’ریڈ کارڈ سے طاقتور ٹرمپ کارڈ‘: امریکی فٹبالر پر عائد پابندی ختم کرنے پر فیفا اور امریکی صدر تنقید کی زد میں کیوں؟

    • مصنف, ادویدھ راجن
    • عہدہ, بی بی سی سپورٹس
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

امریکی فٹبال ٹیم کے سٹرائیکر فولارن بالوگن کو بوسنیا و ہرزیگووینا کے خلاف میچ کے دوران ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا اور ان پر ایک میچ کی پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم فیفا نے اب یہ پابندی معطل کر دی ہے اور وہ اب بیلجیئم کے خلاف راؤنڈ آف 16 کا میچ کھیل سکیں گے۔

25 سالہ فولارن، جو اس ٹورنامنٹ میں تین گولز کے ساتھ امریکہ کے سب سے کامیاب فٹبالر ہیں، کو بوسنیا و ہرزیگووینا کے ڈیفینڈر طارق محریمووچ کے خلاف فاؤل پر براہِ راست ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا۔ اس میچ میں امریکہ نے 2-0 سے کامیابی حاصل کی تھی۔

فیفا کا کہنا ہے کہ فولارن پر عائد ایک میچ کی پابندی کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ فیفا نے اس فیصلے کی کوئی تفصیلی وجہ بیان نہیں کی، صرف اس ضابطے کا حوالہ دیا جس کے تحت بعض سزاؤں کو معطل کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، رائل بیلجیئن فٹ بال ایسوسی ایشن (آر بی ایف اے) نے فیفا کے اس فیصلے پر ’حیرت‘ کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ وہ اس کے جواب میں ’تمام ممکنہ قانونی اور انتظامی آپشنز‘ کا جائزہ لے رہی ہے۔

فیفا کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’فیفا کے ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کے مطابق ایک میچ کھلینے پر عائد پابندی کے نفاذ کو ایک سال کی آزمائشی مدت (پروبیشنری پیریڈ) کے لیے معطل کیا جاتا ہے۔‘

عالمی فٹ بال کی گورننگ باڈی نے مزید کہا: ’اگر فولارن بالوگن اس آزمائشی مدت کے دوران اسی نوعیت کی کسی نئی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں تو یہ معطلی منسوخ کر دی جائے گی اور سزا پر عمل درآمد کیا جائے گا، تاہم نئی خلاف ورزی پر عائد کی جانے والی کسی اضافی سزا پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں فیفا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ’ایک بڑی ناانصافی‘ کو درست کیا ہے۔

ٹرمپ، جنھیں فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کا قریبی دوست سمجھا جاتا ہے، نے لکھا: ’ایک بڑی ناانصافی کو درست کرنے پر فیفا کا شکریہ!‘

خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے رواں ہفتے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے رابطہ کر کے فولارن بالوگن کو دکھائے گئے ریڈ کارڈ کا جائزہ لینے کی درخواست کی تھی۔

تاہم بی بی سی ابھی تک ان رپورٹس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

دوسری جانب امریکی ٹیم کے مڈفیلڈر کرسچن پُلیسِک کا کہنا ہے کہ ٹیم کو اتوار کے روز ٹریننگ کے لیے جاتے ہوئے بس میں معلوم ہوا کہ فولارن بالوگن پر عائد ایک میچ کی پابندی معطل کر دی گئی ہے تو فولارن اس خبر پر ’بہت خوش‘ تھے۔

پُلیسِک نے کہا: ’ان کے چہرے پر بڑی سی مسکراہٹ تھی اور ہم سب بھی خوش تھے۔ وہ فاؤل اتنا سنگین نہیں تھا جتنا اسے قرار دیا گیا۔ میرے خیال میں ریڈ کارڈ دکھانے کا فیصلہ سخت تھا۔‘

رائل بیلجیئن فٹ بال ایسوسی ایشن کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ اس ورلڈ کپ میں جاری کیے گئے تمام سابقہ ریڈ کارڈز کے نتیجے میں کھلاڑیوں پر خودکار طور پر پابندیاں عمل میں آئی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ فیفا کا حالیہ فیصلہ ٹورنامنٹ کے ضوابط سے ’براہِ راست متصادم‘ ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق یہ ضوابط مئی میں فیفا کی جانب سے تمام شریک ممالک کو ’واضح طور پر دوبارہ بتائے گئے‘ تھے۔

ایسوسی ایشن نے مزید کہا: ’تمام شریک ٹیموں کے جائز حقوق کے تحفظ اور اس ورلڈ کپ سمیت مستقبل کے مقابلوں میں ہمارے کھیل کے بنیادی اصول، یعنی منصفانہ کھیل (فیئر پلے) کے تحفظ کے لیے، آر بی ایف اے تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔‘

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی ان شخصیات میں شامل تھے، جنہوں نے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران جب امریکہ کی ورلڈ کپ کارکردگی کے بارے میں پوچھا گیا تو روبیو نے کہا: ’کارکردگی شاندار رہی۔ اس ریڈ کارڈ کے معاملے میں ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ایسے فیصلوں کے خلاف اپیل کا کوئی طریقۂ کار ہونا چاہیے۔ غالباً اب اس کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے۔‘

امریکہ میں مجموعی طور پر شائقین کی ایک بڑی تعداد اپنے سٹار کھلاڑیوں میں سے ایک کو ریڈ کارڈ دکھائے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی تھی۔ متعدد میڈیا اداروں نے نہ صرف اس فیصلے پر سوال اٹھائے بلکہ فٹ بال کے قوانین کے نفاذ کے طریقۂ کار پر بھی تنقید کی، خصوصاً اس حوالے سے کہ ریڈ کارڈ ملنے پر کھلاڑی کو فوری طور پر میدان چھوڑنا پڑتا ہے اور پھر آئندہ میچ کے لیے بھی معطل کر دیا جاتا ہے۔

فولارن اس ورلڈ کپ میں امریکی ٹیم کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے موریسیو پوچیٹینو کی ٹیم کی جانب سے پیراگوئے کے خلاف افتتاحی میچ میں دو گول کیے تھے، جسے امریکہ نے 1-4 سے جیتا تھا۔

آرسنل کے سابق فارورڈ نے بوسنیا کے خلاف میچ میں بھی امریکہ کے لیے پہلا گول کیا، تاہم 64ویں منٹ میں طارق محریمووچ کے ساتھ مقابلے کے دوران پیش آنے والے واقعے کے بعد انہیں میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔

فولارن جب گیند کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو محریمووچ ان کے آگے آ گئے۔ اس دوران جب امریکی فارورڈ کا پاؤں دوبارہ زمین پر آیا تو وہ بوسنیا کے ڈیفینڈر کے ٹخنے کے پچھلے حصے پر پڑا، جس سے ان کا ٹخنا مُڑ گیا۔

برازیلین ریفری رافائل کلاوس نے وی اے آر (ویڈیو اسسٹنٹ ریفری) کی جانب سے واقعے کا انتہائی سست رفتار ری پلے پچ سائیڈ مانیٹر پر دیکھنے کے بعد بالوگن کو ریڈ کارڈ دکھا دیا۔

فیفا کے ضوابط کے مطابق ریڈ کارڈ ملنے کی صورت میں کھلاڑی کو خودکار طور پر اگلے میچ کے لیے معطل کر دیا جاتا ہے، تاہم گورننگ باڈی کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اضافی معطلی یا دیگر تادیبی سزائیں عائد کر سکے۔

ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں اس کی ایک مثال اس وقت سامنے آئی تھی جب قطر کے مڈفیلڈر عاصم مدیبو پر عائد ایک میچ کی پابندی کو کو بڑھا کر پانچ میچوں تک محیط کر دیا گیا تھا۔ مدیبو نے کینیڈا کے اسماعیل کونے کے خلاف فاؤل کیا تھا جس کے نتیجے میں کینیڈین کھلاڑی کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔

تاہم ورلڈ کپ میں معطلی کو معطل کرنے کی حالیہ مثال بھی موجود ہے۔

پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو کو ورلڈ کپ کوالیفائرز میں آئرلینڈ کے خلاف ریڈ کارڈ ملنے کے باوجود ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں کھیلنے کی اجازت دی گئی تھی۔

41 سالہ رونالڈو کو نومبر میں پرتگال کی 2-0 کی شکست کے دوران دارا او شی کے پیٹھ میں کہنی مارنے پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر انہیں تین میچوں کی معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم آرمینیا کے خلاف ایک میچ نہ کھیلنے کے بعد، فیفا نے 25 نومبر کو باقی ماندہ معطلی کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا، جس کے نتیجے میں رونالڈو پرتگال کے ورلڈ کپ کے ابتدائی دو میچوں میں شرکت کے قابل ہو گئے۔

فولارن پر عائد پابندی ہٹائے کے فیفا کے فیصلے پر سوشل میڈیا پر بھی بحث ہو رہی ہے اور متعدد افراد کا دعویٰ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اس میں کردار ادا کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاید ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ قواعد کی واضح طور پر گمراہ کُن تشریح کی گئی ہے جسے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ریڈ کارڈ کے نتیجے میں معطلی کی سزا کے خلاف عام طور پر اپیل کی اجازت نہیں ہوتی۔‘

فٹبال فین نے فولارن پر عائد پابندی کو ہٹائے جانے پر طنزاً لکھا کہ ’جب آپ کو سکول سے نکال دیا جائے مگر آپ کے والد پرنسپل ہوں۔‘

سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ایک طنزیہ ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں میچ ریفری کی جانب سے ریڈ کارڈ دکھائے جانے کے بعد امریکی کھلاڑی ہونے ٹرمپ کی تصویر دکھا رہے ہیں۔

برائن ڈیاز نامی صارف نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا کہ ’فولارن کے پاس ریڈ کارڈ سے بھی طاقتور کارڈ تھا: ٹرمپ کارڈ۔‘

مختار نامی ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ فولارن نے ’تقریباً طارق کا ٹخنہ توڑ ہی دیا تھا۔‘

’جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس پر ریڈ کارڈ نہیں بنتا تھا یا یہ ناانصافی تھی وہ مذاق کر رہے ہیں۔‘

ایکس پر ایلان گیبٹ نامی ایک صارف نے فیفا کے سربراہ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’اس ورلڈ کپ کا انتظام اس لیے بہت بُرا رہا ہے کیونکہ انفینٹینو مکمل طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے جھک گئے ہیں۔‘

تاہم کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ فولارن پر سے پابندی پٹانے کا فیصلہ بالکل درست ہے۔

ایوان کوہن نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’فولارن کے ساتھ غلط کیا گیا، انھیں ریڈ کارڈ دکھایا ہی نہیں جانا چاہیے تھا۔ وہ کل کا میچ کھلنے کے لیے 100 فیصد مستحق ہیں۔‘

ایک اور ایکس صارف نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’تمام یورپی اس بات سے ڈرے ہوئے ہیں کہ امریکہ ورلڈ کپ جیتنے جا رہا ہے اور اسی سبب وہ فولارن کو ریڈ کارڈ دکھائے جانے کے معاملے پر غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔‘