خواجہ آصف کے بعد اسرائیل کی ترکی اور جنوبی کوریا کے صدور کے خلاف بیان بازی کی وجہ کیا ہے؟

مطالعے کا وقت: 7 منٹ

پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ایک بیان پر اسرائیلی ردعمل کو چند ہی دن گزرے تھے کہ اس بار ترکی اور جنوبی کوریا کے صدور کو اسرائیلی بیان بازی کا سامنا ہے۔

سوشل میڈیا پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے لیکر ملک کے دیگر رہنماؤں نے ترک صدر کے اس بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر ’پاکستان کی ثالثی نہ ہو رہی ہوتی تو ترکی اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہو جاتا۔‘

صرف ترک صدر ہی نہیں بلکہ دوسری جانب اسرائیل نے جنوبی کوریا کے صدر کو بھی ان کی سوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایسے میں سوشل میڈیا پر یو جی آیی کے ڈائریکٹر پروفیسر فرانسوا بیلو نے ایکس پر لکھا کہ ’گزشتہ ایک ہفتے کے دوران، اسرائیل اسپین، فرانس، اٹلی، جنوبی کوریا، پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ سفارتی تنازعات میں الجھا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال پائیدار نظر نہیں آتی اور غالب امکان ہے کہ مزید بگڑے گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’عالمی عوامی رائے بڑی حد تک اسرائیل کے خلاف ہو چکی ہے، اور جمہوری حکومتوں کو بالآخر اپنی آبادی کے خیالات کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔‘

آئیے جانتے ہیں کہ جنوبی کوریا کے صدر نے کیا کہا تھا اور ترک صدر کو اسرائیل نے کیا جواب دیا۔

کوریا کے صدر کی مذمت

جنوبی کوریا کے صدر لی جی موئنگ کے خلاف اسرائیل کی جانب سے اس وقت ردعمل سامنے آیا جب ان کے سوشل میڈیا پر اسرائیلی فوج کی مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی۔

اس کے ردعمل میں اسرائیلی وزراتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’کوریا کے صدر لی جے میونگ کے بیانات، جن میں اسرائیل میں یومِ یادِ ہولوکاسٹ سے ایک دن قبل یہودیوں کے قتلِ عام کو معمولی بنا کر پیش کیا گیا، ناقابلِ قبول ہیں اور سخت مذمت کے مستحق ہیں۔‘

بیان کے مطابق ’صدر لی جے میونگ نے کسی عجیب وجہ سے 2024 کی ایک کہانی کو دوبارہ اچھالا اور ایک جعلی اکاؤنٹ کا حوالہ دیا جس نے اسے غلط طور پر ایک موجودہ واقعے کے طور پر پیش کیا۔ یہ اکاؤنٹ اسرائیل کے خلاف گمراہ کن معلومات اور جھوٹ پھیلانے کے لیے بدنام ہے۔‘

بیان میں وضاحت کی گئی کہ ’زیرِ بحث واقعہ دہشت گردوں کے خلاف ایک کارروائی کے دوران پیش آیا، ایسے وقت میں جب اسرائیلی فوجیوں کو اپنی جانوں کو براہِ راست اور فوری خطرات لاحق تھے۔ اس واقعے کی دو سال قبل مکمل تحقیقات کی گئیں اور اس سے نمٹا گیا۔‘

بیان میں کوریا کے صدر کے حوالے سے کہا گیا کہ ’اس کے باوجود، ہمیں صدر کی جانب سے ان دہشت گردوں کے بارے میں ایک لفظ بھی سننے کو نہیں ملا جو اس واقعے کے مرکز میں تھے۔ نہ ہی ہمیں صدر کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کے خلاف حالیہ ایرانی اور حزب اللہ کے دہشت گرد حملوں پر ایک لفظ سننے کو ملا ہے۔‘

اس بیان کے آخر میں کورین صدر کو مشورہ دیا گیا کہ ’پوسٹ کرنے سے پہلے تصدیق کر لینا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔‘

جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزارت خارجہ نے ’جنوبی کوریا کے صدر کے بیان کو غلط سمجھا جس کا مقصد بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں ان کے ٹھوس یقین کو واضح کرنا تھا۔‘ جنوبی کوریا نے کہا کہ ہر قسم کی پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے۔

’پاکستان کی ثالثی نہ ہوتی تو ہم جنگ میں شامل ہو جاتے‘

ترکی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو عہدِ حاضر کا ’ہٹلر‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

ترکی کی وزراتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو، جنھیں ان کے مرتکب جرائم کی بنا پر ہمارے عہد کا ہٹلر قرار دیا گیا ہے، ایک معروف شخصیت ہیں اور ان کا ماضی واضح ریکارڈ رکھتا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت کے تحت اسرائیل کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کے الزامات کا سامنا بھی ہے۔‘

ترکی کی وزراتِ خارجہ کے مطابق ’یہ حقیقت کہ ہمارے صدر کو اسرائیلی حکام کی جانب سے بے بنیاد، ڈھٹائی پر مبنی اور جھوٹے الزامات کا نشانہ بنایا گیا ہے، اور یہ اس بے چینی کا نتیجہ ہے جو ان سچائیوں سے پیدا ہوئی ہے جنہیں ہم مسلسل ہر پلیٹ فارم پر بیان کرتے آئے ہیں۔‘

یہ بیان اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے ترکی کے صدر کے خلاف حالیہ ریمارکس کے بعد سامنے آیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نے گذشتہ روز ایکس پر کہا تھا کہ ’میری قیادت میں اسرائیل ایران کے دہشت گرد نظام اور اس کے نمائندوں کے خلاف لڑتا رہے گا، برخلاف اردوغان کے جو انھیں قبول کرتے ہیں اور اپنے کرد شہریوں کا قتل عام کرتے ہیں۔‘

ترک صدر نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جنگ بندی کے دن، اسرائیل نے سینکڑوں بے گناہ لبنانیوں کو قتل کیا۔ نتن یاہو خون اور نفرت سے اندھے ہو چکے ہیں۔ اگر پاکستان کی ثالثی نہ ہوتی تو ہم جنگ میں شامل ہو جاتے۔‘

ماہرین کا خیال ہے کہ ترکی کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ کہیں تہران میں حکومت کا انہدام نہ ہو جائے اور ایران خانہ جنگی اور علاقائی انتشار کا شکار نہ ہو جائے۔ اس کے علاوہ شام بھی دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک وجہ بن چکا ہے۔

خواجہ آصف کے بیان کا تنازع

اس سے پہلے اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے اس بیان کی بھی مذمت کی تھی جس میں انھوں نے اسرائیلی ریاست کو ’کینسر زدہ‘ قرار دیا تھا۔

پاکستانی وزیرِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ ’جب اسلام آباد میں بات چیت جاری ہے ایسے وقت میں لبنان میں نسل کشی کی جا رہی ہے۔ معصوم شہری اسرائیلی کارروائیوں میں مارے جا رہے ہیں، پہلے غزہ، پھر ایران اور اب لبنان میں خونریزی کا نہ رُکنے والا سلسلہ جاری ہے۔‘

خواجہ آصف نے اس بیان میں اسرائیلی ریاست کو ’کینسر زدہ‘ قرار دیا اور اس کے قیام سے متعلق سخت الفاظ استعمال کیے۔ تاہم پاکستانی وزیرِ دفاع کی اسرائیل سے متعلق پوسٹ اب ایکس پر موجود نہیں۔

خواجہ آصف کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ایکس پر اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پاکستان کے وزیرِ دفاع کی جانب سے اسرائیل کی تباہی کی اپیل نہایت اشتعال انگیز ہے۔‘

’یہ ایسا بیان ہے جسے کسی بھی حکومت کی جانب سے قابلِ برداشت نہیں سمجھا جا سکتا، خاص طور پر ایسی حکومت کی طرف سے جو خود کو امن کے لیے غیر جانب دار ثالث قرار دیتی ہو۔‘

اسرائیل کے وزیرِ خارجہ جدعون ساعر نے بھی پاکستانی وزیرِ دفاع کی سوشل میڈیا پوسٹ پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ 'یہودی ریاست کو کینسر زدہ قرار دینا اس کی تباہی کی اپیل کرنے کے مترادف ہے۔'

انھوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ ’اسرائیل ان دہشتگردوں کے خلاف اپنا دفاع کرے گا، جو اس کی تباہی چاہتے ہیں۔‘