انڈیا کے مندروں میں کتنی دولت چھپی ہے؟

    • مصنف, مہتاب عالم
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

گزشتہ چند ہفتوں سے انڈیا کے شہر ایودھیا میں واقع رام مندر میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہے جس کی وجہ ہے رام مندر کے چڑھاوے میں کڑوروں کی مبینہ گڑبڑ کے الزامات۔

اس سلسلے میں رام مندر ٹرسٹ سے منسلک آٹھ افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے جبکہ ٹرسٹ کے دو عہدے داران چمپت رائے اور انِیل مشرا کو مستعفی ہونا پڑا ہے۔

دوسری جانب ان الزامات کی تحقیق کے لیے ایک سپیشل انویسٹیگیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) بھی تشکیل دی گئی ہے۔

لیکن آج کا یہ مضمون رام مندر کے چڑھاوے میں کی گئی مبینہ گڑبڑ کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس کیس کے ذریعے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ایک مندر کے چڑھاوے میں کی گئی مبینہ گڑبڑ کے الزامات انڈیا کے لیے اتنا اہم معاملہ کیوں بن گیا ہے۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کسی مذہبی منصوبے سے زیادہ ایک سیاسی تحریک کا حصہ رہا ہے جس کا تعلق انڈیا کی موجودہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے عروج اور اقتدار حاصل کرنے سے بھی رہا ہے۔

خیال رہے کہ رام مندر کی تعمیر اُسی مقام پر ہوئی جہاں دسمبر 1992 تک بابری مسجد ہوا کرتی تھی اور جہاں مندر کی تعمیر کا راستہ نومبر 2019 میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے ایک فیصلے کے بعد ہموار ہو گیا تھا۔

جنوری 2024 میں اس مندر کا افتتاح کرتے ہوئے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ’آج ہمیں صدیوں کے اس صبر کی میراث ملی ہے۔ آج ہمیں شری رام کا مندر ملا ہے۔ غلامی کی سوچ کو توڑ کر کھڑی ہونے والی قوم، ماضی کے ہر زخم سے حوصلہ پانے والی قوم، ایسے ہی نئی تاریخ رقم ہوتی ہے۔‘

انڈیا میں مندروں کی معیشت کتنی بڑی ہے؟

غور طلب بات یہ ہے کہ انڈیا میں تقریباً 10 لاکھ مندر ہیں۔ ان میں سے، تمل ناڈو میں سب سے زیادہ رجسٹرڈ مندروں کی تعداد تقریباً 79,154 ہے۔

اس کے بعد مہاراشٹر میں 77,283 اور مغربی بنگال میں 53,658 مندر رجسٹرڈ ہیں۔

غیر سرکاری مندر عام طور پر نجی ٹرسٹ، اکھاڑوں یا پجاریوں کے ذریعے چلائے جاتے ہیں اور انھیں انڈین ٹرسٹس ایکٹ، 1882 کے تحت رجسٹر کیا جاتا ہے۔

اتر پردیش میں اندازاً 37,500 سے زیادہ رجسٹرڈ مندر اور مذہبی ٹرسٹ موجود ہیں۔

ریاست کے تین اہم مندر (کاشی، ایودھیا اور متھُرا) مکمل یا جزوی طور پر سرکاری کنٹرول میں کام کرتے ہیں جہاں ایک طرف زیادہ تر لوگوں کے لیے یہ عبادت کی جگہیں ہیں وہیں لاکھوں لوگوں کے لیے یہ وہ جگہیں ہیں جہاں سے انھیں روزانہ کمائی حاصل ہوتی ہے۔

نیشنل سیمپل سروے آفس کے کے مطابق، انڈیا میں ہندو مذہبی زیارتوں پر سالانہ تقریباً 4.74 لاکھ کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں۔

این ایس ایس او کے اعداد و شمار پر مبنی ایک تجزیے کے مطابق انڈیا میں ٹیمپل اکانومی تقریباً 3.02 لاکھ کروڑ روپے کی ہے جو انڈین جی ڈی پی کا تقریباً 2.32 فیصد ہے۔

جنوبی انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندر بابو نائڈو کے مطابق انڈیا میں ٹیمپل اکانومی تقریباً چھ لاکھ کروڑ روپے کی ہے۔

گزشتہ برس مندروں کی بین الاقوامی کانفرنس اور نمائش سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹیمپل اکانومی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں پورے سال سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں۔

ملک کے امیر ترین مندر

دلچسپ بات یہ ہے کہ آمدنی کے لحاظ سے آندھرا پردیش کا تروپتی وینکٹیشور مندر کا شمار انڈیا کے دوسرے سب سے امیر مندر میں ہوتا ہے جبکہ کیرالہ کا شری پدمنابھا سوامی مندر اس معاملے میں پہلے نمبر پر ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شری پدمنابھا سوامی مندر کے کل اثاثوں کا تخمینہ 1,20,000 کروڑ روپے ہے جبکہ تروپتی وینکٹیشور مندر کی سالانہ آمدنی 4,385.2 کروڑ ہے۔

اس کے علاوہ ٹاپ پانچ مندروں میں ویشنو دیوی مندر (جموں و کشمیر)، سائیں بابا مندر (شرڈی) اور سدھی وِنایک مندر (ممبئی) کا شمار ہوتا ہے۔

ان تین مندروں کی سالانہ آمدنی بھی تین سو سے پانچ سو کروڑ کے درمیان ہے۔ ملک کے بڑے مندروں میں سالانہ چندوں پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تروپتی مندر کو سالانہ تقریباً 1,880 کروڑ روپے ملتے ہیں۔

ویشنودیوی مندر کو تقریباً 250 کروڑ روپے، رام مندر 150 کروڑ، سدھی وِنایک مندر 100 کروڑ، کاشی وشواناتھ مندر 80 کروڑ اور جگناتھ پوری مندر کو سالانہ 18 کروڑ روپے ملتے ہیں۔

گلوبل ویلتھ انڈیکس کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق انڈیا کے سب سے امیر 10 مندروں کی کل دولت کا تخمینہ نولاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ سونے کی قیمتوں میں تیز اضافہ اور بھگتوں کی ریکارڈ پیشکشوں سے پچھلے دو سالوں میں ان مندروں کی دولت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مندروں کا سماج اور سیاست پر اثر

ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان مندروں کا سماج اور سیاست پر کتنا اثر ہے؟

اس سلسلے میں سینئر صحافی اور مصنف دھیرین جھا خیال ہے کہ ’جنوبی انڈیا میں مندروں اور ان کی لیڈرشپ کا سماج اور سیاست پر اثر نہ کے برابر ہے۔‘

اس کو سمجھانے کے لیے وہ جنوبی انڈیا کی تین ریاستوں (کیرالہ، تامل ناڈو اور آندھرا پردیش) کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان ریاستوں میں بڑی تعداد میں اور امیر مندر ہونے کے باوجود وہاں کی سیاست پر اُن کا کوئی خاص اثر نہیں ہے۔

ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ان ریاستوں میں تمام تر کوششوں کے باوجود بی جے پی جیسی پارٹی حکومت نہیں بنا سکی۔

تاہم وہ مانتے ہیں کہ شمالی انڈیا کی ریاستوں میں مندروں اور ان کے رہنماؤں کا اثر صاف طور پر دکھتا ہے اور تمام سیاسی پارٹیاں (بشمول سیکیولر سمجھی جانی والی) ان کا استعمال کرتی ہے۔

دھیرین جھا کے مطابق، ہریانہ، اتر پردیش، گجرات، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ، وغیرہ ایسی ریاستیں ہیں جہاں مندروں کا بڑا اثر ہے۔

لیکن ایسا کیوں ہے کہ جس طرح کی عوامی حمایت رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں دیکھنے کو مل رہی تھی، اس طرح کا غصہ مندر کے چڑھاوے میں گڑبڑ کے سلسلے میں نہیں دِکھ رہا؟

اس سوال کے جواب میں دھیرین جھا نے کہا کہ ’ایسا نہیں کہ لوگ غصہ نہیں ہیں۔‘

ان کے مطابق ’بی جے پی اور آر ایس ایس کے حامی بھی پرائیویٹ بات چیت میں غصہ اور اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں۔‘