’خاتون کو بچانے کی کوشش‘ کے دوران فائرنگ: اسلام آباد میں پاکستانی فضائیہ کے گروپ کیپٹن ہلاک، ملزم گرفتار

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

اسلام آباد پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کو پاکستانی فضائیہ کے ایک افسر کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اتوار کی شب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کا کہنا تھا کہ مقتول گروپ کیپٹن عاصم طارق سرکاری کام کے لیے راولپنڈی جا رہے تھے، جب اُنھوں نے دیکھا کہ ایک شخص زبردستی ایک خاتون کو اپنے ساتھ لیجانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ گروپ کیپٹن یو ٹرن لے کر گاڑی موٹر سائیکل کے سامنے لے آئے اور ملزم کو روکا، مزاحمت پر ملزم نے اُن پر فائرنگ کر دی جس سے وہ موقع پر دم توڑ گئے اور ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اسلام آباد میں شاہین چوک کے قریب پیش آیا، جس کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی 11 ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ گروپ کیپٹن نے وہی کیا جو ایک ذمہ دار شہری کرتا ہے اور اُنھوں نے ایک محبِ وطن شہری ہونے کا ثبوت دیا۔

آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ملزم اور خاتون ایک ہی جگہ پر کام کرتے تھے اور ملزم ماضی میں خاتون کو پک کرتا رہا ہے، تاہم اتوار کو اس نے اسے زبردستی کہیں اور لیجانے کی کوشش کی۔

ایس پی سٹی ایاز حسین نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک شخص ایک لڑکی سے زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اس دوران وہاں سے گزرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق نے اسے روکنے کی کوشش کی جس پر ملزم نے طیش میں آ کر گولی چلا دی جو افسر کے سینے پر لگی۔

تھانہ مارگلہ پولیس کے مطابق ایئر فورس کے مقتول پولیس افسر کے ورثا کی جانب سے ابھی تک تھانے میں مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست نہیں دی گئی۔

تاہم وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

’ملزم غلط ارادے سے لڑکی کو ایف نائن پارک لے کر جا رہا تھا‘

ایس پی سٹی ایاز حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ ملزم غلط ارادے کی نیت سے لڑکی کو ایف نائن پارک لے کر جا رہا تھا کہ شاہین چوک کے قریب لڑکی نے زبردستی موٹر سائیکل رکوائی اور ملزم کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزم مبینہ طور پر زبردستی لڑکی کا ہاتھ کھینچ کر موٹر سائیکل پر بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران فضائیہ کے گروپ کیپٹن وہاں پر آ گئے اور معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی لیکن ملزم نے طیش میں آ کر گولی چلا دی جو ایئر فورس کے افسر کی چھاتی پر لگی اور وہ موقع پر دم توڑ گئے۔

یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت کے تھانہ مارگلہ کی حدود میں ایئر یونیورسٹی اور بحریہ یونیورسٹی کے سامنے پیش آیا۔

واقعے کے بعد گروپ کیپٹن عاصم طارق کی میت کو پاکستان ائیر فورس ہسپتال یونٹ ٹو منتقل کر دیا گیا، جبکہ تھانہ مارگلہ پولیس کے ایڈیشنل ایس ایچ او صدیق اور ڈیوٹی افسر نوید فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

پولیس نے مذکورہ لڑکی کو تحویل میں لے کر اس سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم واردات کے بعد فیض آباد سے لاہور جانے والی بس پر سوار ہوا اور راستے میں بھیرہ کے قریب بس سے اترا اور اسلام آباد جانے والی بس پر سوار ہوا اور پھر واپس اسلام آباد پہنچ گیا۔

ایس پی سٹی کی سربراہی میں پولیس پارٹی نے اسلام آباد میں واقعہ نجی ہاوسنگ سوسائٹی میں واقع ایک گھر پر چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس افسر کے مطابق ملزم نے جس پستول سے گولی چلائی تھی اس کو کہیں پھینک دیا ہے اور ملزم کی نشاندہی پر پستول کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

ایس پی سٹی ایاز حسین کے مطابق ملزم اور لڑکی دونوں تھانہ آبپارہ کی حدود میں واقع ایک کیش اینڈ کیری پر کام کرتے تھے اور ان کی دوستی کو ابھی چند دن ہی ہوئے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایئر فورس کے افسر کو قریبی ہسپتال لیجایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے جاری بیان میں خاتون کو بچانے کے دوران ایئر فورس کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

وزیرِ داخلہ نے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے جبکہ آئی جی اسلام آباد سے افسوسناک واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

وزیرِ داخلہ نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ فائرنگ کرنے والے ملزم کی جلد گرفتاری کو یقینی بنایا جائے اور لواحقین کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

دوسری جانب پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے اہلخانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔