہیں کہ دھوکے بازوں نے ان کے پولیس کے خوف سے فائدہ اٹھایا اور شاید ان کی بطور سٹینڈ اپ کامیڈین مقبولیت سے بھی۔
انکیتا مزید بتاتی ہیں کہ ’ہمیں بچپن سے ہی سکھایا جاتا ہے کہ پولیس سے ڈرنا ہے اور اختیار رکھنے والوں کی اطاعت کرنی ہے۔ یہ خوف میرے ذہن میں بجنے والی خطرے کی گھنٹیوں پر حاوی آ گیا۔‘
وہ مزید بتاتی ہیں کہ وہ یہ بھی چاہتی تھیں کہ کسی ایسے واقعے سے بچا جا سکے جو مداحوں کے درمیان ان کی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔
وہ کہتی ہیں کہ اپنے تجربے کی بنیاد پر مزاحیہ پروگرام پیش کرنا اعصاب شکن تھا کیونکہ انھیں یہ خوف تھا کہ اپنی غلطیوں کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے وہ کمزور محسوس ہوں گی اور سامعین کی جانب سے انہیں احمق کہا جا سکتا ہے۔
’لیکن میں چاہتی تھی کہ لوگ جانیں کہ اگر میں، ایک تعلیم یافتہ، شہری خاتون جو خود کو سمجھدار سمجھتی ہے، دھوکہ دہی کا شکار ہو سکتی ہوں، تو یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔‘
سومیا گپتا کا کہنا ہے کہ لوگوں کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ آن لائن جو کچھ شیئر کر رہے ہیں اس کے بارے میں محتاط رہیں اور اپنے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کریں۔
’لیکن اس کے ساتھ ساتھ سنہرا اصول یہ ہے کہ اگر کوئی چیز حقیقت سے زیادہ اچھی لگتی ہو تو وہ غالباً سچ نہیں ہوتی اور اگر کچھ درست محسوس نہ ہو تو رک جائیں اور مدد طلب کریں۔‘

























