آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, تہران میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں سُرخ جھنڈے اور ’امریکہ، اسرائیل سے انتقام‘ کے نعرے

ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات تہران میں جاری ہیں۔ خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت ایک گاڑی میں رکھے ہیں جو تہران کی سڑکوں پر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔ سڑکوں پر سوگواروں کا ہجوم ہے جو امریکہ اور اسرائیل سے انتقام کے نعرے لگا رہے ہیں۔

خلاصہ

  • تہران میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری
  • جنوبی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملہ، تین بچیاں ہلاک، چار افراد زخمی
  • صرف امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقت ور اتحادی نہیں ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا بھی ہے‘: بنیامین نیتن یاہو
  • امریکی شہر شکاگو میں لینڈنگ کے دوران طیارہ آتش بازی کی زد میں آ گیا
  • امریکہ نے بحیرۂ عرب میں لا پتہ نیوی اہلکار کی تلاش بند کر دی
  • ورلڈ کپ: انگلینڈ اور ناروے کوارٹر فائنل میں، میکسیکو اور برازیل ٹورنامنٹ سے باہر

لائیو کوریج

  1. تہران میں سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ کی آخری رسومات شام 5 بجے تک جاری رہیں گی

    علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے انتظامات کرنے والے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ آج تہران میں آخری رسومات شام پانچ بجے تک جاری رہیں گی۔

    آج علی الصبح، اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما اور ان کے بعض اہلِ خانہ کے تابوت، جو تقریباً چار ماہ قبل ان کے ہمراہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے، تہران کے مصلیٰ سے ایک ٹرالر پر روانہ کیے گئے۔ یہ جلوس آزادی سکوائر تک 10 کلومیٹر طویل راستہ طے کرے گا۔

    توقع ہے کہ اس تقریب، جس میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد شریک ہے، کو 10 گھنٹوں سے زیادہ وقت لگے گا۔

    تہران میں ہونے والی آخری رسومات کی تصاویر ملاحظہ کیجیے۔

  2. پزشکیان، قالیباف اور علی خامنہ ای کے بڑے بیٹے عراق میں نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے

    مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، علی خامنہ ای کے تابوت کو کل قم سے شیعہ مسلمانوں کے لیے مقدس مقام اور حضرت علی کے روزہ مبارک والے شہر نجف منتقل کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی کل نجف جائیں گے اور عراق میں نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔

    علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کی تقریبات بدھ کے روز عراق کے شہروں کربلا اور نجف میں منعقد کی جائیں گی۔

    اسلامی جمہوریہ کے سابق رہنما کو جمعرات کے روز مشہد میں حرمِ امام رضا میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

  3. سوگواروں نے ’انتقام کی علامت‘ سرخ جھنڈے اٹھا رکھے ہیں, لیز ڈوسٹ، بی بی سی تہران

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ کے تابوت کے راستے میں تقریباً 10 کلومیٹر (6.2 میل) طویل سڑک کے دونوں جانب لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ کچھ سوگوار نعرے لگا رہے ہیں جبکہ کئی اشک بار ہیں۔

    جنازے کا جلوس مشہور انقلاب سکوائر سے گزرے گا۔ اس چوک پر ایک بہت بڑا مجسمہ نصب ہے، جو مضبوطی سے بندھی ہوئی مٹھی کی شکل میں ہے اور اسے ’مزاحمت کی مٹھی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ان تقریبات کی نمایاں علامت ہے، جس پر درج نعرہ ہے: ’ہمیں اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔‘

    ایک اور نعرہ بھی مسلسل سنائی دے رہا ہے، جو حکومت کے وفادار حامیوں میں گونج رہا ہے: امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں سپریم لیڈر کے قتل کا انتقام۔

    انتقام کی علامت سمجھے جانے والے سرخ جھنڈے اب ہجوم میں نمایاں نظر آ رہے ہیں، جبکہ کئی پوسٹروں پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اگرچہ اس کا ایک حصہ محض نعرے بازی ہے، لیکن آیت اللہ کے قتل پر غم و غصہ ایران کی نئی قیادت کے اندر بھی بے چینی کو ہوا دے رہا ہے۔ سخت گیر حلقے خاص طور پر ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

  4. امن مذاکرات خامنہ ای کی آخری رسومات تک معطل رہیں گے: صدر ٹرمپ

    آج کا جنازے کا جلوس ایسے وقت میں نکل رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے اور مستقل امن معاہدے کے لیے بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق جمعے کے روز جنازے کی تقریبات شروع ہونے کے بعد سے یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

    اُنھوں نے سنیچر کے روز نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کو بتایا کہ ایرانی فریق ’معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب‘ ہے، لیکن فریقین نے فیصلہ کیا ہے کہ خامنہ ای کے جنازے کی تقریبات کے اختتام تک مذاکرات میں ایک ہفتے کا وقفہ لیا جائے۔

    ایران نے اس بات پر باضابطہ طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ آیا مذاکرات معطل کر دیے گئے ہیں۔

    جنازے میں ایرانی حکومت کی اعلیٰ شخصیات کی موجودگی کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ سب وہاں موجود ہیں۔ ایک نشانہ [اور ہم ان سب کا خاتمہ کر سکتے ہیں]، لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ پھر ہمارے پاس مذاکرات کے لیے کوئی نہیں بچے گا۔‘

  5. خامنہ ای کے جنازے کے جلوس میں بعض سوگواروں نے ٹرمپ اور نیتن یاہو مخالف پوسٹرز اور بینرز اُٹھا رکھے ہیں

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے کے جلوس کی تصاویر میں کچھ سوگواروں کو ٹرمپ مخالف پوسٹرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جن پر تشدد پر مبنی پیغامات، بشمول جان سے مارنے کی دھمکیاں، درج ہیں۔

    ان بینرز میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خلاف نعرے بھی درج ہیں۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے ٹیلی گرام پر ایک ویڈیو بھی نشر کی گئی ہے جس میں سوگواروں کو ایک پل پر امریکی صدر کے پوسٹر پوسٹر پر پتھر پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

  6. پہلگام حملہ کیس: انڈیا نے حافظ سعید پر ضمنی چارج شیٹ فائل کر دی، جنگ شروع کرنے اور سازش تیار کرنے کی دفعات شامل

    خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) کے مطابق انڈیا کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے کہا ہے کہ اس نے پہلگام حملہ کیس میں پاکستان میں موجود کالعدم لشکرِ طیبہ اور اس کی مبینہ ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ اور بانی حافظ سعید کے خلاف ضمنی چارج شیٹ فائل کر دی ہے۔

    تحقیقاتی ایجنسی کا حوالے دیتے ہوئے اے این آئی نے رپورٹ کیا ہے کہ ضمنی چارج شیٹ جموں میں قائم این آئی اے کی خصوصی عدالت میں جمع کرائی گئی۔ اس میں حافظ سعید پر انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ کالعدم لشکرِ طیبہ اور اس کی فعال ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ کے سربراہ کے طور پر بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    قومی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق چارج شیٹ میں حافظ سعید پر انڈیا کے خلاف جنگ شروع کرنے اور سرحد پار سے سازش تیار کرنے سے متعلق تعزیری دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

    این آئی اے کا کہنا ہے کہ 1597 صفحات پر مشتمل اصل چارج شیٹ کے تسلسل میں جمع کرائی گئی اس ضمنی چارج شیٹ میں پاکستان کی مبینہ سازش، حافظ سعید کے مبینہ کردار اور کیس میں جمع کیے گئے شواہد کی تفصیلات شامل ہیں، جو ایجنسی کے مطابق سائنسی تحقیقات اور زمینی تفتیش کے دوران اکٹھے کیے گئے۔

  7. ایرانی عوام ’عزت، ترقی اور عظمت‘ کے راستے پر گامزن رہیں گے: صدر پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی عوام ’ایران کی عزت، ترقی اور عظمت کے راستے‘ پر گامزن رہیں گے۔

    انھوں نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے سب کو یہ سکھایا کہ ملک کا ’سب سے بڑا سرمایہ‘ اس کے عوام اور ان کا اتحاد ہے۔

  8. تجزیہ: ایران کی نئی قیادت اس عوامی اجتماع کے ذریعے ایک پیغام دینا چاہتی ہے, لیز ڈوسیٹ، تہران میں موجود مرکزی نامہ نگار برائے عالمی امور

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت ایک گاڑی میں رکھے ہیں اور گاڑی تہران کی سڑکوں پر آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔ سڑکوں پر سوگواروں کا ایک ہجوم ہے جو غم زدہ ہیں اور غصے میں ہیں۔

    ایران کی نئی قیادت چاہتی ہے کہ سوگواروں کے اس بڑے اجتماع کے ذریعے ملک کے اندر اور باہر موجود اپنے مخالفین کو طاقت اور مزاحمت کا ایک پیغام دیا جائے۔

    تہران میں تین روزہ عوامی سوگ کا آج آخری دن ہے۔ اس کے بعد یہ رسومات ایران اور پڑوسی ملک عراق کے دیگر شہروں کی طرف منتقل کر دی جائیں گی۔

  9. علی خامنہ ای کا جنازہ، ایرانیوں کا خراجِ عقیدت

    ایران میں سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا سفر جاری ہے اور عوام کی بہت بڑی تعداد نے انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آخری رسومات میں ایک سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ علی خامنہ ای کی تدفین نو جولائی کو مشہد میں روضۂ امام رضا میں کی جائے گی۔

  10. تہران کی سڑکوں پر سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کے جنازے کا سفر

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کے تابوت ایک گاڑی میں لے جائے جا رہے ہیں۔ یہ گاڑی چاروں طرف سے کھلی ہے اور سوگوار اس میں رکھے تابوتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

  11. تہران میں سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات تہران میں شروع ہو گئی ہیں۔ اس موقع پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

    متعدد گاڑیاں سوگواروں کے ہجوم سے گزرتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان گاڑیوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ کے تابوت موجود ہیں۔

    آخری رسومات سات دنوں پر محیط ہیں۔

    • تین تا چار جولائی: تہران کے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے آغاز
    • پانچ تا چھ جولائی: تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا
    • سات جولائی: خامنہ ای کی میت قم منتقل کی جائے گی، جمکران میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی
    • آٹھ جولائی: میت نجف، عراق منتقل کی جائے گی، جہاں روضۂ امام علی میں جلوس نکالا جائے گا، جس کے بعد کربلا میں آخری رسومات ادا کی جائیں گی
    • نو جولائی: مشہد میں روضۂ امام رضا پر تدفین
  12. امریکی شہر نیو یارک میں چھوٹے طیارے کی دریا میں ہنگامی لینڈنگ

    امریکہ کے شہر نیو یارک میں ایک چھوٹے آبی طیارے (وہ ہوائی جہاز جو پانی میں اتر سکتا ہے) نے دریا میں ہنگامی لینڈنگ کی، جس کے بعد طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

    امریکی حکام کے مطابق اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے قریب مین ہیٹن میں ایک طیارے کے دریا میں گرنے کی اطلاع موصول ہوئی، جس پر امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا۔

    نیویارک فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق حادثے کے بعد آبی طیارہ پانی میں عمودی حالت میں کھڑا تھا، جسے بعد ازاں کھینچ کر گھاٹ تک لے جایا گیا۔

    کوڈیاک 100 ماڈل کے طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد کو امدادی کارکنوں نے بحفاظت باہر نکال لیا۔ ان میں سے دو افراد کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئیں، تاہم انھوں نے طبی امداد لینے سے انکار کر دیا۔

    واقعے کی تحقیقات کرنے والی امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے کہا ہے کہ ہنگامی لینڈنگ کے دوران طیارے کے پروں کو سہارا دینے والا ایک حصہ ٹوٹ گیا۔

  13. بلوچستان میں 130 پولیس اہلکاروں کے بین الاضلاعی تبادلے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خاران سے 130 پولیس اہلکاروں کا تبادلہ ضلع چاغی کر دیا گیا ہے۔

    ماضی میں بلوچستان میں کسی ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں پولیس اہلکاروں کی اتنی بڑی تعداد میں بیک وقت تبدیلی کی مثال نہیں ملتی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی تادیبی کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ سکیورٹی اور پیشہ ورانہ امور کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق پولیس اہلکاروں کا بین الاضلاعی تبادلہ ان کے تحفظ اور دہشت گردی کے واقعات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ہے۔

    بلوچستان میں پولیس اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر تبادلوں کا سلسلہ کب شروع ہوا؟

    رواں سال لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد بلوچستان میں اہلکاروں کے بڑے پیمانے پر بین الاضلاعی تبادلوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

    ماضی میں صوبہ انتظامی طور پر اے اور بی ایریاز میں تقسیم تھا۔ اے ایریاز شہری علاقوں پر مشتمل ہوتے تھے جہاں پولیس اپنے فرائض انجام دیتی تھی جبکہ بی ایریاز کے نام سے 80 فیصد سے زیادہ علاقے لیویز فورس کی عملداری میں تھے۔

    ماضی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لیویز فورس کے علاقوں میں عام جرائم کی شرح کم ہونے کے باوجود بلوچستان کی موجودہ حکومت نے لیویز فورس کو پولیس میں ضم کیا۔

    صوبائی حکومت نے لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچستان کو درپیش امن و امان کے چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا ایک ہی چین آف کمانڈ کے تحت کام کرنا ضروری ہے۔

    بی بی سی سے گفتگو میں بابر یوسفزئی نے بتایا کہ بعض اوقات جب کالعدم تنظیموں کے مسلح افراد پولیس چوکیوں یا تھانوں پر حملے کرتے ہیں تو مقامی سطح پر رشتہ داری یا واقفیت کے باعث اہلکار ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر پاتے۔

    ان کے بقول حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ اہلکار اپنے آبائی اضلاع سے باہر تعینات ہو کر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

    انھوں نے کہا کہ دوسرے اضلاع میں تعیناتی سے نہ صرف پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی بہتر ہو گی بلکہ اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو درپیش سکیورٹی خطرات میں بھی کمی آئے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب اہلکار اپنے آبائی ضلع کے بجائے کسی دوسرے ضلع میں تعینات ہوں گے تو کالعدم تنظیموں کے کارکن ان کے اور ان کے خاندانوں کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کر پائیں گے۔

  14. فٹبال ورلڈ کپ: انگلینڈ اور ناروے کوارٹر فائنل میں، میکسیکو اور برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے

    فیفا فٹبال ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں انگلینڈ اور ناروے نے اہم فتوحات حاصل کرتے ہوئے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے، جبکہ میکسیکو اور پانچ بار کا عالمی چیمپیئن برازیل ایونٹ سے باہر ہو گئے۔

    انگلینڈ نے ایک سنسنی خیز مقابلے میں میکسیکو کو 3-2 سے شکست دے کر کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی۔

    اُدھر ناروے نے برازیل کو 2-1 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی۔

    اس طرح کینیڈا، میکسیکو اور برازیل ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں، جبکہ میزبان ممالک میں اب صرف امریکہ باقی رہ گیا ہے، جس کا مقابلہ سات جولائی کو بیلجیئم سے ہو گا۔

  15. سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پر پاکستانی حکام اور عوام کا شکریہ: ایران

    پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر نے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پر پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں رضا امیری مقدم نے وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت ان تمام شخصیات کا شکریہ ادا کیا جو علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شریک ہوئے اور ’ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔‘

    انھوں نے لکھا: ’اس قدر ممتاز، اعلیٰ سطح اور بڑی تعداد پر مشتمل پاکستانی وفد کی موجودگی دونوں برادر ممالک کے درمیان پائیدار دوستی، باہمی احترام اور برادرانہ تعلقات کی گواہی ہے۔‘

  16. چھ تا 10 جولائی بارشوں کا امکان، پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق چھ جولائی سے کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، اسلام آباد، پوٹھوہار اور شمال مشرقی پنجاب میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    سات سے 10 جولائی کے دوران دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے بالائی ملحقہ علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے نے سات جولائی کو اسلام آباد، پوٹھوہار، کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، شمالی پنجاب اور شمالی بلوچستان میں بارشوں کی شدت میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ متوقع بارشوں کے باعث تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کی آمد میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ سات سے 10 جولائی کے دوران دریائے سندھ، جہلم، چناب، راوی اور ستلج میں بھی پانی کے بہاؤ میں معمولی اضافے کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں، تاہم پہاڑی ندی نالوں اور چھوٹے برساتی نالوں میں اچانک پانی کے بہاؤ میں مقامی سطح پر اضافہ ہو سکتا ہے۔

    حساس بالائی علاقوں میں سیلاب جبکہ شدید بارش کے دوران شہری علاقوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور سیلابی صورتحال کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    مزید برآں خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بھی ہے۔

  17. ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تہران اور قم میں خصوصی انتظامات

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی ادائیگی سرکاری طور پر پیر کے روز شروع ہو گی۔ اس کے لیے تہران اور قم میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    علی خامنہ ای اور امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہونے والے ان کے دیگر اہلِ خانہ کی نماز جنازہ اتوار کے روز تہران کے بڑے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ میں آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔

    آئندہ دنوں میں ایران اور عراق میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان رسومات میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔

    یہ رسومات نہایت منظم انداز میں ترتیب دی گئی ہیں اور سات دنوں پر محیط ہیں۔

    • تین تا چار جولائی: تہران کے مذہبی اور ثقافتی مرکز ’امام خمینی مصلیٰ‘ سے آخری رسومات کا آغاز
    • پانچ تا چھ جولائی: تابوت عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا
    • سات جولائی: خامنہ ای کی میت قم منتقل کی جائے گی، جمکران میں نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی
    • آٹھ جولائی: میت نجف، عراق منتقل کی جائے گی، جہاں روضۂ امام علی میں جلوس نکالا جائے گا، جس کے بعد کربلا میں آخری رسومات ادا کی جائیں گی
    • نو جولائی: مشہد میں روضۂ امام رضا پر تدفین
  18. ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جنازے میں شریک نہ ہوئے

    ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے تین بیٹے میثم، مسعود اور مصطفیٰ خامنہ ای، تہران کی مسجد میں اپنے والد کی نمازِ جنازہ کی پہلی صف میں موجود تھے۔ ان کے ساتھ صدر مسعود پزشکیان اور پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ احمد واحدی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ تاہم چوتھے بھائی اور ایران کے موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای غیر حاضر تھے۔

    اس غیر حاضری نے مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت سے متعلق ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے اُس فضائی حملے کے نتیجے میں زخمی ہیں، جس حملے میں ان کے والد ہلاک ہوئے تھے۔

    مارچ کے اوائل میں اپنی تقرری کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر حاضری کا ایک پس منظر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر انہیں بھی قتل کرنا چاہتا ہے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نازک جنگ بندی فی الحال برقرار ہے جبکہ مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اگرچہ دونوں فریقوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  19. صرف امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقت ور اتحادی نہیں ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا بھی ہے‘: بنیامین نیتن یاہو

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقت ور اتحادی نہیں۔

    واضح رہے کہ امریکہ اور ایران میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد بعض اسرائیلی وزرا کی جانب سے امریکی انتظامیہ پر تنقید کی گئی تھی۔

    اس کا جواب دیتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا: ’اگر میں اسرائیلی کابینہ میں ہوتا تو پوری دُنیا میں اپنے واحد اور طاقت ور اتحادی (یعنی امریکہ) کو نشانہ نہ بناتا۔‘

    تنقید کرنے والے اسرائیلی وزرا کو مخاطب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا تھا کہ ’پچھلے تین ماہ کے دوران جن دفاعی ہتھیاروں نے آپ کے ملک کو بچایا، اُن میں سے دو تہائی امریکی تھے اور انھیں امریکی ہنرمندوں نے تیار کیا تھا اور امریکی ٹیکس دہندگان نے اس کے لیے ڈالرز دیے تھے۔‘

    امریکی ٹیلی وژن چینل فاکس نیوز کو ایک حالیہ انٹرویو میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ جب انھوں نے امریکی نائب صدر کا یہ بیان سنا تھا تو ان کا کیا ردعمل تھا؟

    جواب میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا: ’پہلی بات تو یہ ہے کہ میں جے ڈی وینس کی عزت کرتا ہوں، ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ان کی ہر بات سے اتفاق کروں۔‘

    بنیامین نیتن یاہو نے مزید کہا: ’مجھے اس بات کی نشاندہی کرنا ہو گی کہ ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں ہمارے عظیم دوست ہیں اور میں اپنے اس مؤقف پر قائم ہوں۔ لیکن ہمارے دیگر دوست بھی ہیں، جیسے کہ ایک چھوٹا سا ملک جو انڈیا کہلاتا ہے۔ آپ جانتے ہیں اس کی آبادی 1.4 ارب ہے۔‘

    نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ انڈیا میں اسرائیل کو بہت زیادہ حمایت حاصل ہے۔

  20. امریکی شہر شکاگو میں لینڈنگ کے دوران طیارہ آتش بازی کی زد میں آ گیا, کواسی گیامفی اسیئیدو، نامہ نگار

    امریکہ کے شہر شکاگو میں ڈیلٹا ایئر لائنز کا طیارہ لینڈنگ کے دوران آتش بازی کی زد میں آ گیا۔ طیارے میں 52 مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔

    ایئرلائن کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اٹلانٹا کے ہارٹس فیلڈ جیکسن ایئرپورٹ سے مڈوے انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والی پرواز ’اطلاعات کے مطابق لینڈنگ کے دوران آتش بازی کی زد میں آئی۔‘

    انھوں نے مزید کہا: ’پرواز بحفاظت لینڈ ہوئی اور گیٹ تک پہنچ گئی۔‘ کوئی زخمی نہیں ہوا اور اس واقعے کی اطلاع ہوا بازی کے حکام کو دے دی گئی ہے۔

    جس وقت یہ واقعہ ہوا اس وقت امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر آتش بازی کا مظاہرہ کیا جا رہا تھا۔

    واقعے کی ریکارڈنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک پائلٹ نے فضائی ٹریفک کنٹرول کو بتایا: ’ہمارا طیارہ ابھی آتش بازی کی زد میں آیا ہے جس سے زوردار دھماکہ محسوس ہوا۔‘

    واقعے سے پہلے کنٹرولرز کو آتش بازی کی موجودگی کے بارے میں خبردار کرتے سنا جا سکتا ہے۔

    ایک فضائی ٹریفک کنٹرول اہلکار نے کہا: ’ڈیلٹا 1076! احتیاط کریں، لینڈنگ کے راستے کے قریب متعدد گھروں سے آتش بازی چلائی جا رہی ہے۔‘

    ایئر لائن کے مطابق، لینڈنگ کے بعد طیارے کا معائنہ کیا گیا اور اس میں کوئی نقصان نہیں پایا گیا۔