’معاذ صداقت کا لیول ہی الگ تھا‘: پاکستان نے سری لنکا کو چار وکٹوں سے ہرا دیا

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان نے سری لنکا کو چار وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔
پاکستان کی اس کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر کپتان صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت کی بیٹنگ زیرِ بحث رہی، جبکہ بعض صارفین نے اسے پاکستان کی نئی ٹی ٹوئنٹی حکمتِ عملی کی جھلک قرار دیا۔
183 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 18ویں اوور کی پانچویں گیند پر چھ وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔
پاکستان کو فخر زمان اور کپتان صاحبزادہ فرحان نے شاندار آغاز فراہم کیا اور دونوں نے 50 رنز کی شراکت قائم کی۔
فخر زمان 13 گیندوں پر 21 رنز بنا کر ایشان ملنگا کا شکار بنے، تاہم اس کے بعد صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت نے سری لنکن بولرز پر دباؤ برقرار رکھا۔
دونوں بلے بازوں نے دوسری وکٹ کے لیے 92 رنز کی شاندار شراکت قائم کی جس نے میچ کا رخ پاکستان کے حق میں موڑ دیا۔
معاذ صداقت نے صرف 29 گیندوں پر 50 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں چار چوکے اور تین چھکے شامل تھے، تاہم وہ مہیش تھیکشنا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے۔
کپتان صاحبزادہ فرحان نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 53 گیندوں پر 89 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 10 چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔ جب وہ آؤٹ ہوئے تو پاکستان کو جیت کے لیے محض چند رنز درکار تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اختتامی لمحات میں سری لنکا نے چند وکٹیں حاصل کر کے مقابلے میں واپسی کی کوشش کی، تاہم خواجہ نافع نے 18ویں اوور کی پانچویں گیند پر ایشان ملنگا کو چھکا لگا کر پاکستان کی جیت یقینی بنا دی۔ یوں پاکستان نے چار وکٹوں سے کامیابی حاصل کر لی۔
سری لنکا کی جانب سے مہیش تھیکشنا سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے اپنے چار اوورز میں 36 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ایشان ملنگا نے بھی دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اس سے قبل راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، تاہم پاکستانی فاسٹ بولرز نے ابتدا میں مہمان ٹیم پر دباؤ برقرار رکھا۔
کوشل مینڈس پہلے ہی اوور میں صرف ایک رن بنا کر نسیم شاہ کا شکار بنے جبکہ کامل مشارا بھی 13 گیندوں پر چھ رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
ابتدائی دو وکٹیں جلد گرنے کے بعد لاہیرو اُدارا نے اننگز کو سنبھالا اور پہلے کامندو مینڈس کے ساتھ اہم شراکت قائم کی۔ کامندو مینڈس نے 18 گیندوں پر 23 رنز بنائے تاہم وہ صائم ایوب کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
اس کے بعد سہان آراچچیگے صرف ایک رن بنا سکے اور محمد عمران نے انھیں آؤٹ کر کے پاکستان کو ایک اور کامیابی دلائی۔
سری لنکا ایک مرحلے پر چار وکٹوں کے نقصان پر 87 رنز بنا چکا تھا تاہم لاہیرو اُدارا نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ انھوں نے اپنی ٹی20 انٹرنیشنل کریئر کی پہلی نصف سنچری مکمل کی اور بعد ازاں داسن شاناکا کے ساتھ بھی مفید شراکت قائم کی۔ شاناکا نے 15 گیندوں پر 18 رنز بنائے جن میں دو چھکے شامل تھے، تاہم وہ شاداب خان کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
اننگز کے آخری اوورز میں اُدارا نے پاکستانی باؤلرز پر دباؤ بڑھایا اور 55 گیندوں پر 91 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ ان کی اننگز میں 11 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ وہ آخری دو اوورز میں نسیم شاہ کی گیند پر آؤٹ ہوئے اور سنچری مکمل کرنے سے محروم رہ گئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
پاکستان کی جانب سے نسیم شاہ سب سے کامیاب باؤلر رہے جنھوں نے چار اوورز میں 36 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔
ڈیبیو کرنے والے محمد عمران نے بھی متاثر کن بولنگ کرتے ہوئے چار اوورز میں 21 رنز کے عوض دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
صائم ایوب، شاداب خان اور ایک اور ڈیبیو کرنے والے رضا اللہ نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ رضا اللہ نے اپنی ٹی20 انٹرنیشنل کریئر کی پہلی وکٹ حاصل کرتے ہوئے مہیش تھیکشانا کو آؤٹ کیا۔
اگرچہ پاکستان نے ابتدائی اوورز میں میچ پر اپنی گرفت مضبوط کیے رکھی، تاہم لاہیرو اُدارا کی بیٹنگ نے سری لنکا کو ایک ایسے مجموعے تک پہنچا دیا جو راولپنڈی کی بیٹنگ کے لیے سازگار تصور کی جانے والی وکٹ پر مقابلہ کرنے کے لیے کافی سمجھا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت کی تعریفیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی جیت کے بعد سوشل میڈیا پر زیادہ تر صارفین نے قومی ٹیم کی جارحانہ بیٹنگ، کپتان صاحبزادہ فرحان کی اننگز اور معاذ صداقت کی بیٹنگ کو سراہا۔
کئی صارفین کا کہنا تھا کہ ایک عرصے بعد پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق جارحانہ انداز اپنایا، تاہم ایسے صارف بھی تھے جنھوں نے نسبتاً کمزور حریف کے خلاف کامیابی پر خوشی منانے پر تنقید کی۔
کرکٹ مبصر عاطف نواز نے لکھا کہ پاکستان کی کارکردگی ’مثالی تو نہیں، لیکن اچھی تھی۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انھوں نے لکھا کہ پاکستان کی ابتدائی جارحانہ بیٹنگ نے میزبان ٹیم کو میچ پر مضبوط گرفت دلائی اور یہ ہوم سیزن کا ایک اچھا آغاز تھا۔
صارف عاطف میمن کا کہنا تھا کہ کافی عرصے بعد ایسا محسوس ہوا کہ پاکستان کے پاس ایک ایسی ٹی ٹوئنٹی ٹیم موجود ہے جو اس فارمیٹ کے تقاضوں کے مطابق فطری انداز میں کھیل رہی ہے۔
کئی صارفین نے معاذ صداقت کی بیٹنگ کو بھی خصوصی طور پر سراہا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عدیل نواز نے لکھا کہ اگرچہ صاحبزادہ فرحان نے نمایاں کردار ادا کیا، تاہم ان کے خیال میں ’معاذ صداقت کا لیول ہی الگ تھا۔‘
اسی طرح احمد ٹیپو نے معاذ صداقت کو پاکستان کے اُن کھلاڑیوں میں قرار دیا جنھیں دیکھنے کے لیے وہ سب سے زیادہ پُر جوش ہیں۔ ان کے مطابق وہ آئندہ میچ خاص طور پر معاذ صداقت کی بیٹنگ دیکھنے کے لیے ہی دیکھیں گے۔
کلچ سپورٹس نامی ایکس اکاؤنٹ نے صاحبزادہ فرحان کے لیے اس دن کو یادگار قرار دیتے ہوئے نشان دہی کی کہ انھوں نے بطور کپتان اپنے پہلے ہوم میچ میں ٹیم کو فتح دلائی، 53 گیندوں پر 89 رنز کی اننگز کھیلی اور میچ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔
تاہم تمام ردعمل مثبت نہیں تھا۔ عمر ریاض فین پیج کے نام سے ایکس پر موجود ایک صارف نے اس کامیابی کو ضرورت سے زیادہ سراہنے پر تنقید بھی کی۔
اپنی پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں نویں نمبر پر موجود ٹیم کے خلاف کامیابی کو غیر معمولی انداز میں پیش کرنا پاکستان کرکٹ کے مسائل کی ایک وجہ ہے۔
تین میچوں کی اس سیریز کے باقی دو مقابلے 11 اور 13 اکتوبر کو راولپنڈی میں ہی کھیلے جائیں گے۔ اس کے بعد پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے سہ فریقی سیریز کا آغاز ہو گا۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق پاکستان، سری لنکا ٹی ٹوئنٹی اور سہ ملکی کرکٹ سیریز کے لیے راولپنڈی میں تقریباً چھ ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شائقین کے لیے تین پارکنگ مقامات اور متبادل راستے مختص کیے گئے ہیں۔




















